حضرات ایک اعلان سماعت فرمائیے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حضرات۔ کیا برا وقت آیا ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے نشر ہونے والا یہ اعلان ہماری سماعتوں سے نہ ٹکراتا ہو ”حضرات ایک اعلان سماعت فرمائیے، فلاں صاحب کا انتقال رضائے الٰہی سے ہو گیا ہے فلاں فلاں ایڈریس، ظہر کی نماز میں نماز جنازہ ہے اعلان ختم ہوا“ ، مسجد سے جیسے ہی حضرات کی صدا بلند ہوتی ہے دل زور زور دھڑکنے لگتا ہے الٰہی خیر پھر کسی کے انتقال کی خبر۔ اس وبا نے موت کے دروازے کھول دیے ہیں روزانہ اکا دکا موت کا اعلان سن سن کر دل پریشان ہوجاتا ہے۔ اس وقت کورونا وائرس دوبارہ کیل کیل کانٹے سے لیس ہو کر حملہ آور ہوا ہے اور اپنے کمزور پڑتے زور کو ٹوٹنے سے پہلے ہی بچا لیا ہے حالانکہ ہمارے ارباب اختیار تو اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ ہم نے وبا پر قابو پا لیا ہے۔

یہ سب تو ایک تمہید تھی سب جانتے ہیں مسجد سے اعلان کتنی پرانی روایت ہے۔ بچپن میں مسجد سے مختلف قسم اعلانات سب ہی نے سنے ہوں گے۔ حضرات کی صدا بلند ہوتے ہی سب گوش بر آواز ہو جاتے تھے، کسی چار سالہ بچے کے گم ہونے کا اعلان، پانی نہ آنے کی صورت میں وضو گھر سے کر کے آنے کی تاکید، قرآن خوانی، میلاد النبی کے اعلانات مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے ہی ہوتے تھے۔ رمضان میں تو سحر اور افطار کے اوقات کے اعلانات، امام صاحب کا سحری مین بار بار وقت بتا کر روزہ دار کو جاگنے پر مجبور کرنا کہ کتنا وقت رہ گیا ہے، ان اعلانات سے بہت سے لوگ نالاں بھی ہوتے تھے کہ نیند میں خلل پڑتا ہے لیکن مولوی صاحب کو کون روک سکا، ”حضرات سحری کا ختم ہونے میں پندرہ منٹ رہ گئے ہیں، اٹھ جائیے سحری کر لیجیے ورنہ بغیر سحری کا روزہ ہوگا“ یا پھر ”ماؤں بہنو جلدی کرو سحری کین تیاری کے لیے اٹھ جاؤ“ ۔

لطیف آباد آٹھ نمبر محمدی مسجد، ہم بہت چھوٹے تھے روزے فرض نہیں ہوئے تھے لیکن سحری کے اعلان حضرات۔ کے ساتھ ہی اٹھ جاتے اب امی جلدی جلدی ہمیں بھی سحری کرواتیں، زیادہ شوق دودھ پھینی کھانے کا ہوتا تھا کیونکہ یہ سحری میں ہی کھانے کو ملتی تھی۔ اس وقت مولوی صاحب کا ”حضرات۔“ والا اعلان غیبی مدد لگتا تھا جو ہمیں نیند سے بیدار کر دیتا تھا۔ اکثر محلے کا کوئی بچہ گم ہوجاتا اس کا اعلان بھی مسجد سے ہوتا اور پورا محلہ بچہ ڈھونڈنے میں لگ جاتا۔

بچپن میں کراچی نانی کے گھر آئے ہوئے تھے تب چھوٹے بھائی کے ساتھ محلے کی دکان سے چیز خریدنے گئے، بھائی راستے میں کہیں گم ہو گیا، اس وقت بھی مسجد سے بھائی کی گمشدگی کا اعلان سن کر روتے جاتے تھے اور گلیوں میں بڑوں کے ساتھ ڈھونڈتے جاتے تھے بار بار مسجد سے اعلان کی وجہ سے اہل محلہ بھی مدد کو آئے اور خدا کا شکر ہے بھائی مل گیا اس وقت سب کو مسجد سے بروقت گمشدگی کے اعلان کی قدر محسوس ہوئی۔ پھر بہت سال بعد دادا ابا کے انتقال پر مسجد سے ان کے جنازے کے وقت کا اعلان، قرآن خوانی کا اعلان ذہن پر نقش ہے۔

مسجد سے یہ اعلانات ایک طرح سے جلد خبر پہنچانے کا ذریعہ تھے، لوگ گھر بیٹھے غمی۔ خوشی گمشدگی کی خبریں سن لیتے تھے اور فوراً محلے داری کا حق ادا کرنے نکل پڑتے تھے۔ یہ اعلانات ایک طرح سے لوگوں میں عملی تحریک پیدا کرنے کا سبب بنتے تھے۔ مختلف کاموں کے لیے چندہ جمع کرنے کے اعلانات بھی اسی ”حضرات!“ کی صدا سے شروع ہوتے اور سیلاب زدگان، زلزلہ زدگان، مسجد کی تعمیر پر ختم ہوتے اور اہل محلہ مین محبت، رواداری پیدا کرنے کا سبب بنتے تھے۔

کتنے سیدھے لوگ تھے کتنا سادا زمانہ تھا ایک اعلان پر مدد کو دوڑ پڑتے اب تو شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے۔ پہلے اجتماعی عمل کی اہمیت تھی اب انفرادی کام کرتے ہیں اور بڑے کروفر سے نمائش بھی کرتے ہیں۔ یہ بھائی چارہ اب ختم ہو چکا ہے۔ غریب بستیوں میں میں تو شاید ایسا ہوتا ہو لیکن ہم جیسے متوسط طبقے والے علاقوں میں مسجدوں سے اس قسم کے اعلانات صرف نماز جنازہ کے اعلان تک محدود ہو گئے ہیں جبکہ پوش علاقوں میں تو ”حضرات!“ کی صدا سنائی ہی نہیں دیتی۔

سب ایک دوسرے سے اتنے بیگانے ہو گئے ہیں کہ پڑوسی کو پڑوسی کی خبر نہیں اس لیے یہ وبا ایک امتحان کی صورت نازل کی گئی ہے کہ رہو اب اکیلے، نہ گلے ملو، نہ ہاتھ ملاؤ بلکہ چھ فٹ کا فاصلہ درمیان میں رکھو صرف کام سے نکلو پھر اپنے آپ کو گھر میں نظر بند کر لو، منہ پر ماسک اور ہاتھ کو بار بار دھوؤ، نہ کہیں آؤ نہ کہیں جاؤ کہیں کورونا کا شکار نہ بن جاؤ۔ برا وقت ہے انسانوں اب بھی انسان بن جاو کیونکہ اب حضرات کی صدا انتقال کے اعلانات کی صورت ہمیں دن میں ایک بار تو ضرور سنائی دے رہی ہے اور جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے کہ اب کون وبا کا ۔ شکار ہوا۔ یہ جان لیوا وبا کب کہاں کس کو دبوچ لے، کس پر حملہ آور ہو کوئی نہیں جانتا، اپنا محاسبہ کیجئے، اپنے قریبی لوگوں کی مدد کیجئے ایک اعلان بننے سے پہلے ”حضرات!“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •