چھوٹا سا موبائل اور لمبی جدائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے زمانے میں تیرہ، چودہ سال کی لڑکی گھریلو کاموں میں طاق کر دی جاتی تھی، رشتے آنے لگتے تھے۔ لڑکے کا لڑکی سے پندرہ بیس برس عمر میں بڑا ہونا عام بات تھی۔ اس زمانے میں عمر کا اتنا ہی فرق اس خیال سے مناسب خیال کیا جا تا تھا کہ ایک عمر میں آ کر اپنے شوہر سے بڑی نہ لگے۔

ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ رہنے کا زیادہ موقع ہی نہ ملتا تھا۔ اور جتنا بھی ملتا، چھوٹے بہن یا بھائی کا منہ، ناک صاف کرنے، پوتڑے دھونے، گول پھولی ہوئی نرم روٹی سیکھنے، پکانے اور چولہے کے نیچے لگی لکڑیوں کی مدھم آنچ کو پھونک کر تیز کرنے میں گزر جاتا تھا۔ اگر گھر کی سب سے چھوٹی بچی ہوتی تب بھی اپنی بڑی شادی شدہ بہن یا بھائی کے بچوں کے ساتھ یہ ہی کچھ کرتی۔ اس زمانے میں یہ کوئی انہونی بات نہ ہوتی تھی کہ مائیں، اپنی بیٹیوں اور بہوؤں کے ساتھ ساتھ اپنے بچے جننا بھی جاری رکھتیں۔ قدرت کی طرف سے روک لگتی تو لگتی۔ بعض اوقات خالائیں، ماموں، اپنے بھانجوں سے چھوٹے ہوتے۔

بچے کیوں کہ زیادہ ہوتے تھے اس لیے بوجھ اتارنے کے لیے جو بھی پہلا رشتہ آتا بات پکی کر دی جاتی۔ اپنے بھرے پرے گھر، مشترکہ خاندانی نظام، دادیوں نانیوں چچا تائی، پھپیوں کی روک ٹوک سے بے زار، اپنی شادی کی سن گن ملتی تو جنجال پورے سے چھٹکارے کا خیال اور دلہن بننے کی خوشی میں ذرا احتجاج نہ کرتیں۔ شادی والے روز آنکھوں میں بنا سپنوں اور آنسوؤں، کے دھاڑیں مارتی رخصت ہوجاتیں۔ سسرال جاتے ہی میکے سے یوں آنکھیں پھیرتیں کہ لگتا اس گھر سے کوئی ناتا ہی نہیں۔ بھئی جس گھر میں میں تیرہ چودہ برس بتائے ہوں اور یہ باور کرایا گیا ہو کہ جس گھر جا رہی ہو اب مر کر ہی نکلنا ہے، تب ایسا میکہ فانی دنیا کی طرح ہی لگے گا کہ ٹک آنکھ لگی، جاگے تو سسرال میں، جو آخرت کی زندگی کی طرح ہمیشہ رہنے والی ہے کی مانند ہو گا۔

ساس، سسر کو منہ بھر کے اماں ابا کہنا دیور کے لاڈ اٹھانا، نندوں کی فرمائشیں پوری کرنا۔ ساس اپنی بہو کی بلائیں لیتے نہیں تھکتی۔

گھر گرہستی کرتے، وفا شعاری نبھاتے ہوئے صرف پینتیس برس کی عمر میں ہی دس بچوں کی ماں اور نانی بن کر چہرے پر سنجیدگی اور کرختگی طاری ہوجاتی، جسم اور جلد بڑھاپے کی عمر سے پہلے ہی ڈھلک جاتی تھی۔ مر د ہمیشہ سے شوقین مزاج ہے لیکن تب حق سے ببانگ دہل شوقین ہوا کرتا تھا۔ اس لیے جوان، ترو تازہ اور رنگین مزاج ہو نے کی وجہ سے اپنا خیال رکھتا۔ بیس سال چھوٹی بیوی اب ہم عمر لگا کرتی۔

بہت کچھ صاف دکھائی دینے لگتا تھا۔ خود کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا بدلہ اپنی بہو سے لیا جا تا۔ جن رسم ورواج کی وجہ سے خود کی خوشیاں اور سکون برباد ہوا، اب ان ہی کی پابندی بہو پر لاگو ہوئی۔

وقت نے کروٹ لی، مردوں نے نئے زمانے کے اطوار سمجھے بیٹیوں کی مخلوط یا غیر مخلوط تعلیم کے حامی ہوئے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم وتربیت یکساں انداز سے کی جانے لگی۔ خرچوں میں اضافہ ہوا تو مرد خود اور خرچوں کو لگام دینے کے لئے کم بچے خوش حال گھرانے کے سلوگن کے نعرے سے متا ثر ہونے لگا۔

چار یا پانچ بچوں پر مشتمل گھرانا مکمل سمجھا جا نے لگا۔ لیکن بڑھتی مہنگائی اور سائنس کی ترقی کی بدولت ٹیکنالوجی کے ظہور نے خواہشات کو ضرورت بنایا۔ اسی کی دہائی میں شادی کرنے والوں نے اپنی نا تمام خواہشات کی تکمیل کے لیے اپنے خاندان کو اور بھی مختصر کر کے محض دو یا تین بچوں تک محدود کر دیا۔ مختصر خاندان میں ہر بچہ آنکھ کا تارا بن گیا۔ شادی دیکھ بھال کر کی جانے لگی۔

لڑکیوں اور لڑکوں کے باہمی میل جول بڑھے تو پسند کی شادیوں کا چلن بھی عیب نہ رہا۔ موبائل فون ہر ایک کی دسترس میں آ کر ضرورت بنا۔ محبت، گلے شکوے اور جذبات کا اظہار وقت بے وقت کیا جانے لگا۔ ایک دوسرے کو جلانے کے لیے دل جلے اسٹیٹس اپ لوڈ کیے گیے۔ اس سے بھی کام نہ بنا تولڑکے نے کسی غیر لڑکی کے ساتھ تصویرہوا کے دوش پر لہرائی تو لڑکی نے بھی کزن کے ساتھ اٹکھیلیاں کرتے تصویر اتروائی، رقابت کو ہوا ملی، شادی سے پہلے ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے ملاقات کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اس کا اختتام دودلوں کے ٹوٹنے سے ہوا۔ آنسو بہے، آہیں بھری گئیں، ایک دوسرے پر واہیات الزام تراشیوں کے باعث محبت پر، اناحاوی ہی رہی، اورشادی سے پہلے ہی محبت کا ڈراپ سین ہو گیا۔

ماں باپ یا اپنی پسند سے شادی خانہ آبادی تک معاملہ پہنچ بھی گیا تو کچھ ہی دنوں بعد الگ گھر کی ضرورت ناگزیر ہوئی، کیوں کہ دس بچوں والے خاندان کی ملکیت اس پیڑھی تک آتے آتے تقریباً ختم ہی ہو گئی۔ الگ گھر میں کسی کی مداخلت کا امکان نہ رہا توبرداشت، مروت، لحاظ سب ختم ہوا۔ مار پیٹ، گالم گلوچ، چیخنے چلانے اور احتجاج کرنے کے سلسلے کا آغاز ہو گیا۔ یہاں بھی اس موئے موبائل فون کی موجودگی نے جذبات کو ہوا دی۔ بیوی نے فون پر جھٹ اماں کو میاں کے گن بتائے، تو میاں نے بھی انتقاماً اپنی ماں کو اعتماد میں لیا۔ کم بچے یوں بھی نور نظر ہوتے ہیں۔ بیٹی کی ماں کو اپنی بیٹی، تو بیٹے کی ماں کو اپنے بیٹا مظلوم اور عذاب سے دوچار نظر آیا۔ نجی بات کوٹھوں چڑھی تو انا کے مسئلے آڑے آئے۔ سمدھنوں کی تو تو میں میں شروع ہوئی۔ لڑکی میکے جا کر بیٹھی اوربات طلاق پر ختم ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •