ریٹائرڈ مرد حضرات کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دھول مٹی سے اٹا ہوا گھر، ادھر ادھر بکھری ہوئی چیزیں، برآمدے میں پڑے تخت پر میلی سی رضائی، ایک طرف پلاسٹک کی دو کرسیاں اور ایک میز۔ ان میں سے ایک کرسی پر بیٹھے چچا جان رات کی روٹی جو ان کی بیٹی نے بھیجی تھی اسے ناشتے کے وقت چائے میں بھگو کر کھا رہے تھے۔ یہ تھے چند سال پہلے ہمارے مالک مکان جو بیوی کی وفات اور بچوں کی شادیوں کے بعد زندگی گزار رہے تھے اور بس ٰ ”گزار“ ہی رہے تھے۔ بیٹے بیرون ملک اور بیٹیاں اپنے اپنے گھر۔ کچھ مخصوص ذاتی اور معاشرتی وجوہات کی بنا پر وہ بیٹوں اور بیٹیوں دونوں ہی کے پاس نہیں رہتے تھے۔ بیوی کی وفات کے بعد وہ کئی سال اسی انداز میں زندگی کے دن پورے کرنے میں لگے رہے۔ آخر کار ایک مختصر سی علالت کے بعد وفات پا گئے۔ متعلقین نے تدفین اور قل خوانی کی اور زندگی پھر رواں دواں ہو گئی۔

اس واقعے کو لکھنے کا مقصد توجہ اس پہلو کی طرف دلانا مقصود ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی نسبت مردوں کے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد ایڈجسٹ ہونا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ اوپر مذکور بزرگ تو تنہا تھے لیکن بھرے پرے گھرانوں میں بھی مرد حضرات کے لئے زندگی کا یہ حصہ خاصا مشکل ہوتا ہے۔ خواتین عام طور پر اس عمر میں دادی نانی کے رتبے پر فائز ہو چکی ہوتی ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں میں مصروف ہو کر خوش رہتی ہیں جب کہ مرد حضرات اگر ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی مصروفیت یا دوسرے لفظوں میں ”شغل“ نا ڈھونڈیں تو پھر وہ صرف گھر کا سودا سلف، دودھ دہی لانے اور اگر قویٰ سلامت ہوں تو پوتے پوتیوں کو سکول ڈھونے کے کام میں لگ جاتے ہیں۔ مردانہ مزاج کے مطابق نا ہونے اور زندگی کا بڑا حصہ گھر سے باہر گزارنے کی وجہ سے ان کے لئے یہ سب کچھ اتنا خوش آئند نہیں ہوتا اور عام طور پر مصروفیت کی بجائے بوجھ بن جاتا ہے۔

زیادہ وقت گھر میں گزارنے کی وجہ سے گھر میں پوتے پوتیوں کے معاملات اور مشاغل میں مداخلت بچوں کو بھی اور باقی سب کو بھی گراں گزرتی ہے۔ یہ منظر بھی کئی گھروں میں نظر آتا ہے کہ ساری عمر کچن کی شکل نا دیکھنے والے بزرگ اس عمر میں کچن کی ”تلاشیاں“ لینا شروع کر دیتے ہیں اور مختلف اعتراضات اٹھاتے رہتے ہیں۔ جو بہو بیٹیوں کے ساتھ الگ نزاع کا باعث بنتا ہے اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ ابا جان سنکی ہو گئے ہیں۔

گھر سے باہر شغل اور مصروفیت جو ڈھونڈتے ہیں تو اس کے مناظر بھی اکثر شام کے وقت علاقے کے پارک یا دکانوں کے باہر نظر آتے ہیں جہاں اردگرد کے ”ویلے بابے“ تاش کی بازیوں میں مصروف ہوتے ہیں، سیاست کے بخیے ادھیڑتے ہیں یا پھر آنے جانے والوں پر تبصرے کرتے ہیں۔ کچھ کو آخرت سنوارنے کا خیال آتا ہے تو وہ مسجد کا نظم و نسق سنبھال لیتے ہیں۔ شہروں میں تو ایسا نہیں ہوتا لیکن گاؤں میں پھر نوجوان نسل اور بزرگ حضرات کے درمیان مسجد کے نظم و نسق کے حوالے سے گھمسان کا رن پڑتا ہے۔

ان سب میں زیادہ قابل رحم وہ حضرات ہوتے ہیں جن کی رفیقہ ان سے پہلے وفات پا جاتی ہیں۔ بہوئیں تو پھر اپنی مصروفیت میں کھانا دینا بھی بھول جاتی ہیں۔ مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ شریک حیات میں سے کسی ایک فریق کی وفات کی صورت میں عورت کی نسبت مرد زیادہ جلدی زندگی میں دل چسپی کھوتے ہیں اور نسبتاً جلدی وفات پاتے ہیں۔

یہ صورت حال صرف ملازمت پیشہ افراد کے ساتھ ہی پیش نہیں آتی بلکہ کاروباری حضرات کے بچے اگر اسی کاروبار میں آ جائیں تو کچھ عرصے بعد انہیں والد صاحب کی مداخلت گراں گزرتی ہے تو وہ بھی ابا جی کو آرام دلانے پر اصرار کرتے ہوئے انہیں گھر بٹھا دیتے ہیں۔ توجہ اس نکتے کی طرف دلانا مقصود ہے کہ یہ جو ریٹائرمنٹ کے بعد گھر اور باہر والے سب کہتے ہیں کہ جی آپ نے بہت کام کر لیا اب آرام کریں یا اللہ اللہ کریں تو یہ دراصل قبر کی طرف پہلا دھکا ہوتا ہے۔

اگر ذہنی اور جسمانی طور پر ہمت ہے تو اپنی تعلیم، صحت اور مزاج کے مطابق کوئی نیا کام کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ساری زندگی جو شوق حالات اور پیسوں کی وجہ سے پورے نہیں کر سکے اگر اب کر سکیں تو ضرور کریں۔ مغربی ممالک میں ریٹائرمنٹ کے بعد لوگ مزید پڑھائی میں لگ جاتے ہیں یا سیروتفریح میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر کوئی ایسا ارادہ ظاہر کرے تو بچے اور رشتے دار یا محلے والے تو بعد میں سب سے پہلے بیوی کہتی ہے کہ میاں سٹھیا گیا ہے۔ اور اگر کوئی بزرگ بیوی کی وفات کے بعد دوسری شادی کا ارادہ ظاہر کریں تو اولاد بندوق تان کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہ سب افراد، حالات و واقعات اور معاشرتی مزاج بڑے میاں کے لئے تیزی سے قبر کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔

یہ تحریر ان تمام ریٹائرڈ مرد حضرات کے نام ہے جو دوسروں کے لئے زندگی جی رہے ہیں کہ اپنی زندگی جئیں اور پورے جوش و جذبے اور زندہ دلی کے ساتھ زندگی کو ایک خوبصورت اختتام دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •