غریب خواتین کے لیے گھر میں ہی روزگار کا بندوبست کرنے کی کوشش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پاکستان میں غریب اور متوسط گھرانے حالات زندگی بہتر بنانے اور اپنے بقا کی جنگ لڑتے ہوئے اپنی پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔ غربت، تنگ دستی، محرومیوں اور روز بڑھتی مہنگائی سے پریشان لوگوں کا واحد مسئلہ مستقل روز گار کا حصول ہے۔ پاکستان میں ایسے لاکھوں خاندان ہیں جن کی کفالت کے لئے مرد نہیں ہوتے اور خواتین ہی اہل خانہ کی کفالت کرتی ہیں۔ قدامت پسند معاشرے کی سب سے بڑی خامی یہ ہوتی ہے خواتین کو سماجی، معاشی اور معاشرتی مسائل سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق عورت کو معاشی خود مختاری کا مکمل حق حاصل ہے۔ اس کے باوجود کام کرنے والی خواتین کے لئے مواقع بہت کم ہیں۔ امور خانہ داری اور مالی آمدن کے مسائل کے ساتھ انہیں جنسی امتیاز کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں جو خواتین حصول روز گار کے لئے پریشان ہوتی ہیں انہیں مخیر حضرات مالی امداد اور راشن فراہم کرتے ہیں۔ اگر اخلاقی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی نیکی ہے۔ لیکن معاشی پہلو سے سوچا جائے تو اس طرح کی امداد فوری پریشانی کو حل کر سکتی ہے مگر یہ کسی خاندان کی ضروریات کو پورا کرنے کا مستقل حل نہیں ہے۔ میرے خیال میں اگر امداد کی صورت میں خواتین کو مستقل روز گار کا موقع فراہم کیا جائے تو یہ خدمت خلق کی اعلی صورت ہے۔

اگر ہم اپنے گرد و نواح میں دیکھیں تو اس طرح کے لا تعداد خاندان موجود ہیں جن کی کفالت کا ذمہ کسی خاتون نے اٹھایا ہوتا ہے۔ پاکستان کی بیشتر خواتین غیر رسمی اور کم معاوضے والے روز گار سے وابستہ ہوتی ہیں۔ یہ کہانی کسی ایک گھر کی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں ایسی بے شمار خواتین ہیں جو گھر کا خرچہ چلانے میں اپنے شوہر کی مدد کرتی ہیں یا خود پورے خاندان کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں۔ میں جس محلے میں رہتا ہوں وہاں ایک 45 سالہ بیوہ اپنی دو بیٹیوں اور ایک دس سالہ بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں۔

شوہر کی وفات کے بعد گھر کے سارے اخراجات کی ذمہ داری اکیلی عورت پر آ گئی۔ اہل خانہ کی تمام ضروریات پوری کرنے کے علاوہ ان کی خواہش ہے کہ ان کے بچے تعلیم بھی حاصل کریں۔ لہذا انہوں نے قریب ہی واقع ایک گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت کر لی۔ اس فیکٹری سے ملنے والی ماہانہ آمدن اس خاندان کے بقا کا واحد ذریعہ تھا۔ لیکن کرونا وائرس کے حملے کے بعد صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی۔ مارچ 2020 میں حکومت کی طرف سے لگائے گئے لاک ڈاؤن نے نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔

لاک ڈاؤن نے کاروباری حلقے کو متاثر کرنے کے علاوہ ان ملازمت پیشہ خواتین کے مستقبل پر بھی سو الیہ نشان لگا دیا جن کے معاملات زندگی کا انحصار چھوٹے پیمانے کی صنعت سے وابستہ تھا۔ وہ فیکٹری جہاں یہ خاتون ملازمت کرتی تھیں اسے بھی کرونا وائرس پھیلنے کے خدشات کے پیش نظر بند کر دیا گیا۔ ان پابندیوں کے بعد مذکورہ خاتون کی زندگی گھر تک محصور ہو کر رہ گئی۔ اہل علاقہ کی جانب سے مالی اعانت اور راشن کی فراہمی کا سلسلہ تو جاری رہا لیکن یہ ان کی خود اعتمادی اور خود داری کے خلاف تھا۔

ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان میں کئی فلاحی ادارے خدمت خلق کے لئے مسلسل سر گرم عمل رہتے ہیں۔ ہمارے شہر جڑانوالہ میں بھی چودھری یعقوب باجوہ ٹرسٹ مختلف فلاحی کاموں کی انجام دہی کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہے۔ یہ ٹرسٹ سماجی فلاح و بہبود اور انسانی حقوق کا علم بردار ہے۔ اس سوشل ویلفیئر ٹرسٹ کے بانی معروف سماجی و سیاسی شخصیت رانا ثنا اللہ با جوہ ہیں، جنہوں نے اپنے والد کے نام پر اس کار خیر کا آغاز کیا۔

اس ٹرسٹ کے قیام کا مقصد تعلیم، صحت، روز گار اور صنفی تشدد کے مسائل سے متاثرہ افراد کی داد رسی کرنا ہے۔ یہ ادارہ اپنی تمام خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کرتا ہے۔ اس ادارے نے مذکورہ خاتون کو مالی امداد کے ساتھ اس کے ہنر کے مطابق مستقل روز گار کے حصول کے لئے سلائی مشین فراہم کی۔ عورت کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ اس کے ہنر کے مطابق اسے آلات مہیا کر دیے جائیں۔

گزشتہ چند ماہ سے یہ خاتون اپنے گھر میں بیٹھ کر سلائی مرکز چلاتی ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں کسی خاتون کا گھر سے باہر جا کر روز گار کمانا غیر مہذب تصور کیا جاتا ہے۔ وہاں چودھری یعقوب ٹرسٹ کا یہ اقدام قابل تحسین ہے۔ اس خاتون نے مشکل حالات سے گھبرائے بغیر حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ گھر کی چار دیواری میں محفوظ یہ خاتون اب بہتر طور پر اپنے اہل و عیال کی کفالت کر رہی ہیں۔ کپڑوں کی سلائی اور کڑھائی کے ہنر سے اب وہ معقول ماہانہ آمدن حاصل کرتی ہیں۔

مالی معاملات بہتر ہونے کے علاوہ ان کی نفسیاتی صحت میں بہتری نظر آتی ہے۔ اب یہ خاتون ایک با اعتماد اور خود مختار شہری کے طور پر زندگی گزارتی ہیں۔ پاکستان کی ہر وہ عورت جو معاشی ترقی کی راہ میں اپنا کردار نبھا رہی ہے اس کا حق ہے کہ وہ برابری کی بنیاد پر سہولیات سے استفادہ کرے اور بھر پور زندگی گزارے۔ ایسے میں چودھری یعقوب ٹرسٹ جیسی تنظیموں کو ایسی خواتین کے معاشی استحکام کے لئے اقدامات کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •