نئی زندگی: (ایک ایکٹ کا ڈراما)


کردار

                شفیق احمد (عمر 62 سال) ایک متوسط گھرانے کا سربراہ

                فہمیدہ احمد (عمر 58 سال) شفیق کی بیوی

                رفیق احمد (عمر 23 سال ) ان کا بیٹا

                مجید علی: رفیق کا ہم عمردوست

                مقام: مانچسٹر

                (نومبر2007کی ایک رات۔ شفیق اور فہمیدہ اپنے گھر کے بیرونی کمرے میں صوفوں پر بیٹھے ہیں۔ )

شفیق :     بہت تنگ کیا ہے اس نے۔ ۔ نالائق، نافرماںبردار۔۔۔

فہمیدہ :    کیا ہو گیا ہے آپ کو؟

شفیق:      غضب خدا کا۔ آدھی رات ہونے کو آئی ہے اور تمہارا برخوردار ابھی تک گھر نہیں لوٹا۔ نہ خود فون اٹھا رہا ہے نہ اس کا کوئی دوست۔

فہمیدہ :    میرا مطلب تھا اِس طرح ہلکان ہونے سے کیا فائدہ؟ کیا خبر کیوں دیر ہو گئی۔ (ٹاﺅن ہال کا گھنٹہ بارہ بجنے کا اعلان کرتا ہے۔ ) میں خود اتنی پریشان ہوں۔ ایک ایک پل کانٹا سا چبھتا ہے۔ کہتی ہوں بتا کے جایا کرو، کہاں جا رہے ہو، کب لوٹو گے۔

 شفیق:     پھر ایک دن کی بات ہو تو کوئی بات نہیں۔ اس کا تو روز کا یہی قصہ ہے۔ ہزار دفعہ سمجھایا ہے، پیار سے، ڈانٹ کر۔ لیکن وہ چکنا گھڑا، کتے کی دم؛ ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ ایک کان سے سنتا ہے، دوسرے سے نکال دیتا ہے۔

فہمیدہ :    ابھی بچہ ہے، ناسمجھ ہے۔ پھر بیکار ہے۔ ملازمت مل جائے گی تو ٹھیک ہو جائے گا۔

 شفیق:     یہ نہیں کہتیں کہ تمہارے لاڈ پیار نے بگاڑ دیا ہے۔ لچے لفنگے دوست مل گئے ہیں۔ سنیما بازی، ہوٹل گردی۔ اور کچھ نہیں تو سڑکوں پہ بے مقصد گھوم رہے ہیں۔ نہ حال کی خبر نہ مستقبل کی فکر۔ ہونہہ۔ ناسمجھ ہے! بیٹا چاہے بوڑھا ہو جائے، ماں کو اس کے منہ میں دودھ کی بوتل ہی نظر آتی ہے۔

(طویل وقفہ)

فہمیدہ :    اور تمہارے وہ بیٹے تمہیں کیا دیتے ہیں جنہیں تم بڑا لائق فائق اور فرماںبردار بتاتے پھرتے ہو؟ کوئی کسی شہر میں کوئی کسی ملک میں۔ کبھی ہوا فون کر دیا، کارڈ بھیج دیا۔ یا کبھی ایک چیک، جیسے جوانی میں لیا ہوا قرض چکا رہے ہوں۔ (وقفہ) سال دو سال بعد آکے شکل دکھا دی اور بڑا احسان کیا۔ ہونہہ۔

 شفیق:     میں ان کے پیسوں کا بھوکا ہوں؟ میں اس لیے تعریفیں کرتا ہوں ان کی؟ میں محتاج ہوں ان کا؟ (وقفہ) میرا اپنا گھر ہے، معقول پنشن ہے۔ میں تو صرف اِسی میں خوش ہوں کہ وہ اپنے اپنے گھروں میں آباد ہیں، خوشحال ہیں۔ زندگی میں باعمل اور فعال ہیں۔ معاشرے میں کوئی مقام ہے ان کا۔ (وقفہ) اور مجھے رفیق سے بھی کیا چاہیے؟ کیا چاہیے مجھے اس سے؟ یہ جو میں اس کے لیے اتنا کڑھتا رہتا ہوں تو اسی کی بھلائی کے لیے۔ (وقفہ) بھئی ملازمت نہیں مل رہی تو کیا ہوا، مل جائے گی۔ گریجویٹ ہے، اچھا طالب علم رہا ہے۔ آگے پڑھ لے۔ کوئی اچھا سا کورس کر لے، کوئی ٹریننگ لے لے۔ اس کی بھی عزت ہو، مقام ہو۔ مجھے کیا لینا ہے اس سے؟

فہمیدہ :    میں بتاتی ہوں کیا چاہیے تمہیں اپنے بیٹوں سے۔ (وقفہ) تمہیں حکومت کرنے کا شوق ہے۔ تم نے ساری عمر حکم چلا یا ہے۔ دفتر میں ماتحت اور گھر میں میرے بیٹے اور میں۔ پھر بیٹے بڑے ہو گئے۔ آزاد اور خود مختار۔ لیکن تمہیں خراج بھیجتے ہیں۔ اور تم اس پر خوش ہو، ان کی طرف سے مطمئن۔ جو تم سے دور ہیں وہ زیادہ قریب ہیں کیونکہ تم ہر کسی سے جا بے جا ان کا ذکر کرتے رہتے ہو، ان کی اچھائی اور ترقی کے بارے میں مبالغے سے بھی کام لے سکتے ہو، کون تصدیق کرے گا؟ اور یہ بیچارہ، جو تمہارے پاس رہ گیا ہے، تمہارے غیظ و غضب کا نشانہ بنتا رہتا ہے۔

 شفیق:     (کچھ بہتر موڈ میں) چلو تم نے شاکرہ کو تو میری رعایا میں شامل نہیں کیا۔ اس کے ساتھ تو میرا سلوک اچھا ہے نا؟

فہمیدہ :    اس کے ساتھ تو تمہارا سلوک سب سے برا ہے۔ اسے تو تم نے کبھی اپنی بیٹی سمجھا ہی نہیں، ہمیشہ پرایا دھن ہی سمجھا۔ جیسے کسی نے اپنی بیٹی تمہیں پالنے کے لیے دے دی ہو۔ وہ اپنے باپ کے سائے میں یتیموں کی طرح پلی ہے۔

 شفیق:     یہ۔۔۔ یہ۔۔۔ کیا کہہ رہی ہو تم؟

فہمیدہ :    میں کبھی نہیں بھول سکتی تمہارا وہ جملہ جو تم نے شاکرہ کی پیدائش پہ کہا تھا۔ (وقفہ) تمہیں تو یاد نہیں ہو گا۔ (وقفہ) تم نے کہا تھا: اچھا ہے، اچھا ہے۔ It’s good, it’s good! بیٹی بھی ہونی چاہیے تھی، تاکہ میرے بیٹوں کو نظر نہ لگے۔ (وقفہ) اور تمہارا وہ خبیث دوست ۔۔۔ میں نے کوشش کر کے اس کا نام بھلایا۔ (وقفہ) میں نے تمہیں تو احساس نہیں ہونے دیا لیکن اس دن کے بعد میں کبھی اس کے سامنے نہیں گئی۔ (وقفہ) اس نے تمہاری ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا تھا: ہاں بھئی، بے شک آدمی کی کمائی تو بیٹے ہی ہوتے ہیں، لیکن مال پہ زکوٰة بھی تو دینی چاہیے۔

(طویل وقفہ)

 شفیق:     (دھیمی آواز میں) وہ ۔۔۔ فہمیدہ۔۔۔ میں۔۔۔ مجھے۔۔۔ (ایک کار کی آواز دور سے آتی ہوئی سنائی دیتی ہے، قریب آتی ہے لیکن بند ہونے کی بجائے آہستہ آہستہ دور ہوتی جاتی ہے۔ ) یہ اس کے کسی دوست کی کار نہیں تھی۔ (وقفہ) کچھ کھانے کو ہے؟

فہمیدہ :    اس وقت؟

 شفیق:     شام کچھ ٹھیک سے نہیں کھایا تھا۔ اب نقاہت محسوس ہو رہی ہے۔ (فہمیدہ اٹھ کر دوسرے کمرے میں جاتی ہے اورکچھ دیر بعد ایک ٹرے میں کھانے کی چیزیں لا کر میز پہ رکھتی ہے۔ )

فہمیدہ :    اس وقت جیم ٹوسٹ ہی کافی ہوں گے۔ کچھ پھل بھی ہیں لیکن رات کو نہ ہی کھاﺅ تو اچھا ہے۔ (کھانے کے دوران شفیق کا ہاتھ لگنے سے ایک پلیٹ فرش پہ گر جاتی ہے۔

 شفیق:     لاحول ولاقوة۔ دماغ خراب کر دیا ہے اس لڑکے نے میرا۔ مر جاتا تو اچھا تھا۔ میں رو پیٹ کے صبر کر لیتا۔ یوں پارے کی طرح بے چین تو نہ ہوتا۔ (ٹھنڈی سانس بھر کے) کاش یہ پیدا ہی نہ ہوا ہوتا۔

فہمیدہ :    کیا الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہو؟

 شفیق:     میرے کچھ کہنے نہ کہنے سے کیا ہوتا ہے۔ دیکھ لینا اس کا انجام بہت خراب ہو گا۔

فہمیدہ :    (روہانسی ہو کر) میں کہتی ہوں ایک لفظ بھی اور منہ سے نکالا تو۔۔۔ اللہ نہ کرے اس کے دشمنوں کو کچھ ہو گیا تو آگ لگا دوں گی اس گھر کو۔ (وقفہ) ویسے اس گھر میں اب ہے کیا۔ (وقفہ) تمہارے جیسا بے رحم باپ بھی نہیں دیکھا۔ (وقفہ) دنیا کہتی ہے کہ لڑکا ہو تو رفیق جیسا ۔۔۔ اور تم ۔۔۔ ناشکرے۔۔۔

 شفیق:     چراغ کچھ فاصلے پہ ہو تو روشنی ہے، قریب ہو تو شعلہ، جو جلا کے خاک کر دیتا ہے۔ (وقفہ) دریا ساری دنیا کے لیے آب حیات ہے لیکن اپنے کناروں کے لیے۔۔۔ دو دھاری تلوار۔

فہمیدہ :    لیکن کنارے ہی تو دریا کو دریا بناتے ہیں۔ اس کی روانی، اس کی قوت کناروں ہی کی دین تو ہیں۔

 شفیق:     تو جان لو کہ پانی کناروں سے چھلک چکا ہے۔ کچھ دیر اپنا جوش دکھانے کے بعد خاک کا رزق ہو جائے گا۔

فہمیدہ :    تمہارے منہ میں خاک۔ واقعی تمہارا دماغ چل گیا ہے۔ جاﺅ اپنے کمرے میں آرام کرو۔ مجھے تنہا چھوڑ دو۔ چلے جاﺅ یہاں سے۔ (شفیق کوئی جواب نہیں دیتا۔ کچھ دیر بعد اٹھ کر کھڑکی کے پاس جاتا ہے۔ کھڑکی کھولتا ہے۔ ایک کتے کے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ٹھنڈی ہوا اندر آتی ہے۔ کھڑکی بند کر دیتا ہے۔ )

 شفیق:     کتا۔

فہمیدہ :    یااللہ خیر۔ مجھے تو طرح طرح کے وہم آرہے ہیں۔ کتنی بار تم سے کہا ہے اتنا چڑچڑاپن اچھا نہیں۔ تمہاری طبیعت پہلے ہی اچھی نہیں رہتی۔ کیوں خون جلاتے رہتے ہو؟ (شفیق آہستہ آہستہ چلتا ہوا سیڑھیاں چڑھ کے اوپر سونے کے کمرے میں چلا جاتا ہے۔ طویل وقفہ۔ دروازے پر آہستگی سے دستک ہوتی ہے۔ فہمیدہ فورا اٹھ کر دروازے کے پاس جاتی ہے۔ ) کون؟ (باہر سے مجید نیچی آواز میں اپنا نام بتاتا ہے۔ فہمیدہ جھٹکے کے ساتھ دروازہ کھول دیتی ہے۔ مجید اندر آتا ہے۔ فہمیدہ خوف اور حیرت سے اسے دیکھتی ہے۔ طویل وقفہ)

مجید:       وہ۔۔۔ آنٹی۔۔۔ رفیق

فہمیدہ :    (تقریبا چیخ کر) کیا ہوا رفیق کو؟

مجید:       ( ہونٹوں پہ انگلی رکھتے ہوئے) کچھ نہیں ہوا رفیق کو۔ باہر کھڑا ہے۔

فہمیدہ :    باہر کھڑا ہے؟ اندر کیوں نہیں آتا؟ (دروازے کی طرف جاتے ہوئے) رفیق! ( رفیق آہستگی سے اندر آجاتا ہے)

مجید:       یہ ڈر رہا تھا۔ آج کچھ زیادہ ہی دیر ہو گئی۔ دراصل ہم فلم دیکھنے چلے گئے تھے۔ (وقفہ) دیکھنا تو شام کا شو تھا، لیکن بس۔۔۔ کچھ دوستوں نے گڑبڑ کر دی۔۔۔ ہم بہت شرمندہ ہیں آنٹی۔ آیندہ خیال رکھیں گے۔

فہمیدہ:     بیٹا، ایک چھوٹا سا فون توکر دیتے۔

 رفیق:     آئی ایم سوری ۔۔۔ امی۔۔۔ ویری سوری۔

مجید:       میں چلتا ہوں۔

فہمیدہ :    اپنے آپ میں آتے ہوئے) بیٹھو بیٹا۔ تم نے کچھ کھایا پیا بھی ہے؟

 رفیق:     امی، آج تو بڑا زبردست ڈنر کھایا ہے ہم نے۔ ایک دوست نے پارٹی دی تھی۔ ملازمت ملنے کی خوشی میں۔۔۔ اور اس کی منگنی بھی ہو گئی ہے۔۔۔ آج اسے پہلی تنخواہ ملی تھی۔

مجید:       اچھا جی، مجھے اجازت۔ خدا حافظ۔

فہمیدہ :    خدا حافظ بیٹا! (مجید چلا جاتا ہے۔ )

 رفیق:     امی۔۔۔ وہ۔۔۔ ابو سو گئے؟

فہمیدہ :    یہ تو صبح کو پتا چلے گا۔

 رفیق:     (آواز نیچی کر کے) کیوں امی، کیا ہو؟

فہمیدہ :    بہت پریشان تھے۔ بہت ناراض۔

 رفیق:     اوہ!

فہمیدہ :    جاﺅ، کپڑے بدلو اور سو جاﺅ۔

 رفیق:     آپ بھی سو جائیں اب۔

فہمیدہ :    ہاں۔ ( رفیق اوپر چلا جاتا ہے۔ وقفہ۔ شفیق سیڑھیوں پہ نمودار ہوتا ہے، نیچے آجاتا ہے) تم جاگ رہے ہو ابھی تک؟

 شفیق:     (آواز میں غصے کے ساتھ اطمینان بھی ہے) آگیا نامعقول؟

فہمیدہ :    بس کرو۔ اب جانے دو۔ آگیا ہے۔ بہت شرمندہ ہے۔ اس نے وعدہ کیا ہے کہ آیندہ ایسا نہیں کرے گا۔ ایک دوست کو بھی لایا تھا سفارش کے لیے۔ وہ بھی شرمسار تھا۔

 شفیق:     یہ ڈراما وہ پہلے بھی کئی بار کر چکا ہے۔ (وقفہ) خیر۔

فہمیدہ :    تم سو جاﺅ ۔ دیکھو کتنی رات ہو گئی ہے۔

 شفیق:     میں سو ہی گیا تھا۔ لیکن پھر آنکھ کھل گئی۔ اب نیند نہیں آرہی۔ تم سو جاﺅ جا کے۔

فہمیدہ :    دیکھو پریشان نہ ہوا کرو۔ تمہارے لیے اچھا نہیں۔ رفیق کچھ نہ کچھ بن ہی جائے گا۔ تعلیم ہم جتنی دلا سکتے تھے دلا دی۔ آگے پڑھنا چاہے تو پڑھ لے۔ اب اسے اپنے فیصلے خود کرنے دو۔ تمہاری رہنمائی کی ضرورت اسے ہے، صرف مشوروں کی حد تک۔ اپنے تجربے اور مشاہدے اسے بتاتے رہو۔ زندگی کی اونچ نیچ سمجھاﺅ لیکن اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔

(طویل وقفہ)

 شفیق، میں کبھی کبھی سوچتی ہوںکہ ہم تو وہیں آگئے جہاں سے چلے تھے، جب ہم صرف ایک بچے کے ماں باپ تھے۔ جسے ہم دیکھ دیکھ کے جیتے تھے لیکن جو ہمیں دن رات بے آرام بھی رکھتا۔ ہم راتوں کو انتظار کرتے کہ وہ سو جائے تو ہم سوئیں۔ (وقفہ) تو کیا ہم اس لیے اولاد پیدا کرتے ہیں اور انہیں پالنے پوسنے میں لگے رہتے ہیں کہ ہمیں اور کوئی کام نہیں ہوتا؟

 شفیق:     ہاں۔ سوچنے کی بات ہے۔ ان کی غیر موجودگی میں ہماری زندگی کے خلا کو کیا چیز پورا کرے؟ ہم کیا کرتے فہمیدہ ؟ یہ چھتیس برس کیسے گزرتے؟

فہمیدہ :    اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جو دس بیس برس باقی ہیں۔۔۔ اگر باقی ہیں۔۔۔ وہ کیسے گزریں؟ شفیق ، ہم نے اپنا سارا وقت، ساری توانائیاں اولاد پہ صرف کر دیں۔ انہیں ان کی ضرورت سے زیادہ دیتے رہے۔ اپنا حق خود مارتے رہے۔ اپنے لیے کچھ بھی نہیں کیا، کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ (وقفہ) جب ان کے کپڑے تنگ ہوجاتے، قد بڑھتے، جب وہ ایک جماعت سے دوسری میں چڑھتے تو ہم سمجھتے کہ ہم ترقی کر رہے ہیں۔ لیکن ہم تو وہیں کے وہیں رہتے ، اور آج بھی وہیں ہیں۔

شفیق:      لیکن بہت مختلف۔ تب کتنی ترنگ تھی، کیا کیا امیدیں تھیں، کیسا جوش و خروش تھا۔ ساری زندگی سامنے پڑی تھی۔ اس لذیذ کیک کی طرح جس کا زیادہ حصہ ابھی باقی ہو۔ (ٹھنڈی سانس بھر کے) اب تو آخری لقمے ہیں۔

فہمیدہ :    اگر کھانا لذیذ ہو تو آخری لقمے زیادہ شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ انگلیاں تک چاٹی جاتی ہیں۔ (وقفہ) آﺅ اس آخری حصے کو ایسے گذاریں کہ ہمارے ماضی کو ہمارے حال پہ رشک آئے۔ تمہیں یاد ہے جب ہماری شادی ہوئی تھی تو سب نے کہا تھا”نئی زندگی مبارک ۔ !نیا سفر مبارک!“ اور اگر ہم آج اپنے آپ کو اسی مقام پر پاتے ہیں۔۔۔ تو چلو، ایک نئی زندگی شروع کریں۔ ایک نئے سفر کا آغاز کریں۔ اپنے پرانے دوستوں کو ڈھونڈیں۔ پرانی محفلیں تازہ کریں۔ کیا ہوا جوانی نہیں رہی تو؟ جوانی کے مسائل بھی تو نہیں رہے۔ اب ہم زیادہ فارغ البال اور آزاد ہیں۔ (وقفہ) چلو صبح بات کریں گے۔ اب سو جاﺅ۔

 شفیق:     میں نے کہا نا مجھے نیند نہیں آرہی۔

فہمیدہ :    آئے گی۔ تمہیں یاد ہے جب تمہیں نیند نہیں آیا کرتی تھی تم کہا کرتے تھے:”میرے بالوں میں کنگھی کرو، اپنی انگلیوں سے۔ “ اور تمہیں فورا نیند آجایا کرتی تھی۔ آج بھی آئے گی۔ (مسکراتی ہے۔ شفیق بھی مسکراتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے رہتے ہیں، مسکراتے رہتے ۔ )

(پردہ)

                (یہ ڈرامہ اپریل 2008 میں اولڈہم لائبریری میں مصنف نے پڑھ کے سنایا۔ حاضرین میں انگریزی ترجمہ تقسیم کیا گیا۔ )

Facebook Comments HS