کورونا اور سیاست کا رونا!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز میں کورونا کی دوسری لہر میں بڑی شدت کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے ابھی کل ہی کی تو بات ہے جب ملک میں کورونا کی پہلی لہر سامنے آئی مارچ کے آخر میں جب اس وبا میں اضافہ شروع ہوا تو ایران سے آنے والے زائرین میں سے چند افراد کا تعلق لیہ سے بھی تھا جنہیں پہلے ڈیرہ غازیخان میں قائم آئسولیشن سنٹر میں 14 روز کے لیے رکھا گیا وہاں سے کلیئر ہونے کے بعد لیہ روانہ کیا گیا مگر لیہ پہنچنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے انہیں گھر بھیجنے کے بجائے پہلے لیہ میں قائم آئسولیشن سنٹر میں رکھا اور دو ہفتوں بعد مکمل تسلی کر کے انہیں گھروں کو جانے کی اجازت دی بعد ازاں گھر جانے کے بعد لیہ کے نواحی چک میں ایک شخص میں کورونا کی علامات سامنے آئیں تو پوری انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں بتانے کا مقصد یہ ہے اس وقت حکومت اور انتظامیہ کورونا جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے کس قدر سنجیدہ تھی کیونکہ اس وقت ریاست، حکومت اور سیاست سب مل کر عوام کو بچانا چاہتے تھے جس کا نتیجہ بھی بہتر آیا پاکستان بہت جلد بہتر انداز میں کورونا وبا پر قابو پانے میں کامیاب ہوا عالمی سطح پر بھی پاکستان کی کامیابی کو سراہا گیا۔

اب صورتحال یہ ہے لیہ میں کورونا کے فعال کیسز کی تعداد 150 سے زائد ہو چکی ہے وسیب میں کورونا میں پھیلاؤ کے حوالے سے ملتان کے بعد لیہ دوسرے نمبر پر ہے لیہ میں مجموعی طور پر 8 مقامات اور لیہ سٹی میں 6 مقامات پر میکرو لاک ڈاؤن لگایا جا چکا ہے بالکل ایسی ہی صورتحال پورے ملک کے ہر شہر میں ہے ملک میں فعال کیسز کی تعداد 46 ہزار سے زائد ہو چکی ہے روزانہ کی بنیاد پر 25 سو سے تین ہزار کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اور اموات کی شرح بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہے مگر آج عوام کو بچانے کے بجائے سیاست کو بچانے کی کوشش ہو رہی ہے جیسے جیسے کورونا کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی گرما گرمی میں بھی شدت آتی جا رہی ہے اس وقت حکومت اور اپوزیشن کا سیاسی اکھاڑہ سرائیکی وسیب بن چکا ہے جس کے اہم شہر ملتان میں اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم نے آج جلسے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ حکومت یہ جلسہ روکنے پر تلی ہوئی ہے دونوں فریقین کورونائی صورتحال کو اپنی اپنی سیاسی انا کی بھینٹ چھڑانا چاہتے ہیں اس حوالے سے وسیب کے اہم شہروں سے اپوزیشن جماعتوں کے متحرک رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ملتان میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی قیادت میں قاسم اسٹیڈیم کا گیٹ توڑ کر بنڈال پر قبضہ جما لیا ہے دوسری طرف انتظامیہ نے 30 سے زائد افراد پر مقدمات درج کر کے گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی بھی جمہوری حکومت میں مضبوط اپوزیشن کا کردار کلیدی حیثیت کا حامل ہوتا ہے جو کہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف موثر آواز بلند کر کے عوام کی حقیقی ترجمانی کرتی ہے مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں حکومت ہو یا اپوزیشن عوام کا نام تو استعمال کرتے ہیں مگر عوام کے لیے کچھ نہیں کرتے یہی صورتحال کورونا کے حوالے سے ہے دونوں جانب سے کورونا کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے حلانکہ سب ہی اس بات سے آگاہ ہیں کہ کورونا میں آنے والی شدت کی آندھی نہ جانے کتنے گھروں میں اندھیرا لا سکتی ہے مگر ہمارے سیاستدان اپنی سیاست کا چراغ روشن کرنے کے لیے سب کے چراغ گل کرنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔

اس تمام صورتحال میں قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انھوں نے ملتان جلسے میں شریک نہ ہونے اور گھر سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے یقیناً اچھی بات ہے جتنی زیادہ احتیاط کی جائے گی اتنا ہی اس وبا سے بچا جاسکے گا مگر جس کورونا سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے بختاور بھٹو کی منگنی میں کورونا ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا گیا اور جس کورونا کی رپورٹ مثبت آنے پر بلاول آئسولیشن میں چلے گئے ہیں کیا وہ کورونا عام کارکنوں اور جلسے میں شریک ہونے والے عوام کو نہیں ہو سکتا کیا کورونا غریب امیر چھوٹے بڑے کی تفریق کرتا ہے کیا وہ حیثیت دیکھتا ہے اگر نہیں تو پھر اپوزیشن جلسوں کی سیاست پر کیوں بضد ہے۔

؟ یقیناً یہ وقت سیاست کے رونے کا نہیں بلکہ کورونے کا ہے اپوزیشن کو مخالفت برائے مخالفت کی منفی سیاست کو ترک کر کے مثبت طرز سیاست کو اپنانا چاہیے اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کا طرز حکومت اور معاشی پالیسیاں کسی بھی طرح جمہوری اور عوامی نہیں مگر کیا صرف جلسوں کے ذریعے ہی حکومت پر دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے پارلیمنٹ موجود ہے اگر اپوزیشن کو عوام کی ترجمانی کرنی ہے تو پارلیمنٹ موثر کردار ادا کیا جاسکتا ہے اور حکومت کو بھی اپنی آمرانہ روش پر غور کرنا چاہیے اور اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپوزیشن کو مذاکر ات کی میز پر لانا چاہیے کیونکہ طاقت کا استعمال کبھی بھی سود مند نہیں رہا۔

کورونا کی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے آخر ہم اپنی سیاست بچانے کے لیے غریب عوام کو کورونا کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑنا چاہتے ہیں جب تک ملک کے کروڑوں عوام کے سروں پر کورونا کا خطرہ منڈلا رہا ہے کم از کم اس وقت تو سیاست سیاست کھیلنا بند کر دیا جانا چاہیے اور در پیش خطرے سے نمٹنے کے لیے کوئی مشترکہ حکمت عملی اپنا لینی چاہیے کیونکہ تمام تر سیاست عوام سے ہے اگر عوام خطرے سے دوچار ہوئے تو آپ کی سیاست کیسے بچ پائے گی#

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •