خوشحال ادب کی خوشحالی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں جب ہوا کی خنکی نے ائر کنڈیشنڈ کا بوجھ بانٹ لیا تو گرم کپڑوں کی مٹی کھاتی ایک پیٹی سے مجھے اپنی وہ ڈائری ملی جسے میں کبھی اپنی ”بیاض دل“ سمجھتا تھا۔ زوجہ محترمہ کو اس میں سے کچھ کلام سنایا تو انہوں نے تنک کر کہا ”چھوڑو شاعری اتنے دن ہو گئے ہیں آپ نے کالم نہیں لکھا“ ۔ بقول دانشوران ادب! کہ دنیا میں دو ہی طاقتیں ہیں ایک قلم کی دوسرے خنجر کی۔ لیکن میری شاعری کی بے قدری کے بعد میرا نکتہ نظر تبدیل ہو گیا کہ ”عورت کی طاقت“ قلم و خنجر سے بھی طاقت ور ہے۔ بحکم زوجہ کے صرف نثر ہی لکھا کرو، تو سوچا کیوں نہ اپنی ادبی دوستوں والی تسبیح کے ساتویں موتی یعنی خوشحال ناظر پہ کچھ لکھا جائے۔

میری نظر میں خوشحال ناظر، شاعر، ادیب، قلمکار یا پھر شاہکار اور منفرد نظموں کی کتاب ”بجوکا“ اور اعلیٰ تحقیقی کتاب ”اردو نظم ہیت اور تکنیک“ کا مصنف ہی نہیں بلکہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ادب کی خوشحالی کا نام ہے جو ہمہ وقت ترویج ادب میں مشغول دکھائی دیتا ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین، ستارہ ادب اور ادب زار جیسی کتنی ہی ادبی انجمنوں سے وابستہ رہ کر ادب کی خدمت میں پیش پیش نظر آتا ہے۔ علمی و ادبی حلقوں میں اسے ایک دائرۃ المعارف کی حیثیت حاصل ہے بلکہ ڈیرہ کے ادب میں اس کا وجود روشنی کے ایک سر بہ فلک مینار کی حیثیت رکھتا ہے۔

خوشحال ناظر کی نظمیں اور تحریریں قلب و روح کی تفسیروں کے روپ میں دل و نگاہ کو مسخر کر لیتی ہیں۔ خوشحال ناظر ادب کا ایک ایسا رانجھا ہے جو سب کا سانجھا ہے۔ ہمیشہ ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے، آنکھوں میں ہلکی شرارت لیے۔ داڑھی اس سلیقے سے تراشی ہوئی جیسے آرڈر پر لگوائی ہو۔ اتنی خوشیوں، خوبیوں اور خصلتوں کے باوجود موصوف وعدہ محض اس لیے وفا نہیں کرتے کہ مولانا حالیؔ کے مصرع کی لاج رہ جائے۔ ہم نے جب اس پیہم وعدہ خلافی پر تشویش کا اظہار کیا تو یہ کہہ کر بات بدل دی ”کہیں وعدے بھی نبھانے کے لیے ہوتے ہیں“ ۔

خوشحال ناظر اپنے والدین کے ہاں اولاد کی صورت میں اس سیارہ پر ماہ ستمبر میں پوری شان سے نازل کیے گئے جسے آج زمین کہا جاتا ہے۔ خوشی کے لڈو کھانے کے بعد اہل علاقہ کے پرزور اصرار بلکہ ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما۔ یعنی چھوٹا سا اک لڑکا ہوں پر کام کروں گا بڑے بڑے۔ لہذا معمولی امور کی جانب اوائل ہی سے توجہ نہیں فرمائی۔ مثلاً سکول جانے کے لیے پیدل چلنے کو ہمیشہ عار سمجھا، سو اسی وجہ سے سکول کے استاد نے بڑی عمر کے چند لڑکوں کو مامور کر دیا تھا جو اس کو بستر سے بازوؤں اور ٹانگوں سے پکڑ کر اٹھاتے اور اسی آرام دہ افقی حالت میں لے جا کر احتیاط سے سکول کے احاطے میں رکھ دیتے جہاں یہ رقت دل سے تحصیل علم میں مشغول ہو جاتا۔ اکثر و بیشتر اسکول کے اوقات میں دوستوں کے ساتھ ٹانک اڈہ پر ”فوجی بھائیوں“ کے سہولت کے لئے بنائے گئے سینما کی زیارت بھی اس کے فرائض میں اس لیے شامل تھی کہ وہاں ”چھاپہ“ پڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

جس طرح عام طور پر ادباء و شعرا کا ایک ہی طرح کا بیانیہ رائج ہے کہ ہم نے فلاں عمر سے لکھنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن خوشحال نے چار پانچ سال کی عمر سے لکھنا نہیں بلکہ ”دیکھنا“ شروع کر دیا تھا۔ یقین کریں اس کے خد و خال اور چال چلن نے تو بچپن ہی سے چیخ چیخ کر اپنے ”ناظر“ ہونے کی گواہی دینا شروع کر دی تھی۔ الحمدللہ یہ دیکھنے کا عمل آج تک جاری ہے اور دیکھنے کے بعد محبت کے بہاؤ میں بہہ کر اکثر وہاں تک جا پہنچتا ہے، جہاں لطیف اور کثیف کا فرق مٹ جایا کرتا ہے۔

جب بھی کسی مخلوط محفل میں جاتا ہے تو اس کے قدم خود بخود خواتین کی طرف اٹھ جاتے ہیں اور کسی نہ کسی سے ”ادب کے موضوع“ پر باتیں کرنے لگتا ہے۔ تاہم اتنی احتیاط ملحوظ رکھتا ہے کہ مذکورہ عورت اس کی بیوی نہ ہو۔ خوشحال کی اس ”احتیاط“ کے بعد میرا یقین کا زینہ مزید بلند ہوا کہ ایک اچھے شاعر میں اچھا شوہر بننے کی تمام بری صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔ اسی بنا پر یقین کامل ہے کہ ان کی دو کتابوں کے بعد ان کا دیوان جلد ہی منظر عام پر آئے گا کیونکہ بیوی زدہ اگلے مرحلے میں دیوان زدہ ہوجاتا ہے۔

خوشحال ناظر روشنی کی مانند ایسا کردار ہے جس کو آسانیاں بانٹنے کا خبط ہے۔ اس لیے اپنے حصے کے شمع جلاتے کبھی اس نگر تو کبھی اس نگر کی خاک چھانتا ہے۔ علم کی جستجو تو جیسے گھٹی میں ملی ہو، اس وجہ سے کتابیں تو ایسے پڑھتا ہے جیسے دیمک تنے کو چاٹ جائے۔ بچپن ہی سے پڑھنے لکھنے سے شغف کی بنا پر وہ اکثر کتاب ہاتھوں میں لے کر پڑا ہی رہتا ہے۔ کبھی بستر پر تو کبھی صوفہ پر اور کبھی کبھار فرش کو بھی یہ بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی تو کتاب کے ساتھ لاشعوری طور پر غسل خانے میں بھی لیٹنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ ان ہی الہامی کیفیات میں انہوں نے اپنی قلم سے مضامین، نظمیں، تحقیقی مواد کے ساتھ درجنوں شاہکار تخلیق کیے۔

خوشحال ناظر کے پورے چہرے کا اگر جائزہ لیا جائے تو شرارت اور معصومیت کے شرارے پھوٹتے نظر آتے ہیں۔ بڑی بڑی چمک دار آنکھیں جن میں ایک مقناطیسی رو بہتی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن عرصہ دراز سے ان کے بالوں کی طوالت کو کسی کم زور عقیدے کی طرح گھٹتا ہی دیکھتا آ رہا ہوں۔ موصوف شاعر و ادیب کے ساتھ ساتھ ایک ماہر پیشہ ور سؤل انجنئیر ہیں جو لوگوں کو مکان اس وجہ سے بنا کر دیتے ہیں کہ کبھی تو یہ مکان ”گھر“ میں تبدیل ہو جائے گا۔

اس پیشہ ور عمل سے انہوں نے سیکڑوں عورتوں کو ”سر چھپانے“ کی چھت تیار کر کی دی۔ اسی وجہ سے ان کے ہاتھوں بنائی گئی چھتوں کے اوپر اور نیچے پیدا ہونے والے ”نووارد“ آبادی میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں۔ خوشحال بھائی سردیوں میں پینے کے سوا پانی کے کسی مصرف پر کبھی دل سے قائل نہیں ہوئے اور اس کو باقاعدہ اسراف سمجھتے ہیں۔ اپنے قبیل کے بیشتر شعراء کی طرح خوشحال ”نوش“ کی بجائے خاصی حد تک گوشت خور ہیں اور بلا تخصیص ہر طرح اور ہر قسم کا ”چھوٹا بڑا“ حلال گوشت کھاتے ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ شہر کے کچھ ناعاقبت اندیش افراد کی مہربانی سے شاید ”لحم سگ یا لحم خر“ بھی کبھی کھا لیا ہو کیونکہ بحیثیت ڈیرہ وال یوم جمعہ کو روایتی پلاؤ اور کڑاہی گوشت کھانا ان کے بھی فرائض میں بھی شامل ہے (جن کے ساتھ کھاتے ہیں یا جو کھلاتے ہیں ان کا نام نہیں لکھ سکتا) ۔

ایک دفعہ میں نے سوال کیا کہ خوشحال بھائی! آج کے طالبعلموں اور نوجوانوں میں ادبی کتابیں پڑھنے اور خریدنے کا کوئی شوق نظر نہیں آ رہا۔ کہنے لگے کہ کمزور بصارتوں اور کمزور معدوں والی نسل جو مرد کی جمع ”مردود“ اور کھٹمل کی جمع ”کھٹاملہ“ لکھتی ہو، بھلا وہ ادب کو کیسے ہضم کر سکتی ہے اور فی زمانہ کتب بینی صرف وہی کر رہے ہیں جو معشوقہ نادیدہ کے انتظار میں رات رات بھر تنہا کھاٹ پر پڑے کھانستے رہتے ہیں۔ پھر سوال کیا کہ خوشحال بھائی!

میری لکھت اور نثر کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟ خوشحال نے بابل کے قدیم ہئیت دانوں کی طرح نہایت فکر انگیز انداز میں آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے برجستہ جواب دیا کہ ماشاء اللہ ”خامیوں میں آپ پختہ ہو گئے ہیں“ آپ کو لکھنے سے زیادہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس دن سے آج تک جب بھی ان کو اپنا کوئی مضمون انہیں بھیجنا ہو تو پہلے ”استخارہ“ کرتا ہوں۔ زیادہ تر ”ناں“ ہی نکلتی ہے۔

یہ بھی سچ ہے کہ خوشحال اتنا ادبی، تحقیقی اور لکھاری ہو کہ بھی ابھی کسی ادبی محفل میں بطور مہمان یا مہمان خصوصی کی مسند پر فائض نہیں ہو سکتا، اس کے لیے اس کو ابھی تیس سال مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ہمارا یہ ادبی وتیرہ ہے کہ شاعر اگر ساٹھ سال کاہو جائے تو مہمان اور اگر ستر سال کا ہو جائے تو اس کو بطور مہمان خصوصی بلایا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •