مجبوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”یار، تم سے اتنا سا کام نہیں ہو رہا ہے۔ میرے باپ کی آنکھوں کا آپریشن نہیں کر سکتے ہو۔ کیٹریکٹ ایسی کیا بڑی چیز ہے۔ آدھے گھنٹے کا کام نہیں ہے۔ اتنا بھی فائدہ نہیں ہے تمہارا۔ ایک بڑے میاں نہیں سنبھلتے ہیں تم سے۔“ فون کی دوسری جاب بہت دور امریکا کے نیویارک سے بھی بہت آگے ٹینی سی کے کسی ہسپتال سے کریم کا فون تھا۔

”ہاں، بڑے میاں نہیں سنبھلتے ہیں مجھ سے۔“ میں نے ہنستے ہوئے کہا تھا ”یار سب کچھ تیار تھا۔ وہ ہسپتال میں داخل بھی ہو گئے تھے۔ رات اچھی گزاری تھی۔ تمہاری امی بھی ہسپتال میں ہی تھیں۔ صبح آپریشن سے پہلے دینے والی دوائیں بھی انہیں دے دی گئی تھیں۔ میں نے ان کے ٹینشن اور گھبراہٹ کو دیکھتے ہوئے رات سے ہی تھوڑا ڈائی زی پام بھی انہیں دے دیا تھا، صبح ہی ان کا آپریشن تھا۔ وہ آپریشن تھیٹر بھی آئے تھے اور آپریشن ٹیبل پر لیٹ بھی گئے تھے لیکن بس بے ہوشی سے تھوڑا سا پہلے نہ جانے کیا ہوا تھا کہ وہ اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور آپریشن کرانے سے انکار کر دیا تھا۔ سخت شرمندگی کا شکار تھے۔ وہ بار بار اس طرح مجھ سے معذرت کر رہے تھے کہ مجھے بھی شرم آ گئی تھی۔ وہ تمہارے بغیر آپریشن نہیں کرائیں گے۔“ فون کے اس طرف کراچی سے میں نے کریم کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔

”یار، میں کیسے آ سکتا ہوں؟ سر سے پاؤں تک کام میں پھنسا ہوا ہوں۔ ڈیڈ کو میں نے سمجھا دیا تھا۔ انہوں نے اور امی نے بھی کہا تھا کہ میرے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یار ڈیڈ نے تو کمال کر دیا ہے۔ پتا نہیں حکومت کے کام کیسے کرتے رہے ہیں۔ ایک چھوٹا سا آپریشن نہیں کرا سکتے ہیں۔ خود مشکل میں ہیں۔ نہ اخبار پڑھ سکتے ہیں اور نہ دوسرے کام صحیح طریقے سے کر سکتے ہیں مگر آپریشن سے جان جاتی ہے۔ کمال ہے یار، کمال ہے۔“ اس نے جھنجھلا کر کہا تھا۔ ”اچھا میں پھر فون کروں گا۔“

ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا تھا۔ پہلے بھی دو دفعہ آپریشن کا فیصلہ ہوا تھا اور پھر آپریشن آخر وقت میں نہیں ہوسکا، کیوں کہ وہ تیار نہیں تھے۔ ان کو ڈر تھا، ایک خوف کہ شاید بے ہوش ہو کر ہوش میں نہ آ سکیں، میں زبردستی تو آپریشن نہیں کر سکتا تھا۔

میری کریم سے ملاقات لندن میں ہوئی تھی۔ ہم دونوں ایک ہی ہسپتال میں کام کر رہے تھے۔ میں آنکھوں کے شعبے میں تھا اور وہ سرجری کے شعبے میں کام کر رہا تھا۔ ایک سال تک ہم دونوں نے ساتھ ہی کام کیا تھا۔ میں اپنی تربیت کے آخری مرحلوں میں تھا۔ کریم نے بھی امتحان پاس کر لیے تھے اور امریکا جانے کا امتحان بھی پاس کر کے امریکا جانے کے پروگرام بنا رہا تھا۔ اس کا پاکستان واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ”یار وہ ملک رہنے کے قابل نہیں ہے۔“ یہ اس کا مخصوص جملہ تھا۔

اس کے والد حکومت پاکستان میں بڑے بیوروکریٹ تھے، گریڈ اکیس بائیس کے افسر، بہت اچھے انسان تھے وہ۔ جب میں سب کام ختم کر کے پاکستان واپس جا رہا تھا تو کریم نے میرے سامنے اپنے ڈیڈ کو فون کر کے کہا تھا کہ میری مدد کریں۔ انہوں نے مدد بھی کی تھی۔ کراچی پہنچ کر میں انہیں ملا تھا اور میرے سارے کام بڑی تیزی سے ہو گئے تھے۔ لندن سے آنے والا سامان کسٹم سے آسانی سے نکل گیا تھا۔ سرکاری نوکری کے ڈھونڈنے اور ملنے میں انہوں نے مدد کی تھی۔ پھر تھوڑے تھوڑے دنوں میں ان کا سیکریٹری یا ان کے آفس سے فون کر کے کوئی نہ کوئی پوچھتا تھا کہ کوئی کام تو نہیں ہے۔ وہ اور ان کی بیوی بڑے مہربان لوگ تھے۔ پیار سے ملتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح سے کام آئیں۔ میں آخر کریم کا دوست تھا۔

کریم لندن سے امریکا چلا گیا تھا۔ وہاں ٹریننگ مکمل کی، پھر ٹینی سی کے ایک ہسپتال میں کام کر رہا تھا۔ ٹریننگ کے دوران ہی وہ پاکستان آیا اور اس کی شادی اس کے رشتہ داروں میں اس کی ہی مرضی سے ہو گئی۔ اس کی شادی کے دوران میں اور میری بیوی اس کے خاندان کے اور زیادہ قریب آ گئے تھے۔

کریم کی ایک بہن بھی تھی، شازیہ۔ اس کی بھی شادی ایک کارڈیالوجسٹ سے ہوئی تھی جس کے ساتھ وہ کینیڈا میں رہتی تھی۔ کریم کی شادی پر وہ لوگ بھی کینیڈا سے آئے ہوئے تھے۔ کریم کے والدین کو اتنا خوش میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا۔ زندگی سے بھرپور تھا پورا خاندان۔ اس وقت وہ بڑی پوسٹ پر فائز تھے۔ گھر پر نوکروں چاکروں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ کام کرنے والوں کی کمی نہیں تھی۔ وہ تین ہفتے جادو کی طرح سے تھے۔

پھر یکایک سب کچھ ویسا ہی ہو گیا تھا۔ پہلے کریم اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ ٹینی سی چلا گیا تھا پھر شازیہ بھی کینیڈا چلی گئی تھیں اور زندگی اپنے معمول پر آ گئی تھی۔ کریم جاتے وقت مجھ سے کہہ گیا تھا کہ کبھی کبھار اس کے گھر کا چکر لگا لیا کروں۔ کریم نہ بھی کہتا تو شاید میں یہی کرتا۔ اس کے والدین تھے ہی ایسے۔ پیار کرنے والے، محبت کرنے والے اور خلوص سے بھرے ہوئے۔ بڑی پوسٹ پر ہونے کے باوجود ان میں کوئی بے جا غرور نہیں تھا۔ میری ان دونوں سے بہت دوستی ہو گئی تھی۔

پھر کریم کے ڈیڈ ریٹائر ہو گئے اور ان کی زندگی کے فرصت کے دن شروع ہو گئے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے شروع کے مہینوں کے بعد وہ دونوں کینیڈا، امریکا کے دورے پر نکل گئے تھے۔ تین مہینے کینیڈا رہنے کے بعد انہوں نے تین مہینے ٹینی سی میں گزارے تھے اور جب کراچی واپس آئے تھے تو بہت خوش لگ رہے تھے۔

میں ان کے آنے کے دوسرے دن ہی ملنے گیا تھا۔ بہت اچھا وقت گزرا مگر بہت جلد طبیعت اکتا جاتی ہے۔ وہاں پر بوڑھوں کا کوئی کام نہیں ہے، وہ کب تک اور کتنا ٹیلی وژن دیکھ سکتے ہیں۔ نہ کوئی ملنے والا ہے اور نہ کوئی بات کرنے والا۔ فون پر کتنا کوئی بات کر سکتا ہے اس کے بعد تو ڈالر لگتے ہیں۔ کینیڈا کی سردی بھی بہت خوف ناک ہے۔ جوانوں کی جگہ ہے آج کی یہ نئی دنیا۔ میں نے ڈیفنس میں ان کے بڑے سے گھر میں ان کے ساتھ چائے پی، انہوں نے میری بیوی کے لیے تحفہ اور بچوں کے لیے چاکلیٹ دیا تھا۔

وقت گزرتا رہا۔ ہر دو سال بعد کریم اور شازیہ پاکستان کا چکر مارتے تھے اور یہی دو تین ہفتے ایسے ہوتے تھے کہ ان کے بڑے گھر میں جیسے روشنی سی ہوتی، ان کے اپنے بچے نواسے اور پوتے۔ ان دنوں کی تیاری وہ لوگ سارا سال کرتے رہتے تھے۔ دن گن گن کر ان دنوں کا انتظار کرتے رہتے تھے۔

کریم کا واپس آنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا۔ ٹینی سی میں وہ بہت خوش تھا۔ اچھی آمدنی تھی، کام سے مطمئن تھا، بڑا سا گھر تھا اور روزمرہ کی آسائشیں تھیں۔ وہی سب آسائشیں جو امریکا میں ہوتی تھیں۔

”یار مگر یہ سب چیزیں تو یہاں بھی ہیں۔ تم لوگوں کا ماشاء اللہ سے بڑا سا گھر ہے۔ تم اچھے سرجن ہو، یہاں بھی خوب کما کھاؤ گے۔“

”نہیں یار، کراچی رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ تم دیکھ ہی رہے ہو، حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ گھر سے نکلنے کے بعد پتا بھی نہیں ہوتا کہ واپسی ہوگی کہ نہیں۔ پھر اسکولوں کالجوں کا حال بگڑتا ہی جا رہا ہے۔ ہم لوگ تو گرامر کے پڑھے ہوئے ہیں لیکن اس زمانے میں گرامر کے علاوہ بھی اسکول تھے، اب تو کچھ بھی نہیں ہے۔ میں اگر آ بھی جاؤں تو میرے بچوں کے لیے یہاں پر کیا ہے، کچھ بھی نہیں ہے، یار کچھ بھی نہیں ہے۔“

”میں ہنس دیا تھا اگر حالات پہلے جیسے ہوجائیں تو تم واپس آ جاؤ گے؟“ میں نے سوال کیا تھا۔

وہ تھوڑی دیر سوچتا رہا تھا پھر بولا تھا ”شاید نہیں، میں تو اسکول کے زمانے سے امریکا کے خواب دیکھ رہا تھا۔ گرامر اسکول کا ہر بچہ یہی خواب دیکھتا ہے۔ پاکستان میں کون نہیں دیکھتا ہے، ہر کوئی دیکھتا ہے، چاہے گرامر اسکول کا ہویا کسی پیلے اسکول کا۔ فرق صرف یہ ہے کہ گرامر اسکول کے بچوں کے خواب پورے ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اس وقت بھی پتا ہوتا تھا کہ امریکا میں فٹ بال اور بیس بال کے چیمپئن کون ہیں۔ امریکن چارٹ پر کون سی فلم اور گانا ہے اور سکسٹی منٹ کے پروگرام میں کون سے اسکینڈل زیربحث ہیں۔ ہم لوگ امریکا جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے اور اسی لیے امریکا چلے بھی گئے تھے۔“

”پھر حالات کو ذمہ دار ٹھہرانا تو صحیح نہیں ہے۔“ میں نے سوال کیا تھا۔

”ایک طرح سے صحیح ہے۔ لیکن اگر حالات درست ہوتے تو شاید سوچا جاسکتا تھا۔ آخر امی اور ڈیڈی بھی تو یہاں ہی ہے ناں۔“ اس نے جواب دیا تھا۔ میں دل میں ہنس دیا تھا۔ کسے دھوکا دے رہے ہو۔ کراچی اپنا مقدمہ ہار چکا ہے۔ کراچی دھوکا کھا چکا ہے۔ کراچی کے بیٹوں نے، کراچی کی بیٹیوں نے شہر سے بے وفائی کی۔ ہر ایک نے کراچی کو توڑا ہے۔ جو کراچی میں رہتے ہیں انہوں نے بھی اور جو کراچی سے بھاگ گئے ہیں انہوں نے بھی۔ برنس روڈ پر چھابڑی لگانے والے نے بھی اور تین تلوار پر اپارٹمنٹ بنانے والے نے بھی۔ جاہل نے بھی، پڑھے لکھے نے بھی۔ میں نے کچھ کہا نہیں تھا، میں خاموش رہا تھا۔ یہ کراچی کا غم تھا۔ یہ کراچی کی بات تھی۔ یہ کراچی کا درد تھا۔ یہ کراچی کا نوحہ تھا۔ یہ کراچی کا المیہ تھا۔ ٹینی سی میں رہنے والے کو کیا سمجھ میں آئے گا۔ جس دن ڈیڈ مر جائیں گے اس دن ٹینی سی کا یہ رشتہ بھی ختم ہو جائے گا۔

”یار تم ہی ڈیڈ کو سمجھاؤ۔“ اس نے مجھ سے کہا تھا۔ ”یہاں کیا کر رہے ہیں، بے کار ہے یہاں رہنا۔ میں نے تو بہت کہا ہے کہ ڈیفنس کا یہ مکان بیچ دیں اور میرے ساتھ ٹینی سی میں رہیں۔ میرے ساتھ، نجمی کے ساتھ، اپنے پوتوں پوتیوں کے ساتھ۔ میں نے پہلے بھی کہا تھا مگر یہ کراچی میں پلے بڑھے تھے یہاں ان کے دوست ہیں، رشتہ دار ہیں، ان کا جانا پہچانا موسم ہے۔ ٹھیک ہے بارش ہوتی ہے اور پانی کھڑا ہوجاتا ہے یہ تو ان کے بچپن سے ہو رہا ہے۔

یہ بھی صحیح ہے کہ سخت گرمی میں بجلی چلی جاتی ہے اور ائرکنڈیشنر، پنکھے بھی بند ہو جاتے ہیں۔ ٹینی سی میں تو ایسا نہیں ہوتا ہوگا۔ یہاں ہوتا ہے یہ تو اس کے عادی ہیں۔ گٹر لائن بند ہوجاتی ہے اور گلی میں پانی کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ کون سی نئی بات ہے اور یہ بھی کچھ عجیب نہیں ہے کہ نلکوں میں پانی آنا بند ہوجاتا ہے اور ٹینکوں سے پانی منگانا پڑتا ہے۔ یہ سب باتیں کہنا بے کار تھا۔ میں نے یہ کہا بھی نہیں تھا۔ میں نے تو کہا تھا پہلے کراچی میں قتل نہیں ہوتے تھے۔

پہلے کراچی کے بچے پستول نہیں چلاتے تھے۔ پہلے بدمعاش گھروں میں گھس کر عورتوں، لڑکیوں کی عزت پامال نہیں کرتے تھے۔ پہلے کراچی والے رات کے اندھیرے میں بوڑھوں کو مار مار کر انہیں لوٹتے نہیں تھے۔ اب یہ سب کچھ ہوتا ہے۔ کیوں آپ یہاں رہے ہیں؟ چلے جائیں، کریم کے پاس، شازیہ کے پاس۔ اب کراچی میں آپ کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کچھ بھی نہیں کہا تھا، مسکرائے تھے، خاموش رہے تھے۔ کریم پھر چلا گیا تھا اور شازیہ بھی چلی گئی تھی۔

ایک رات میں ان سے ملنے گیا تھا تو میں نے محسوس کیا تھا کہ بڑھاپا ان کے قریب آ گیا ہے۔ باتوں باتوں میں کراچی کی بات چل نکلی، حالات اور بھی خراب ہو گئے تھے۔ اب تو ان علاقوں میں بھی گڑبڑ ہو رہی تھی جہاں پہلے کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔ پل کے اس طرف کلفٹن اور ڈیفنس میں بھی ڈاکے پڑنے لگ گئے تھے۔ وہ بہت دکھ سے بولے تھے ”یاد ہے تم نے ایک دن کہا تھا کہ کراچی میں اب کیا نہیں ہوتا۔ ہم جب کراچی آئے تھے تو کچھ نہیں ہوتا تھا۔

سب کچھ اچھا تھا، چھوٹا سا شہر تھا مگر سب کچھ موجود تھا۔ ہر مذہب کے لوگ، امیر غریب سب رہتے تھے اور ان کو ضرورت کے مطابق چیزیں بھی ملتی تھیں، پانی بھی ملتا تھا، گٹر لائنیں بند نہیں ہوتی تھیں، بارش کا پانی ٹھہرتا نہیں تھا، اسکول بند نہیں ہوتے تھے، لوگ قتل نہیں ہوتے تھے۔ یہ تو اب ہو رہا ہے، اس لیے ہو رہا ہے کہ کراچی میں ہر فرد نے کراچی سے دھوکا کیا ہے۔ جو پڑھ لکھ گیا ہے وہ کراچی چھوڑ گیا ہے، جو ان پڑھ ہے وہ ان کی نقل کر رہا ہے، جو قانون توڑ رہے ہیں ٹریفک کے قانون سے بلڈنگ کے قانون تک۔ ”انہوں نے بہت دکھ سے کہا تھا“ کراچی ختم ہو جائے گا۔ ”میں نے پہلی دفعہ ان کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی دیکھی تھی۔

ایک رات آنٹی کا فون آیا تھا کہ انکل گر گئے ہیں۔ میں فوراً انہیں دیکھنے گیا تھا۔ وہ ٹھیک تھے، کوئی خاص بات نہیں تھی مگر میں نے کہا کہ میں ان کی آنکھوں کا معائنہ کروں گا۔ مجھے لگا تھا کہ جیسے انہیں دیکھنے میں کوئی تکلیف ہو رہی ہے۔

دوسرے دن میں نے ان کا اپنی کلینک میں تفصیلی معائنہ کیا۔ ان کی دونوں آنکھوں میں موتیا تھا۔ انہیں فوری آپریشن کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ آپریشن کرالیں گے اگر ضروری ہے۔

اسی رات میں نے کریم کو فون کر کے بتایا۔ اس نے کہا کہ میں آپریشن کا پلان کروں، وہ خود بھی آ جائے گا۔ میں نے آپریشن پلان کر لیا مگر کریم نہیں آ سکا تھا۔ اس کی مصروفیت تھی۔ آپریشن نہیں ہوسکا تھا۔ دوسری دفعہ بھی یہی ہوا تھا۔ کریم اور شازیہ دونوں کے بچوں کے اسکول کا وقت تھا۔ وہ دونوں نہیں آسکتے تھے۔ آپریشن پھر ملتوی ہو گیا تھا۔

آپریشن اتنا مشکل نہیں تھا کہ ان لوگوں کی موجودگی ضروری تھی۔ میں نے ان کے گھر جا کر انہیں سمجھایا کہ آپریشن کرالیں۔ اگر کریم اور شازیہ نہیں ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے، میں تو ہوں، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے آپریشن تو میں روز کتنے ہی کرتا ہوں۔ اگر وہ لوگ مصروف ہیں، ان کے بچے اسکولوں میں پھنسے ہیں، اگر دونوں میں سے کسی کو بھی چھٹی نہیں ملتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ پریشان ہوتے رہیں۔

میں نے پھر کریم کو فون کر کے بتایا اور اس دن وہ ہسپتال میں داخل بھی ہو گئے، مگر آپریشن تھیٹر تک جانے کے بعد آپریشن سے انکار کر دیا۔ ان کے چہرے پر وحشت عیاں تھی۔ وہ بار بار بیٹھ جاتے تھے۔ انہوں نے سختی سے میرا ہاتھ پکڑا تھا، ان کے ہاتھ پسینے میں شرابور تھے۔ انہوں نے بڑی شرمندگی سے کہا تھا کہ نہیں آج آپریشن نہیں کراؤں گا۔ ان کا آپریشن پھر کینسل ہو گیا تھا۔

اسی روز شام کو میں اور نغمہ ان کے گھر گئے۔ گیٹ نوکر نے کھولا تھا۔ ڈیفنس کے اس بڑے سے بنگلے میں ایک عجیب قسم کا سناٹا تھا، ہو کا عالم۔ باہر لان میں ہلکی ہلکی روشنی تھی۔ دروازے کو دھکا دے کر ہم دونوں اندر داخل ہو گئے۔ بڑے سے لاؤنج کے آخری سرے پر کریم کی امی بیٹھی ٹیلی ویژن دیکھ رہی تھیں۔ ہم دونوں کو دیکھ کر وہ کھڑی ہو گئی تھیں، بڑے پیار سے میرے سر پر ہاتھ رکھا تھا، نغمہ کو پیار کر کے اپنے ساتھ ہی بٹھا لیا تھا۔

”انکل کہاں ہیں؟“ میں نے سوال ہی کیا تھا کہ وہ لاؤنج کے برابر والے کمرے سے نکلے۔ میں اٹھ کر گیا ان سے ہاتھ ملایا۔ ان کے چہرے پر ابھی تک ایک عجیب قسم کا تاثر تھا، جیسے شرمندہ سے ہوں۔ انہوں نے میرا ہاتھ زور سے پکڑ لیا اور بڑی شرمندگی سے دوبارہ بولے ”مجھے معاف کر دیا ہے ناں۔ تمہیں بہت تکلیف دی ہے میں نے، بہت پریشان کیا ہے، نہ جانے مجھے کیا ہو گیا تھا۔“

مجھے افسوس ہوا تھا، تھوڑی سی شرمندگی بھی۔ وہ ایک طرح کے احساس جرم کا شکار تھے۔ وہ ایک طرح کے احساس جرم کا شکار تھے اور مجھے ایک عجیب قسم کا احساس سا ہو رہا تھا۔ میرا ہاتھ پکڑے پکڑے وہ تھوڑی دیر کچھ سوچتے رہے، پھر آہستہ سے مجھے پکڑ کر اسی کمرے میں لے گئے جہاں سے وہ نکل کر آئے تھے۔

”یہ کریم کا کمرہ تھا اور اس کے برابر میں شازیہ کا کمرہ ہے، شازیہ نے تو چلے ہی جانا تھا۔ اتنی دور میں نے سوچا نہیں تھا۔ بیٹیاں تو چلی ہی جاتی تھیں مگر کریم کیوں چلا گیا تھا۔ دیکھو ہم نے یہ کمرہ چھوا تک نہیں ہے۔ اس لیے کہ ہمیں یقین تھا کہ وہ آ جائے گا۔“

میں پہلے کبھی اس کمرے میں نہیں آیا تھا۔ بڑا سا بستر تھا جس کے سرہانے ایک بڑا سا پوسٹر تھا۔ بروس اسپرنگ، پھٹی ہوئی جینز پہنے سر کے گرد رومال باندھے گٹار لیے کھڑا تھا۔ باتھ روم کے دروازے پر ایک چمپینزی کی تصویر لگی ہوئی تھی جس کے ہاتھ میں ٹوتھ برش تھا جس پر وہ پیسٹ لگا رہا تھا۔ بستر کے برابر میں پڑھنے کی ایک چھوٹی سی ٹیبل تھی جس پر کریم کی پرانی کتابیں سلیقے سے سجی ہوئی تھیں۔ ٹیبل کے اوپر ”ہیرالڈ“ کے کسی پرانے ٹائیٹل کو پھاڑ کر دیوار پر چپکایا گیا تھا۔

ٹائیٹل پر ایک مردہ فاختہ کی تصویر تھی جس کے اوپر امن کا نشان لگا ہوا تھا۔ اس ٹائیٹل کے ساتھ ہی پاکستان کا ایک جھنڈا بھی ذرا سا نیچے کر کے لگا ہوا تھا۔ الٹے ہاتھ کی دیوار پر ایک فریم میں کریم کی بچپن کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ سیدھے ہاتھ کی دیوار پرایک اور بڑا سا پوسٹر مائیکل جیکسن کا لگا ہوا تھا جس میں اس نے دونوں ہاتھ کریم کی تصویر کی طرف اٹھائے ہوئے تھے، یہ اس کی ناچتی ہوئی تصویر تھی۔ پوسٹر کے نیچے موٹا لکھا ہوا تھا۔

”آئی ایم بیڈ آئی ایم بیڈ“ (I am bad، I am bad) میں نے یہ کمرہ پہلے نہیں دیکھا تھا۔ بڑے سے گھر کا یہ نیچے کا کمرہ تھا۔ اب تو کریم پہلی منزل کے ایک بڑے سے کمرے میں ٹھہرتا تھا۔ میں چاروں طرف دیکھ ہی رہا تھا کہ مجھے ان کی چبھتی ہوئی مضبوط سی آواز آئی تھی۔ ”کل میں یہ سارے پوسٹر اتار دوں گا۔ یہ کتابیں ردی میں چلی جائیں گی۔ یہ سائیکل جو کونے میں کھڑی ہے مالی کے بیٹے کو دے دوں گا۔ یہ چھوٹی چھوٹی سیپیوں کا ڈھیر جو میں نے اور کریم نے ساتھ ساتھ کلفٹن پر جمع کیا تھا، جس کو اس نے کبھی بھی کسی کو ہاتھ لگانے نہیں دیا تھا اسے میں سمندر میں دوبارہ پھینک آؤں گا۔

یہ اس کے اسکول کے زمانے کے ڈاک کے ٹکٹوں کا البم بھی رکھنا بے کار ہے۔ یہ گھر کے پرانے اخباروں اور کاغذوں کے سات بک جائے گا۔ یہ کمرہ اور اس کمرے کی چیزیں اب کوئی معنی نہیں رکھتی ہیں۔ ان سے میرا رشتہ ٹوٹ چکا ہے اور یہ رشتہ ہے جس نے مجھے بار بار تمہارے سامنے شرمندہ کیا ہے۔ تم پرسوں میرا آپریشن رکھ لو۔ کریم کو بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس دفعہ تم پریشان نہیں ہو گے۔ میں وہاں سے نہیں بھاگوں گا۔ ”

مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ صحیح کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے بڑے اعتماد سے کہا ”آؤ چلو چائے پیتے ہیں۔“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •