امریکہ میں لاحول ولا قوۃ اور سبحان اللہ کے مابین فرق

اپنے ملک کی کیا بات ہے۔ نرالی ہے۔ وہ بھی یہاں آئے تو معلوم ہوا۔ جیسے مذہب کے علاوہ وہاں کی رسموں اور رواجوں کی بلا جواز پابندیوں کی قید کے باوجود وہاں رہنا اگرچہ ناگزیر تھا۔ مگر پھر بھی رہنے میں جو مزا تھا۔ ہمارے مستقبل کی زندگی میں ایسے لمحات پھر لوٹ کر نہ آئے۔ گویا یہ سب لوازمات ہمارے جسم کے تشریحات الاعضا بن چکے تھے۔ جیسے ہر صبح دفتر جانے سے پہلے بازار سے سبزی کی خریداری کرتے ہوئے سبزی فروش سے عادتا خواہ مخواہ جھگڑنا۔ اور کہنا۔ کہ کل تو گوبھی ’آلو‘ ٹماٹر کے دیگر ریٹ تھے۔ اب راتوں رات کیا ان کے چیونٹی جیسے پر نکل آئے ہیں؟ جو انہوں نے اڑان بھر لی۔ جوابا دکاندار نے اپنے نرم لہجے سے کہنا۔ کہ بابو جی۔ ہم کیا کریں؟ ہمیں اگر منڈی سے سبزیاں مہنگے داموں ملیں گی۔ تو آپ سے بھی ویسا ہی بھاؤ وصول کریں گے۔ بابو جی۔ منڈی جا کر تو دیکھئے۔ وہاں کس بھاؤ بکتی ہے؟ ہم بھی منڈی جانے سے ر ہے۔ اور دکاندار بھی ہم جیسے خود ساختہ داناؤں کو بے وقوف بنا نے کا گر جانتا تھا۔

جیسے ہم بھی تو اپنے دفتروں میں بیٹھ کر روزانہ بیسیوں لوگوں کو من گھڑت دلیلیں دے کر ان کے کاموں میں رخنہ ڈالتے ہیں۔ اور ان کے درست کاموں کو بھی غلط قرار دے کر پریشان کرتے ہیں۔ ہم ہائی کورٹ کی بلڈنگ کے او پر اونچی جگہ لگے ہوئے ترازو کا پلڑا متوازن رکھنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ جیسے دکاندار ہمیں لوٹتے۔ اور ہم اپنے بے بس عوام کو ۔

دوسری جانب ہمارا پارسائی میں بھی جواب نہیں تھا۔ جیسے جب کبھی ہمارا ماڈرن علاقے کے بازار میں سے گزر ہو جاتا۔ برقعہ پوش عورتوں سے کندھا بچا کر چلتے۔ مگر جب اچانک کسی لڑکی یا عورت سے آمنا سامنا ہو جاتا۔ یا ٹکرا جاتے۔ جس نے کچھ ضرورت سے کم یا عجیب ڈھنگ کا لباس زیب تن کیا ہوتا۔ یا کسی مکان کی دیوار کی جانب مونہہ کیے کھڑے کسی نوجوان کو دیکھتے۔ تو یک دم زبان پر ’لا حول ولا قوۃ‘ کی گردان چالو ہو جاتی۔ شاید یہ ہماری مجبوری تھی۔ یا مذہب کی پاسداری۔ نہیں معلوم۔ بس اتنا ہی کہتے تو ساتھ میں ہمارا ساتھی بھی ہماری پرہیزگاری سے متاثر ہو جاتا۔ اور اگر آوارہ سڑکوں پر اکیلے چلتے ہوئے کسی سنیما گھر کے آگے سے گزر ہو جاتا۔ تو وہاں پر فلمی پوسٹروں پر نیم عریاں ایکٹریسوں کی تصاویر پر سے نظریں ہٹانے کو جی ہی نہ چاہتا۔ اور انہیں دیکھ کر اپنی آنکھوں کی پیاس بجھا لیتے۔ وہ بھی اپنے ارد گرد احتیاط سے دیکھ کر ۔ مگر ایسے اوقات پر ’لاحول۔‘ کی چنداں ضرورت نہیں پڑتی تھی۔

شاید وہاں اکیلے میں ہماری پاکدامنی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا تھا۔ عنفوان شباب میں تو روزانہ حجام اپنے حمام پر ہمارا خصوصی انتظار کرتا۔ اور ہمارے والی سپیشل کرسی پر سے دوسرے گاہکوں کو اٹھا کر ہمیں وقت دیتا۔ اور استرے کی تیز دھار سے ہمارے چہرے کو ایسے چھیلتا۔ جیسے ادرک پر سے چھلکا۔ ہمیں ہر وقت اپنی جلد چھلنے کا احتمال رہتا۔ پھر اس پر کریم کی مالش اپنے پیشہ ورانہ ہاتھوں سے ایسے کرتا۔ کہ نیند سی آنے لگتی۔

چہرے کی ایسی ملائمت پر مکھی بھی اپنے پھسلنے کے ڈر سے بیٹھنے سے گریز کرتی۔ پھر مختلف خوشبووں کا چھڑکاؤ کر کے بازار اور محلے کی لڑکیوں کے قریب سے جان بوجھ کر گزرنے کی کوشش کرتے۔ نہ جانے اور کیا کیا مستیاں کرتے؟ جو اب خواب ہو گئیں۔ جوانی میں اپنے والدین کی کمائی کو ہمیں بے دریغ اور فضول خرچ کرنے کا جو لطف آیا۔ زندگی بھر پھر ایسے لمحات محلے کی مساجد میں دعائیں کروانے سے بھی واپس نہیں لوٹے۔ پھر آہستہ آہستہ گھریلو مصروفیات میں اضافے نے ایسا شکنجے میں کسا کہ چہرہ صاف رکھنے کی بجائے داڑھی کی فصل خود رو پودوں کی طرح اگتی اور بڑھتی چلی گئی۔ بال جنگلی گھاس کی طرح بکھرتے ’الجھتے اور اپنی جگہ خود ہی بنا کر دوسرے بالوں میں مدغم ہوتے چلے گئے۔ بالوں کی کانٹ چھانٹ کرنے کی بھی فرصت ہاتھ نہ آئی۔ پھر داڑھی کی حیا اندر کی آوارگی کو باہر نکلنے میں پل صراط کی مانند بن گئی۔ بازار میں نکلتے تو اینٹوں سے لدی ریڑھی پر لٹکا ہوا گدھا بھی ہم پر ہنستا ہوا دکھائی دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں انسان بنا کر پوشیدہ شر انگیز عادات سے بھی نواز رکھا ہے۔

اور ان کے مقابل ہمارا جنت میں داخلے کا امتحان بھی منسلک کر دیا ہے۔ ادھر معاشرہ الزامات سے بھرپور اور نا ہموار۔ مذہبی پابندیوں کی سیسہ پلائی دیوار۔ پھونک پھونک کر قدم رکھنے کے باوجود بھی کسی نہ کسی بری علت کے ضمن میں دھر لئے جاتے تھے۔ اب داڑھی دراز کر کے مذہبی پابندیوں کو اپنے اوپر لاگو کرنے سے یہ غلط فہمی ہو گئی۔ جیسے چھوٹی موٹی معاشرتی غلطیوں سے رہا ہو گئے۔

جوانی میں ہم کام کاج میں ایسے جتے کہ کولھو کے بیل بھی ہمارا مقابلہ کرنے سے گریزاں رہے۔ پھر والدین کے مجبور کرنے پر شادی کے کھونٹے سے باندھ دیے گئے۔ پہلے بچے پیدا کیے پھر ان کو پالا۔ تعلیم سے آراستہ کیا۔ ایک لڑکے نے کوئی ایسا سپیشل کورس پاس کر لیا۔ کہ وہ امریکہ جانے میں کامیاب ہو گیا۔ باقی بچوں کی شادیاں کرتے کرتے سر کے بال پہلے یک رنگ سے دو رنگی ہوئے۔ اور دوبارہ یک رنگ ہو گئے۔ یعنی کوئلے سے راکھ جیسے ہو کر چاندی کی مانند ہوئے ہی تھے کہ ریٹائر بھی ہو گئے۔

ادھر بیٹے نے امریکہ میں پکا سیٹ ہونے کی تگ و دو شروع کر دی تھی۔ ہم بھی یہاں دفتر سے فارغ ہو کر بیوی کی نگرانی میں دوبارہ بچے بن کر پلنے لگے۔ کیونکہ بیوی ہمیں بچوں کی طرح سے ہی ڈانٹ کر گھر کا سودا سلف منگواتی۔ فارغ وقت میں اپنے پرانے دوستوں کی دکانوں پر بیٹھ کر خوش گپیاں کرتے اور چائے کی چسکیوں کی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے۔ پھر اپنی شان کا مان رکھنے کے لئے عیاشی جیسے موڈ میں کبھی کبھی چائے والے لڑکے کو بآواز بلند کہتے!

اوئے بشیرے! ’آج ہمارے کھاتے سے فل سیٹ چائے اور کریم والے بسکٹ کا ڈبا بھی لیکر آؤ۔ چائے والے کی دکان سے اخبار کا پہلا صفحہ منگوا کر لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت کی خبروں یا افواہوں پر تبصرے کرتے۔ پھر گھر جا کر ٹی۔ وی۔ دیکھنے یا بچوں کی ڈانٹ ڈپٹ کے سوا کوئی خاص مشغلہ نہیں تھا۔ یا پھر دوست بیٹھ کر ہم طبعوں کی تعریفیں اور مخالفین کی غیبت کرتے نہ تھکتے۔ دفتر کی کلرکی کے سوا کوئی ہنر بھی تو نہیں آتا تھا کہ کوئی ہمیں اپنے دفتر میں پارٹ ٹائم یا فل ٹائم نوکری دے دیتا۔ ادھر بیٹے نے امریکہ کی رنگینیوں کی داستانیں سنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہ بتاتا: ابو جی: یہاں ریل جو انڈر گراؤنڈ ہے۔ دن رات چلتی ہے۔ اور کبھی بھی کہیں بھی نیویارک کے کسی حصے میں جلدی پہنچا دیتی ہے۔ پھر یہاں کے مین ہٹن ’Manhattan‘ کے علاقے میں اونچی اونچی بلڈنگز۔ جن کی چوٹی کو دیکھنے کے لئے گردن میں موچ آنے کا خدشہ۔ اور سڑکوں پر تمام رات لوگوں کا آنا جانا۔

پھر گوری میموں اور کالی افریقی عورتوں کا بے ہنگم اور جسم سے بے خبر لباس میں ملبوس ہو کر نیویارک کی گلیوں بازاروں میں بیباک پھرنا۔ وغیرہ۔ ایسے واقعات سن کر ہم بھی ذہنی طور پر متحرک ہوتے۔ اور سوچتے کہ ایسے نظارے کبھی ہم بھی اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔ موسم کے بارے بھی بتایا جاتا جیسے :نیویارک شہر جو بحر اوقیانوس ’Atlantic Ocean‘ سمندر کے مغربی کنارے واقع ہے۔ موسم ساحل سمندر پر ہونے کے باعث خوشگوار۔ گرمیوں میں گرم کم مگر ہوا میں حبس ہونے پر پچپچا۔

سردیوں کی ٹھنڈ اور برف باری۔ پھر سٹی کے ٹرکوں کا نمک پاشی کرنا برفیلی سڑکوں کی برف کو پگھلانے کے لئے۔ گرمیوں میں ٹی۔ شرٹس اور سردیوں میں لمبے لمبے اوور کوٹ پہننا۔ یہ باتیں یقیناً ہمارے منجمند شوق پر بھی نمک پاشی کرتیں۔ ادھر ہم اپنے بیٹے کو وہاں کے کلچر سے دور اور اس میں نہ گھلنے ملنے کی ہدایات سے مستفید کرتے رہتے۔ خصوصاً گوری میموں سے تعلقات نہ بڑھانے پر لمبے لیکچر دیتے۔ اور دین اسلام کو مضبوطی سے تھامے رکھنے نیز مسجد میں جا کر جمعہ کی نماز و دیگر تمام نمازوں کی پابندی سے ادائیگی کے مشورے و دیگر اس ماحول کی لچر بازیوں سے گریز کی ہدایات شامل ہوتیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

ہم تو اپنے ملک کے ہر قسم کے حالات سے واقف اور عادی تھے ہی۔ جہاں نفرت ’بغض اور حسد کسی سکول کالج میں داخلے کے بغیر ہی مفت میں دستیاب ہے۔ مگر اپنے بیٹے کی وہاں کی خوشگوار زندگی کے بارے چکنی چپڑی باتوں سے متاثر ہوئے بغیر بھی نہیں رہتے تھے۔ پر بیٹے کو تو ابھی امریکہ کی شہریت سے نبرد آزما ہونا تھا۔ شہریت ملنے کے بعد ہی اسے پاکستان آ کر اپنی پسند کردہ لڑکی سے شادی بھی کرنی تھی۔ جس سے اس نے نہ جانے کیا کیا عہد و پیمان کر رکھے تھے؟

ہماری ہونے والی بہو ’الگ اپنے ہونے والے شوہر کو امریکہ کی آزاد منش اور بے راہرو لڑکیوں سے اجتناب کرنے اور دور رہنے کی رٹ لگائے ہوئے تھی۔ آخر ایک دن بیٹے کی کال آ ہی گئی کہ اسے یہاں کی شہریت مل گئی ہے۔ اور پاکستان آ کر فوراً شادی کرنے کے لئے مکمل انتظامات کر کے رکھنے کو کہا۔ اپنی شادی کے لئے اس نے اپنے والد کو فالتو پیسے بھی بھجوا دیے تھے۔ خیر ایک دن وہ پاکستان آ گیا۔ اس کی پر تپاک طریقے سے شادی سرانجام پا گئی۔ پھر اس نے امریکہ کے کونسلیٹ جا کر اپنی بیوی کے کاغذات بھرنے کے ساتھ ساتھ میرے اور اپنی ماں کے کاغذات بھی داخل کروا دیے۔ وہ تو واپس چلا گیا۔ جونہی اس کی بیوی کے کاغذات کی امریکن قواعد و قوانین کی چھان پھٹک ہوئی۔ کچھ دیر لگی۔ مگر ویزہ ملتے ہی وہ امریکہ روانہ ہو گئی۔

اب ہم دونوں میاں بیوی گھر میں اکیلے رہ گئے۔ دوسرے بچے اپنے اپنے گھروں میں تھے۔ امریکہ کے بارے بیٹے کی سنائی ہوئی دلچسپ باتیں میرے خوابوں کا محور بن چکی تھیں۔ اب مجھے امریکہ کے عجائبات دیکھنے کی گدگدی ہو رہی تھی۔ ویسے امریکہ جانے کا ہمارا ارادہ نیم پختہ تھا۔ مگر فرمانبردار بیٹے کے آگے ہماری ایک نہ چلی۔ کچھ عرصے بعد ہمارے کاغذات کی منظوری ہو گئی۔ اور امریکن کونسلیٹ نے ہم دونوں میاں بیوی کے پکے امریکن ویزے بذریعہ کوریئر ہمارے گھر بھجوا دیے۔

ویزے ملتے ہی بیٹے نے ہم دونوں کے یک طرفہ ہوائی ٹکٹ بھی ارسال کر دیے۔ ہم نے گھر کا ضروری سامان سمیٹ کر ایک کمرے میں بند کر کے تالا لگایا۔ اور مکان کسی اپنے قریبی رشتے دار کی سپرداری میں دے کر اپنی کچھ حسب ضرورت پونجی اور بیگم کو لے کر امریکہ آ گئے۔ یہاں پر بیٹے نے ایک ڈبل بیڈروم کا اپارٹمنٹ کرائے پر لے رکھا تھا۔ ایک کمرہ اس نے ہم دونوں کو دیدیا۔ اور ایک میں وہ دونوں میاں بیوی رہنے لگے۔ اس اپارٹمنٹ میں کچن علیحدہ اور ایک باتھ روم بھی موجود تھا۔

ہمیں یہاں پر کھانے و دیگر سہولیات وغیرہ بدرجۂ اتم میسر تھیں۔ البتہ شروع میں باتھ روم کی ٹائلٹ کا مسئلہ ہوا۔ جو جلدی ہی حل ہو گیا۔ اب تمام دن گھر بیٹھتے اور ٹی۔ وی۔ پر انگریزی چینلز ہی دیکھنے کو ملتے۔ باہر تو نکلتے مگر ایک تو یہاں کی سڑکوں ’گلیوں‘ اور بازاروں کے رستوں کی واقفیت نہیں تھی۔ پھر بولنے کو انگریزی ہی انگریزی۔ جس کو ہم اپنے ملک میں زبان ممنوعہ جیسا طعنہ دے کر ملعون کرتے تھے۔ پر یہاں تو یہ لازمی مضمون کے جیسی تھی۔ اختیاری نہیں۔ اب اسیران امریکانیز زبان انگریزی۔ گھر سے باہر نکل کر کچھ رستے دیکھ ہی لیتے۔ مگر کسی سے بات کیا کرتے؟ منہ میں زبان ہوتے ہوئے بھی گونگوں کے جیسے ہو گئے۔

بیٹے نے ہمارے دونوں کے نام گھر کا فون نمبر اور پتہ لکھ کر ایک ایک پرچی ہم دونوں کی جیبوں میں رکھوا دی۔ اور انگریزی کے کچھ فقرے بھی یاد کروا دیے۔ جیسے :
‘Hi’, ‘good morning’, ‘bye”how are you?”nice weather’, ‘gettin cold’, its hot today ‘, i am fine’, ‘I am from Pakistan’, beautiful weather ‘, yes, very good’.
ایسے ہی جملے بول کر یہاں کے لوگوں سے ہلکی پھلکی بات چیت کی جا سکتی تھی۔

ہماری بیگم نے تو انگریزی سیکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ مگر میں تو باہر گھومنے پھرنے کو زیادہ ترجیح دیتا تھا۔ ایک کاغذ پر لکھ کر رٹا لگانا پڑا۔ اور ’ہائے‘ ’ہیلو‘ ہاؤ آر یو ’بولنا سیکھ گیا۔ اور گوروں گوریوں کالے کالیوں کی بناوٹی مسکراہٹ اور لہراتے ہاتھوں کی نقل کرنے لگا۔ محلے داروں کا یہاں کوئی تصور نہیں تھا۔ اس لیے راہ چلتے لوگوں سے کچھ ٹوٹی پھوٹی انگلش میں بات کرنے اور کچھ ان جیسی مخصوص جعلی مسکراہٹ کا جواب ویسے ہی خاموشی کی زبان سے دینے اور اشاروں سے کام چلنے لگا۔

ہمارے بیٹے کا اپارٹمنٹ ’کونی آئی لینڈ بیچ‘ کے پاس ہی تھا۔ جہاں گرمیوں میں یہاں کے لوگ اپنے لباسوں سے بے بہرہ اور بے خبر (بالکل برہنہ بھی نہیں ) ساحل پر حسب معمول آ کر گھومتے تھے۔ مجھے بھی بیٹے نے بیچ ’beach‘ کا رستہ بتا دیا۔ پھر میں نے بھی وہاں جا کر بیٹھنے کے لئے ایک پلاسٹک کی تہہ دار کرسی خرید کر لی۔ اور صبح ناشتے کے بعد خود بخود اکیلا ہی بیچ پر آ کے ڈیرا جما لیتا۔ اور ادھر ادھر آتے جاتے گورے گوریوں کو دیکھتا رہتا۔

میں نے محسوس کیا۔ کہ میرے اندر کچھ انجانی سی تبدیلی آ گئی ہے۔ ادھر سمندر کی لہروں کا جوش بھی مجھے خوشی اور تازگی سے ہمکنار کرتا۔ لہریں تیزی سے آتیں اور کناروں کی خاص سطح سے ٹکرا کر واپس ہوتی رہتیں۔ ادھر گورے گوریوں کے دریدہ سے لباس اور جعلی مسکراہٹیں بھی سمندر کی لہروں کے جیسے ہی تھیں۔ جو سمندر میں نہیں بلکہ ہمارے دل میں اٹھتی محسوس ہونے لگیں۔ کیا سماں تھا جو دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔

یہ سب کچھ دیکھ کر یہ سوچ ضرور ذہن میں موجزن ہوئی۔ کہ ہم نے اپنے ملک میں صرف اپنے بدن ہی کو با طہارت رکھا۔ نمازوں کی پابندی کرنا سیکھی۔ دین اسلام کے اراکین کی ترویج ’پیروی اور پاسداری کر کے محلے میں صوفی صاحب کہلوا کر اچھا لگا۔ دھوبی کے دھلے اور مائع لگے ہوئے کپڑوں میں ملبوس ہو کر جمعہ کی و دیگر پنجگانہ نمازیں با جماعت ادا کیں۔ بچوں کو سکولوں میں انگریزی تعلیم دلوانے مگر گھر میں دینی نظام نافذ کرنے میں کوشاں ر ہے۔

اپنے اندر بستی ہوئی نفرت کی بستی میں سے منافقت ’مخاصمت اور منافرت کو نفی کرنے میں ناکام ر ہے۔ کسی کی مدد کرنے لگے تو اپنی ضروریات‘ نیک کام کرنے میں حائل ہو گئیں۔ قرآن کی آیات اور احادیث جمعہ کے خطبوں اور دیگر دینی اجتماعات میں سنے۔ مگر یہ قیمتی ’دل افروز اور روح پرور نصیحتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے باہر نکالتے ر ہے۔ اس کے برعکس بغیر دیکھے گھر میں بیٹھے مغربی لوگوں کے صرف نیم برہنہ لباس اور بے راہ رو تہذیب وغیرہ کے بارے منفی آراء قائم کرنے اور ان کو برا بھلا کہنے میں کبھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی۔ اب جب یہاں آ کر ان کے اصولوں کو صرف اپنی نظروں سے دیکھا ہی نہیں بلکہ ان لوگوں کو ہمارے غیر مستعمل اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے پرکھا‘ جانچا اور محسوس بھی کیا ہے۔ کہ ان غیر اسلامی لوگوں میں اسلام کے اشد ضروری احکامات کو ماننے اور عمل پیرا ہونے کا عنصر ہم اسلامی لوگوں سے کئی درجہ بہتر اور مثبت ہے۔

اب تو ساحل سمندر پر بیٹھے اپنی عمر کے آخری حصے میں جب کہ سر کے سفید بالوں کو ایک سفید ٹوپی سے ہم رنگ کر رکھا ہے۔ اور گوریوں کو دیکھ کر ان سے نظر بچانے کی بجائے نظر ہٹانے کو جی نہیں چاہتا۔ اور جب وہ سامنے سے گزرتی ہیں تو اپنی ہی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیر کر ان کے جسم کا لمس محسوس کرتے ہوئے جگر مراد آبادی کا ایک شعر یاد آتا ہے : گو جوانی میں تھی کجرائی بہت۔ پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت۔ سوچتے ہیں۔ ہم پر شاید جوانی آئی ہی نہیں تھی۔ اگر آئی بھی تو بیکار گئی۔ اب یہاں کی حسیناؤں کا طبیعی حسن اور حسن سلوک دیکھ کر لاحول کی بجائے بے اختیار مونہہ سے سبحان اللہ نکل جاتا ہے۔ گو ان دونوں ہی کلمات کا مطلب اللہ تعالیٰ کی تعریف اور بڑائی پر منتج ہے۔ مگر ان کی ادائیگی کے اوقات و لمحات ذرا مختلف ہیں۔

اب جب کبھی کسی دوست کا فون پاکستان سے آ جائے۔ تو وہ بولتا ہے۔ کہ بھائی ابراہیم۔ آپ تو اتنے دین دار تھے۔ کوئی بھی غیر اخلاقی بات سن لیتے یا کوئی بیہودہ حرکت دیکھ لیتے۔ تو آپ کی زبان پر یک دم لا حول ولا قوۃ کا ورد چالو ہو جاتا تھا۔ آپ کو وہاں کے ماحول کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ اور دقت تو ہوئی ہو گی؟ مگر اب جب میں پوچھنے والے کو یہاں کی باتیں بتاتا ہوں۔ اول تو اسے میری بات کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ اگر حقیقت بتاؤں تووہ مجھے کہتا ہے۔

کہ یار کیا اول فول بکتے ہو؟ سیدھی بات کرو نا! مگر وہاں کے لوگوں کو کیا معلوم۔ کہ امریکا میں ہر ایک بات الٹی ہے۔ جو پاکستان میں سیدھی ہے۔ انہیں پھر ایسی بات سن کر کیسے ہضم ہو سکتی ہے؟ کہ یہاں کے ماحول نے ہمارے لاحول کو ایسے اغوا کر لیا ہے۔ جیسے سرمایہ داروں نے اپنے ملک کے غریبوں کو گرفتار بلا رکھا ہوا ہے۔ قرآن کے شروعات میں بسم اللہ کے بعد الحمد و اللہ رب العالمین کا تذکرہ ہے۔ ہم لوگ روزانہ ہر نماز میں اس کا ورد بھی کرتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ خود کہتا ہے : کہ میں سب مخلوق کا رب ہوں۔ اور ہم اسے فقط اپنا ہی رب سمجھ کر مفت میں بحث و تمحیص میں پڑ کر ایک دوسرے کی تضحیک اور تمسخر اڑاتے ہیں۔ جس کا ہمیں چنداں کوئی حق نہیں ہوتا ہے۔

ابھی جب کہ بیچ ’beach‘ پر اپنی کرسی سے ٹیک لگائے سرما کی مدھم مدھم دھوپ میں کالی عینک لگائے موسم اور لباسوں کی رنگینیوں کا مزا لوٹ رہا ہوں۔ ایک معصوم چہرہ گوری چٹی خوبصورت جوان لڑکی کالی عینک لگائے سامنے سے گزری ہے۔ اس کے بال سمندر سے آتی ہوا سے اس کے چہرے پر بیباکی سے الجھتے بکھرتے لہرا رہے ہیں۔ وہ ایک ہاتھ سے بالوں کو سنبھالتے اور دوسرے ہاتھ کو لہراتے اور مسکراتے ہوئے ’ہائے‘ بول کر گزری ہے۔ اور میں نے بھی اپنا ایک ہاتھ ہلا کر اس کو جواب دیتے ہوئے بے ساختہ سبحان اللہ کچھ اونچی آواز میں کیا کہا ہے۔

کہ امریکہ میں ایک نووارد پاکستانی ہم عمر بزرگ جو میرے پاس سے گزر رہے تھے سبحان اللہ سن کر ۔ مجھ سے السلام و علیکم کہہ کر یوں گویا ہوئے۔ محترم! آپ کو تو اس لمحے لا حول بولنا چاہیے تھا۔ میں نے بھی اوپر نظر اٹھا کر ان کی جانب دیکھا۔ اور سلام کا جواب دیتے ہوئے پوچھا۔ کہ صاحب! آپ کہاں سے ہیں اور کب سے یہاں پر ہیں؟ تو بولے۔ جناب میں ابھی ابھی پاکستان سے آیا ہوں۔ میری بیٹی نے مجھے یہاں بلایا ہے۔ اچھا۔ میں نے کہا۔ اور ان سے یوں مخاطب ہوا۔ بھائی! آپ کو اتنی جلدی کیوں ہے یہ سب سمجھنے کے لئے؟ پہلے کچھ وقت تو یہاں پر گزاریے۔ پھر انشاء اللہ۔ آپ کو خود بخود لاحول ولا قوۃ اور سبحان اللہ کے مابین فرق نظر آ جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
اشرف گل، کیلیفورنیا کی دیگر تحریریں