چور اور چوکیدار ۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چوکیدار

اکتوبر انیس سو ننانوے کے آخری دن۔ سرحدوں کے پاسبان کو سربراہ مملکت بنے تیسرا ہفتہ تھا۔ بس سٹینڈ فیصل آباد کے سامنے واقع میری آٹو پارٹس دکان پر آس پاس کے چند دکاندار جمع ہو کر گپ شپ لڑاتے چائے کی چسکی اڑا رہے تھے۔ جناب جنرل مشرف کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے جواز یا عدم جواز پر بحث گرم تھی۔ مارکیٹ کا پٹھان چوکیدار اپنا ماہانہ وصول کرنے آ گیا اور کھڑا ہو کر سننے لگا۔

اچانک بولا۔ صاحب ہم ایک بات بولتا ہے۔ ان پڑھ ہے۔ برا نہ ماننا۔ دیکھو ہم آپ کی دکان کا چوکیدار ہے۔ ساری رات رکھوالی کرتا ہے۔ اب کل صبح آپ آؤ ہم تالے توڑ اس کا مالک بن آپ کی کرسی پر بیٹھا ہو۔ آپ کس قانون کے تحت ہم سے قبضہ واپس لو گے۔

محفل پر سناٹا طاری تھا اور ہم جو اپنے نقل وطن کے فیصلہ پر نظر ثانی کا سوچ رہے تھے۔ اگلی صبح اپنی امیگریشن درخواست پر جلد کارروائی کے لئے کینیڈین ہائی کمیشن کو خط بھجوا رہے تھے۔

ڈاکو۔ ”جانے وہ کون تھے“

انیس سو اٹھاسی نواسی کی بات ہے۔ فیصل آباد سے پیپلز پارٹی کے معروف رہنما اور اس وقت ممبر قومی اسمبلی ( جن کو محترمہ بے نظیر بھٹو اپنا منہ بولا بھائی کہتیں ) کی بیگم ایک خوش گوار سہ پہر میرے گھر میری بیگم کے ساتھ بیٹھی گپ شپ میں مصروف تھیں۔ میری بڑی بیٹی ان کی بیٹی کی کلاس فیلو اور گہری دوست تھیں اور وہ اپنی بڑی بیٹی کی شادی کی مٹھائی دینے تشریف لائیں تھیں۔ شام کا دھندلکا ہو رہا تھا اور ان کا ڈرائیور باہر سوزوکی کیری ڈبہ میں بیٹھا ان کا انتظار کر رہا تھا۔

اچانک دو موٹر سائیکلوں پہ چند افراد آئے۔ گاڑی کو گھیرا ایک آدمی نے ڈرائیور کی کنپٹی پہ پستول رکھتے ہوئے اسے نیچے اترنے کا حکم دیا۔ گاڑی کی چابیاں لیں۔ اس کو پیچھے لے گیا۔ دوسرے نے چابیاں لیں اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کر لی۔ ایک ساتھی اس کے پاس بیٹھنے کے لئے پیچھے سے ہو دوسری طرف جانے لگا تو نمبر پلیٹ دیکھ کر ٹھٹکا۔ دوبارہ نمبر پڑھا۔ پیچھے آ کے ڈرائیور کو غور سے دیکھا۔ ساتھی کو گالی دیتے بولا۔

اندھے مت بنا کرو۔ گاڑی دیکھ تو لیتے۔ گاڑی بند کروا چابیاں لے ڈرائیور کی طرف واپس پھینکیں اور ماں بہن کی معروف گالیوں سے نوازتے بولا۔ ”اب کسی کے آگے پھوٹنا نہیں کہ گاڑی چھیننے کی کوشش کی گئی تھی۔ ورنہ۔“ موٹر سائیکلیں سٹارٹ ہوئیں یہ جا وہ جا۔ اگلے لمحہ ڈرائیور اندر کھڑا کانپتا لڑکھڑاتے لفظوں میں اپنی داستان خواتین کو سنا رہا تھا۔ اور گھر واپس آ اپنی بیگم کے جوشیلے خوف زدہ لہجہ میں یہ داستان سنتے ہم سوچتے گنگنا رہے تھے۔ ”جانے وہ کون تھے۔ کیا غلاف تھا ان ہاتھوں کا“

گھر کے رکھوالے

کہانی وہیں کی۔ فجر کی نماز کے بعد اوپر اپنے بیڈروم میں دوبارہ لیٹا ہی تھا کہ نچلے بیڈروم سے امتحان کی تیاری میں پڑھنے میں مصروف بیٹی نے انٹر کام پہ صرف اتنا کہا ابو مجھے کھڑکی سے باہر کی دیوار پھاند ایک آدمی اندر آتا نظر آیا ہے۔ ساتھ ہی اس نے چور چور کا شور کیا اور پاس موجود سیٹی بجانا شروع کر دی۔ ساتھ ہی میرے سرونٹ کوارٹر میں موجود جوان نے نکل کر دوبارہ دیوار پھاند باہر کودتے درمیانی عمر کے دیہاتی سے آدمی کو دبوچ لیا۔

سامنے گھر کا چوکیدار بھی مدد کو آ چکا تھا۔ اس کے ہاتھ باندھ صحن میں بٹھا دیا گیا۔ معافی مانگتے بتایا کہ وہ صرف ہمارے صحن میں رسی پر لٹکے سوکھتے کپڑے چوری کرنے آیا تھا۔ ایمرجنسی نمبر پہ فون کیا اور ایمرجنسی پولیس کوئی ڈیڑھ کلو میٹر دور تھانہ پیپلز کالونی سے ایک مریل سے گھوڑے والے تانگے پر کوئی ڈیڑھ گھنٹہ بعد پہنچی۔ اس کی تلاشی لی گئی تو اس کی دھوتی کی ڈب سے ایک کلائی کی گھڑی اور کچھ اور بھی نکلا جو اس کے بتانے کے مطابق اس نے قریب ہی ٹیکنیکل ہائی سکول کے ساتھ دربار غوثیہ کے غسل خانہ میں نہاتے ایک شخص کی دیوار پر رکھی وہاں ”نماز پڑھنے“ کے بعد اٹھائی تھیں۔ پولیس افسر نے پوچھا اس کا کیا کرنا ہے۔ عرض کیا کہ ہمارا کام آپ کے حوالہ کرنا ہے۔ جرم قبول کر رہا ہے۔ دوسری جگہ کا مال مسروقہ آپ نے برآمد کیا ہے۔ جو کرنا ہے آپ نے کرنا ہے۔ وہ ساتھ لے گئے۔

کوئی سہ پہر کے لگ بھگ فون پہ تھانے سے کوئی صاحب کہہ رہے تھے۔ سر وہ بہت غریب آدمی ہے۔ مقدمہ درج بھی کر لیں تو آپ نے ہی تھانے کچہری میں خجل ہو کے اپنا ہی نقصان کرنا ہے ویسے بھی وہ آپ کے گھر سے چند گھر پرے فلاں ”ممبر قومی اسمبلی کے گھر دیکھ بھال کے لئے رہتا ہے“ اور انہوں نے مجھے کہا ہے کہ میں اسے معاف کرنے کے لئے آپ سے درخواست کروں۔ ، اور آپ کا اس پر تشدد نہ کر نے کا شکریہ۔

کوئی ایک گھنٹہ بعد ہم تھانے سے لکھے آئے معافی نامہ پر دستخط کرتے آنے والے کارندہ کے لئے چائے منگوا رہے تھے۔

چور اور چوکیدار

اب آپ کو ساٹھ کی دہائی میں کراچی بہادر شاہ مارکیٹ ایم اے جناح روڈ لئے چلتے ہیں۔ جہاں ٹائروں کے کاروبار کی دکانیں تھیں۔ ( اب کا پتہ نہیں ) ۔ پولیس نے ایک بندہ چوری کرتے رنگے ہاتھ پکڑا اور اس نے مختلف وارداتوں کا اعتراف کرتے کسی گودام سے چوری کیے کار ٹائر بہادر شاہ مارکیٹ میں چوری کا مال خریدنے میں مشہور شیخ صاحب کی دکان پر بیچنے کا بھی بتایا۔ پولیس مال مسروقہ کی برآمدگی کے لئے شیخ صاحب کی دکان پر لے آئی اور کارروائی کے بعد شیخ صاحب کو ساتھ لے اس کو اس جگہ کی نشاندہی کے لئے لے گئی جہاں سے اس نے یہ ٹائر چوری کیے تھے۔ تھوڑی دیر بعد شیخ صاحب پولیس اور چور کے ساتھ اپنے ہی گودام کے سامنے کھڑے تھے اور چور بتا رہا تھا کہ وہ یہاں کے چوکیدار کی مدد سے یہاں سے ٹائر چوری کرتا اور شیخ صاحب کو بیچ رہا تھا۔

آج پچپن ساٹھ سال بعد یہ منظر ہر شعبۂ زندگی کے لیول پہ تو نہیں۔
آگ کہاں کہاں لگی۔ کیسے لگی۔
آپ بھی سوچئے۔ میں بھی سوچتا ہوں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •