ادبی مرشد: سید حفیظ اللہ گیلانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس پر آشوب دور میں انسان اس قدر کرب کا شکار ہے کہ آپ انسانوں کے دکھ لکھنے کا ارادہ کر لیں تو آپ کے پاس روشنائی کم ہو جائے گی، صفحات کی قلت ہو جائے گی، لیکن لکھنے کو مواد کم نہیں ہو گا۔ یہ اس لیے بھی ہے کہ معاشرے نے ظاہری طور پر جو ترقی کا لبادہ اوڑھ لیا ہے، باطنی طور پر وہاں ایسے مسائل نے بھی جنم لیا ہے جو اسی ترقی کرتے معاشرے کو کھائی کی طرف لے جانے کا باعث بن رہے ہیں۔ بہرحال ڈیرہ اسماعیل خان کے ادب قبیلے کے ”ارطغرل“ سید ارشاد حسین شاہ نے خالی آگاہ نہیں کیا بلکہ مکمل طور پر اکسایا کہ اب تک ”ادبی مرشد“ سید حفیظ گیلانی صاحب پر آپ کی کوئی تحریر منظر عام پر نہیں آئی؟

یہ بات سننے کے بعد تو میرا یہ حال ہے کہ ”ایک طرف اس کا گھر، ایک طرف میکدہ“ ، لکھوں تو بھی نافرمانی اور نہ لکھوں تب بھی سادات کی نافرمانی۔ ویسے ”ادبی مہان“ کہتے ہیں کہ جب دو لکھاریوں کے تعلقات کشیدہ ہو جاتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کے سامنے ہنسنا چھوڑ دیتے ہیں۔ بس جب بھی ملتے ہیں رونا شروع کردیتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ارشاد شاہ صاحب کے اکسانے اور میرے لکھنے کے بعد سیدحفیظ اللہ گیلانی صاحب کی ”ادبی چوپال“ میں لالا یونس کی بنائی ”ثوبت“ کھاتے یہ دونوں سید و سردار ایک دوسرے کے سامنے ہنستے ہیں یا پھر روتے ہیں؟

لیکن سید حفیظ گیلانی صاحب ایسی خوش اخلاق ہستی ہیں کہ جس سے ناراض بھی ہوتے ہیں تو اسے بہت دیر میں پتہ چلتاہے کہ یہ اس سے ناراض ہیں۔ اس قدر بردباری کہ اگر کوئی ان کا راستہ روک کر کہے کہ ”میں بے وقوفوں کو راستہ نہیں دیتا“ تو یہ فوری طور پر ایک طرف ہٹ جائیں گے اور مسکراتے ہوئے کہیں گے ”لیکن میں دیتا ہوں“ ۔ خیر اب رونا کیا، کماں سے نکلا تیر، منہ سے نکلی بات اور قلم سے نکلا جملہ کبھی واپس نہیں آتا۔

سید حفیظ اللہ گیلانی پنی ذات میں ایک انجمن اور دبستان علم و ادب ہیں، جن کی علمی فضیلت، ذہانت، انسانی ہمدردی، وسیع مطالعہ، تبحر علمی اور وسیع النظر ی کا ایک عالم معتر ف ہے۔ ایک وسیع المطالعہ تخلیق کار کی حیثیت سے انہوں نے قریب قریب ہر صنف ادب میں طبع آزمائی کی اور اپنی خداداد تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا کے کئی ایوارڈ و اعزاز اپنے نام کیے ۔ آدھا درجن سے زائد اردو سرائیکی کتابوں کے مصنف جن میں تحقیقی، تاریخی، افسانے، ناول شاعری بلکہ ادب کی ہرصنف شامل ہے کے علاوہ درجنوں غیر طبع شدہ افسانوں اور ادبی تحریروں کے خالق ہیں۔

اگر آپ ان کی زندگی پر نظر دوڑائیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ بیک وقت یہ ناول نگار، افسانہ نگار، فلاسفر، دانشور، حکیم، شاعر، پریمی، محقق، عامل و سنیاسی اور نقاد تو ہیں ہی، کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کل کلاں مجسمہ ساز، مصور اور مفتی بھی نکل آئیں۔ سیاسی و سماجی اور حسن ظن رکھنے والی مہان شخصیت ہیں۔ (اس کو حسن زن پڑھنے اور سمجھنے والا خود ذمہ دار خود ہو گا) ۔

حفیظ گیلانی صاحب کی پیدائش کے لیے قدرت نے تحصیل پروا کے ”مذکر جنس“ کے حامل گاؤں ”مکڑ“ کے انتخاب کے ساتھ ساتھ سہانے اور ہر دلعزیز موسم ”ساون“ کا مہینہ مقرر کیا۔ بلکہ ایسا مہینہ جس میں کوئی مائی کا لعل پیدا نہیں ہوتا، یعنی ماہ جولائی۔ قدرت نے اسی بنا پر ان کو پانچویں برج ”اسد“ کے ساتھ ”شمس“ کو بطور ”حاکم کوکب“ دان کیا۔ ددھیال نے ان کا ”ادب کے دائرے“ میں نزول ہو تا دیکھ کر ادب کی خدمت کی خاطر ان کا نام ”خادم حسین“ رکھا لیکن ننھیال کے بقول!

کہ ادب کی خدمت سے زیادہ ادب کی نگہداری ہونی چاہیے تو انہوں نے ادب کی حفاظت کی خاطر ”حفیظ اللہ“ نام ضروری سمجھا۔ سابقے لاحقے پر دونوں فریقین رضا مند ہوئے۔ جسم میں گردش کرتے ددھیال و ننھیال کے خون کی لاج رکھتے ہوئے آپ نے خود کو ادب کی ترویج اور حفاظت کے لیے وقف کر دیا۔ گیلانی صاحب کی صحیح و مستند عمر کے بارے تو معلوم نہیں لیکن اب تک تین ”شرعی نکاح“ کرنے کے بعد مصدقہ اطلاع ہے کہ وہ عمر اور قد میں اپنی تیسری بیوی سے بڑے ہیں۔

لاکھ تلاش بسیار کے باوجود دور شیرخواری و کمسنی کی کوئی تصویر دستیاب نہ ہو سکی۔ لیکن بقول شخصے کہ تب یہ عین عالم شباب میں تھے جب مدھو بالا ”نادرہ کنیز“ کے روپ میں مغل اعظم میں جلوہ گر ہوئی تھی اور یہ سید زادہ کنیز پر اتنا فریفتہ ہوا کہ اس کے فوٹو کو سینے سے لگائے رکھتا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ”گانا اور گالی“ اونچی آواز میں ہی اچھے لگتے تھے۔ یہ تو بھلا ہو زرقا فلم کی ہیروئن ”نیلو“ کا جس نے مدھو بالا کے مقابل اپنی جگہ بنا لی، مطلب اب ایک کی جگہ سینے سے دو فوٹو ”مس“ ہوتے تھے۔ جب عرصے بعد معلوم ہوا کہ وہ دونوں ان کی پہنچ سے دور ہیں تب ان کا دھیان اپنے گھر میں پالی ہوئی مرغیوں اور ادب کی طرف چلا گیا۔

رنگت نہ اتنی سرخ و سفید کہ ”دیکھنے والا یا والی“ کشمیری سیب کے دھوکے میں آپ کے گال کاٹ لے اور نہ ہی اتنے سیاہ کہ لوگ ”حجرہ اسود“ کی شبہیہ سمجھ کر عقیدتاً آپ کو بوسہ دینے لگیں۔ بس خواتین کا پسندیدہ کھلتا ہوا گندمی رنگ یا جیسے گیہوں کے کچے دانے کو ذرہ زیادہ تاؤ دے دیا گیا ہو۔ قد کسی دنیا دار کی دعا جیسا اور آواز کسی حسینہ کی التجا جیسی۔ گردن لمبی کہی جانے سے قدرے کم۔ چوڑا سا روشن ماتھا جس سے ان کی ظفر مندی عیاں ہوتی ہے۔

گہری سیاہ بھنویں جن سے دوران کلام چنگیزیت سی چھلکتی ہے۔ دو بادلوں سے ڈھکے آسمان کی رنگت والی صاف شفاف اور ذہین آنکھیں۔ اعتماد کی دلیل دیتی مضبوط ٹھوڑی جو دور ہی سے نمائیاں نظر آتی ہے۔ شوخ کالے رنگ سے رنگے ہوئے بالوں کی فصل، جن کی جڑوں سے چاندنی جھانکتی نظر آتی ہے۔ روز صبح دم اپنے چہرے پر اتنی محنت کر لیتے ہیں کہ ان کا چہرہ اگلی صبح تک چمک دار، بے بال اور چکنا رہتا ہے۔ تین ”شرعی نکاح“ کرنے کے بعد غیر مشتبہ شریفانہ چال چلن کے مالک ہیں۔

گیلانی صاحب اپنی چال ڈھال اور بالوں کی بناوٹ، دھیمے لہجے اور آواز کے زیر و بم کے اعتبار سے شہنشاہ جذبات دلیپ کمار سے کافی حد تک مشابہت رکھتے ہیں، حالانکہ پسند سدھیر کو کرتے ہیں۔ لگاتار کتابیں لکھنے اورسال میں چند ایک مشاعروں کے علاوہ ہمیشہ بہت کچھ پڑھتے رہتے ہیں جیسے اخبار، کتابیں اور چہرے وغیرہ۔ نجی و ادبی نشستوں میں تصویر کھنچوانے سے احتراز کرتے ہیں مبادا ان کی شہرت کو دوسروں کی وجہ سے نقصان نہ پہنچ جائے یا ان کی وجہ سے دوسروں کو شہرت حاصل نہ ہو جائے۔

رازداری کا اتنا خیال رکھتے ہیں کہ بعض راز خود پر بھی افشا نہیں کرتے۔ اگر یقین نہ آئے تو احسان بلوچ سے معلوم کر لیں، کیونکہ گیلانی صاحب کی ادبی چوپال میں احسان بلوچ کتابوں کے ڈھیر کی اوٹ سے جاگتی سوتی آنکھوں کے ساتھ چائے کی پیالی پر پیالی پینے کے بعد ”کوئے ملاقات سے کوئے خرابات و عبادات“ کا سفر کرتا رہتا ہے۔

ایک شاعر نما ”زندہ شخص“ ہمارے ساتھ ان کی ادبی چوپال پر حاضری دینے گیا۔ دوران گفتگو اس شاعر کی چند غزلیں اور اشعار سننے کے بعد اس سے پوچھا کہ ”کیا تم چاہتے ہو کہ لوگ تم کو خوب داد دیں اور تمھارے لیے واہ واہ کریں؟ اس شاعر نما“ شخص ”نے کہا“ جی ضرور ضرور ”۔“ تو پھر شاعری شروع کر دو ”گیلانی صاحب نے سنجیدگی سے نصیحت آموز لہجے میں بلند آواز سے سرگوشی کی۔ اسی طرح ہم جیسے“ ہم خیالوں ”کا ایک وفد ملاقات کے لیے ادبی چوپال میں حاضر تھا کہ یکا یک ایک خضاب شدہ عمر رسیدہ قلمکار نے اپنی ایک عدد تازہ“ ادبی تحریر ”بڑی بے دردی اور بے ادبی سے سنانا شروع کی۔

گیلانی صاحب حسب عادت چند سطریں سننے کے بعد“ ا ’گھلا ”کی وادیوں میں چلے گئے۔ جب تحریر اختتام کو پہنچی تو صاحب تحریر شکوہ کرنے لگے کہ گیلانی صاحب! آپ نے ہماری ادبی تحریر کے بارے اپنی رائے نہیں دی اور سوتے رہے۔ گیلانی صاحب نے کہا کہ“ سونا بھی تو ایک رائے ہے ”۔ عمر رسیدہ قلمکار کو ان کی رائے سے کچھ“ افاقہ ”ہو ا یا نہیں؟ اس کا ذکر کہیں نہیں ہے۔ داد رسی، جس کو شعرا“ داد سخن ”کہتے ہیں میں انھوں نے وہ مہارت بہم پہنچائی ہے کہ مشاعروں و نجی شعری نشتوں میں اکثر اپنے“ من پسند شعراء ”کو داد اپنی نشست پر سو کر پیش کرتے ہیں۔ تاہم گیلانی صاحب کے دوست قلمکار و شعراء ان کے“ سونے ”کو داد سمجھتے ہیں، اسی واسطے ان شعراء کی شاعری کا تنزل عروج پر ہے۔

گیلانی صاحب خالص دیسی گھی اور اصلی سنیاسی باوا کی طرح خالص اور اصلی تعلیم یافتہ ہیں، یعنی میٹرک کرنے کے بعد تعلیم کی آخری سیڑھی ایم اے سرائیکی تک کا خالص سفر طے کیا۔ اسی سفر میں ادبی، دنیاوی، روحانی و جسمانی اور عشق کے سارے سبق یاد کرتے رہے۔ ان کے اس خالص تعلیمی سفر کی بدولت حکومت نے ان کو ”گولڈ میڈل“ دینے کی سعادت حاصل کر نے کا اعزاز بھی اپنے کھاتے میں ڈالا۔ گیلانی صاحب کے تعلیم کے ساتھ سیدارشاد شاہ اور احسان بلوچ کے علاوہ ”مشاغل“ بہت متنوع ہیں انہیں بیک وقت ادب، مذہب اور خواتین سے لگاؤ ہے ان تینوں کے لیے وہ کچھ بھی کر گزرنے کو تیار رہتے ہیں۔

تینوں کے لیے بے حد جذباتی ہیں اور ان کے متعلقین کی خاطر مدارت جی لگا کر کرتے ہیں۔ ایک دفعہ تاریخی معلومات دیتے دیتے انتباہ کرنے لگے کہ عمرانی بھائی! یاد رکھیں جب شادی کو پچاس سال ہو جائیں تو بیوی کو کبھی کبھی اپنے شوہر پر غرانا چاہیے ”ا س سے وہ ٹھیک ٹھیک چلتا ہے“ ۔ تبھی صحن خانہ سے آئی آواز پر لبیک کہتے ہوئے فوراً صحن کے دروازے کی طرف دوڑے۔ میں نے بھی ان کی اس بات پر دل ہی دل میں داد دیتے ہوئے اس فرمان کو ”اردو ادب“ میں نیا اضافہ قرار دیتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچا کہ آخری عمر میں فقط ”خیال حسن“ سے بزرگوں کو پھریری آجاتی ہے۔

گیلانی صاحب کے چاہنے والوں کو آگاہ کر دوں کہ ان کا پہلا عشق ”غالب“ ہے اور اسی وجہ سے ان کی ادبی چوپال میں ہزاروں کتابوں کے علاوہ اگر کوئی پرستار ”دیوان غالب“ کو ان سے اجازت لیے بغیر پڑھے تو مکروہ تحریمی اور بعض صورتوں میں گناہ کبیرہ کا بھی مرتکب ہو جاتا ہے۔ لیکن بذلہ سنجی، لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی میں ان کا جواب نہیں۔ کوئی شخص چاہے ان پر کیسی بھی چوٹ کرے انہیں کبھی غصہ نہیں آتا تھا۔ شائستہ انداز گفتگو، لہجہ نرم، مگر تیز۔

عامیانہ گفتگو سے پاک۔ اپنی بات سنانے سے زیادہ دوسرے کی بات کو توجہ اور دلچسپی سے سنتے ہیں۔ دوران گفتگو کسی لفظ کا تلفظ غلط ہونے کا شبہ ہو جائے تو فوراً لغت منگواکر اپنی غلط فہمی اور دوسرے کا تلفظ درست کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ میری نگاہ میں یہ پہلے شاعر و ادیب اور قلمکار ہیں جو دوستوں کے دوست اور دشمنوں کے بھی دوست ہیں۔ بس ان کی ایک بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ یہ سردیوں کے موسم میں ”گرمی“ اور گرمیوں کے موسم میں ”سردی“ تلاش کرتے نظر آتے ہیں (اب یہ کوئی نہ سوچے کہ دونوں موئنث الفاظ ہیں )

گیلانی صاحب کو اس عہد کی ایک فرد ساز شخصیت کہوں تو غلط نہ ہوگا۔ جو شاعر، ادیب یا لکھاری نہیں ہوتا وہ بھی ان کی صحبت میں صاحب قلم بن جاتا ہے (مثلا۔ ) اور جو نہیں بن پاتا وہ ادب میں سیاست کرنے لگتاہے (مثلا۔ ) ) نوٹ: مثلاً میں خالی جگہ پر کرنے والے کو قریشی موڑ پر اکتیس توپوں کی سلامی دیا جائے گی (۔ ان کے مزاج اور شخصیت میں نستعلیقیت کا شیرہ اتنا گاڑھا ہے اور ہر ایک سے اس قدر پر تپاک ملتے ہیں جیسے ادباء اور شعرا یونین کے الیکشن لڑنے والے ہوں، کبھی کبھی سچ بھی لگتا ہے کیونکہ ایک سیاسی پارٹی کے ساتھ دلی وابستگی بھی رکھتے ہیں۔

گیلانی صاحب سے ہونے والی ملاقاتوں میں یہ احساس غالب رہتا ہے کہ جیسے ہم کسی ایسی دیدہ زیب کتاب کے مطالعے و ملاحظے میں مصروف ہوں جسے نہایت توجہ، محنت اور سلیقے سے مرتب کیا گیا ہو۔ ہر سطر اپنی جگہ پر اور ہر نقطہ اپنے مقام پر سجا ہوا۔ ان کو ہمیشہ خوش و خرم دیکھ کر خیال آتا ہے کہ اس وجہ سے شاعر کی اذدواجی زندگی خوش و خرم گزرتی ہے کہ وہ اپنی شاعری میں عورت کے حسن کی جتنی تعریف کرتا ہے بیوی یہی سمجھتی ہے کہ میری تعریف کر رہا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے ہر شاعر شوہر نہیں ہوتا مگر اچھی غزلیں ضرور کہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •