خاندان کی نفسیات (قسط نمبر 5)


انسانی نفسیات کے رازوں کی پہلی تین قسطوں میں ہم نے فرائڈ اور ینگ کی انفرادی نفسیات اور چوتھی قسط میں سالیوان کی دو انسانوں کے رشتوں کی نفسیات پر تبادلہ خیال کیا۔ آج ہم مرے بوون اور خاندان کی نفسیات کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔ MURRAY BOWEN نے اپنی نفسیاتی تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ کسی انسان کی نفسیات سمجھنے کے لیے اس کے خاندان کی نفسیات جاننا بہت اہم ہے۔

مرے بوون 1913 میں ٹینیسی امریکہ میں پید ہوئے جہاں ان کے والد ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے 1937 میں طب کا امتحان پاس کیا اور ایک ڈاکٹر بن گئے۔ 1941 میں جب وہ فوج میں ملازمت کر رہے تھے تو انہیں ایک سرجن بننے کا شوق تھا لیکن جنگ کے دوران جب ان کی ایسے فوجیوں سے ملاقات ہوئی جو نفسیاتی مسائل کا شکار تھے تو بوون کے دل میں ایک ماہر نفسیات بننے کی خواہش نے سرگوشی کی۔ انہوں نے کینسس میں نفسیات کی تعلیم کا باقاعدہ آغاز کیا اور چند سالوں کی محنت ’مشقت اور ریاضت کے بعد وہ ایک ماہر نفسیات بن گئے۔

بوون نے 1954 سے 1959 تک امریکہ کے نیشنل انسٹیچیوٹ کے ساتھ خاندانوں کی نفسیات پر تحقیق کی اور اس تحقیق کی بنیاد پر خاندانی نظام کا ایک نظریہ پیش کیا جو بہت مقبول ہوا۔ اب وہ نظریہ ان کے نام کے حوالے سے BOWEN FAMILY THEORYکہلاتا ہے۔

بوون نے اپنی تحقیق کے لیے بہت سے گھر کرایے پر لیے اور ان گھروں میں سکزوفرینیا کے ایک مریض کو داخل کرنے کی بجائے اس کے سارے خاندان کو داخل کیا (جن میں ماں باپ نانی نانا کے ساتھ پالتو جانور بھی شامل تھے ) اور انہیں وہاں کئی ہفتوں تک رکھا۔ اس دوران انہوں نے نفسیاتی مسائل رکھنے والے خاندانوں کے باہمی رشتوں کا نفسیاتی مطالعہ اور تجزیہ کیا۔

اس تحقیق کے بعد بوون کئی دہائیوں تک واشنگٹن کی یونیورسٹی میں ایک پروفیسر کی حیثیت سے پڑھاتے بھی رہے اور خاندان کی نفسیات پر تحقیق بھی کرتے رہے۔ 1980 کی دہائی میں جب میں نے ان کے نظریات کا مطالعہ کیا تو ان کے خیالات سے اتنا متاثر ہوا کہ ان کا لیکچر سننے واشنگٹن کی ایک کانفرنس میں گیا۔ وہ ایک دھیمے لہجے کے دانا انسان تھے۔ اس لیکچر کے چند سال بعد وہ 1990 میں فوت ہو گئے۔

میں اس کالم میں بوون کے بہت سے پیچیدہ ’گنجلک اور دقیق نظریات میں سے صرف تین خیالات کو عام فہم زبان میں پیش کرنے کی کوشش کروں گا تا کہ آپ کو ان کی سوچ کی گہرائی اور انسانی نفسیات کی بصیرتوں کا اندزہ ہو سکے۔

1۔ تکونی رشتے TRIANGULATION

بوون کا خیال تھا کہ انسانی رشتوں کی اکائی دو انسان نہیں تین انسان ہیں۔ جب دو انسانوں کے رشتے میں پریشانی ایک حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے اور تشنج پیدا ہونے لگتا ہے تو ان میں سے ایک اس پریشانی اور تشنج کو کم کرنے کے لیے کسی تیسرے انسان کے پاس جاتا ہے اور شکایت کرتا ہے۔ شکایت کرنے سے پریشانی ذرا کم ہو جاتی ہے۔ اس طرح تیسرا انسان نہ چاہتے ہوئے بھی اس تکونی رشتے کا حصہ بن جاتا ہے۔

بوون کا خیال تھا کہ جب کسی شدی شدہ جوڑے میں تضادات بڑھنے لگتے ہیں اور وہ اپنے ازدواجی مسائل کو حل نہیں کر پاتے تو بعض دفعہ وہ اپنے ایک بچے کو اس مسئلے میں شامل کر لیتے ہیں۔ وہ بچہ والدین کے لیے وجہ نزع بن جاتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ٹرائنگولیٹ ہو جاتا ہے۔

بوون کا خیال تھا کہ بعض دفعہ بچوں کے نفسیاتی مسائل دراصل والدین کے نفسیاتی مسائل کا عکس ہوتے ہیں۔ اپنے موقف اور نطریے کو ثابت کرنے کے لیے انہوں نے نفسیاتی مسائل کا شکار بیس بچوں کے والدین سے ملاقات کی اور ان کی تھراپی کی اور سب لوگوں کو یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ماں باپ کے علاج سے بچے صحتمند ہو گئے اگرچہ ان بچوں کی بوون سے ایک بھی ملاقات نہ ہوئی تھی۔

2۔ نفسیاتی حدود EMOTIONAL CUTOFF

بوون کا موقف تھا کہ ہر انسان کسی خاص حد تک ہی ذہنی پریشانی اور دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔ جب پریشانی اس حد سے بڑھنے اور تجاوز کرنے لگتی ہے تو وہ اپنے ذہن اور دل کے دروازے بند کرنے لگتا ہے۔ اگر کسی خاندان میں پریشانی اور دشواری ایک حد سے بڑھ جائے تو اس خاندان کا سب سے زیادہ حساس فرد یا بچہ نفسیاتی طور پر بیمار ہو جاتا ہے۔

بوون نے یہ ثابت کیا کہ خاندان کا علاج کرنے کی بجائے اگر صرف ایک فرد کو ہسپتال میں داخل کر کے علاج کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ چند مہینوں کے بعد دوسرا فرد یا بچہ بیمار ہو جائے۔

بوون کو ان روایتی ماہرین نفسیات سے نظریاتی اختلاف تھا جو صرف ایک مریض کا علاج کرتے ہیں۔ بوون پورے خاندان کے علاج کے حق میں تھے کیونکہ وہ ایک فرد کی بجائے پورے خاندان کو مریض سمجھتے تھے اور پورے خاندانی کی نفسیاتی مدد کے حق میں تھے۔

یہ بوون کی تعلیمات کا نتیجہ ہے کہ مغرب میں بہت سے ماہرین نفسیات اب اپنے ساتھ ایک سوشل ورکر بھی رکھتے ہیں جو پورے خاندان کا علاج کرتے ہیں۔

3۔ جذباتی بلوغت EMOTIONAL DIFFERENTIATION

بوون نے انسانی جذباتیت کو ایک سے سو تک تقسیم کیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ جو انسان صحتمند اور بالغ ہوتے ہیں وہ سو کے قریب ہوتے ہیں۔ ایسے انسان اپنی عقل اور جذبات میں ایک توازن قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جن لوگوں کے نمبر پچاس سے کم ہوتے ہیں وہ جذباتی طور پر نابالغ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ کسی بحران میں اتنی جذباتیت کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اپنی عقل استعمال نہیں کرتے۔ ایسے لوگ جذباتیت سے کیے ہوئے فیصلوں پر بعد میں نادم ہوتے ہیں پچھتاتے ہیں۔

بوون کا یہ بھی خیال تھا کہ اگر ماں باپ ذہنی طور پر نابالغ ہوں تو وہ اپنے بچوں کی صحیح خطوط پر تربیت نہیں کر پاتے اور نفسیاتی مسائل ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ذہنی توازن کھونے اور پاگل پن کا شکار ہونے میں تین نسلیں لگتی ہیں۔

بوون نے زندگی کے آخری سالوں میں خاندان کی نفسیات کے اصولوں کی کسوٹی پر معاشروں کو بھی پرکھا اور یہ ثابت کیا کہ بعض قومیں اور سماج بھی بعض خاندانوں کی طرح نابالغ ہوتے ہیں اور ان کے لیڈر اپنی عوام کے لیے جذباتی فیصلے کرتے ہیں جن سے ساری قوم نقصان اٹھاتی ہے۔

بوون کا موقف تھا کہ ہمیں انسان کے انفرادی مسائل کو خاندان اور سماج کے مسائل کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا چاہیے۔

میں اپنے رفقا کار اور مریضوں سے کہتا ہوں کہ ہمیں جذباتی خوردبین سے ایک انسان کو اور نفسیاتی دوربین سے خاندان اور سماج کو دیکھنا چاہیے اور پھر اس خوردبین اور دوربین کو ایک دوسرے سے منطبق کرنا چاہیے تا کہ ہم انسان کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کا تعلق جان سکیں اور ایک معاشرہ تخلیق کر سکیں جہاں فرد اور سماج آپس میں ایک مثبت اور صحتمند رشتے میں منسلک ہو سکیں۔

نوٹ: انسانی نفسیات کے رازوں کی اگلی چھٹی قسط ایک مشہور ماہر نفسیات JOHN BOWLBY کی ATTACHMENT THEORY پر مشتمل ہوگی۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail