سولہ برس کی ایک ورنہ چاربرس کی چار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل مکتب دیو بند کے مفتی طارق مسعود کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ جہاں وہ فرماتے ہیں، ”تم میں سے ہر کوئی تین بیوہ یا طلاق یافتہ عورتوں سے شادی کر لو پھر لاسٹ والی شادی میں سولہ سال کی کنواری سے کراؤں گا۔ میں مفتی طارق مسعود صاحب یہ وعدہ کرتا ہوں کہ سولہ سال کی نہ ہوئی تو آٹھ آٹھ سال کی دو اور اگر آٹھ آٹھ سال کی دو نہ ہوئیں تو چار چار سال کی چار“ ۔ ان کے ارد گرد بیٹھے لوگ یہ بیان سن کر قہقہے لگا رہے ہیں۔ کیا وہ مفتی کے بیان سے اتنے مسحور ہیں کہ اس کے معنی سمجھنے سے قاصر ہیں اور اگر وہ معنی سمجھتے ہیں تو ان کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہم کشمور میں چار سال کی بچی کے ریپ پر رو رہے ہیں اور گفتگو سماعت فرمائیں یہاں سرعام چار چار سال کی بچیوں کی تین بیویوں والوں سے شادیاں کروائی جا رہی ہیں۔

مفتی طارق مسعود کراچی کے ایک مدرسے سے وابستہ ہیں۔ جہاں وہ تفسیر قرآن کی تدریس کرتے ہیں۔ اپنی ویب سائٹ چلاتے ہیں اور اکثر ایسے متنازعہ بیانات دیتے رہتے ہیں۔ اپنے جوش خطابت میں وہ سادہ ریاضی بھول گئے کہ اگر پہلی تین شادیاں بیوہ یا مطلقہ سے ہو چکی ہیں اور مزید چار وہ چار چار سال کی بچیوں سے کروانے کا وعدہ کر رہے ہیں تو ایک شخص کے لئے کیا سات شادیاں اسلام اور پاکستان میں جائز ہیں؟ انھوں نے تو سماجی علوم کو بھی درخور اتنا نہیں سمجھا۔ چار برس کی بچی کیا شادی کے قابل ہوتی ہے؟ کیا وہ شوہر، خاندان اور گھر کی ذمہ داریاں سنبھال سکتی ہے؟

زیربحث ویڈیو کو ٹویٹ کرتے ہوئے سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر فواد حسین چوہدری نے لکھا ”ملاؤں کی وجہ سے ہمارا معاشرہ ایک خوفناک معاشرتی بحران میں دھنس چکا ہے۔ سینکڑوں لوگ ان کی جاہلانہ گفتگو سنتے اور متاثر ہوتے ہیں۔ ریاست خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے۔ حالت یہ ہے کہ سعودی عرب اور ایران جیسے ممالک کم عمر بچیوں سے شادی پر پابندی عائد کر چکے ہیں، ہماری اسمبلی نہیں کر سکی“ ۔ دراصل فواد چوہدری کے ساتھ حکومت میں علی محمد خاں جیسے وزیر بھی مو جود ہیں جنھوں نے سینٹر شیری رحمان کا کمسنی کی شادی کے خلاف بل مسترد کروا دیا تھا۔

موجودہ صورتحال میں پورے ملک میں چار اور آٹھ سال کی بچیوں کی شادی قانونی طور پر جرم ہے اور جس صوبے میں مفتی طارق مسعود رہتے ہیں وہاں تو سولہ سال کی بچی کی شادی بھی جرم ہے۔ پھر وہ چار چار سال کی بچیوں سے شادی کس قانون کے تحت کروا رہے ہیں۔ کیا یہ کھلے عامPedophilia کا پرچار نہیں؟ کیا یہ بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کی ترغیب نہیں؟ کیا ہماری حکومت کے صرف ایک وزیر کو اس کی مذمت کرنی چاہیے؟ کیا حکومت کو مذمت سے آگے بڑھ کر اقدامات نہیں کرنے چاہیے؟ کیا ایسے خطابات کے بعد بھی اس مفتی کا لائسنس بحال رہنا چاہیے؟

قانونی طور پر فی الحال صوبہ سندھ میں لڑکی اور لڑکے دونوں کی شادی کی عمر اٹھارہ سال ہے جبکہ وفاق اور باقی تمام صوبوں میں لڑکی کی شادی کی عمر سولہ سال اور لڑکے کی اٹھارہ سال ہے جو کہ بچوں میں جنس کی بنیاد پر تفریق ہے۔ اقوام متحدہ کے معاہدہ برائے حقوق اطفال کے مطابق بچہ اٹھارہ سال سے کم عمر فرد ہے اور کسی بچے کی شادی کی یہ بین الاقوامی معاہدہ اجازت نہیں دیتا۔ اسی معاہدے کی دوسری شق کے مطابق بچوں میں ان کی جنس، رنگ، نسل، زبان، علاقے وغیرہ کی بنیاد پر امتیاز روا نہیں رکھا جا سکتا۔

پاکستان کو اس معاہدے کی توثیق کیے ہوئے تیس سال بیت چکے ہیں۔ کمیٹی برائے حقوق اطفال نے پاکستان کی پانچویں رپورٹ کی سفارشات میں لکھا کہ تمام قوانین میں بچے کی تعریف اٹھارہ سال سے کم عمر فرد ہونی چاہیے۔ خصوصاً یہ سفارش کی گئی کہ چائلڈ میرج رسٹرینٹ ایکٹ 1929 میں ترمیم کر کے لڑکے اور لڑکی دونوں کی شادی کی عمر اٹھارہ سال مقرر کی جائے۔ تیسری میعادی جائزہ رپورٹ میں بھی کم عمری کی شادی کے خاتمے پر کئی حکومتوں مثلاً بحرین، نمیبیا، بیلجیئم، ڈنمارک، آسٹریا وغیرہ کی طرف سے سفارش کی گئی۔

پاکستان پوری دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں سب سے زیادہ کم سنی کی شادیاں ہوتی ہیں۔ یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اکیس فیصد لڑکیوں کی شادی اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہو جاتی ہے۔ یہ رجحان ملک کے پسماندہ ترین اور پسے ہوئے طبقات میں زیادہ ہے۔ جلدی شادی کی گئی بچیاں اپنی تعلیم حاصل نہیں کر پاتی۔ وہ زیادہ بچے پیدا کرتی ہیں جو آبادی میں کنٹرول میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ وہ زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کا زیادہ شکار ہوتی ہیں بہ نسبت خواتین کے۔

اور ان کے بچوں کے صحت کے مسائل بھی نسبتاً زیادہ ہوتے ہیں۔ زچہ بچہ کی زیادہ شرح اموات کا بھی کم سنی کی شادیوں سے گہرا تعلق ہے۔ کمسن بیاہی بچیوں پر گھریلو تشدد بھی زیادہ ہوتا ہے۔ کم عمری کی شادی بچیوں کی زندگی اور خوشحالی کو ایک بڑا خطرہ ہے۔ یہ غربت میں بھی اضافے کا باعث بنتی ہے کیونکہ اس سے بچیوں کے لئے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ یہ بچیوں کے حقوق کو پامال کرتی ہے اور ان کے بچپن سے انکار ہے۔

پاکستان میں بچپن کی شادی کی کئی وجوہات ہیں مثلاً فرسودہ قانون سازی، جو ناکافی قوانین موجود ہیں ان پر عمل درآمد کا فقدان، بچوں کو جائیداد سمجھنا، معاشرے میں قبائلی اور جاگیردارانہ نظام، عوام میں چھوٹی عمر کی شادیوں کے نقصانات کی آگہی کا فقدان، شدید غربت، انسانی ٹریفیکنگ وغیرہ۔ اس کی ایک بڑی وجہ پیدائش کا درست اندراج نہ ہونا بھی ہے، جس کے نتیجے میں شادی کے وقت بچیوں کی عمر میں ہیر پھیر کر لیا جاتا ہے۔

بچپن کی شادیوں کو روکنے کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر قانون سازی کی فوری ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی مقامی حکومتیں بھی مضبوط ہونی چاہیے کیونکہ ان پر قانون کی عملداری کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ملک میں قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کا قیام عمل میں آ چکا ہے جسے بچوں کے حقوق کی پامالیوں، جس میں کم عمری کی شادی بھی شامل ہے، کو سختی سے مانیٹر کرنا چاہیے۔ حکومت کو کم عمری کی شادی کے خلاف ایک پرزور مہم چلانی چاہیے ناکہ مفتی مسعود جیسے لوگوں کے خطابات چلنے دینا چاہیے۔

شادی ایک تاحیات معاہدہ ہے اور وہ بچی جو معاہدے کو سمجھ نہیں سکتی، اپنا جیون ساتھی کیسے چن سکتی ہے۔ اٹھارہ سال سے کم عمر بچی جس کا شناختی کارڈ نہیں بن سکتا، ڈرائیونگ لائسنس نہیں بن سکتا، وہ ووٹ نہیں ڈال سکتی، شادی کا معاہدہ کیسے کر سکتی ہے۔ قانون کے موثر اطلاق کی خاطر شادی کے اندراج کے لئے شناختی کارڈ کی شرط لازمی ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •