ملتان جلسہ میں عکس بے نظیر


جلسہ تو ہو کر رہے گا کا نعرہ لگانے والی اپوزیشن نے بالآخر ملتان میں جلسہ کر ہی دیا۔ ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں ہونے والے جلسے کو روکنے کے لیے حکومت نے ہر حربہ استعمال کیا۔ ایک خوف کی فضا پیدا کی گئی پیپلزپارٹٰی اور نون لیگ کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ جلسہ گاہ کو جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔ مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے ورکروں کے ساتھ قاسم باغ میں جانے کے لیے زور لگاتے رہے۔

تین دن ملتان انتظامیہ اور ورکروں کے درمیان آنکھ مچولی ہوتی رہی اور حکومتی کارکردگی نے روایتی احتجاجی جلسے کی بجائے ایک بھرپور مزاحمتی جلسہ بنا دیا۔ تمام تر خوف کے باوجود جنوبی پنجاب کے اضلاع سے کارکن قافلوں کی صورت میں نکلے۔ ڈیرہ غازی خان، راجن پور اضلاع سے سب سے بڑا قافلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار دوست محمد خان کھوسہ کی قیادت میں ملتان پہنچا۔ انتظامات نا ہونے کے باوجود جلسے میں عوام کی تعداد قابل تعریف تھی۔

ملتان کے گھنٹہ گھر چوک میں پی ڈی ایم کے اس جلسے کی خاص بات پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی چھوٹی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری کی شرکت تھی۔ 2018 کے عام انتخابات کے بعد آصفہ بھٹو کی سیاست میں پہلی انٹری تھی۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جیسے پہناوے اور انداز گفتگو سے عکس بے نظیر کہلانے والی آصفہ بھٹو نے ملتان میں خطاب کرتے ہوئے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سلیکٹڈ حکومت کے ظلم و جبر کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں جمع ہوئے ہیں۔

آصفہ بھٹو نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد عوامی جمہوری اور فلاحی ریاست کے لیے رکھی تھی اور وہ اس مقصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے اور نا ہی وہ پیچھے ہٹیں گی۔ نون لیگ کی قائد مریم نواز شریف نے پیپلز پارٹی کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ آصفہ بھٹو اپنے گھر سے پاکستانیوں کے حقوق کی خاطر باہر نکلی ہیں اور یہ خوش آئند بات ہے۔

پی ڈی ایم اپنے طے کردہ شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے کے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے اب آخری جلسہ 13 دسمبر کو لاہور میں ہوگا اور اس جلسے کی میزبان جماعت مریم نواز شریف ہوں گی۔ توقع ہے کہ نون لیگ اس جلسے کو کامیاب کرنے کے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گی۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ملتان کے گیلانی ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8 دسمبر کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوگا جس میں 13 دسمبر کے بعد کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس کے بعد پتہ چلے گا کہ پی ڈی ایم اپنے احتجاج کے دوسرے مرحلے میں کیا کرنے جا رہی ہے۔ اس وقت تک پی ڈی ایم کے بظاہر دو ممکنہ راستے ہیں ایک تو قومی و صوبائی اسمبلیوں سے اجتماعی استعفے اور دوسرا راستہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا ہے۔

اب اگر ان دو ممکنہ راستوں کا جائزہ لیں تو میرا خیال ہے کہ ابھی پی ڈی ایم اجتماعی استعفوں کی طرف نہیں جائے گی اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو شاید یہ کہ اپوزیشن اسمبلیوں کو تحلیل نہیں کرنا چاہتی اور وہ ان ہاؤس تبدیلی کی خواہشمند ہو سکتی ہے کیونکہ کورونا اور معاشی ابتری کے سبب معروضی حالات ایسے ہیں جس میں نئے انتخابات ممکن ہی نہیں ہیں۔ اس لیے پی ڈی ایم کے رجحان کا اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ تبدیلی سرکار کی تبدیلی کے خواہش مند ہیں اور یہ ان ہاؤس تبدیلی سے ہی ممکن ہے لہذا فی الوقت پی ڈی ایم اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا ٹرمپ کارڈ ابھی استعمال نہیں کرے گی۔ بالفرض اگر پی ڈی ایم اسمبلیوں سے مستعفی ہوجاتی ہے تو الیکشن کمیشن 90 روز میں الیکشن کرانے کا پابند ہے تو یہ انتخابات مارچ کے سینٹ کے انتخابات سے پہلے ممکن ہوسکتے ہیں اس لیے پی ڈی ایم کے مستعفی ہونے کا آپشن بھی فروری سے پہلے ممکن نہیں ہے۔

دوسرا راستہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا ہے تو سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں اور خاص طور پر اسلام آباد میں دسمبر اور جنوری کا موسم بہت شدید ہوتا ہے اور اتنی سردی میں پی ڈی ایم لانگ مارچ کا فیصلہ نہیں کرے گی۔ اس کے لیے موسم کے بہتر ہونے کا انتظار کیا جائے گا اور اسلام آباد کا موسم 15 فروری تک بہتر ہو جائے گا۔ تو اگر پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا تو یہ فروری سے پہلے نہیں ہوگا

اب سوال یہ ہے کہ 14 دسمبر سے 15 فروری تک دو ماہ میں پی ڈی ایم کیا کرے گی تو ایک حل یہ ہے کہ پی ڈی ایم انہی جلسوں کا سلسلہ برقرار رکھے گی اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں جلسوں کا ایک شیڈول جاری کر کے وہاں پر جلسے کرے گی۔ ممکنہ شہروں میں حیدرآباد، سکھر، راولپنڈی، فیصل آباد، رحیم یار خان، چارسدہ جیسے شہر ہوسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ہونے والے جلسہ میں آصفہ بھٹو زرداری کی تقریر سننے والی ہوگی۔

20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد تشکیل پانے والے اتحاد پی ڈی ایم کی پرفارمنس اب تک بہتر رہی ہے۔ ابتر معاشی حالات اور ہوشربا مہنگائی نے عوام کو بددل کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا یہ بیان کہ حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے اور اب بات حکومت کی نہیں نظام کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے اس بات کا اشارہ ہے کہ اب اگر تبدیلی ہوئی تو وسیع پیمانے پر تبدیلی ہوگی اور بہت کچھ تبدیل ہو جائے گا۔

لیکن اگر اپوزیشن نے محض وقتی تبدیلی پر انحصار کیا تو یہ نا صرف عوام کو بلکہ خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا۔ اس ضمن میں دیکھنا ہوگا کہ مولانا فضل الرحمن جیسے زیرک سیاست دان کس طرح اپنے احتجاج کو منطقی انجام تک لے جاتے ہیں اور مطلوبہ نتائج حاصل کرتے ہیں۔ اب تک کی صورتحال یہی بتا رہی ہے کہ مولانا الیون اچھا پرفارم کر رہی ہے اور حکومتی الیون کے لیے مشکلات میں آئے روز اضافہ کر رہی ہے۔ تاہم اپوزیشن کو محتاط رہنا ہوگا کہ کپتان پرانا کھلاڑی ہے اور بال کو ٹیمپر کر کے ریورس سوئنگ کرانے کا ماہر ہے۔ پی ڈی ایم کی ذرا سی غلطی سے وکٹیں اڑ سکتی ہیں اس لیے محتاط ہو کر کھیلنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS