ڈاکٹر خالد سہیل سے چند سخت مذہبی اور روحانی سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد جنید: ڈاکٹر صاحب! میرا نام محمد جنید ہے۔ میں آپ کے کالم دو سال سے متواتر پڑھ رہا ہوں۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ سے ایسے موضوعات پر چند سخت سوالات کرنا چاہتا ہوں جن سے آپ کترا کر نکل جاتے ہیں؟

خالد سہیل: مجھے خوشی ہوئی کہ آپ مجھ پر اتنا اعتماد اور اعتبار کر رہے ہیں۔ سخت سوال پوچھیے میں جواب دینے کی عاجزانہ ’طالب علمانہ اور درویشانہ کوشش کروں گا۔

محمد جنید: سوال پوچھنے سے پہلے یہ کہتا چلوں کہ یہ سوال صرف میرے ذہن میں نہیں آپ کے ’ہم سب‘ کے بہت سے قارئین کے ذہنوں میں بھی آتے رہتے ہیں؟ آپ یہ بتائیں کہ آپ اسلام کے موضوع پر کیوں نہیں لکھتے؟

خالد سہیل: میں اسلام کے موضوع پر اس لیے نہیں لکھتا کیونکہ اس موضوع پر پاکستان میں بیسیوں نہیں سینکڑوں بزرگ لکھ رہے ہیں۔ میں سیکولر اور سائنسی ’طبی اور نفسیاتی موضوعات پر اس لیے لکھتا ہوں کیونکہ ان موضوعات پر لکھنے والے بہت کم ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اردو پڑھنے والے عالمی ادب کے ان سائنسدانوں اور ادیبوں‘ فلسفیوں اور دانشوروں کے بارے میں جانیں جن کی تعلیمات پر اردو میں کتابیں نہیں لکھی گئیں۔

محمد جنید: آپ سیکولر دانشوروں پر تو مضامین بڑے شوق سے لکھتے ہیں اور وڈیوز بھی بناتے ہیں لیکن آپ مسلم فلاسفروں کو کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟

خالد سہیل: نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں نے ڈاکٹر بلند اقبال کے ساتھ کینیڈا ون ٹی وی پر دو سال پہلے۔ دانائی کی تلاش۔ کے جو پینتیس پروگرام ریکارڈ کروائے تھے ان میں سے سولہ پروگرام قدیم فلسفیوں کے بارے میں تھے بارہ پروگرام جدید فلسفیوں کے بارے میں تھے اور سات پروگرام مسلم فلاسفروں کے بارے میں تھے جن میں الکندی ’الرازی‘ الفارابی ’بو علی سینا‘ ابو حمید غزالی ’ابن رشد‘ ابن تیمیہ ’مولانا رومی‘ شمس تبریز اور علامہ اقبال شامل ہیں۔ آپ یہ پروگرام یو ٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں۔

محمد جنید: آپ کی صوفی شعرا کے بارے میں کیا رائے ہے؟

خالد سہیل: میں ان کا تہہ دل سے احترام کرتا ہوں۔ صوفی شعرا نے انسان دوستی اور انسانیت کی خدمت کا درس دیا اور مولوی کی تنگ نظری ’تعصب اور فتوے دینے کی روایت کے خلاف آواز اٹھائی۔ انہوں میں مسلمانوں‘ عیسائیوں ’یہودیوں‘ ہندوؤں ’سکھوں اور پارسیوں کے درمیان بھائی چارے کی فضا استوار کی۔ نفرت کی دیواریں گرا کر محبت اور رواداری کے پل بنائے۔ وہ بنیادی طور پر انسان دوست تھے اور مذہب سے زیادہ انسانیت پر ایمان رکھتے تھے۔ بلھے شاہ کا شعر ہے

؎ مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے ڈھا دے جو کچھ ڈھیندا اے
پر کسے دا دل نہ ڈھائیں رب دلاں وچ رہینداں اے
یہ انسان دوستی کا درس نہیں تو اور کیا ہے۔

میں سب سنت ’سادھو‘ سینٹ اور صوفی شعرا کی عزت کرتا ہوں چاہے وہ کبیر داس ہوں یا رابندر ناتھ ٹیگور ’والٹ وٹمین ہوں یا مولانا رومی۔ رومی بھی پہلے مولوی تھے شمس تبریز کے ملنے اور جدا ہونے کے بعد صوفی شاعر بن گئے اور لکھ گئے

؎ مولوی ہر گز نہ شد مولائے روم
تا غلام شمس تبریزے نہ شد

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مذہب کو سائنس اور فلسفے سے خطرہ ہے میرا خیال ہے کہ کسی بھی مذہبی شریعت کو سائنس سے زیادہ خطرہ طریقت سے ہے۔ کیونکہ صوفی مولوی کی اتھارٹی کو چیلنج کرتا ہے۔

میں رابعہ بصری کا مداح ہوں کیونکہ ایک حکایت کے مطابق جب وہ بصرہ کے بازار سے ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرے ہاتھ میں پانی لیے گزر رہی تھیں تو لوگوں کے پوچھنے پر کہنے لگیں میں پانی سے جہنم کی آگ بجھا دوں گی اور جنت کو آگ لگا دوں گی تا کہ لوگ جہنم کے خوف یا جنت کی ہوس میں عبادت نہ کریں وہ خالص خدا کی محبت میں عبادت کریں۔

محمد جنید: آپ نے دنیا کے تمام مذہبی رہنماؤں کے بارے میں لکھا ہے لیکن اسلام کے پیغمبر کے بارے میں کچھ نہیں لکھا اس کی کیا وجہ ہے؟

خالد سہیل: اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ باقی رہنماؤں کے بارے میں آپ کھل کر بات کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ اسلام کے پیغمبر کے بارے میں معروضی انداز سے بات کریں تو کچھ مولوی فتوے لگانے شروع کر دیتے ہیں۔

محمد جنید: میں جانتا ہوں آپ ہیومنسٹ ہیں اور کسی خدا یا پیغمبر کو نہیں مانتے، لیکن بطور انسان آپ اسلام کے پیغمبر کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
خالد سہیل: میں ان کی بہت عزت کرتا ہوں۔ وہ ایک ذہین انسان تھے اور ایک کامیاب ریفارمر تھے۔

محمد جنید: بطور ماہر نفسیات آپ کو ان کی شخصیت کے کس پہلو نے متاثر کیا؟

خالد سہیل: میں نے ایک حدیث سنی تھی کہ وہ امامت کروا رہے تھے اور قریب ہی حسین کھیل رہے تھے۔ جب وہ سجدے میں گئے تو حسین ان کی کمر پر سوار ہو گئے۔ حضور اس وقت تک سجدے میں رہے جب تک حسین خود ہی اتر نہ گئے۔ میری نگاہ میں یہ واقعہ اگر درست ہے تو ایک نانا اور ایک نواسے کی محبت کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے انتظار کیا اور بعد میں حسین کو نہیں ڈانٹا۔ یہ ان کی محبت اور شفقت کی ترجمانی کرتا ہے۔ آج کا مولوی بچے کو دو تھپڑ مارتا۔

محمد جنید: آپ کے بعض قارئین کا خیال ہے کہ آپ نے اسلام اور قرآن کو پڑھے بغیر انہیں رد کر دیا ہے کیا یہ درست ہے؟

خالد سہیل: نہیں ایسا نہیں ہے میں نے نوجوانی کے بہت سے سال قرآن کا ترجمہ پڑھا پھر میں نے مولانا مودودی۔ غلام احمد پرویز۔ ابوالکلام آزاد اور بہت سے دیگر علما کی تفسیریں پڑھیں۔ اقبال کے خطبات پڑھے۔ اس کے بعد حدیثوں کی بہت سی کتابیں پڑھیں۔ پھر میں نے عیسائیت ’یہودیت‘ زرتشتی اور دیگر مذاہب کی آسمانی کتابیں پڑھیں اور پھر بہت سے غور و خوض کے بعد تمام مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہا۔

محمد جنید : آپ کا اکیسویں صدی کی مختلف روایات کے بارے میں کیا خیال ہے؟
خالد سہیل: میری نگاہ میں پچھلے پانچ ہزار برس کی انسانی تاریخ میں تین روایتیں بہت مقبول ہوئیں۔ اگر ہم اکیسویں صدی کے سات ارب لوگوں کا تجزیہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ان میں سے چار ارب مذہبی روایت کے دو ارب روحانی روایت کے اور ایک ارب سیکولر اور سائنسی روایت کے پیروکار ہیں۔ اس روایت کے پیروکاروں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ 1900 میں ساری دنیا میں ان کی تعداد ایک فیصد تھی 2000 تک پہنچتے پہنچتے ان کی تعداد بیس فیصد ہو گئی۔ سکینڈینیون ممالک میں ان کی تعداد پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ اس تبدیلی میں چارلز ڈارون ’سگمنڈ فرائڈ‘ کارل مارکس ’ژاں پال سارتر‘ برٹنڈ رسل اور ہاکنگ جیسے فلاسفروں دانشوروں اور سائنسدانوں کی تعلیمات کا بہت بڑا کردار ہے۔

میرا تعلق سیکولر اور سائنسی روایت سے ہے لیکن میں مذہبی اور روحانی روایت کے ان تمام رہنماؤں اور پیروکاروں کو احترام کرتا ہوں جو انسان دوست ہیں۔ اسی لیے میں مسلمان مولانا رومی کا۔ ہندو کبیر داس کا۔ یہودی مارٹن بیوبر کا اور عیسائی مارٹن لوتھر کنگ جونیر کا احترام کرتا ہوں۔ میں سیکولر انسان دوست ہیں اور وہ مذہبی اور روحانی انسان دوست ہیں۔

انسانی ارتقا میں سائنسدانوں ’ادیبوں‘ فلاسفروں ’سنتوں‘ سادھوؤں اور صوفیوں سب نے اہم کردار کیا ہے۔ ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔

ایک انسان ہونے کے ناتے میں نے ساری دنیا کے دانشوروں کی دانائی وراثت میں پائی ہے۔ میں نے جو کچھ پچھلی نسلوں سے سیکھا ہے میں انہیں عام فہم زبان میں اگلی نسلوں تک پہنچانا چاہتا ہوں اور مشرق اور مغرب کی دانائی کے درمیان ایک پل بننا چاہتا ہوں تا کہ اردو پڑھنے والے عالمی ادب کے خزانوں سے محروم نہ رہیں۔ ادب ہمیں ادب سکھاتا ہے۔ ہم دوسروں کی رائے کا احترام کرنا سیکھتے ہیں تا کہ وہ ہماری رائے کا احترام کریں اور ہم مکالمے سے ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھیں۔

محمد جنید: میرے مشکل سوالوں کا آسان زبان میں تسلی بخش جواب دینے کا شکریہ۔

خالد سہیل: امید ہے آپ کے ہمراہ ان قارئین کی بھی تسلی ہو گئی ہوگی جو مجھ سے یہ سب سوال پوچھنا چاہتے تھے لیکن بوجوہ پوچھ نہ پاتے تھے۔ مجھے اپنے موقف کی وضاحت کا موقع دینے کا بہت بہت شکریہ۔ شب بخیر

محمد جنید: شب بخیر

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 392 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail