ہارڈ ٹاک: اسحاق ڈار کے تباہ کن جوابات اور تاریخ کا سبق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسحاق ڈار کا بی بی سی کے ساتھ انٹرویو ایک یاد دہانی ہے، جس کی مخاطب مسلم لیگ نون ہے۔
یاد دہانی کس بات کی؟

ہارڈ ٹاک کے میزبان نے سوال پوچھا کہ نواز شریف ایک مستند مجرم ہے جسے پاکستان کی عدالت نے اپنے فیصلے میں سات سال کی سزا سنائی ہے۔ اسحاق ڈار فرماتے ہیں کہ اس فیصلے میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ نواز شریف نے کرپشن کی، کک بیکس لیں۔

اسحاق ڈار کو یہ جواب دیتے وقت بالکل بھی احساس نہیں تھا کہ سوال واقعاتی حقیقت پر مبنی ہے۔ جس کا ہاں کے سوا کوئی جواب بنتا ہی نہیں۔ عدالت نے میاں نواز شریف کو سزا سنائی ہے۔ اور پاکستانی عدالتوں سے سیاستدانوں کو سزائیں سنانے کی ایک بدترین تاریخ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بھی اسی عدالت سے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ سن دو ہزار میں بھی عدالت ہی نے طیارہ سازش کیس میں نواز شریف کو سزا سنائی تھی جسے بعد میں عدالت ہی نے ختم بھی کیا۔ جن ممالک میں جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان کشمکش جاری ہے اور جمہوری عمل آزادانہ اور شفاف طریقے سے اپنا پراسیس مکمل نہیں کرتا وہاں سیاستدانوں کو ایسی سزائیں سنائی جاتی رہتی ہیں۔ یہ نا کوئی نئی بات ہے، نا انہونی نا ہی قابل بحث۔ مگر افسوس ہمارے سیاستدان تاریخ نہیں پڑھتے نا ہی ان کے حلقہ احباب میں ایسے پر ہے لکھے لوگ موجود ہیں جو ان کو بتائیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا اور کیا ہوتا رہا۔ میزبان کے سوال کا سیدھا سیدھا جواب تھا ہاں یہ درست ہے کہ نواز شریف کو سزا سنائی گئی۔

میزبان نے اسحاق ڈار کی کرپشن کہانی کو بالکل، ذرا سا بھی قابل توجہ نہیں سمجھا اور دوسرا سوال پوچھا۔

میاں نواز شریف اور اسحاق ڈار آپ بطور سابق وزیر خزانہ دونوں عدالت سے مفرور مجرم ہیں۔ آپ دونوں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران حکومت ختم ہو اور الیکشن دوبارہ کروائے جائیں۔ آپ کی کیا کریڈیبلٹی ہے۔

بجائے میزبان سے یہ پوچھنے کے کہ اگر میری کریڈیبلٹی نہیں تو مجھے بی بی سی کے اس پروگرام میں کیوں مدعو کیا ہے؟

یا بجائے دنیا بھر کے لیڈروں کی مثالیں دینے کے جنہوں نے جلا وطنی کے زمانے میں سیاسی جدوجہد کی اور پھر واپس اپنے ملکوں کو روانہ ہوئے۔

اسحاق ڈار عمران خان کی حکومت پر برس پڑے اور ان کی کریڈیبلٹی کو ایک غیر ملکی ٹی وی چینل پر سوال کرنا شروع کر دیا یہ سوچے بغیر کہ یہ فورم اس طرح کی گفتگو کے لئے موضوع ہی نہیں۔

سوال اسحاق ڈار اور نواز شریف کے مجرم ہونے اور ان کی کریڈیبلٹی کا تھا مگر جواب عمران خان کی حکومت اور الیکشن کی دھاندلی کا دیا۔

میزبان نے جب یاد دلایا کہ ان الیکشنز میں بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کے باوجود یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ عمران خان کی حکومت الیکشن جیت گئی۔ اسحاق ڈار ایک بار پھر گہرے پانی میں ہونق کھڑے ہاتھ پاؤں مارتے دکھائی دیے۔

بی بی سی کا یہ انٹرویو مسلم لیگ نون اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لئے بھی ایک یاد دہانی ہے کہ پچھلی جنریشن کے سیاستدانوں نے جو سرو کرنا تھا جو کارکردگی دکھانی تھی وہ دکھا دی۔ اب ان کا وقت نہیں ہے۔ وقت بدل چکا ہے۔ میڈیا کو مینیج کرنا، میڈیا کو ہینڈل کرنا ایک آرٹ ہے۔ مسلم لیگ نون کو سنجیدگی سے ضرورت ہے کہ اپنی میڈیا مینیجمنٹ کو دیکھے، اس پر نظر ثانی کرے۔ ہر کسی کو منہ اٹھا کر انٹرویو دینے سے روکے۔ اور اگر کسی کو انٹرویو دینے کا زیادہ شوق ہے تو اسے باقاعدہ ٹریننگ دے کے آج کے زمانے میں پروگرام کیسے بنائے جاتے ہیں۔ اینکر کی لائن آف ایکشن کیا ہوتی ہے۔ ہر سوال کے پیچھے چھپا اصل سوال کیا ہوتا ہے۔ کیسے مہمان کے جوابوں کی ریسرچ ٹیم پیش گوئی کرتی ہے اور اگلا سوال اس کے متوقع جواب کی صورت میں کیسے فریم کیا جاتا ہے۔

نئے خون کو موقع دینا اور پروفیشنل میڈیا مینیجرز کی بات کو سننا اس وقت مسلم لیگ نون اور دیگر جماعتوں کی بھی مجبوری ہے۔ جب تک وہ اسے نہیں سمجھیں گے چوک میں کپڑے نا بھی اترے دھوئے ضرور جائیں گے۔ اس سے بچنا ہے تو سیکھنے کا رویہ ناگزیر ہے۔ ورنہ عالمی نشریاتی اداروں میں سبکی ہی مقدر ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •