کیا روس واقعی گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چار سال قبل جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ جانے کا اتفاق ہوا جہاں اپنے ایک مہربان اور جماعت کے فعال رہنما سے جو چین کی دوستی کے گن گا رہے تھے، استفسار کیا کہ جناب روس تو کافر اور دشمن ملک تھا یہ چین بھی تو مسلمان ملک نہیں ہے، وہاں چین کی کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے جس کے لیے آپ یعنی جماعت اسلامی نہ صرف سی پیک منصوبے کے بعد رطب اللسان ہے بلکہ جماعت نے کبھی چین یا وہاں کے نظام پر تنقید نہیں کی اس کی کیا وجہ ہے؟

ان کا جواب تھا کہ جماعت کمیونزم کی مخالفت کرتی رہی ہے مگر چین میں کمیونزم نہیں ہے۔ بار بار باور کرانے کے کہ جناب وہاں تو کمیونسٹوں کی حکومت ہے وہ بضد رہے کہ چین میں کمیونزم نہیں ہے۔ جب میں نے تنگ آ کر کہا کہ حضور ”کمیونزم کو روکو“ یعنی ”کرٹیل کمیونزم“ کی پالیسی تو امریکہ کی تھی تو انہوں نے موضوع یہ کہتے ہوئے بدلا کہ آپ اور مجھ جیسے دانشور تو باتیں کرتے رہیں گے اصل بات تو عوام کی ہوتی ہے۔ اتنی حیرت نہیں ہوئی کہ ہمیں نفرت سے ”دان شور“ کہنے والے اب اپنے ساتھ ہمیں بھی ”دانشور“ تسلیم کرنے لگے ہیں۔

ہم جو امریکی سامراج کے خلاف پچاس کی دہائی سے متحرک تھے، آج دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں نے اسے اپنا شیوہ بنا لیا اور چین کو تو انہوں نے کبھی کمیونسٹ یا کافر سمجھا ہی نہیں اگرچہ چینیوں کی اکثریت کا مذہب بدھ مت ہے جب کہ روسیوں کا مذہب عیسائیت، پھر یہ کہ ان جماعتوں کو من حیث المجموع عوام کی زبان کا بھی پاس کرنا آ گیا ہے لیکن یہ عوام کی زبان میں اپنا زہر گھولنے سے باز نہیں آئے۔ روس کے خلاف دل میں جو کد تھی وہ محذوف نہیں کی جا سکی۔

گزشتہ دنوں دائیں بازو کے ایک معروف تجزیہ نگار نے پھر سے روس کی اور ساتھ ہی چین کی گرم پانیوں تک رسائی کے انداز کو اپنے طور پر تجزیہ کرتے ہوئے یوں آغاز کیا ”روس نے گرم پانی تک پہنچنے کے لیے 80 بلین ڈالر خرچ کیے جبکہ چائنہ نے 51 بلین ڈالر لیکن روس نے“ ڈیسٹرکشن ”کا راستہ چنا اور چائنہ نے کنسٹرکشن کا“ اس سے آگے انہوں نے جھوٹ کے جو طومار باندھے ہیں ان سے صرف نظر کرتے ہوئے بس اتنا کہنا ضروری ہے کہ اس مضمون کو آئی ایس پی آر کے ایک حاضر سروس افسر نے اپنی فیس بک ٹائم لائن پر شیئر کیا ہے۔ موصوف کا نام لکھنا مناسب نہیں بہر حال دائیں بازو کی خاص طور پر مذہبی پارٹیاں بھی تو ہمیشہ فوج کی زبان بولتی چلی آئی ہیں۔

یوں گرم پانی کی بھلا دی گئی جھوٹی کہانی کو ایک بار پھر نجانے کیوں سامنے لایا جانے لگا ہے۔ روس کو گرم پانیوں کی کبھی ضرورت نہیں رہی۔ میں یہ بتاتا چلوں کی میری روس کے ساتھ ہمدردیاں نہیں ہیں۔ اگرچہ میں روسی شہریت رکھتا ہوں مگر میں نے روس کی حکومت سے وفاداری کے ایسے کسی اقرار نامہ پر دستخط نہیں کیے ہیں جیسے برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا وغیرہ میں ملکہ کے ساتھ وفاداری اور امریکہ میں امریکی ریاست کے ساتھ وفاداری کے لیے دستخط کیے جاتے ہیں۔ روس میں شہریت پانے کی غرض سے ایسا کوئی سلسلہ ہے ہی نہیں۔ تاہم جھوٹ کو افشا کرنا اور سچ کو سامنے لانا نہ صرف انسان دوست بلکہ اسلامی عمل بھی ہے۔

انٹرنیٹ کی بدولت اب کوئی بات کسی سے مخفی رکھے جانا بہت زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ کوئی بھی شخص گوگل پر جا کر بحیرہ اسود جو گرم پانی والا سمندر ہے، میں موجود بندرگاہوں کو دیکھ کر ترکی، بلغاریہ، رومانیہ، یوکرین، جارجیا اور روس کی بندرگاہیں گن سکتا ہے۔ بات چونکہ روس کی ہو رہی ہے اس لیے بتاتے چلیں کہ بحر اسود میں روس کی بندرگاہوں کے نام نووورسسک، ایدلر، سوچی، اناپا، تو آپسے اور سیوستوپل ہیں۔ ان میں نوورسسک بہت بڑی تجارتی بندرگاہ ہے جبکہ سیوستوپل جنگی جہازوں کی بڑی بندرگاہ۔

باقی بندرگاہیں چھوٹی ہیں۔ جس زمانے میں گرم پانیوں کی جھوٹی کہانی گھڑی گئی تھی تب سوویت یونین وجود رکھتا تھا جس کے خلاف امریکہ، پورا مغرب اور ایشیا میں امریکی سامراج کے پالتو ایجنٹ متحرک و سرگرم تھے، تب سوویت یونین یعنی روس یوکرین کی ادیسہ (اوڈیسہ) اور اکتابرسک جیسی بڑی بندرگاہوں کے علاوہ اس کی دسیوں چھوٹی بندرگاہوں، پھر جارجیا کی بندرگاہوں کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر وارسا پیکٹ بلاک میں شامل ملکوں بلغاریہ اور رومانیہ کی بندرگاہیں بھی استعمال کر سکتا تھا۔

علاوہ ازیں ماسوائے بحر منجمد شمالی کے نہ صرف روس کے مشرق بعید میں بحرالکاہل کے گرم پانیوں کی بندرگاہیں استعمال ہوتی تھیں بلکہ خیلج بالٹک میں جمی برف کو برف توڑ جہازوں کے ذریعے توڑ کر بحری آمدو رفت ہمیشہ جاری رہتی تھی۔ جنگی بحری آبدوزیں تو گرم و سرد پانی سے بے نیاز ہوتی ہیں۔

گرم پانی سے مراد ایسا سمندر ہے جو موسم سرما میں منجمد نہ ہو۔ کسی بھی ملک کو ایسے سمندر کی ضرورت بالخصوص تجارت کے لیے درکار ہوتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ سوویت یونین سے وارسا پیکٹ کے ملکوں کے علاوہ دوسرے ملکوں کے ساتھ اتنی تجارت ہوتی ہی نہیں تھی، ویسے بھی سوویت یونین ماسوائے اسلحہ کے باقی چیزیں کم معیاری بنایا کرتا تھا کیونکہ اس کی کسی سے مسابقت تھی ہی نہیں۔ اشیاء اپنے ملک کے عوام کے لیے ہوتی تھیں یا یوگوسلاویا، بلغاریہ، چیکوسلاواکیہ، ہنگری اور مشرقی جرمنی سے سڑک کے راستے آ جاتی تھیں۔

بفرض محال ہم یہ سمجھ لیں کہ گرم پانی بحری جنگی جہازوں کے لیے بھی تو درکار ہوتا ہے، جی ہاں اگر جنگ چھڑ جائے تو یقیناً درکار ہوتا ہے جس کے لیے روس کے بحری بیڑے بحیرہ اسود، بحرالکاہل اور بحیرہ روم میں متعین ہوتے تھے تو بھی اسے پاکستان کے ساحل تک آنے کے لیے سمندر ہی درکار تھا نہ کہ مرکزی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان سے گزر کر پورا پاکستان عبور کرتے ہوئے اسے اپنے جنگی بحری جہاز اور آبدوزیں بحیرہ عرب تک پہنچانی تھیں۔ فوجی اور فوجی سازو سامان آ سکتا ہے لیکن وہ بھی کس لیے؟

سی پیک کے حوالے سے گوادر کی بندرگاہ تک روس کی رسائی، یہ ایک خبر ہے جس پر آج جنگ جیسے موقر اخبار نے ”روس کی گرم پانیوں تک رسائی!“ کے عنوان سے اداریہ بھی تحریر کر دیا ہے لیکن اس میں بھی نہیں بتایا گیا کہ ”رسائی“ سے کیا مراد ہے؟

اگرچہ یہ بات بہت سادہ ہے۔ تجارتی مال کی آمدورفت کے لیے فاصلہ کم کرنا اور وقت بچانا نہ صرف آمدورفت کے اخراجات کو کم کر دیتا ہے بلکہ تازہ مال کی مارکیٹ میں جلد رسائی کو بھی ممکن بناتا ہے۔ گوادر کی بندرگاہ کا انصرام چینی کمپنی کے پاس ہے اور سی پیک منصوبہ ہے ہی چین کا جس سے یقیناً پاکستان بھی ایک حد تک مستفید ہوگا۔ آج چین اور روس حریف نہیں بلکہ حلیف ملک ہیں۔ چین اور روس کے تعلقات دن بدن گہرے اور مزید دوستانہ ہوتے جا رہے ہیں۔

چین کے مال کی مقدار کا مقابلہ کیا جانا بہت مشکل ہے چنانچہ روس کی اس کے ساتھ مسابقت نہیں ہوگی البتہ روس میں بننے والا مال سڑک کے راستے گوادر پہنچ کر مشرق وسطٰی اور افریقہ کی منڈیوں میں جلد پہنچ جایا کرے گا۔ آمدورفت کے اخراجات کم ہوں گے تو منڈی میں موجود ویسے ہی مال کے ساتھ مسابقت بھی اچھے طریقے سے ہوگی۔ گودی کا انصرام کرنے والی چینی کمپنی کو اس سے مالی فائدہ پہنچے گا۔ پاکستان سے تو صرف رسمی اجازت لینا درکار تھی۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اب اتنی بھی گاؤدی نہیں ہے کہ اپنے دوست ملک چین کے حلیف ملک روس کو، جس کے ساتھ دوستی بہتر کرنے کا خود پاکستان بھی خواہاں ہے انکار کر دیتی جبکہ اس طرح راہداری سے پاکستان کی مالی منفعت بھی جڑی ہوئی ہے۔

لپکنا، جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا اگر لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہے تو حکومت، اخبارات، دانشور، فوج، ہئیت مقتدرہ اور دائیں بازو کی بالخصوص مذہبی جماعتیں شوق سے گرم پانیوں کی بات کرتے رہیں لیکن سچ وہی ہے جو ہے یعنی تجارت، معیشت اور باہمی تعاون۔ جنگی جنون، مغائرت اور بلاوجہ سرگرمی کی ضرورت نہیں رہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •