بے اعتباری کی فضا میں ڈائیلاگ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں اعتبار اور پیار دو ایسے پرندے ہیں گر ان میں سے کوئی ایک بھی اڑ جائے تو دوسرا اپنے آپ اڑجاتا ہے۔ کوئی بھی رشتہ ہو کسی بھی قسم کا تعلق ہو جب تک یہ دو پرندے موجود رہتے ہیں وہ رشتہ وہ تعلق برقرار رہتا ہے، دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ دونوں پرندے ایک دوسرے کی جگہ نہیں لے سکتے مگر انہیں ایک ہی جگہ پر رکھنا بھی ضروری ہے اور پرداخت کے لیے مناسب ماحول بھی اہم ہے۔ آج ہم جس دور جدید میں جی ر ہے ہیں ممکن ہے مذکورہ اڑے ہوئے پرندوں کو واپس لانے کے لیے مشاہدات و تجربات پر مبنی کوئی حل نکال لیا جائے مگر وقت واپس لانے کا کوئی طریقہ اب تک دریافت نہیں ہوسکا۔

ان دنوں وطن عزیز بھی اک ایسی ہی صورت کا سامنا کر رہا ہے، سلیکٹرز ہوں یا سلیکٹڈ، ریجیکٹڈ ہوں کہ تماشائی تما م ہی اعتبار و پیار کے فقدان کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ حزب اختلاف کہتی ہے عوام الناس کو حزب اقتدار سے کوئی پیار نہیں، حزب اقتدار کہتی ہے عوام کو حزب اختلاف پر اعتبار نہیں اور تماشائی عوام کے پاس سے اعتبار و پیار والے دونوں پرندے اڑنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ آپ لاکھ کہیں سلیکٹرز کے ساتھ تعلقات ا یک صفحاتی ہیں دھڑکا سا مگرایک اس طرف بھی لگا ہے۔ بے اعتباری اور بد اعتمادی کی یہ فضاءآج جس قدر کثیف ہے شاید پہلے ایسے نہ دیکھی گئی ہو، جب یہ بنیادی عناصر ہی موجود نہ ہوں تو ایسی صورت میں ڈائیلاگ کیسے ہو؟ جب تمام سیاسی و غیر سیاسی قوتوں کی ترجمانی اس شعر سے ہو رہی ہو

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

سب لوگ مکالمے کی ضرورت سے واقف بھی ہیں ساتھ ہی فیصلہ کن قدم اٹھانے سے گریزاں بھی۔ حالات اس نہج پر یک دم نہیں پہنچے اک وقت لگا ہے حالیہ دو تین برس میں تو نہایت تیزی سے بے اعتباری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، جن میں سے چند واقعات وہ ہیں جن کا چرچا زباں زد عام رہا ہے۔ 2018 ء کے انتخابات سے چند ہفتے پہلے تک مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف سے آئندہ انتخابات کے بعد آنے والی ان کی حکومت کی کابینہ کے بارے میں بات چیت ہو رہی تھی یہ انکشاف خود شہباز شریف نے سہیل وڑائچ کو اس سال کے اوائل میں لندن سے واپسی کے بعد ایک انٹرویو میں کیے تھے۔

یہ وہی وقت تھا جب اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھری عدالت میں شہباز شریف کو کہہ دیا تھا ہم آپ کو اگلا وزیراعظم دیکھ رہے ہیں، میڈیا پر شور ہوا تو اگلے روز انہوں نے اپنا بیان گھما دیا۔ ابھی چند ہفتوں قبل پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی انکشاف کیا کہ انتخابات کے فوری بعد جب ہم نے اسمبلیوں میں حلف نہ لینے کی تجویز دی تھی تو شہباز شریف نے رد تجویز میں یہ کہہ کر قائل کیا تھا کہ پنجاب میں ہماری پارٹی کی حکومت بن رہی ہے لہٰذا حلف نہ لینے کی بات نہ کی جائے لیکن اکثریت کے باوجود مسلم لیگ نون کو حکومت سازی نہ کرنے دی گئی۔

پھرایک طرف تو اسٹبلشمنٹ اور پیپلز پارٹی کا جو اتحاد سینٹ و چیئرمین سینٹ 2018 ء کے انتخابات کے وقت سے ہو چکا تھا وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پر آئے روز کیسز کی گرد جمتی رہی، تو دوسری طرف وزیر اعظم و صدر کے انتخاب کے دوران پیپلز پارٹی کے رویے سے ان کے اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتبار کی فضا بے حد متاثر ہوئی۔ مولانافضل الرحمان نے گزشتہ سال اسلام آباد میں دھرنا دیا تو ”شریف لوگ“ حکومت اور مولانا کے مابین آ گئے مذاکرات ہوئے، دھرنا وعدوں کے اعتبار پر ختم ہو گیا مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔

یک صفحاتی مثالی تعلقات اور وہاں موجود اعتبار پر سہیل وڑائچ کو ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر فواد چوہدری جون 2020 ء میں کہہ چکے کہ وزیر اعظم نے کہا ہے ہمارے پاس کارکردگی بہتر کرنے کے لیے پانچ /چھ ماہ ہیں ورنہ معاملہ ”دوسری طرف“ چلا جائے گا، اس بات کو چھ ماہ ہونے کو آئے ہیں اور کارکردگی اب بھی بہتری کی منتظر ہے۔

یہ سب کچھ ہوا، ہوتا رہا مگر یہ لوگ پھر بھی آپس میں کسی نہ کسی حد تک بات چیت کرتے رہے اس دوران جہاں کچھ چین کے لمحے اپوزیشن کو ملے تو بہت سے موقعوں پر مشکلوں میں گھری حکومت کو بھی تازہ ہوا کے جھونکے میسر آئے۔ اس کمزور اعتباری تعلق کو شدید دھچکا اس وقت لگا جب گلگت بلتستان اور دیگرقومی سلامتی سے متعلق ایک بیٹھک کی باتیں وفاقی وزیر کی جانب سے ایک مخصوص انداز میں لیک کی گئیں پھر ان کی تشہیر وزراء، مشیران و معاونین نے مرچ مصالحہ لگا کر کی۔

ساتھ ہی سیاسی معاملات سے دور رہنے والی پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈی جی نے سابق گورنر سندھ و رہنما مسلم لیگ نون زبیر عمر کی آرمی چیف سے ملاقات کی خبر ہفتوں بعد حکومتی پسندیدہ میڈیا چینل پر ایسے ہی وقت میں کی جس نے ناراض غصیلی اپوزیشن کو بے اعتباری و بد اعتمادی کے اندھے بہرے کنویں میں دھکیل دیا جہاں وہ اب کسی سے بات چیت کرنے کو تیار نہیں۔

سپریم کورٹ کے معزز جج کے خلاف بدنیتی پر مبنی صدارتی ریفرنس، جج کی جاسوسی، پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مرحوم وقار سیٹھ کے خلاف بیانات کی وجہ سے عدلیہ کے ساتھ حکومتی اعتبار کے تعلق کوبھی کسی حد تک ٹھیس پہنچی۔

خدارا! ہوش کریں، حکمرانوں کی رعونت، اپوزیشن کے غصے و ضد اور ریاستی عہدے داروں کی بظاہرسیاست میں عدم دلچسپی مگر موقع بے موقع مداخلت سے دراصل نقصان صرف ملک کا ہو رہا ہے، اسے روکیں بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ کشادہ دلی کا مظاہرہ کریں قومی سطح پر مکالمے کا آغاز کریں، اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے پہلا قدم اٹھائیں، غیر متنازع اور سب کے لیے قابل بھروسا افراد کو درمیان میں لائیں خود بھی ان پر اعتماد کریں۔ سب اسی ملک کے لوگ ہیں شک و نفرت کا چشمہ اتار کردیکھیں، غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے بند کریں۔ گالم گلوچ کے کلچر کی حوصلہ شکنی کریں۔ جذبات قابو میں رکھیں اور اس مٹی سے جو عہدوفا کیا ہے اس کی پاسداری کریں، جتنا جلد ممکن ہو یہ کام کر لیں وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے، اس سے فلاں چھوٹا فلاں بڑا نہیں ہو جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •