کاون: پاکستان میں برسوں جکڑے رہنے والے دنیا کے تنہا ترین ہاتھی کی کہانی

سارہ عتیق - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کہانی ہے دنیا کے سب سے تنہا ہاتھی ’کاون‘ کی جو سری لنکا میں 1981 میں پیدا ہوا۔ وہ صرف چار سال کا تھا جب سری لنکا کی حکومت نے اسے پاکستان کے اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کی درخواست پر پاکستان کو تحفے میں دے دیا۔

کاون پاکستان آیا تو اسے اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر رکھا گیا جو کاون کا گھر بن گیا۔ کیونکہ کاون اسلام آباد کے چڑیا گھر کا پہلا اور واحد ہاتھی تھا تو لوگ اسے دور دور سے دیکھنے آتے اور بچے تو کاون پر چڑھ کر بڑے شوق سے تصویریں بناتے۔ یہاں تک کہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے بچپن میں کاون کی سواری کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’کاون‘ کی منتقلی: امریکی گلوکارہ پاکستانی حکومت کی شکرگزار کیوں؟

’کاون آپ کی مدد کا منتظر ہے جلدی کریں‘

کیا کاون اسلام آباد سے بنا کسی خطرے کمبوڈیا جا پائے گا؟

’ریشماں کے بعد آج کاون سے تعریف حاصل کر کے خوشی ہوئی‘

کاون سب ہی بچوں کا دوست تھا لیکن کاون کو بھی تو ایک دوست کی ضرورت تھی جو اس کے ساتھ رہے، کھائے پیے اور کھیلے کودے۔ لیکن پاکستان کے جنگلوں میں تو ہاتھی ہوتے ہی نہیں۔ تو کاون ہاتھی کا ساتھی لاتے بھی تو کہاں سے؟

لیکن پھر بالآخر کاون کو اس کی سہیلی مل گئی۔ سنہ 1991 میں بنگلہ دیش کی وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء نے ایک ہتھنی پاکستان کی حکومت کو تحفے میں دی جسے ’سہیلی‘ کا نام دیا گیا۔

کاون کی طرح سہیلی بھی سری لنکا میں 1989 میں پیدا ہوئی اور وہاں اس کا نام مانیکا رکھا گیا تھا، لیکن جب وہ پاکستان آئی تو اس کا نام سہیلی رکھ دیا گیا۔

کاون کو اپنا ساتھی تو مل گیا لیکن اسے بھی کاون کی طرح زنجیروں میں باندھ دیا گیا اور کاون اور سہیلی دن رات بس انہی زنجیروں میں بندھے رہتے۔

کچھ عرصے بعد سہیلی کی طبعیت خراب ہونے لگی اور اس کے پاؤں میں تکلیف اتنی بڑھ گئی کہ 22 سال کی سہیلی سے کھڑا بھی نہیں ہوا جاتا تھا۔

اور پھر ایک دن سہیلی اس تکلیف کی وجہ سے دم توڑ گئی۔ جب کاون کی سہیلی ہلاک ہوئی تو تب بھی وہ اور کاون زنجیروں میں ہی بندھے تھے۔

سنہ 2012 میں سہیلی کے مر جانے کے بعد بے چارہ کاون ایک بار پھر اکیلا ہو گیا۔ زنجیروں میں جکڑا کاون اکیلے ہونے کی وجہ سے دن بدن ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا چلا گیا اور وہ ہر وقت یا تو پریشانی میں اپنا سر ایک سے دوسری جانب ہلاتا رہتا یا دیواروں اور درختوں سے سر ٹکراتا۔

کئی سال گزر گئے اور کاون اسی طرح اسلام آباد کے چڑیا گھر میں رہتا رہا۔ پریشان، تنہا، زنجیروں میں بندھا۔

یہ 2015 کی گرمیوں کی بات ہے جب ایک دن امریکہ سے چھٹیاں گزارنے پاکستان آئی ہوئی ثمر خان اور ان کی امی نے اسلام آباد کے چڑیا گھر کا رخ کیا۔

جب ثمر کاون کے پنجرے کے پاس پہنچی تو وہ کیا دیکھتی ہیں کہ کاون زنجیروں میں کھڑا ہے اور مسلسل بس اپنا سر دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں ہلا رہا ہے۔

چونکہ ثمر اس وقت جانوروں کی ڈاکٹر بن رہی تھیں وہ فوراً سمجھ گئیں کہ کاون کی ذہنی صحت ٹھیک نہیں۔ انھوں نے ٹھان لی کہ وہ کاون کو وہاں سے آزاد کروا کر رہیں گی۔

بس پھر کیا تھا ثمر خان نے دیواروں سے ٹکریں مارتے کاون کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے ’فری کاون دی ایلیفینٹ‘ کے نام سے مہم شروع کی اور دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کاون کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں۔

ثمر نے ایک آن لائن پیٹیشن ’فری دی کاون‘ کا بھی آغاز کیا جس پر دنیا بھر سے چار لاکھ افراد نے دستخط کیے۔ ثمر اور اس مہم کا حصہ بننے والوں نے چڑیا گھر کے حکام، سی ڈی اے کے افسران اور یہاں تک کہ اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف کو بھی خط لکھے اور اپیل کی کہ کاون کو آزاد کیا جائے۔

دیکھتے ہی دیکھتے زنجیروں میں جکڑے کاون کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور امریکہ کی مشہور گلوکارہ شیر کو بھی اسلام آباد کے چڑیا گھر میں قید ہاتھی کاون کی خراب حالت کے بارے میں معلوم ہوا۔

جانوروں سے بہت پیار کرنے والی اور ان کے حقوق کے لیے کام کرنے والی شیر بھی ’فری کاون دی ایلیفینٹ‘ مہم کا حصہ بن گئیں اور پاکستانی حکومت سے کاون کی آزادی کی گزارش کی۔

شیر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر کاون کو آزاد کر دیا جائے تو کاون کو اس کے گھر سری لنکا یا کمبوڈیا لے جانے کا سارا خرچہ وہ اٹھائیں گی۔

جب بچوں، بڑوں اور بوڑھوں سب نے کاون کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی تو چڑیا گھر انتظامیہ بھی مجبور ہوگئی اور انھوں نے بالآخر کاون کو زنجیروں سے آزاد کر دیا۔

لیکن کاون کے دوستوں کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔

وہ جانتے تھے کہ کاون کا پنجرہ اس کے لیے بہت چھوٹا ہے اور پھر اس کا کوئی ساتھی بھی نہیں ہے اس لیے زنجیریں کھول دینے سے کاون ٹھیک نہیں ہوگا۔

انھوں نے اپیل کہ کاون کو کسی محفوظ قدرتی مقام جیسا کہ سری لنکا یا کمبوڈیا منتقل کیا جائے جہاں وہ آزادی سے دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ رہ سکے۔

لیکن چڑیا گھر والوں کے پاس بھی تو بس ایک ہاتھی تھا وہ بھلا کیسے کاون کو اتنی آسانی سے جانے دیتے؟

کبھی وہ کہتے ہم کاون کو یہاں ہی بڑا پنجرہ بنا دیں گے اور اس کی ایک اور ساتھی لے آئیں گے۔ کبھی کہتے ہمیں جب تک ایک اور ہاتھی نہیں ملے گا ہم کاون کو نہیں جانے دیں گے۔

بس پھر کیا تھا سینیٹ کی ایک کمیٹی نے ان چڑیا گھر والوں کو بلا لیا اور 2016 میں حکم دیا کہ کاون کو کسی محفوظ جگہ پر منتقل کیا جائے۔

لیکن سینیٹ کے حکم کے باوجود بے چارے کاون کو کسی نے چڑیا گھر سے جانے نہ دیا تو کاون کے دوستوں کو ایک اور ترکیب سوجھی۔ انھوں نے سوچا کیوں نہ ہم عدالت میں جائیں اور جج صاحب سے کہیں کہ وہ کاون کی مدد کریں؟

کاون کے دوستوں کا یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا اور عدالت نے کہا کہ اس چڑیا گھر میں کاون تو کیا کوئی بھی جانور نہیں رہے گا۔ جانوروں کو اتنی بری حالت میں قید رکھنا بلکل صحیح بات نہیں! اس لیے کاون کو کمبوڈیا اور چڑیا گھر کے باقی سارے جانوروں کو کسی محفوظ جگہ منتقل کیا جائے۔

کاون کی آزادی کی خبر سن کر کاون کے دوست خوش بڑے ہوئے۔ لیکن ابھی ایک مسئلہ اور تھا۔ کاون نے اپنے زندگی کے 35 سال چڑیا گھر کے پنجرے میں تنہا گزارے تھے، اسے جنگل اور دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ رہنے کی تو عادت ہی نہیں تھی۔ اور پھر اکیلے رہ رہ کر وہ ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہو گیا تھا۔

کاون کی ان سب مشکلوں کو دور کرنے ایک این جی او ’فور پاز‘ کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم آئی جس نے کاون کا مکمل چیک اپ کیا اور دیکھا کہ وہ سفر کرنے کے لیے فِٹ بھی ہے یا نہیں۔ اس ٹیم میں مصر کے مشہور جانوروں کے ڈاکٹر عامر خلیل بھی تھے۔

ڈاکٹر خلیل جب کاون سے ملے تو انھیں فورًا پتا چل گیا کہ کاون کو ایک دوست کی ضرورت ہے۔ لیکن کاون میاں تو کسی کو اپنے پاس بھی نہیں آنے دیتے تھے تو بھلا ان سے کوئی دوستی کرتا بھی تو کیسے؟

لیکن ڈاکٹر خلیل بھی بہت ذہین تھے۔ انھوں نے کاون کو گانے سنائے، اس کو پانی پلایا اور اس کے ساتھ خوب کھیلا کودا۔ پھر کاون اور ڈاکٹر خلیل کیسے دوست نہ بنتے؟ یوں ہو گئی ان کی دوستی۔

اور بالآخر 35 سال تنہا زنجیروں میں گزارنے کے بعد کاون کو کمبوڈیا کے ہرے بھرے جنگلوں میں بھیجا جا رہا ہے جہاں وہ اپنی باقی کی زندگی دوسرے ہاتھیوں کے ساتھ گزارے گا۔

اور یوں دنیا کا سب سے تنہا ہاتھی اب تنہا نہیں رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17326 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp