لاہور جلسہ: تین، تیرہ، تیس اور دہشت
تین تیرہ تیس کو منحوس عدد مانا جاتا ہے۔ نہیں معلوم کتنی صداقت اور سچائی اور میتھ موجود ہے مگر ہمیں بڑوں کی کہاوتوں اور حکایتوں پہ بہت یقین ہے یہ وہ جادو ہے جو کبھی نہ کبھی جلوہ گر ہو ہی جاتا ہے۔ آج کل لاہور میں ایک طرف گل داؤدی کی نمائش مسکرا رہی ہے۔ دھند نے راتوں میں بسیرا کئیے ہوئے ہے۔ بارش نے رنگ بکھیرے ہوئے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ ایک جلسے کے قصے بھی جا بجا دہشت بنے ہوئے جس آگ کو بجھانے کے لئے پہلے اس تاریخی مقام یا مقام جلسہ گاہ پہ پانی اتنا چھوڑ دیا گیا کہ چاول کی فصل بوِئی جا سکتی تھی۔
پانی نکلوایا گیا تو آسمان برس پڑا۔ آسمان برس رہا تھا کہ پردیسیوں نے شہر چھوڑ کے دیس کا رخ شروع کر دیا۔ پبلک ٹرانسپورٹ والے اپنی گاڑیاں چھپاتے پھر رہے ہیں۔ میڈیکل سٹاف کہیں سے غائب ہو گیا ہے کہیں الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ہر جا کوشش ہو رہی ہے کہ عوام حفاظتی اقدامات کر لیں۔ کیونکہ میڈیا بتا رہا ہے دہشت گردی کا خطرہ ہے۔ اگر حکومت کو علم ہے کہ دہشت گردی ہو سکتی ہے تو حکومت اس کے حوالے سے خود کچھ کرنے کی بجائے عوام پہ نفسیاتی بوجھ کیوں ڈال رہی ہے۔
کیا جلسہ گاہ کی راہوں کو نفسیاتی طور پہ روکے جانے کی کوئی سعی ہے۔ یا ناکامی کی کوئی خبر سنائی جا رہی ہے۔ اجی تیرہ تاریخ ہے گر کوئی میتھ مچل گئی تو نہ اپوزیشن کا کچھ جانا ہے نہ حکومت کا۔ بے خبر اور معصوم عوام اور ووٹر کا نقصان ہو گا۔ جن کا اقتصادی نقصان پہلے ہی اتنا ہو چکا ہے کہ وہ بے بسی میں ابھی تک صرف اپنی چائے کی پیالیوں اور نجی محفلوں میں اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔ پہلے والی خوش حالی نہیں رہی۔ ملک پہ قرضہ آسمان کی طرح سایہ کر چکا ہے۔
واپسی کے ذرائع دکھائی نہیں دیتے وزیر اعظم سے بات کریں تو ہر بات کا جواب مجھے تو پتا نہیں ہوتا ہے۔ یا لٹیرے سے کوئی بغض کی کہانی سنا دیتے دیتے ہیں۔ اور میرے ہینڈ سم، یاد رکھنا ”عشق مشک اور بغض“ چھپائے نہیں چھپتے۔ ان لٹیروں کو شیطان سمجھ کر لعنت بھیجے اور ملک کے اقتصادی صورت حال پہ تو جہ دیجئے۔ آس پاس کے ممالک کی حکمت عملی دیکھیے ہمارا مقابلہ ترقی یافتہ ملکوں سے نہیں ہے نہ ہی ان کے نقش قدم پہ چل کر ہم کوئی منزل پانے والے ہیں۔
ہمیں نیا کاروبار اور اقتصادی نظام کیسے بنانا ہے۔ ملک کے جینوئن جینیس لوگوں کو اکٹھا کر کے اس پہ کام کیجیے۔ ورنہ یقین رکھیے یہ سابقہ لٹیرا بہت پکا پیٹھا ہے آپ کو کچھ نہیں دے گا۔ اور آپ کو بھی لے ڈوبے گا۔ اگلا الیکشن عوامی نفسیات میں آپ ابھی سے ہار چکے ہیں۔ جلسے ولسے سے سنا ہے کچھ راز فاش ہونے والے ہیں آپ نے اب ان سے گھبرانا نہیں۔ اس جنگ سے ڈرنا نہیں لڑا ہے۔ تیرہ تاریخ کی نحوست شہر میں ابھی سے پھیل گئی ہے۔
اک اداسی اک بے امنی کا احساس ہے۔ اور اس سے اہم یہ کرونا۔ جس نے اب تک ڈرا ڈرا کے بے خوف تو کر دیا ہے۔ بے حس بھی کر دیا ہے۔ شاید ہم ایک دوسرے سے دور ہونا چاہتے تھے ہم اخلاقیات کی اس گراوٹ پہ پہنچ چکے تھے کہ فطرت سے دوری کا انتظام خود کر دیا ہے۔ بات تھی اتوار کی۔ جو ہے تیرہ تاریخ کی۔ اور اگر یہ پیار سے نہ سلجھی تو مارچ کا اک مارچ یاداشت میں پرچم ہلا رہا ہے مگر بات وہیں کی وہیں کہ نقصان عوام کا ہے۔ ہر صورت عوام کا جس سے ہر ووٹ لینے والا لیڈر محبت وفا اور خوشحالی کے وعدے کر کے عیش کیش کرتا ہے۔ اور ان کا درد بھول جاتا ہے۔
سب دعا ہے کہ یہ دن امن اور سکون سے گزر جائے۔ اس شہر کو ویسے ہی صدیوں سے حاسدوں کی نظر بد لگی ہوئی ہے۔ اجی ہمیں امن سے غرض ہے اور حکومت کا کام ہے اس کو کنٹرول رکھنا۔ بزدار صاحب یہ آپ کی قابلیت کی پہلی آزمائش ہے کہ آپ اس ہجوم کو کس طرح امن کا پیغام ہی نہیں کوئی رسم بھی دیتے ہیں یا نہیں۔ نہیں دے سکتے تو نفسیاتی دہشت گردی بھی نہیں پھیلائیے۔
جو ہونا ہے اسے ہو جانے دیجئیے۔ اور اعلان کر دیجئے کہ ہم ہجوم اور دہشت گردی کے حوالے سے بے بس ہیں تاکہ امید کا دامن تھامے لوگ۔ اپنی مدد آپ کے تحت کچھ کر لیں۔ انتظار کے لمحے کٹ چکے ہیں اب تیرہ تاریخ اور میتھ کہاوتیں حکایتیں کہاں تک سچی ہیں۔ ایک دن کے بعد کچھ راز تو گھونگھٹ اٹھا ہی دیں گے۔ امن کے لئے ڈھیروں دعا


