رستم اور سہراب نائجیریا کے گاؤں میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رستم و سہراب کا نام اردو اور فارسی ادب کی روایت سے آگاہ افراد کے لیے اجنبی نہ ہوگا۔ ویسے تو اس قصے کو باقاعدہ تحریر کی صورت گیارہویں صدی میں فردوسی کے شاہنامے میں ملی مگر یہ قصہ شاید اتنا ہی پرانا ہے جتنی خود فارسی زبان اور اس سے بھی زیادہ قدیم ہے اس کی تھیم یا خیالیہ۔ باپ بیٹے کے تعلقات کی کشمکش اور اس کے نتیجے میں ایک کے ہاتھوں دوسرے کی زندگی کا خاتمہ کلاسیکی المیے کی بہترین مثال ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے، کلاسیکی ادب تاریخ کے جس دور سے تعلق رکھتا ہے وہ پدر شاہی نظام کے زیر اثر معاشروں کا دور تھا، ایسے نیم قبائلی اور جاگیردارانہ سماج میں خاندان ہو یا مملکت سربراہی کا شرف مرد کے حصے میں ہی آتا تھا۔

اس دور کے ہیرو میں اخلاقی برتری، جسمانی قوت اور بہادری خالص مردانہ اوصاف کی صورت میں ہی جلوہ گر نظر آتی ہیں۔ ہیرو کی یہ خوبیاں اس درجہ نقطہ کمال کو پہنچی ہوئی ہوتی ہیں کہ ان کے آگے دیوتا بھی پانی بھرتے ہیں، رستم ہو یا ایکیلیس ساری کائنات میں کلاسیکی ہیرو کا اگر کوئی مقابل ہے کوئی مماثل ہے تو وہ اسی کا تخم اس کا اپنا بیٹا ہے۔ اور اسی بات میں کلاسیکی المیے کی اثر پذیری کا راز ہے۔ ہیرو کے ہاتھوں بار بار زچ ہونے والے، اس کی قوتوں سے خائف اور اس کی کامیابیوں سے حاسد دیوتا اسے زیر کرنے کے لیے تقدیر کا پھندا تیار کرتے ہیں اور بیٹے کو باپ کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات ہے کہ قبائلی معاشرے میں بیٹا اور بھائی قوت کی علامت ہیں، پھر اگر وہی بیٹا جسے باپ کا بازو بننا تھا اور اس کا نام بڑھانا تھا وہ باپ کے سامنے آ کھڑا ہو یہاں تک کے یہ مقابلہ دونوں میں سے کسی ایک کی موت پر ختم ہو تو اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے؟

مگر یہ سب کلاسیکی دور کی باتیں تھیں، انیسویں صدی آتے آتے بہت کچھ بدل گیا۔ اب فیودور کرامازوف کا اپنے بیٹے کے ہاتھوں قتل کوئی رولا دینے والا منظر نہیں بلکہ ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سہراب کی طرح سمرڈیاکاف بھی باپ کا صحیح وارث ہے، البتہ اسے ملنے والی وراثت میں بہادری اور شرافت کے بجائے سفلہ پن اور دیوانگی کے خصائل شامل ہیں۔ رستم اور سہراب کے قصے سے شعوری یا لاشعوری استفادہ کرنے اور اس قدیم خیالیے کو عہد جدید کے تناظر میں پیش کرنے والے ادیبوں میں نائجیریا کے چینو اچابے بھی شامل ہیں۔

چینو اچابے کا تفصیلی تعارف یہاں ممکن نہیں، مختصر یہ کہ وہ بیسویں صدی کے افریقی ادب کے نمایاں ترین نامون میں سے ایک ہیں، جن کی تخلیقی میراث نائجیریائی ادب میں توانا روایت بن چکی ہے۔ ان کا ناول ”تھنگز فال اپارٹ“ نو آبادیاتی دور کے آغاز پہ نائیجیریا کے ایک اگبو گاؤں کی کہانی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار اوکونکو اموفیا گاؤں کا سردار اور مانا ہوا پہلوان ہے اپنے باپ کے برخلاف اس کی شہرت ایک بہادر، جفاکش اور مضبوط اعصاب کے انسان کی ہے، یہ امیج اوکونکو کو بہت عزیز ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے اس نے اپنے اوپر ایک قسم کی مصنوعی سخت گیری اور اکھڑ پن کو اوڑھ رکھا ہے۔

اموفیا میں اوکونکو کی زندگی بظاہر پرسکون اور اس ٹھہراؤ پر کھڑی ہے جو اس سرزمیں پر ہزاروں برس سے قائم ہے، لیکن اس سکون کے زیر سطح ایک طوفان کی لہریں موجزن ہیں جو بہت جلد ان بنیادوں کو تہ و بالا کردینے والی ہیں جن پر اوکونکو کی زندگی کھڑی ہے۔ اموفیا کے آس پاس کے علاقوں پر یورپی آبادکاروں کے قدم جم چکے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ نئی طرز زندگی اور نئے مذہب کے مشنری دراندازی کر رہے ہیں۔ قبائلی روایت کے عین مطابق اوکونکو نے کئی شادیاں کی ہیں جن سے اس کے دس بیٹے ہیں مگر اسے سب سے زیادہ فکر بڑے بیٹے ناوی ہے جسے وہ اپنا جانشین بنانا چاہتا ہے، مگر وہ تو عجب سست اور اپنے خیالوں کی دنیا میں مگن لڑکا ہے، اس کی کاہلی اور غائب دماغی میں اوکونکو کو اپنے باپ کی پرچھائیں نظر آتی ہے۔ وہی باپ جس کے امیج سے وہ ساری عمر لڑتا رہا اب بیٹا بن کر سامنے کھڑا تھا۔

کہانی میں پہلا موڑ اکیمی فونا کی آمد سے آتا ہے۔ یہ لڑکا حریف قبیلے سے جنگ کے بعد بطور تاوان اموفیا آیا ہے۔ گاؤن کے بزرگوں کی ہدایت پہ اوکونکواس لڑکے کا سرپرست بننا قبول کر لیتا ہے۔ اکیمی فونا بہت جلد اوکونکو کے گھرانے میں گھل مل جاتا ہے خصوصاً ناوی اور اس کی ماں اکوایفی تو جیسے اسے سگا بھائی اور بیٹا ہی سمجھنے لگتے ہیں۔ رفتہ رفتہ اوکونکو کے دل میں بھی اس لڑکے کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوجاتا ہے جس کی بظاہر وجہ تو یہ نظر آتی ہے کہ اکوایفی اس کی منظور نظر بیگم ہے مگر زیادہ اہم وجہ اکیمی فونا کی پہلوانی میں دلچسپی اور اس کھیل میں اس کی غیر معمولی صلاحیتیں ہیں، اوکونکو کی تجربہ کار انکھیں اس میں ایک ایسے شاگرد کی جھلک دیکھ لیتی ہیں جو اس کا نام روشن کر سکتا ہے۔

یوں اوکونکو کے زیر تربیت اکیمی فونا بڑی تیزی سے ایک مشاق سورما میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ناوی کے لیے ایک مشفق بھائی کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔ ناوی غالباً ابتدائی بلوغت کے بحران کا شکار ایسا بچہ ہے جسے مردوں کی دنیا میں داخل ہونے کا دروازہ نہیں مل رہا باپ کی سخت مزاجی سے ہراساں ناوی کو اکیمی فونا کی صورت میں ایک مضبوط جذباتی سہارا مل جاتا ہے۔ رہی بات اوکونکو کی تو اس کے لیے یہ امر بطور خاص اطمینان بخش ہے کہ اکیمی فونا کے زیر اثر ناوی اپنی شخصیت میں مردانہ اوصاف تراشنے لگا ہے۔

سارے معاملات اسی طرح سے بہتری کی طرف گامزن تھے کہ ایک دن اموفیا کے غیبی فال نے جیسے ٹھہرے ہوئے پانی میں ہلچل مچا دی۔ فال کے مطابق اکیمی فونا کو مار ڈالنا ضروری ہے۔ مگر یہ کوئی آسان معاملہ نہ تھا۔ اوکونکو کا دبدبہ اپنی جگہ مگر سب جانتے تھے کہ اوکونکو کے گھرانے میں اکیمی فونا کی حیثیت لے پالک بیٹے کی ہے، وہ خود اوکونکو کو بابا کہتا تھا۔ اور اگبو معاشرے میں پسر کشی بہت بڑا گناہ تھا جو دیوتاؤں کے غضب کو للکارنے کے مترادف تھا۔

چنانچہ اموفیا کے بڑے بوڑھوں کی بیٹھک میں طے پایا کہ اوکونکو نہ تو اس قتل میں مزاحم ہو اور نہ ہی خود اس عمل میں کسی قسم کا حصہ لے۔ گاؤں کا پیر دانا تو اسے یہاں تک مشورہ دیتا ہے کہ اوکونکو اموفیا سے چلا جائے تاکہ قاتل اس کے پیچھے اپنا کام کر جائیں کیوں کہ معاملہ ایک ایسے بچے کا تھا جسے وہ اپنی اولاد قرار دیتا ہے۔ یہ بظاہر ایک صائب مشورہ ہے مگر اوکونکو کے لیے ناقابل قبول ہے، وہ اپنے سخت جان امیج پہ کسی قسم کی کمزوری کا شائبہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔

اس ساری شفقت اور انسیت کے باوجود جو اس کے دل میں اکیمی فونا کے لیے ہے وہ اس حوالے سے کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ کسر شان سمجھتا ہے۔ وہ ناصرف اکیمی فونا کو خود قاتلوں کے حوالے کرتا ہے (اتنی ہمت بہرحال اس میں پیدا نہ ہو سکی کہ اکیمی فونا کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر سچ بتا سکے، اس لیے وہ اسے گھر واپس بھیجنے کا بہانہ گھڑتا ہے ) بلکہ عین اس وقت اس پر کاری وار بھی کرتا ہے جب اکیمی فونا اس کے پیروں سے لپٹا زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا

اکیمی فونا کے قتل کے بعد اوکونکو کے حالات تیزی سے بدلنا شروع ہو جاتے ہیں کئی سالوں بعد فصل خراب ہوتی ہے، بیماری جیسے اس کے گھر کا راستہ دیکھ لیتی ہے خود اوکونکو بڑی حد تک مضمحل اور افسردہ رہنے لگتا ہے۔ اپنی بیٹی اور دوست کی مدد سے ابھی وہ بمشکل اس ذہنی دباؤ نکلا ہی تھا کہ پیر دانا کی آخری رسومات کے موقع پر اس سے حادثاتی طور پر ایک قتل ہو جاتا ہے۔ اور پھر بطور سزا اوکونکو اور اس کے خاندان کو سات سال کے لیے اموفیا سے جلا وطن ہونا پڑتا ہے۔

اوکونکو کی جلا وطنی کے دوران اموفیا کے حالات بہت بدل چکے ہیں۔ مسٹر براؤن نامی مشنری کی کوششوں سے کچھ لوگ عیسائیت قبول کر چکے ہیں اور اب گاؤں میں اسکول بھی کھل گیا ہے۔ یہ بظاہر چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اگبو سماج میں بہت بڑی تقسیم کا سبب بن چکی تھیں۔ ایک طرف تو عیسائیوں کی اقلیت تھی جو پورے مذہبی جوش و خروش سے ہر باطل خدا کو مٹا دینے کے درپے تھے اور دوسری طرف طرز کہن پہ اڑی ہوئی اکثریت تھی جس کے قومی وجود کا شیرازہ بکھر رہا تھا اور اسی قدر ان کے اندر کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔

عددی جمع و تفریق سے قطع نظر صاف دکھتا تھا کہ یورپی ٹکنالوجی اور ہتھیاروں کے وزنی باٹ ترازو کے کس پلڑے میں دھرے ہیں۔ ایسا سماں تھا گویا ایران اور توران کی افواج زیریں نائیجر کے میدانوں میں آمنے سامنے مورچہ زن ہیں۔ بگل بج چکا ہے بس دونوں طرف کے سورماؤں کی آمد کا انتظار ہے۔ مگر اس کے لیے تو ہمیں اوکونکو کے گھر جانا پڑے گا۔

اموفیا سے بڑا انقلاب تو خود اوکونکو کے گھر میں آ چکا تھا۔ ناوی اکیمی فونا کے قتل کے اثر سے باہر نہیں نکل سکا، اس کا غم آہستہ آہستہ غصے اور پھر نفرت میں بدل چکا ہے، اس قتل کی بہیمیت اور اس میں اوکونکو کے شرمناک کردار کی تفصیلات نے اس کی باقاعدہ ذہن سازی کردی ہے، اوکونکو اب ایک فرد واحد نہیں بلکہ اگبو مذہب اور ثقافت کی توہم پرستی اور بربریت کا استعارہ بن چکا ہے۔ باپ بیٹے کا ٹکراؤ اب واضح ہے۔ جلاوطنی کے سالوں میں ناوی چھپ چھپ کر عیسائی مشنریوں کے اسکول جانا شروع کر دیتا ہے، یہ نیا مذہب اسے ہر اس چیز سے فرار کی راہ فراہم کرتا ہے جس سے وہ نفرت کرتا ہے۔ عیسائیت کی طرف اس کا رجحان بھلا باپ سے کب پوشیدہ رہ سکتا تھا جو حسب روایت مارپیٹ کے ذریعے سے اسے سدھارنے کی کوشش کرتا ہے مگر ناوی کی مزاحمت اب مدافعانہ نہیں بلکہ جارحانہ ہے۔ بالآخر جلاوطنی کے اختتام سے کچھ عرصہ قبل وہ ہمیشہ کے لیے گھر چھوڑ کر نو عیسائیوں کی مشنری میں شامل ہو جاتا ہے۔

اموفیا میں واپسی کے بعد بھی اوکونکو سخت مضطرب ہے، وہ اپنے بیٹے کے کھوئے جانے کا ذمہ دار اس نئے مذہب کو سمجھتا ہے جو اب اموفیا میں جڑ پکڑ رہا تھا۔ اس کی جنگجو فطرت انتقام پر مصر تھی اور بس موقع محل کا انتظار تھا، جلد ہی اسے ہم خیال لوگوں کا ایک مختصر گروہ بھی مل جاتا ہے۔ یہ لوگ گاہے بگاہے نو آبادیاتی حکومت کے خلاف زہر اگلتے رہتے تھے، اس پر افریقی نو عیسائیوں کا متشدد رویہ جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کر رہا تھا، یہاں تک کے ایک قدیم تہوار کے موقع پر ایک نو عیسائی مشنری زمین کی دیوی کی شان میں گستاخی کر بیٹھتا ہے۔

اس عمل سے برافروختہ ہو کر اموفیا کے لوگ گاؤں کے چرچ کو آگ لگا دیتے ہیں۔ اس حادثے کی خبر ڈسٹرکٹ کمشنر کو ہوتی ہے تو فوراً اموفیا کے سرداروں کو طلب کیا جاتا ہے۔ اوکونکو اور دیگر سردار وہاں پہنچتے ہیں تو انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ وہیں انہیں ناوی بھی نظر آتا ہے جو اب عیسائی ہو چکا ہے اور کولونیل سرکار کا ملازم ہے۔ ناوی انہیں دیکھ کر سرد مہری اور کسی درجے حقارت کا مظاہرہ کرتا ہے ڈسٹرکٹ کمشنر کا مقصد محض معافی نامہ لکھوانا اور چرچ کی تعمیر نو وعدہ لینا تھا مگر اس کا افریقی عملہ ایک درجہ آگے بڑھ کر ان لوگوں پر تشدد بھی کرتا ہے۔

بہرحال یہ لوگ جیسے تیسے رہائی پاکر جب واپس اموفیا پہنچتے ہیں تو اوکونکو کا کلیجہ انتقام کی اگ میں بھڑک رہا تھا، وہ تحقیر جو اس نے ناوی کی آنکھ میں دیکھی تھی بھلائے نہ بھولتی تھی۔ گاؤن والوں کو بھی اپنے سرداروں کی بے عزتی پر شدید غم و غصہ تھا۔ اوکونکو اس موقع پر مجمع سے سفید فام حکومت اور عیسائیت کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا مطالبہ کرتا ہے۔ عین اس وقت جب اس کی تقریر زوروں پر تھی کمشنر کے بھیجے ہوئے قاصد آ کر مجمع کو منتشر ہونے کا حکم دیتے ہیں۔

غصے سے بھرا ہوا اوکونکو ایک ہی وار میں قاصد کا کام تمام کر دیتا ہے، اسے گمان تھا کہ اس کے گاؤں والے قبائلی روایت کے مطابق اب لڑائی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، مگر یہ دیکھ کر اس کی انکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں کہ اس کے دوست اور ساتھی ایک دوسرے سے نظریں چرا کر منتشر ہو رہے ہیں۔ قاصدوں کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا اور انہیں بھاگنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اوکونکو کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ وہ یہ جنگ ہار چکا ہے۔ تھکے تھکے بوجھل قدموں کے ساتھ وہ اپنے گھر لوٹ جاتا ہے۔

ڈسٹرکٹ کمشنر کے بھیجے ہوئے اہلکار جب اسے گرفتار کرنے اموفیا پہنچتے ہیں تو گاؤں والے انہیں کمپاؤنڈ کے باہر درخت سے جھولتی ہوئی اوکونکو کی لاش دکھاتے ہیں۔ اموفیا کے باسی ان اہلکاروں کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ اگبو قانون کے مطابق ان میں سے کوئی بھی اوکونکو کی نعش کو ہاتھ نہیں لگا سکتا کیونکہ ان کے مذہب میں خودکشی کرنے والے کے جسم کو چھونا بہت بڑا پاپ ہے۔ ابھی یہ بحث و مباحثہ جاری تھا کہ ایک عجیب بات ہوتی ہے۔ بھیڑ کو چیرتا ہوا ایک نوجوان مشنری آگے بڑھتا ہے، جانی پہچانی صورت دیکھ کر مجمع میں سوگوار خاموشی چھا جاتی ہے، لوگ خودبخود راستہ دیتے جاتے ہیں۔ نوجوان پھندے سے اوکونکو کی لاش اتارتا ہے اور کسی نا معلوم مقام پر دفن کرنے کے لیے چل پڑتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).