بیٹی سے بیوی اور پھر ہیرا بائی تک کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک بیٹی تھی، پھر میں بیوی بنی، اب میری پہچان ہیرا بائی ہے۔ میں تو ہیرا بائی ہوں۔ لیکن ہیرا بائی تو عورت ہے، وہ عورت جو مردوں کی تسکین کے لیے کام کرتی ہے، ہیرا بائی کسی کی بیٹی ہوتی ہے نہ بہن وہ صرف عورت ہوتی ہے جو ہیرابائی بن کے مردوں کا دل بہلاتی ہے۔ جس کے پاس بہت سارے مرد اپنے گھر کی عورت چھوڑ کر آتے ہیں۔ گھر کی عورت ہونے اور ہیرابائی ہونے میں بہت فرق ہے۔

میں نے مردوں کے بارے اتنا جانا ہے کہ یہ اپنے گھر کی عورت کو دکھ دیتے ہیں اور ہیرا بائی جیسی عورت کو دھن۔ یہ وہ مرد ہوتے ہیں جو گھر میں پیدا ہوئی بیٹی کو زمین پر رینگنے والے کیڑے سے بھی حقیر سمجھتے ہیں۔ لیکن ہیرا بائی جیسی عورتوں کے آگے خود کیڑا بنے ہوتے ہیں وہ بھی گندی نالی کا۔ ہیرا بائی جس کے پاس بہت سارے پرہیزگار مرد اپنا دل بہلانے آتے ہیں۔

جب کوئی جاندار دنیا میں آتا ہے، پہلا سانس لیتا تو کہتے ہیں اس کی پیدائش ہوئی ہے۔ لیکن میرے پیدا ہونے پہ لگا کہ گھر میں کوئی سانحہ ہوا ہے۔ جن دنوں بچے بولنا سیکھتے ہیں میں نے اردگرد کے لوگوں کو پڑھنا سیکھ لیا تھا۔ مجھے دیکھ کر میری ماں کی آنکھیں ہمیشہ نم رہیں اور میرا باپ۔ آہ باپ، سوچتی ہوں کیا اسے باپ کہنا چاہیے۔ لیکن میری ماں کا اس سے تعلق اور مجھ سے رشتہ بتاتا ہے کہ وہ میرا باپ ہی ہے۔ ورنہ تو اس کے کسی رویے سے کبھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ میرا باپ ہوگا۔

اگر میری ماں کا کردار مشکوک ہوتا تو شاید مجھے یہ خوش فہمی نصیب ہوجاتی کہ ممکن ہے یہ نفرت میری رگوں میں دوڑتے کسی اور کے خون کی وجہ سے ہو۔ لیکن اسے میری بدنصیبی کہیے کہ میری ماں کی اپنے شوہر سے وفاداری پہ شک کی ذرا سی بھی گنجائش نہیں۔ میری ماں کی شوہر سے فرمانبرداری بتاتی ہے کہ میری تخلیق کا باعث یہی مرد ہے جسے میرا باپ کہا جاتا ہے۔

میرے باپ نے ہمیشہ ایک مرد بن کر سوچا ہے۔ اس نے میری پیدائش سے نو ماہ قبل ہی میری ماں کو بتادیا تھا کہ اسے بیٹی نہیں چاہیے، اگر بیٹی ہوئی تو یہ میری ماں کی آخری غلطی ہوگی، کہ پہلی غلطی کی سزا کوئی دوسری عورت بھگت چکی تھی۔ اسے اپنے لیے عورت تو چاہیے تھی لیکن ایک باپ کے لیے بیٹی نہیں۔ اسے بیٹا چاہیے تھا، اسے وارث چاہیے تھا اپنی مفلسی کا، کہ خوشحالی نے تو کبھی اس گھر کا رستہ نہیں دیکھا تھا، جانشینی کے طور پہ لے دے کے اک غربت ہی تھی جس کی گدی پہ بٹھانے کے لیے اسے بیٹا چاہیے تھا۔

میں نے اماں کی آنکھ میں اپنے لیے ہمیشہ آنسو دیکھے اور باپ کی نگاہ میں حقارت۔ سنا ہے میری ماں کتنی دیر پکڑ کر مجھے روتی رہی تھی۔ باپ نے کتنے دن میری طرف دیکھا ہی نہیں۔ کتنے دن، کوئی پتہ نہیں، کہ دنوں کی یہ گنتی کئی سینکڑے کراس کر چکی تھی۔ میری ذات کی پامالی میری پیدائش ہی سے شروع ہو گئی تھی۔ ایک لڑکی ذات اوپر سے قبول صورت۔ جبکہ ان دونوں صورتوں کی وجہ میں نہیں تھی پھر بھی الزام میرے سر آیا۔ پکڑ تو ان کی ہونی چاہیے تھی جو تخلیق کار تھا یا تخلیق کا سبب تھے، لیکن یہ جرم اپنے سر لینے کو تیار کوئی نہیں تھا۔

لوگ کہتے ہیں یہ زندہ ہے بھلا زندہ لوگ ایسے مردہ ہوا کرتے ہیں، ڈر کے مارے تو مردوں کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا، میں اگر زندہ تھی تو کوئی مجھے ہاتھ کیوں نہیں لگاتا تھا۔ باپ اگر نفرت کرتا تھا تو ماں نے کون سی محبت کی لوریاں دی تھیں۔ میرے باپ کی آہٹ پاکر ہی وہ مجھے کمرے میں بند کر آیا کرتی۔ سب سے بچ جانے والی روٹی وہ مجھے چپکے سے دے جاتی جسے میں اپنوں کی نفرت کے ساتھ لگا کر کھاتی۔ اس گھر میں لوگ روٹی کو ترستے اپنی عمر میں بڑھ رہے تھے، میں محبت کو ترستے ہوئے پروان چڑھی تھی۔ ابھی پندرہواں برس لگا تھا کہ باپ نے اپنے سر پہ رکھا میری ذات کا بوجھ اتار پھینکا۔

وہ میرے باپ جیسا ہی کوئی دیہاڑی دار پکی عمر کا مرد تھا۔ جس کے دانت سگریٹ اور پان کی کثرت سے کھوکھلے ہوچکے تھے۔ اس کے منہ سے ناخوشگوار بو آتی، لیکن کاش اس بو کا تعلق صرف منہ ہی سے ہوتا۔ لیکن اس بو نے تو اس کے ظاہر و باطن کو اپنے حصار میں لپیٹ رکھا تھا۔ وہ نشہ کرنے والا ایک کاہل مرد تھا۔ شادی کے تیسرے ہی دن اس نے مجھ سے پیسوں کا تقاضا کر ڈالا میں کہاں سے دیتی، پیسے نہ پاکر اس نے مجھے جی بھر کے پیٹا۔ میری ہڈیاں چٹخ رہی تھیں میں مار کھا کر ادھ موئی پڑی تھی کہ اس کو مجھ پہ اپنا حق یاد آیا، اپنے حق کی پوری وصولی کی بعد اس نے مجھ سے مسقتل وصولی کرنے کا ارادہ باندھ لیا۔

میں ٹرک بھر کر جہیز نہیں لائی تھی تو کیا ہوا جہیز کے نام پر کچی عمر تو تھی جس کو اس نے منہ مانگی قیمت پہ بیچ ڈالا، کہ عمر کا نوخیز پن انمول ہوتا ہے جو بہت مہنگے داموں بکتا ہے۔ بس پھر روز میرے مول لگتے، روز مال آتا۔ وہ خود اپنے مال سے عیش کرتا اور دوسروں کا مال لے کر ان کو عیش کرواتا۔ وہ مال کی بہت حفاظت کرتا تھا، میرا محافظ بن کر باہر بیٹھ جاتا، سچی خود پہرہ دیتا تھا۔ وہ مالک جو تھا اپنے مال کی حفاظت اس کا حق بنتا تھا۔ کیسا کامیاب مالک تھا وہ، جو اپنا حق بھی مجھ سے وصول کرتا اور دوسروں سے میرا معاوضہ بھی۔ میں اس کے لیے کوہ نور ہیرا ثابت ہوئی تھی، وہ مجھے ہیرا کہتا، میری پہچان اب ہیرا بائی تھی۔ اس کا معیار زندگی بہتر ہو گیا تھا، وہ مہنگا نشہ کرنے لگا تھا۔ میں امید سے تھی اور اسے لگتا اس کے دن پھرنے والے ہیں۔

انہونی ہو گئی، کایا پلٹ گئی۔ میرے مرد کو مجھ سے بیٹا نہیں چاہیے تھا، اسے بیٹی چاہیے تھی، اگر عام حالات ہوتے تو یہ سن کر مجھے اپنی بصارت پہ رشک آتا۔ لیکن بیٹی کی پیدائش اس کی چاہت نہیں تقاضا تھا۔ اسے اپنے کاروبار میں وسعت کے لیے بیٹی کی ضرورت تھی۔ اس کو وراثت کے بٹوارے کے لیے بیٹے کی ضرورت نہیں تھی۔ اسے تو اپنی بیوی کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے ایک عورت چاہیے تھی۔

مجھے نہیں پتہ تھا میں اپنے خون سے کس کو سینچ رہی ہوں۔ لیکن مجھے اپنے جیسی قسمت والی بیٹی نہیں چاہیے تھی اور بیٹا تو ہر گز نہیں چاہیے تھا۔ کہ میں نہیں چاہتی تھی کہ میری کوکھ سے ایک اور وحشی جنم لے، ایک اور مرد جنم لے۔ سچ پوچھیں تو مجھے اولاد کی تمنا ہی نہیں تھی۔

لیکن اس کا آنا طے ہو چکا تھا، وہ اس دنیا میں آ چکی تھی۔ مامتا کیا ہوتی ہے میں اس لمس سے آشنا نہیں تھی۔ جب وہ میری گود میں آئی تو مجھے سمجھ آئی تھی کہ میری ماں مجھے دیکھ کر آہیں کیوں بھرتی تھی۔ وہ میری بدقسمتی سے ڈرتی تھی۔ مجھے ماں کی بے بسی سمجھ آ چکی تھی۔ مجھے ان لوگوں پہ رشک آیا جو بیٹی کو روز روز کی اذیت سے بچا کر ایک ہی بار مار دیتے تھے۔ کتنی خوش قسمت ہوتی تھیں وہ لڑکیاں جنھیں پیدا ہوتے ہی مار دیا جاتا تھا۔

میں نے فیصلہ کر لیا تھا میں اپنی بیٹی پہ اپنی نحوست کاسایہ نہیں پڑنے دوں گی۔ جو تکلیف میں سہتی رہی ہوں وہ تکلیف میں اسے نہیں ہونے دوں گی۔ میں کبھی نہیں چاہوں گی کہ میری بیٹی بھی اس جہنم میں گزار دے جس میں اس کی ماں رہی۔ میں نے فیصلہ کر لیا تھا میں اس کو لے کر دور چلی جاؤں گی بہت دور۔ جہاں مرد جیسے کسی درندے کی پہنچ نہ ہو۔ جہاں ہم ماں بیٹی سکون سے رہیں۔ کاش میری ماں بھی کسی ایسے فیصلے کی جرات کرلیتی تو آج میں بھی سکھ میں ہوتی۔ کاش وہ ایک بڑا فیصلہ کر لیتی۔ لیکن میری ماں بزدل تھی۔ میں بزدلی نہیں دکھاؤں گی۔

میرا مرد آج بہت خوش تھا۔ اس نے منت کی دیگیں چڑھائیں تھیں۔ باہرجشن منانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ اندر میں اپنی بیٹی کو لے کے جانے کی تیاری میں مصروف تھی۔ میں نے اس کو اپنا دودھ پلادیا، وہ دودھ جس میں زہر کی آمیزش تھی، ایسا زہر جس کا تریاق کوئی نہیں تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •