جڑانوالہ کا کیا ہو گا؟

چھوٹے شہروں میں بسنے والے لوگوں کا دکھ یہ ہے کہ ان کی زندگی کا زیادہ حصہ بڑے شہروں میں صحت و تعلیم کی سہولیات کی تلاش میں گزر جاتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 کے مطابق تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حقدار ہیں۔ درحقیقت ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بڑے شہروں میں ترقیاتی منصوبوں کی بھرمار اور اسپتالوں کی کثیر تعداد موجود ہے مگر چھوٹے شہروں میں ایک ٹی ایچ کیو کے باہر آئے روز سہولیات کی عدم فراہمی پر شہری احتجاج کر رہے ہوتے ہیں۔ پسماندگی کا مطلب محض غربت یا کمزوری بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہوتا ہے کہ جس میں لوگوں کو مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات اور ریاستی ڈھانچے سے الگ کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ بے اختیار، بے آواز اور مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی بس سانس لینے کا نام ہے اور صبح کو شام اور شام کو صبح ہونے کا انتظار زندگی کا مقصد۔ با اختیار طبقات نے دولت اور طاقت کے ذرائع پر قبضہ جما رکھا ہے جس کے باعث کسی نے کبھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اور سرمایہ داروں کے مفادات کو سامنے رکھ کر شہری ترقی کا فارمولا تیار کیا جاتا ہے۔

Read more

غریب خواتین کے لیے گھر میں ہی روزگار کا بندوبست کرنے کی کوشش

پاکستان میں غریب اور متوسط گھرانے حالات زندگی بہتر بنانے اور اپنے بقا کی جنگ لڑتے ہوئے اپنی پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔ غربت، تنگ دستی، محرومیوں اور روز بڑھتی مہنگائی سے پریشان لوگوں کا واحد مسئلہ مستقل روز گار کا حصول ہے۔ پاکستان میں ایسے لاکھوں خاندان ہیں جن کی کفالت کے لئے مرد نہیں ہوتے اور خواتین ہی اہل خانہ کی کفالت کرتی ہیں۔ قدامت پسند معاشرے کی سب سے بڑی خامی یہ ہوتی ہے خواتین کو سماجی، معاشی اور معاشرتی مسائل سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے

Read more

فلاحی اداروں کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے

حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کہتے ہیں کہ انسان کو زندگی کی کامیابی اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک خدمت خلق کو اپنا شعار نہ بنائے۔

فلاحی ادارے معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی مشکل آن پڑے یا حکومت عوامی فلاح و بہبود کے معاملات کو نظرانداز کرے تو یہ ادارے معاشرے میں بسنے والے لوگوں کا سہارا بنتے ہیں۔ یہ فلاحی تنظیمیں معاشرے کا حسن ہوتے ہیں۔ تاریخ کی اولین داستانوں سے لے کر موجودہ دور تک ایسے کئی ادارے یا شخصیات ہیں جو حکومت وقت کا سہارا بنتے ہیں اور عوام الناس کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وسائل پیدا کرتے ہیں۔

Read more

جڑانوالہ: سیاست، ثقافت اور تاریخ کے آئینے میں

جڑانوالہ فیصل آباد سے تقریباً 35 کلومیٹر پر واقع ہے۔ یہ فیصل آباد کی مشہور اور سب سے بڑی تحصیل ہے۔ پاکستان کے صنعتی مرکز فیصل آباد کے قریب ہونے کے باعث فیکٹریوں۔ یہ شہر تقریباً 400 سال پرانا ہے۔ اس کے آس پاس کئی نہریں بہتی ہیں جو انگریز دور میں زراعت کے شعبہ میں بہتری کے لیے دریاؤں پہ بیراج بنا کر نکالی گئی تھیں۔ جڑانوالہ دو پنجابی لفظوں کا مجموعہ ہے، جڑاں اور والا، جہاں جڑاں کے معنی ہیں ”جڑیں“ اور ”والا“ کا مطلب جگہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ چک نمبر 240 جی بی کے قریب ایک تالاب کے کنارے پر ایک برگد کا درخت لگا ہوا تھا جس کی جڑیں آس پاس پھیلی ہوئی تھیں یہی درخت اس نام کی وجہ بنا۔

Read more