جڑانوالہ کا کیا ہو گا؟
چھوٹے شہروں میں بسنے والے لوگوں کا دکھ یہ ہے کہ ان کی زندگی کا زیادہ حصہ بڑے شہروں میں صحت و تعلیم کی سہولیات کی تلاش میں گزر جاتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 کے مطابق تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانونی تحفظ کے مساوی طور پر حقدار ہیں۔ درحقیقت ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بڑے شہروں میں ترقیاتی منصوبوں کی بھرمار اور اسپتالوں کی کثیر تعداد موجود ہے مگر چھوٹے شہروں میں ایک ٹی ایچ کیو کے باہر آئے روز سہولیات کی عدم فراہمی پر شہری احتجاج کر رہے ہوتے ہیں۔ پسماندگی کا مطلب محض غربت یا کمزوری بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہوتا ہے کہ جس میں لوگوں کو مرکزی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات اور ریاستی ڈھانچے سے الگ کر دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ بے اختیار، بے آواز اور مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی بس سانس لینے کا نام ہے اور صبح کو شام اور شام کو صبح ہونے کا انتظار زندگی کا مقصد۔ با اختیار طبقات نے دولت اور طاقت کے ذرائع پر قبضہ جما رکھا ہے جس کے باعث کسی نے کبھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اور سرمایہ داروں کے مفادات کو سامنے رکھ کر شہری ترقی کا فارمولا تیار کیا جاتا ہے۔
Read more



