ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ساحر لدھیانوی کا شہرۂ آفاق شعر ہے :
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا

موجودہ دور میں مذہبی آزادی کے لحاظ سے بھارت بدترین ملک دکھائی دیتا ہے، وہاں عہد حاضر کا ہٹلر مودی مسند اقتدار پر براجمان ہے۔ آر ایس ایس نظریے کی پروردہ بی جے پی کی گزشتہ دو ادوار سے قائم حکومت میں مظالم کی انتہا ہو چکی ہے۔ مودی حکومت کے مظالم کو دیکھتے ہوئے ہلاکو اور چنگیز خان کی روحیں بھی شرمسار ہوجاتی ہوں گی۔ بھارت میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ بدترین مظالم روا رکھے جا رہے ہیں۔ ان کو مذہبی آزادی حاصل نہیں۔

ان کی عبادت گاہوں کو شہید کر کے وہاں مندر تعمیر کیے جاتے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت اس کا بین ثبوت ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ہندو انتہاپسند آئے روز انسانیت سوز سلوک روا رکھتے نظر آتے ہیں، جس کی اطلاعات میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔ کبھی گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں پورے کے پورے خاندان کو زندگی سے محروم کر دیا جاتا ہے تو کبھی شادی سے انکار کرنے پر کوئی ہندو انتہاپسند کسی مسلم لڑکی کو زندہ جلا دیتا ہے۔ کبھی لو جہاد کے نام پر قتل عام کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے بھارت میں زیست دوبھر کردی گئی ہے۔ انہیں زبردستی ہندو بنانے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ ان کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں پچھلے 72 برسوں سے انسانیت سوز مظالم کی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ سوا لاکھ کشمیری مسلمان جام شہادت نوش کرچکے، وہ بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، بھارت اقوام متحدہ میں منظور شدہ استصواب رائے کی قراردادوں کے باوجود انہیں ان کا حق خودارادیت دینے سے آج تک پہلوتہی کرتا آ رہا ہے۔ 9 لاکھ بھارتی فوج کے ذریعے کشمیریوں کے لیے ہر نیا دن کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتا۔ پچھلے کچھ عرصے سے کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لیے ایک گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اگست 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی، وہاں صدیوں سے رہنے والے کشمیری مسلمانوں کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنے پر مودی سرکار عمل پیرا ہے اور ہندو پنڈتوں کو وہاں بسایا جا رہا ہے، تاکہ مذموم مقاصد کو حاصل کیا جاسکے

بھارت میں سکھوں کے قتل عام کی داستانیں بھی ماضی میں رقم ہوئی ہیں۔ سکھ محافظوں کے ہاتھوں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد تو سکھوں کا انتہائی وسیع پیمانے پر قتل عام کیا گیا۔ ہزاروں سکھ ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں موت کے گھاٹ اتارے گئے۔ آج بھی سکھوں کے ساتھ ناروا سلوک جاری ہے۔ سکھ بھی کہہ رہے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح درست تھے۔ ان کا دو قومی نظریہ اور علیحدہ وطن بنانے کا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا۔ ہندوؤں کے ساتھ کوئی اقلیت آزادی کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔

ہندوؤں کی ذہنیت دوسری قومیتوں کو دباؤ میں رکھنے کی ہے اور وہ اس کے لیے ہر حربہ اختیار کرتے ہیں۔ اسی لیے بھارت میں بسنے والی دوسری اقلیتوں عیسائی، پارسی وغیرہ کی حالت زار بھی کچھ اچھی نہیں۔ اب تو مودی سرکار اپنے کسانوں کی حق تلفی میں بھی ظالمانہ قوانین کو رواج دے رہی ہے، جس پر بھارتی کسان سراپا احتجاج ہیں۔ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اس امر پر بھارتی کسانوں کی حمایت کی تو مودی سرکار ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی۔ بھارت میں 50 سے زائد علیحدگی کی تحریکیں پروان چڑھ رہی ہیں، جو ایک نہ ایک دن مودی کے بھارت کو لے ڈوبیں گی۔

بھارت ہر طرح کے مظالم کو فروغ دے رہا ہے۔ ریاستی دہشت گردی اس کا طرہ امتیاز ہے۔ خطے کے ممالک سے اس کی کبھی نہیں بنی۔ پاکستان، چین، بنگلادیش وغیرہ سے اس کے تنازعات ماضی سے اب تک ہیں۔ دکھ تو یہ ہے کہ خود کو عالمی حقوق کا چیمپئن گرداننے والے امریکا کو بھارت میں مذہبی آزادی پر لگائی گئی قدغنیں نظر ہی نہیں آتیں۔ اقلیتوں کے ساتھ ہندوؤں کے ناروا سلوک پر بھی اس کی آنکھیں بند رہتی ہیں۔ تبھی تو اس نے مذہبی آزادی کے معاملے میں بھارت کو ناصرف بہتر ملک قرار دیا بلکہ مذہبی آزادی کے حوالے سے جن ممالک کو بلیک لسٹ کیا، اس میں چین، سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ پہلی بار نائیجیریا کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اس سے یہ ممالک مستقبل میں ممکنہ امریکی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ امریکا نے مذہبی آزادی کے حوالے سے پہلی بار نائیجیریا کو بھی اپنی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جب کہ اس فہرست میں چین، سعودی عرب اور پاکستان کا نام بھی شامل ہے، تاہم حیرت انگیز طور پر بھارت کا نام اس فہرست سے غائب ہے، جہاں مذہبی آزادی آج کل ایک بڑا مسئلہ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ امریکا مذہبی آزادی کے تئیں اپنے عزم پر پوری طرح ثابت قدم ہے۔

یہ صرف اور صرف امریکا کا دوغلا پن ہی کہلائے گا۔ امریکا کا ابتدا سے ہی یہ طرز عمل رہا ہے۔ اس کے مفاد جب پاکستان سے وابستہ ہوتے ہیں تو وہ اس کے ساتھ دوستی کا دم بھرتا نظر آتا ہے، لیکن جیسے ہی اس کے مفاد پورے ہوتے ہیں، نظریں پھیرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگاتا۔ بھارت تو ویسے بھی اس کا چہیتا ہے کہ دنیا میں چین کا بڑھتا ہوا اثر رسوخ، ترقی، خوش حالی امریکا کو ایک آنکھ نہیں بھاتی، اس لیے وہ چین کو زک پہنچانے کے لیے اس کے خلاف بھارت کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے، جس میں اسے ناکامی ہی کا سامنا رہا ہے۔

بھارت نے جب بھی چین کے خلاف مذموم کوشش کی، اسے منہ کی ناصرف کھانی پڑی بلکہ بھرپور ہزیمت بھی اٹھانی پڑی۔ اس کی واضح مثال لداخ میں چین بھارت لڑائی سے دی جا سکتی ہے، جہاں بھارت کی جگ ہنسائی بھرپور طور پر ہوئی اور اسے بھاری نقصان بھی برداشت کرنے پڑے ہیں، لیکن وہ اس کے باوجود خطے میں اپنی چوہدراہٹ قائم رکھنے کی ضد سے پیچھے ہٹنے کو کسی طور تیار نظر نہیں آتا۔ ظلم کو آخر ایک روز مٹ ہی جانا ہوتا ہے۔ بھارت نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو وہ منقسم ہو کر رہ جائے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).