"صبر طلب جمہوریت” اور صاحبزادہ فاروق علی خان کی خاموش موت


1973 ء کا متفقہ آئین منظور ہونے کے بعد معرض وجود میں آنے والی پہلی قانون ساز اسمبلی کے بلامقابلہ سپیکر منتخب ہونے والے صاحب زادہ فاروق علی خان طویل علالت کے بعد 29 نومبر 2020 ء کو ملتان میں انتقال کر گئے۔ 5 ستمبر 1931 ء کو گکھڑ منڈی میں پیدا ہونے والے صاحب زادہ فاروق علی خان 9 اگست 1973 ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی کے نویں سپیکر منتخب ہوئے اور 27 مارچ 1977ء تک اس منصب پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔

صاحب زادہ فاروق علی خان 7 دسمبر 1970 ء کو منعقد ہونے والے ملکی تاریخ کے پہلے عام انتخابات میں ملتان کے حلقے این ڈبلیو 79 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے مدمقابل آزاد امیدوار بابو فیروز الدین انصاری کو 20 ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔ یہ نشست سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے خالی کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ملتان کی اس انتخابی نشست پر ”تاجدار ملتان“ مولانا حامد علی خان اور بابو فیروز الدین انصاری کو ہرایا تھا۔ بعدازاں ضمنی انتخاب میں صاحب زادہ فاروق علی خان نے اسی نشست پر کامیابی حاصل کی اور پھر سپیکر کے عہدے پر فائز ہوئے۔

5 جولائی 1977 ء کو آرمی چیف جنرل محمد ضیاءالحق کی قیادت میں فوج کی طرف سے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے تک صاحب زادہ فاروق علی خان ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی رفقاء میں شامل تھے۔ اس حوالے سے وہ بھٹو دور حکومت اور اس دوران ہونے والی سیاسی ریشہ دوانیوں کے ایک چشم دید گواہ تھے۔ 89 سالہ صاحب زادہ فاروق علی خان کئی عشرے قبل عملی سیاست سے دستبردار ہو گئے تھے لیکن ملتان میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ایک معروف اور متحرک وکیل کے طور پر سرگرم رہے۔

صاحب زادہ فاروق علی خان کی 2006 ء کو منصہ شہود پر آنے والی خود نوشت سوانح عمری کا مکمل ٹائٹل مرزا اسد اللہ خان غالب کے اس شعر

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک
کی تضمین میں کچھ اس طرح ہے
جمہوریت صبر طلب اور فوج بے تاب
قوم کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک

سینئر صحافی شیخ حق نواز کی طرف سے تدوین کردہ اپنی کتاب ”جمہوریت صبر طلب۔“ کے پیش لفظ میں صاحب زادہ فاروق علی خان لکھتے ہیں کہ ملک پر مارشل لاء کے بار بار نفاذ نے اعلیٰ سیاسی، جمہوری اور اخلاقی قدریں یکسر ختم کر دی ہیں اور ملک میں ایک ایسا معاشرہ جنم پا گیا ہے جس میں بدعنوانی، بددیانتی، بے ایمانی، دھوکہ اور فریب کا چلن عام ہے۔

اپنی کتاب میں جنرل گل حسن اور ائر مارشل رحیم خان کی برخاستگی سے ایک ہفتہ پہلے کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے صاحب زادہ فاروق علی خان لکھتے ہیں :

”مجھے ایک اہم ذریعے سے اطلاع ملی کہ جنرل گل حسن اور ائر مارشل رحیم خان بھٹو کی حکومت کا تختہ کسی بھی وقت الٹ سکتے ہیں۔ میں نے فوراً بھٹو صاحب کو ہنگامی ٹیلی فون کال کے ذریعے اس بارے مطلع کیا تو وہ مجھ پر برس پڑے کہ تم غیر ذمہ دارانہ اور جھوٹی باتیں کرتے ہو، تم جیسوں کا محاسبہ ہونا چاہیے، تمہاری حیثیت کیا ہے، اپنی حیثیت میں رہا کرو، تمہیں پتہ ہے گل حسن اور رحیم خان میرے عظیم ترین محسن ہیں۔ مجھے ان کے اس طرح کے جواب پر سخت ندامت اور تشویش ہوئی اور میں اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔“

”بعد میں جب یہ دونوں جرنیل اپنے عہدوں سے علیحدہ کر دیے گئے تو ایک ملاقات میں بھٹو صاحب نے اپنے درشت لہجے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ فوج فون پر ان کی ساری گفتگو ٹیپ کرتی ہے چنانچہ اگر وہ اس روز نہ جھاڑتے تو جنرل سمجھ جاتے کہ ان کا منصوبہ قبل از وقت منکشف ہو گیا ہے۔“

کتاب میں آگے جا کر صاحب زادہ فاروق علی خان لکھتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) میں فوجی آپریشن کی مخالفت نہ کر کے فوجی اقدامات کو ایک ’سیاسی کور‘ فراہم کیا، لیکن فوج کے مختلف سیل اور ایجنسیاں سن 72 ء سے لے کر سن 77 ء، کو ان کی حکومت کے خاتمے تک مسلسل ان کے خلاف مصروف عمل رہیں۔

فوج اور بھٹو کے تعلقات پر مزید لکھتے ہوئے صاحب زادہ فاروق علی خان بتاتے ہیں کہ بھٹو نے زرعی اصلاحات کا نفاذ کیا تو فوج سے متعلقہ عہدے داروں کو اس سے مستثنیٰ رکھا۔ اس امتیازی سلوک کے بارے میں بھٹو صاحب سے بات کی تو برہمی کے عالم میں جواب دیا ”فاروق! تم مجھے حکومت کرنے دو گے یا نہیں۔ تم نہیں جانتے میں کن حالات میں گھرا ہوا ہوں۔“

صاحب زادہ فاروق علی خان کہتے ہیں ان کا موقف تھا کہ ان (فوجیوں ) کی منصبی کارکردگی سخت ناقابل اطمینان ہے۔ انہوں نے کشمیر، جونا گڑھ، حیدر آباد اور مشرقی پاکستان کھویا ہے۔ یہ حضرات سندھ میں میں ہزاروں مربعوں کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ بعض جرنیل سو سو مربع زمین کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ہزاروں (فوجیوں ) کو زمینیں انعام کے طور پر دی گئی ہیں۔ آخر یہ سب کچھ کس فتح کی خوشی میں دیا گیا ہے؟

بھٹو صاحب کا جواب تھا: ”صاحب زادہ! ایسی بک بک خدا کے لیے نہ کیا کرو“ ۔ ان کے اس لب و لہجہ سے صاف عیاں تھا کہ ان پر جی ایچ کیو کا پورا پورا غلبہ ہے۔

”ایک بار ڈاکٹر مبشر حسن نے بھی صاف کہہ دیا تھا کہ بھٹو صاحب! جب تک آپ کی حکومت جی ایچ کیو سے منتخب ایوان میں تبدیل نہیں ہوتی، فوج آپ کی اہمیت کا احترام قطعاً نہیں کرے گی۔ جناب بھٹو نے اس پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔“

صاحب زادہ فاروق علی خان لکھتے ہیں کہ انہوں نے اس وقت بھٹو سے کھلا اختلاف کیا جب پاکستان قومی اتحاد (پی این اے ) کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں ہونے والے جماعتی اجلاسوں میں انہوں نے جرنیلوں کو مدعو کرنا شروع کر دیا۔ جنرل ضیاءالحق کی قیادت میں مختلف کور کمانڈروں نے کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کا سلسلہ شروع کیا تو اس پر ان کے اعتراض کے جواب میں بھٹو صاحب نے کہا: ”یہ لوگ تو ہمیں تحفظ فراہم کر رہے ہیں اور آپ ان کی آمد پر معترض ہو رہے ہیں۔“

”جناب بھٹو اپنی مضبوط ترین سیاسی حیثیت اور بھرپور ایوانی تائید کے باوجود فوج کی خود سری کے سامنے بے بس تھے، ان میں انکار کا یارا ہی نہ تھا۔ اگرچہ ابتدا میں جرنیل ان سے خوف کھاتے تھے لیکن بعد میں وہ انتہائی حد تک خود سر ہو گئے تھے۔ وہ بظاہر حکومت میں شامل نہیں تھے، مگر وہ اپنا حصہ برابر وصول کر رہے تھے۔“

صاحب زادہ فاروق علی خان کے مطابق مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد سے سن 77 ء تک، جناب بھٹو فوج کا مورال بلند کرنے کے لیے اس کی ضروریات کو پورا کر کے جرنیلوں کو اپنی وفا شعاری کا عملی ثبوت فراہم کرتے رہے لیکن ان (جرنیلوں ) کی لغت میں ’وفا کا مفہوم جفا تھا‘ ۔

کتاب میں عدلیہ کے کردار پر بات کرتے ہوئے صاحب زادہ فاروق علی خان نے لکھا کہ ”ہماری قومی سیاسی تاریخ کا ایک روح فرسا پہلو یہ ہے کہ ہماری عدلیہ نے سیاسی زندگی میں صریحاً بے جا دخل دیا، ہر غیر آئینی اور ناجائز کارروائی کی توثیق کی اور آئین کی پامالی اور مارشل لاء کے نفاذ کی تائید کی۔ اس عظیم ترین المیہ نے ہماری معاشرتی و تہذیبی زندگی میں ایک ایسا زہر گھول دیا ہے جس کا تریاق دکھائی نہیں دیتا۔“

صاحب زادہ فاروق علی خان اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ہماری عدلیہ کو پہلی کڑی آزمائش کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب 1954 ء میں ذہنی طور پر بیمار گورنر جنرل غلام محمد نے پارلیمنٹ کو بیک جنبش قلم برطرف کر دیا اور اس پارلیمنٹ کے سپیکر مرحوم مولوی تمیز الدین خان نے اس برطرفی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ (چیف کورٹ) میں ایک رٹ پٹیشن دائر کر دی، عدالت نے اس برطرفی کو غلط قرار دے دیا جس پر بعدازاں حکومت نے فیڈرل کورٹ کا رخ کیا اور وہاں اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کر دی، جس پر اس وقت کے چیف جسٹس محمد منیر نے سندھ چیف کورٹ کے مذکورہ فیصلہ کو رد کرتے ہوئے گورنر جنرل کی جانب سے اسمبلی کی برطرفی کے اقدام کو جائز قرار دے دیا حالانکہ اس کیس کے دفاع میں حکومت کی جانب سے جو دلائل پیش کیے گئے وہ نہایت بودے اور بے بنیاد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اس فیصلہ پر عوام نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فیڈرل کورٹ کے اس فیصلہ کو غلط قرار دیا تھا، یہی نہیں بلکہ اس فیصلہ کو ملک میں جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف قرار دیا گیا اور عام تاثر یہ تھا کہ جسٹس منیر نے یہ فیصلہ دراصل حکومت کے کہنے پردیا ہے۔

”اس فیصلہ نے ہمارے ریاستی نظام میں ایک ایسا شگاف ڈالا جو آج تک پر ہونے میں نہیں آ رہا، اس فیصلہ نے اصلاً انتظامیہ کو لامتناہی اختیارات تفویض کر دیے اور شخصی آمریت کے قیام کی ایک ایسی راہ ہموار کر دی، جو بعد میں بہت سے آمروں نے اختیار کیے رکھی، وہ دن اور آج کا دن ہر آمر نے یہ اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا ہے کہ وہ جب چاہے پارلیمنٹ کو مٹی کا کھلونا سمجھ کر توڑ ڈالے اور بعدازاں عدلیہ سے اپنے اس اقدام کا قانونی جواز حاصل کرے“ ۔

صاحب زادہ فاروق علی خان کے مطابق اگر جسٹس منیر گورنر جنرل غلام محمد کے مذکورہ اقدام کو جائز قرار نہ دیتے تو 58 ء کا مارشل لاء کبھی نہ لگتا اور ملک کی سیاسی و جمہوری بنیادیں ہرگز نہ ہلتیں، مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے خلاف نفرت کے بیج بھی نہ بوئے جاتے، یہ فیصلہ نہ صرف آئین و قانون بلکہ، جمہوری و سیاسی شرافت کے بھی صریحاً خلاف تھا۔

”اس فیصلہ نے عدلیہ کے وقار، تقدس اور اعتبار ہی کو بری طرح مجروح کیا۔ بعدازاں انہی جسٹس منیر نے اپنے ایک بیان میں تسلیم کیا کہ انہوں نے واقعی ایک غلط فیصلہ دیا تھا اور ایسا انہوں نے گورنر جنرل کے کہنے پر کہا تھا مگر یہ اعتراف“ کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ ”کے مصداق ہے۔ اور یہ اس وقت کیا گیا تھا جب جمہوری و سیاسی تباہی اپنے تمام تر منفی اثرات مرتب کر چکی تھی اور قومی غارت گری کا عمل پوری شدت کے ساتھ شروع ہو چکا تھا“ ۔

صاحب زادہ فاروق علی خان نے لکھا کہ جسٹس منیر مرحوم اپنے اس غلط فیصلہ کی سزا خود اپنی زندگی میں بھگتنے پر مجبور ہوئے، انہیں قدرت نے اس سپیکر مولوی تمیز الدین ہی سے بھرے ایوان میں جھاڑیں کھلوائیں بلکہ انہیں بعد از مرگ بھی طعن و تشنیع کا ہدف بننا پڑا۔

”جسٹس منیر مرحوم سن 62 ء کی اسمبلی میں وزیر قانون تھے اور مولوی تمیز الدین مرحوم اس اسمبلی کے سپیکر کی حیثیت سے ایوان میں جلوہ آراء ہوا کرتے تھے، چنانچہ جب کسی قانونی مسئلہ پر جسٹس منیر حکومت کے دفاع میں بولنے لگتے تو مولوی تمیز الدین مرحوم انہیں یہ کہہ کر چپ ہو جانے پر مجبور کر دیتے کہ انہیں قانون کا قطعاً ادراک نہیں۔ یہ وہ صورت حال تھی جو جسٹس منیر کے لئے سخت ناقابل برداشت تھی۔ اس خاص صورت حال ہی نے انہیں جلد مستعفی ہو جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ یقیناً آنے والے دنوں میں ملک کے نائب صدر بن جاتے کیونکہ ان کے اور ایوب خان کے مابین یہ بات اندرنی طور پر طے ہو چکی تھی۔“

صاحب زادہ فاروق علی خان نے اپنی کتاب میں جنرل ضیاء الحق کے ریفرنڈم اور اس ریفرنڈم کی حمایت کرنے کے بدلے میں دوبارہ قومی اسمبلی کے سپیکر کا عہدہ دیے جانے کے حوالے سے بھی یادداشتیں تحریر کی ہیں۔

”جنرل ضیاء الحق کی شروع دن سے یہ خواہش تھی کہ پیپلز پارٹی کے نظریاتی لوگوں کی حمایت حاصل کی جائے تا کہ یہ تاثر زائل کیا جا سکے کہ جنرل صاحب ایک ڈکٹیٹر ہیں، لیکن ہم نے ہمیشہ انہیں مایوس کیا۔ دسمبر 1985 ء میں جنرل حمید گل نے ٹیلی فون کر کے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ میں ان سے ملنے کور کمانڈر ہاؤس ملتان گیا تو انہوں نے کہا کہ جنرل صاحب کی یہ خواہش ہے کہ ریفرنڈم میں، میں ان کی حمایت کروں۔ اس پر میں نے جنرل حمید گل سے پوچھا کہ آپ جنرل صاحب کا پیغام دے رہے ہیں یا کنونسنگ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ میرے باس ہیں، میں صرف ان کا پیغام دے رہا ہوں۔ اس پر میں نے ان سے پوچھا کہ جنرل صاحب کو میرے جیسے بے سروسامان آدمی کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے ملتان میں جو جلسہ کیا ہے، اس میں ان کے دائیں بائیں نواب صادق قریشی اور حامد رضا گیلانی بیٹھے تھے اور ملتان کی اصل طاقتیں تو گیلانی اور قریشی ہی ہیں۔ جنرل صاحب کو اور کیا چاہیے، غرض یہ بحث دو اڑھائی گھنٹے جاری رہی میں نے جنرل حمید گل سے کہا میں صرف آپ سے بات کر رہا ہوں، اگر جنرل ضیاء الحق مجھے بلاتے تو میں کبھی نہ جاتا کیونکہ انہوں نے ہمارا لیڈر قتل کیا ہے۔

یہ ہماری پارٹی کا فیصلہ ہے کہ جنرل ضیاء الحق سے کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر جنرل حمید گل نے کہا کہ ہم آپ کو بلا مقابلہ منتخب کرا کے دوبارہ اسمبلی کا سپیکر بنانا چاہتے ہیں۔ میں نے انہیں جواب دیا کہ آپ مجھے صدر بنانے کی پیشکش بھی کریں تو میں قبول نہیں کروں گا کیونکہ ہمارا نظریاتی اختلاف ہے اور نظریات پر ہم کسی صورت مفاہمت نہیں کر سکتے۔ جنرل حمید گل کے آخری الفاظ یہ تھے۔“ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے اور میں آپ کے خیالات کی قدر کرتا ہوں۔ ”میں نے انہیں کہا کہ آپ ایسے بندے کیوں آگے لا رہے ہیں جو بعد میں آپ کی ذمہ داری بن جاتے ہیں تو جنرل حمید گل نے جواب دیا کہ آپ جیسے لوگ ہماری حمایت نہیں کریں گے تو ہمیں کہیں نہ کہیں سے بندے تو تلاش کرنے ہی پڑیں گے۔“

صاحب زادہ فاروق علی خان نے اپنی کتاب میں نوکر شاہی کے کردار پر بھی بے لاگ تبصرہ رقم کیا، وہ لکھتے ہیں کہ

”اسے بھی ہماری قومی بد قسمتی پر محمول کیا جانا چاہیے کہ ہمارے ہاں نوکر شاہی دنیا کے دیگر ممالک کی نوکر شاہی سے بالکل مختلف ثابت ہوئی ہے، اس نے ہمیشہ اپنے ذاتی اور گروہی مفادات پر ملکی اور قومی مفادات کو ترجیح دی ہے اور خود غرضی، مفاد پرستی اور موقعہ شناسی اس کے اوصاف بلکہ فطرت ثانیہ بن گئے ہیں، تقسیم ہند سے پہلے انگریز افسران عوام الناس کے معاملات میں دخل اندازی کو معیوب سمجھتے تھے اور ہر سطح پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے تھے جبکہ ہماری نوکر شاہی کی سوچ روز اول سے اس کے بالکل برعکس رہی ہے، یہ عوام میں فریق بننے اور اس کے مفادات پر زد لگانے سے کبھی باز نہیں رہی، یہ نوکر شاہی، جاگیرداروں، وڈیروں، زمینداروں، سرمایہ داروں، صنعت کاروں اور اہل زر اور اہل ہوس کی اسیر اور انہی کے اشاروں کے تابع رہی ہے۔“

Facebook Comments HS