مرد و عورت کی بلا امتیاز تربیت: وقت کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تربیت کی بات کریں تو یہ صرف عورت کی نہیں بلکہ مرد اور عورت دونوں کی ہونی چاہیے اور بلا امتیاز ہونی چاہیے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایک عورت با حیا اور وفا کی پیکر ہے اور اس کے ساتھ اس کی تربیت اعلی سطح پر کی گئی ہے تو وہ واسطہ اور بلاواسطہ نسل در نسل کی تربیت کرتی ہے لہذا ایک عورت کا مضبوط ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ مرد اور عورت دونوں نہ صرف گھر گر ہستی چلاتے ہیں بلکہ اس معاشرے کو بناتے ’سنوارتے اور بگاڑتے ہیں۔ اس لئے دونوں کی تربیت یکساں اہمیت کی حامل ہے۔

ہمارے معاشرے میں جہاں تربیت کی بات ہوتی ہے تو اس کی ساری ذمہ داری ماں پر آتی ہے یہ حقیقت ہے کہ بچہ اپنی ماں کے ساتھ زیادہ وقت گزارتا ہے وہی اسے بولنا ’کھانا‘ پینا ’چلنا حتٰی کہ زندگی گزارنے کے طور طریقے سکھاتی ہے۔ پھر آتا ہے ہمارا ماحول کیونکہ بچے کو جو سکھایا‘ پڑھایا جائے وہ نقش نہیں چھوڑتا بلکہ جو وہ اپنی آنکھوں سے اردگرد دیکھتا ہے وہ سیکھتا ہے اور وہی اس کے دل و دماغ پر اثر کرتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔

ایک ماں اپنے بیٹے کی تربیت کرتی ہے کہ اس نے کیسے عورت کو چاہے وہ ماں ہو ’بہن‘ کلاس فیلو ’دوست‘ رفیق کار ’بیوی اور بیٹی چاہے پھر کوئی بھی روپ ہو اس کو عزت و احترام دینا ہے اس کی ڈھال بننا ہے اس کی مرضی‘ خواہش اور خوابوں ’اس کے آرام‘ اس کے جذبات اور عزت و وقار کا خیال کرنا ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ بچہ ’بچپن سے لے کر پروان چڑھنے تک اپنے باپ اور گھر کے باقی لوگوں کو وہی کرتا دیکھے گا پھر وہی اطوار اس کی شخصیت کا حصہ بن جائیں گے لہذا وہ کبھی عورت کو بری نگاہ سے نہیں دیکھ پائے گا خود سے بڑھ کر اس کی عزت کا خیال رکھے گا کیونکہ اس کے علاوہ اس نے کچھ سیکھا ہی نہیں۔

دراصل ہم بیٹیوں کی تربیت بھی غلط طرز پر کرتے ہیں اکثر بیٹوں اور بیٹیوں میں فرق کیا جاتا ہے عام سوچ یہ ہوتی ہے کہ بیٹی نے بیاہ کر دوسرے گھر جانا ہے لہذا اس کو سکھایا جاتا ہے کہ سر جھکا کر رکھو ’کم بولو‘ آہستہ بات کرو ’قہقہہ لگا کر نہ ہنسو‘ اپنی خواہشوں ’خوابوں کو قربان کر دو‘ جو اور جیسا خاوند اور سسرال والے کہیں ویسا ہی کرو ’ہر بات پوچھ کر اجازت لے کر کرو‘ سسرال میں خود کو مار کر جینا ہے ’شوہر کا گھر ہی تمھارا گھر ہے اس گھر سے جنازہ ہی اٹھنا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ سکھانا ہمیں یہ چاہیے کہ دل اور رشتوں میں دراڑ نہیں آنی چاہیے پیار و محبت سے آبیاری کرنی ہے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہے رشتوں میں منافقت کو جگہ نہیں دینی ہے۔ اگر کچھ غلط ہوتا ہے تو سہنا نہیں ہے اپنی آواز اٹھانی ہے اپنا جائز حق لینا ہے۔

جبکہ دوسری طرف ہم بیٹوں کی تربیت میں کوتاہی کر جاتے ہیں ان کو سکھاتے ہی نہیں کہ کیسے انہوں نے عزت و احترام دینا ہے ’اپنے لہجے کو سخت نہیں کرنا‘ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا ہے ہوتا یہ ہے کہ ان کو گھر کے کاموں سے دور رکھا جاتا ہے کہ یہ تمھارا کام نہیں۔ اس کو یہ سکھایا ہی نہیں جاتا کہ اس نے کیسے گھر کی عورت (ماں ’بہن‘ بیوی یا بیٹی) کو فیصلے میں شامل کرنا ہے یا ان کی رائے لینی ہے اپنی ذمہ داریاں کیسے اٹھانی ہیں ہمارے ہاں ایک مرد خود کو کوئی خلائی مخلوق سمجھتا ہے جو گھر کا کوئی بھی کام کرنا اپنی توہین سمجھتا ہے اس سب کے پیچھے وہ سوچ ہوتی ہے جو اس کے دماغ میں بچپن سے ڈالی جاتی ہے کہ وہ ایک لڑکا ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے اور وہ جو کر رہا ہے وہی صحیح ہے اس نے صرف کمانا ہے اور حکم دینا ہے عورت کو ایسا ہونا چاہیے جو بس اس کی ہر بات پر لبیک کہے۔

تربیت ماں نے ہی کرنی ہے اور بچپن سے ہی کرنی ہے لیکن ماں کا ساتھ دینے والا اس کا باپ ہو گا کیونکہ ماں اور باپ کے رویے اور گھر کا ماحول ہی بچے کی تربیت میں اصل کردار ادا کرتے ہیں۔

اس کو سمجھانا چاہیے کہ عورت کا جو بھی روپ ہو قابل احترام ہے ’اس کو سکھایا جائے کہ کیسے ان کی رائے کا احترام کرنا ہے ان کے خوابوں کو چکنا چور کرنے کی اور پیروں تلے روندنے کی بجائے ان کے ساتھ ان کی ڈھال بن کر کھڑے ہونا ہے تاکہ عورت اس کے وجود سے تحفظ محسوس کرے۔ بیٹوں کی تربیت ایسے کریں کہ وہ کسی عورت کی طرف بری نظر اٹھا کر نہ دیکھ سکیں۔ اس طرز پر ان کی پرورش ہو کہ وہ بڑا ہو کر مثالی بیٹا‘ بھائی ’دوست‘ باپ اور شوہر ثابت ہو سکے اور پر سکون زندگی گزار سکے کیونکہ اگر گاڑی کا ایک پہیہ بھی پنکچر ہو گا تو گاڑی چل نہیں پائے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •