شدت پسندی، سیاست اور سوشل میڈیا
یوں تو وطن عزیز کبھی بھی شدت پسندی سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا شدت پسندی اور انتہا پسندی کسی نا کسی شکل نہ صرف ہمیشہ موجود رہی ہے بلکہ اپنے مضر اور خطرناک اثرات کے ذریعے ہمارے ملک کو نقصانات سے دوچار کرتی رہی ہے ایک طویل عرصے تک فرقہ وارانہ شدت پسندی نے ملک کو سنگین صورتحال سے دوچار کیے رکھا جس کے نتیجے میں نا صرف بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں بلکہ پورا ملک عدم استحکام کا شکار ہوا اور پھر اسی شدت پسندی اور انتہا پسندی کی کوکھ سے جنم لینے والی دہشت گردی نے ایک عشرے تک ملک کو آگ اور خون کی جنگ میں دھکیل دیا جس کے نتیجے میں ملک کو معاشی طور پر اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا اور لاکھوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں عورتوں، بچوں، بزرگوں اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نزرانے پیش کیے پوری قوم نے ہمت حوصلے اور ثابت قدمی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا آج ہم دہشت گردی پر بہت حد تک قابو پانے میں کامیاب تو ہوچکے ہیں مگر اس تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں آج بھی انتہا پسندانہ سوچ موجود ہے اور اس کو پروان چڑھانے والے بھی اپنا کام اسی طرح کر رہے ہیں یہ بات درست ہے کہ آج لوگ کھل کر سامنے نہیں آتے مگر مذہب کے نام پر قتل و غارت گری سے گریز بھی نہیں کیا جاتا۔
سچ تو یہ ہے کہ شدت پسندی، انتہا پسندی، عدم برداشت، تعصب اور نفرت پر مبنی سوچ کو ہم کسی ایک طبقے تک محدود نہیں کر سکتے بلکہ پورے معاشرے میں اور ہر طبقے میں اس طرح کی تنگ نظری عدم برداشت اور انتہا پسندی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے اور یہ روپ بدل بدل کر سوسائٹی کو تباہی کی طرف دھکیلتی رہتی ہے اگر آج ہم اپنی سیاست اور سیاسی رویوں کو ہی سامنے رکھ لیں تو انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم عدم برداشت نفرت اور شدت پسندی کے ایسے خوفناک کانٹے بچھا رہے ہیں کہ جنہیں جنتے جنتے ہماری نسلیں بیت جائیں گی۔
اس سے قبل نوے کی دہائی میں ملک ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہوا تھا جب پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون ایک دوسرے کی حریف تھیں مگر یہ سیاسی اختلاف سیاسی دشمنی کا روپ دھار چکا تھا اس وقت بھی سیاسی رہنماء نفرت کی سیاست میں اس حد تک آگے چلے گئے کہ نا صرف کارکنوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا بلکہ مخالفت برائے مخالفت میں اخلاق باختگی کی تمام حدیں پار کر لیں غیر اخلاقی بیہودہ الزامات اور کردار کشی ہماری سیاست کی پہچان بن کر رہ گئی تھی اس وقت سوشل میڈیا تو نہیں تھا اور الیکٹرانک میڈیا بھی صرف پی ٹی وی تک محدود تھا جو حسب روایت حکومت کے گن گاتا رہتا تھا جبکہ پرنٹ میڈیا تھا مگر اخلاقی اقدار ابھی باقی تھی سیاستدان جس طرح کی زبان استعمال کرتے تھے کچھ ڈھکے چھپے انداز میں سامنے آتی تھی تاوقتیکہ سیاستدان پمفلٹ بازی اور اشتہار بازی کی سطح تک نہ گر جائیں مگر افسوس ایسا ہوا بی بی شہید اور ان کی والدہ کی نازیبا تصاویر کے پمفلٹ چھپوا کر تقسیم کیے گئے مگر آج جب جو سیاسی شدت پسندی دیکھنے کو مل رہی ہے پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور خوفناک ہے سوشل میڈیا نے سیاسی شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کے لیے یہ کام آسان کر دیا ہے سیاسی جماعتوں نے باقاعدہ اپنے سوشل میڈیا ونگز اور بڑے بڑے گروپ بنا رکھے ہیں جو سماجی رابطے کی مختلف ویب سائٹس اور ایپز کے ذریعے منظم انداز میں کام کرتے ہیں خاص طور پر ان کا کام مخالف جماعت کی رہنماؤں کی کردار کشی الزام تراشی اور گالم گلوچ ہوتا ہے جبکہ اپنی جماعت کے خلاف لکھنے والے صحافیوں کی بھی وہ ماں بہن ایک کر دیتے ہیں۔
یوں تو سماجی ربطوں کی تمام ویب سائٹس پر یہ کام ہوتا ہے مگر سب سے بڑا پلیٹ فارم ٹویٹر ہے جہاں کوئی بھی ٹرینڈ سیٹ کرنے کے لیے پہلے مشاورت کی جاتی ہے پھر ہیش ٹیگ کے ذریعے دھڑا دھڑ ٹویٹ کی جاتی ہیں ابھی پچھلے دنوں لاہور جلسے سے قبل پاکستان میں ٹویٹر پر پینل میں گردش کرنے والے ٹرینڈ دیکھ کر سر شرم سے جھک گیا حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کی سوشل میڈیا ٹیموں نے ایک دوسرے کے مقابلے میں جس طرح کے ٹرینڈ سیٹ کیے انہیں مکمل لکھتے ہوئے بھی شرم آتی ہے مگر انہیں اس طرح کے غیر اخلاقی اور بیہودہ ٹرینڈ کرتے ہوئے ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوئی یہاں تک کہ دونوں جانب سے ایک دوسرے کی جماعتوں میں سیاسی اور غیر سیاسی خواتین کے لیے ”رنڈی“ اور ایک دوسرے قائدین کے لیے ”دلے“ کے نازیبا الفاظ استعمال کیے گئے اور پھر ان بیہودہ اور غیر اخلاقی لفظوں کے ساتھ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ٹویٹ کی گئیں۔
یقیناً انہی جماعتوں کے کارکنوں اور حامیوں نے یہ ٹویٹ کیں سوال یہ ہے ہماری سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کی کس طرح کی تربیت کر رہی ہیں انہیں کیا سکھایا جا رہا ہے سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے یہ ملک کسی ایک جماعت کا ملک نہیں ہم سب کا ملک ہے یہ بچے یہ نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں آگے چل کر انھوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے آج اگر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کی جنگ میں سوشل میڈیا کے محاذ پر انہیں استعمال کر رہی ہیں تو کم از کم اتنا تو لحاظ رکھنا چاہیے کہ اختلاف کے آداب سے واقف کیا جائے ان کی اخلاقی تربیت کی جائے انہیں اختلاف اور نفرت میں فرق سمجھایا جائے انہیں تنقید اور تذلیل کا فرق بتایا جائے کیونکہ یہ ملک اب مزید کسی بھی قسم کی انتہا پسند اور شدت پسندی کا متحمل نہیں ہو سکتا اختلاف جمہوریت کا حسن ہوتا ہے مگر اختلاف میں بھی اخلاق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے اور نفرت کی دلدل میں اتنا بھی نیچے نہیں گرنا چاہے کہ پھر اوپر اٹھنا مشکل ہو جائے۔ #


