خارجہ پالیسی: مالک اور نوکر کے رشتے میں صرف اجرت طے کی جاتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں جس ملک سے تعلق رکھتا ہوں اس کے دوسرے ممالک کے ساتھ خارجہ تعلقات کے حوالے سے ہمیشہ سے ہمیشہ کنفیوژن کا شکار رہا ہوں۔ جب ہم چھوٹے تھے تو کہا اور پڑھایا جاتا تھا کہ ہمارا ہمسایہ ملک ہمارا ازلی دشمن ہے۔ عرب ممالک کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں۔ ہمیں ہمیشہ بتایا گیا کہ عرب ممالک اور پاکستان میں ہر سطح پر باہمی اعتماد، خیرسگالی، محبت اور غیر معمولی برادرانہ تعلقات استوار رہے ہیں۔ عرب ممالک اور پاکستان کے مابین تاریخی، دینی، تہذیبی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں، امت مسلمہ کے مفادات کی نگہبانی اور اتحاد ان مضبوط برادرانہ تعلقات کی اہم بنیاد رہی ہے۔

عرب ممالک ہمارے پراعتماد اور قابل اعتماد دوست ہے اور ہمارے ہر مشکل وقت میں عرب ممالک نے ساتھ دیا ہے۔ ہماری تعلقات کا فوکس عرب ممالک کے ساتھ مذہب اور برادرانہ تعلقات کی بنیاد رہا ہے۔ جس کی قیمت پاکستانی قوم نے مذہبی فرقہ وارانہ فسادات کی صورت میں ادا کیا۔ جس کی وجہ سے ہم نے اپنے ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ بھی تعلقات خراب کیے۔ چند ممالک کا ہماری خارجہ پالیسی پر گہرا سایہ ہے جس کا اثر ہمارے فیصلوں پر بھی پڑتا ہے۔

ہماری خارجہ پالیسی اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات عرب ممالک کی پسند اور نا پسند کا خیال رکھا جاتا رہا ہے۔ ماضی قریب میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے عین وقت پر ملائشیا میں ہونے والی کوالالمپور سربراہی کانفرنس میں شرکت سے انکار سعودی عرب کا پاکستان کے خارجہ پالیسی پر اثرات کی ایک مثال تھی۔ کوالالمپور سمٹ میں پاکستان کی غیر موجودگی پر بات کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے ہم نے دیکھا ہے کہ سعودی عرب پاکستان پر دباؤ ڈالتا ہے۔‘

جبکہ ہمارے ازلی ہمسایہ دشمن نے ہمارے مسلم عرب بھائیوں کے ساتھ معاشی تعلقات استوار کیے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس تعلقات میں مزید پختگی آتی گئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے تعلقات پروان چڑھتے گئے۔ عرب ممالک کے بعد ایک اور اہم ملک جس کے ساتھ ہمارے تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں وہ ملک امریکا ہے۔ سرد جنگ میں دنیا دو بلاک میں تقسیم ہو گئی تھی۔ ایک بلاک امریکا اور یورپ کا تھا دوسرا بلاک رشیا اور اس کے حامیوں کا تھا۔

پاکستان نے امریکا کا ساتھ دیا۔ جبکہ ہمارے ازلی دشمن رشین بلاک میں تھا۔ پاکستان سرد جنگ میں بھی امریکہ کا اتحادی رہا ہے۔ بعد میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اب تک بھی امریکہ کا اتحادی ہے اور ہزاروں جانیں قربان کرچکا ہے۔ پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات کے دو بنیادی نکات رہے ہیں ایک نکتہ پاکستان امریکا کے درمیان دفاعی تعلقات اور دوسرا نکتہ مالی امداد رہے ہیں۔ پاکستان کے اصل حکمران عناصر کا زور ہمیشہ جغرافیائی صورتحال کے دفاعی پہلو پر مرکوز رہا ہے اس حوالے سے سماجی و سیاسی اور سماجی و اقتصادی حالات کے تناظر پر شاید ہی کبھی کوئی توجہ دی گئی ہے۔

پاکستان جغرافیائی طور پر مشرق وسطی سے لے کر ہندوستان اور چین تک اور ہندوستان سے وسط ایشیا تک روایتی کاروباری مراکز کے سنگم پر موجود ہے۔ پاکستان کے لئے منطقی بات یہ ہے کہ وہ معاشی اور کاروباری نمو کے لئے اپنے جغرافیائی محل وقوع کے فوائد کو استعمال کرے لیکن ہم نے کبھی بھی اس زاویے سے نہیں سوچا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے مسلم بھائی عرب ممالک پر کشمیر جیسے اہم مسئلہ پر بھی ہمارے مدد کو تیار نہیں۔ اس کی وجہ ان ممالک کی معاشی مفادات ہیں۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس پر ہمیں سخت ردعمل دینے کی بجائے پہلے تو ان معاملات کا جائزہ لینا چاہیے کہ ایسا کیوں ہے۔ یہ ساری صورت حال واضح کرتی ہے کہ آج کے دور میں ریاستوں کا سیاسی نظام چاہے جمہوری ہو، شاہی ہو یا آمرانہ ہو یا کوئی ریا ست کسی مذہب یا خاص مسلک کی علمبردار کہلاتی ہو حقیقت میں سب سرمائے کی ہی نمائندہ ہیں۔ ہم تو آج تک یہ فیصلہ بھی نہیں کر پائے کہ ہماری خارجہ پالیسی سول حکومت کے ما تحت ہو یا فوج کی؟

آج کل کسی بھی دو ممالک کے تعلقات باہمی مفادات پر ہوتے ہیں، ہر ملک اپنے مفادات اور قومی اہمیت کے معاملات کو اہمیت دیتے ہیں۔ عالمی اور علاقائی سیاست میں وہی ملک اہمیت رکھتے ہیں جو دنیا کے ساتھ جڑ کر رہتے ہیں۔ آج کی دنیا میں دشمن پیدا کرنے کی بجائے دوست پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اگر کسی سے بہت اچھے تعلقات نہ بھی ہوں تو ان تعلقات کو اتنا خراب بھی نہیں ہونا چاہیے جو ملکوں کے درمیان تعلقات کار میں بگاڑ پیدا کریں۔

حالات و واقعات اور دنیا میں ہونی والی مختلف تبدیلیوں کے تناظر میں خارجہ پالیسی میں بھی تبدیلی کا عمل ناگزیر ہوتا ہے۔ جبکہ ہم اس کے برعکس محبت اور بھائی چارہ کو بھی خارجہ پالیسی کا جز بنا دیا تھا۔ کسی بھی ملک کی معیشت مضبوط ہو تو اس کی بات دنیا میں اچھی طریقے سے سنی جاتی ہے۔ معیشت کی مضبوطی کا دار و مدار ملک کے سیاسی استحکام سے ہوتا ہے۔ پاکستان کی سیاست کا المیہ یہ رہا ہے کہ اس کے داخلی اور خارجی دونوں محاذ کئی طرح کے مسائل اور تضادات کا شکار رہے ہیں۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ہم نہ تو سیاسی طور پر مستحکم ہو سکے اور نہ ہی معاشی طور پر اپنی اہمیت منوا سکے ہیں۔ ایسی صورتحال میں آپ کے پاس آزادانہ فیصلوں کا اختیار بھی کم ہوتا ہے اور آپ کا انحصار بڑ ی طاقتوں کے فیصلوں کا محتاج بھی ہوتا ہے جو خود مختاری کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ عالمی سیاست کے سینے میں نہ تو دل ہوتا ہے اور نہ ہی ضمیر، یہ صرف مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن یہ سب جو کچھ میں نے اوپر لکھا یہ تو دو ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے تھا۔

ہمارے تعلقات کبھی بھی کسی کے ساتھ دو ممالک کے درمیان برابری کی بنیاد پر تعلقات نہیں رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تو نوکر اور مالک کا رشتہ تھا۔ ہمیں تو ہمیشہ حکم ملتا رہا اور ہم آج تک حکم کی تعمیل کرتے آئے ہیں۔ ہم سروسز فراہم کرتے رہے اس کے بدلے ہمیں امداد ملتی رہی۔ بھلا نوکر اور مالک کے رشتے میں بھی کبھی مفادات کی بات کی جاتی ہے؟ اس میں تو صرف اجرت طے کی جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •