کیری لوگر بل نے پاکستان امریکا تعلقات پر کیا اثر ڈالا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنوری 2009 میں جب باراک اوباما نے امریکا کے صدر کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے خارجہ پالیسی میں تین اہم ہدایات جاری کیں؛ عراق جنگ کو ختم کیا جائے، افغانستان پالیسی پر نظرثانی کی جائے نیز پاکستان کے ساتھ تعلقات کو باہمی دلچسپی، احترام اور اعتماد کی بنیاد پر ازسرنو تشکیل دیا جائے۔

صدر اوباما کو پاکستان کے ساتھ گہرے عدم اعتماد پر مبنی مخدوش تعلقات ورثے میں ملے تھے۔ دونوں ممالک افغانستان کے بحران اور اس سے پاکستان پر پڑنے والے اثرات کے لئے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے تھے۔ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے تجویز دی کہ کسی فرد واحد پر بھروسہ کرنے کی بجائے انفراسٹرکچر ، توانائی اور زراعت کی ترقی کو فروغ دینے کے لئے ایک کثیر الجہتی سویلین امداد کا پروگرام تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے میڈیا میں امریکہ کے مثبت تاثر کے فروغ کے ساتھ ساتھ سترہ کروڑ پاکستانیوں کے دل جیتنے کی تجویز بھی پیش کی۔ دوسرے لفظوں میں، امریکا کی نئی خارجہ پالیسی یہ تھی پاکستان کی فوج کے ساتھ تعلقات پر کلی انحصار کی بجائے جمہوری حکومت کو باہمی تعلقات میں مرکزی حیثیت دی جائے۔

اس مقصد کے لئے، سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر معاشی امداد کا ایک پروگرام تیار کیا گیا۔ کیری لوگر برمن بل (کے ایل بی) کے نام سے منسوب یہ امداد پانچ سال کے عرصے میں پاکستان میں متعدد عوامی سرگرمیوں کی اعانت کے لئے تیار کی گئی تھی۔ تاہم یہ قانون اس اس انداز سے مرتب کیا گیا تھا کہ اسے سویلین حکومت کو مضبوط کر کے فوج کی ساکھ خراب کرنے کی مشق سمجھا گیا۔ صدر آصف علی زرداری کو اس قانون کی فوج مخالف شقوں کو ختم کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کی گئی۔ جب اس نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو عسکری قیادت نے عوامی سطح پر براہ راست اپنے موقف کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی ٹھان لی۔ دوسری طرف منتخب حکومت گراں قدر معاشی امداد کے اس پروگرام پر ایسی نہال تھی کہ کیری لوگر بل کی حمایت میں قومی اسمبلی میں قرارداد لانے پر بھی غور کیا جانے لگا۔ اس بل میں پاکستان سے کوئٹہ اور مریدکے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرکے دہشت گردی کو روکنے نیز جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسی ان تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا جن پر بھارت میں تخریبی سرگرمیوں کا الزام عائد کیا جاتا تھا۔ چنانچہ کیری لوگر بل کو پاکستان کی خود مختاری میں دخل اندازی کے مترادف قرار دے کر غیر معمولی ہنگامہ کھڑا کیا گیا۔ اس طرح متنازع سمجھے جانے کے بعد بالآخر کیری لوگر بل میں موجود ‘چبھن’ کو نکال کر اس کا نام تبدیل کر دیا گیا۔ اب کیری لوگر بل کو پاکستان کے ساتھ وسیع تر شراکت کے ایکٹ کا نام دیا گیا۔

پاکستان میں کیری لوگر بل کے اس طرح کے “خیرمقدم” سے یہ تاثر بن گیا کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری لانے کی باراک اوباما کی کوشش ایک بار پھر ناکام بنا دی گئی تھی۔ پاکستانی تجزیہ کاروں کے مطابق کیری لوگر بل میں شامل کچھ شقوں سے بظاہر امریکہ کو پاکستان کے تزویراتی امور میں مداخلت کا اختیار دیا جا رہا تھا۔ ان حلقوں کی رائے میں مذکورہ شقوں نے ایک طرح سے پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز نامزد کیا تھا نیز پاکستان کی حکومت اور فوج کے مابین اعتماد کے بحران کو بے نقاب کر دیا تھا۔ دوسری طرف اوباما کے نزدیک کیری لوگر بل کا مقصد “اسکولوں اور سڑکوں اور اسپتالوں کی تعمیر کے ذریعے پاکستانی جمہوریت کو مضبوط بنانا تھا… تاکہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے گریز کیا جا سکے۔۔۔”۔

کیری لوگر بل کے بعد، پاکستان میں امریکی امیج کو بہتر بنانے کے لئے ایک بڑی عوامی رابطہ مہم بھی چلائی گئی۔ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے 2009 میں پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستانی طلباء اور سول سوسائٹی کے ساتھ غیر رسمی ماحول میں ملاقاتیں کی گئیں۔ یہاں تک کہ ہلیری کلنٹن لاہور اور اسلام آباد میں مختلف مزارات کا دورہ کرنے بھی جا پہنچیں۔ تاہم، اس طرح کی تمام کوششوں کے باوجود امریکہ مخالف جذبات میں کوئی کمی نہ آ سکی۔ جون 2010 کے پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق، صرف 17 فیصد پاکستانیوں نے امریکہ کے بارے میں مثبت جذبات کا اظہار کیا۔

صدر اوباما نے ادارہ جاتی سطح پر بہتر ہم آہنگی کے لئے، خارجہ پالیسی کے ہیوی ویٹ، آنجہانی رچرڈ ہالبروک کو افغانستان اور پاکستان کے لئے اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا۔ ہالبروک نے ایک اعلی سطحی ’اسٹریٹجک مکالمہ‘ شروع کیا، جس میں توانائی ، زراعت ، تجارت ، تعلیم وغیرہ 13 دو طرفہ ورکنگ گروپس شریک تھے۔

نومبر 2010 میں صدر اوباما نے ہندوستان کا دورہ کیا تو پاکستان کا سفر نہیں کیا چنانچہ باہمی تعلقات کی تمام کوششوں پر پانی پھر گیا، پرانے زخم ہرے ہو گئے، اور تنازعہ کشمیر کے بارے میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی بے حسی ، بھارت کے ساتھ اس کے سول جوہری تعاون اور پاکستان (جسے دہشت گردی کا منبع اور حامی قرار دیا گیا) کے بارے میں امریکا اور بھارت کے مشترکہ جائزے جیسے معاملات نے پھر سے سر اٹھا لیا۔

اوبامہ کے دورہ ہندوستان سے پاکستان کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلقات استوار کرنے کے ان کے تمام دعوے گویا ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ اوبامہ نے اس دورے کے دوران ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں قیام کیا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں 2008 میں ممبئی کے دہشت گرد حملے ہوئے تھے جن کا الزام پاکستان پر لگایا جا رہا تھا۔ اوباما کے قیام کی جگہ کا انتخاب بھی گویا اس مسئلے پر پاکستان کو گھیرنے کی دانستہ کوشش کے طور پر بیان کیا گیا۔ اس دورے کے بارے تبصرہ کرتے ہوئے ملیحہ لودھی (امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر) نے لکھا کہ “اگر ہندوستان کو خطے میں سلامتی کا ٹھیکیدار بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو یہ پاکستان کے لئے ناقابل قبول ہے۔ اگر امریکا اور پاکستان میں سرد مہری کو کم کرنا ہے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی توازن کی کم سے کم سطح کو قائم رکھنا ہو گا۔”

یہ واقعات امریکا اور پاکستان میں بڑھتے ہوئے فاصلوں کا محض ایک اشارہ تھے۔ دو طرفہ تعلقات باہمی عدم اعتماد کے بوجھ تلے ہانپ رہے تھے۔ 2011 میں جو کچھ ہوا اس سے مکمل طور پر واضح ہو گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک کے عزائم اور اہداف میں گہری خلیج موجود تھی۔

کیری لوگر بل پاکستان میں جمہوری بندوبست کو سہارا دینے دینے میں بڑی حد تک ناکام رہا۔ اسکولوں، اسپتالوں اور زراعت میں مطلوبہ ترقی نہ لائی جا سکی۔ ایک طرف غیر ملکی امداد کے استعمال میں شفافیت کا فقدان تھا دوسری طرف یہ تاثر بھی موجود تھا کہ معاشی امداد کو طے شدہ طریقہ کار سے انحراف کرتے ہوئے غیر ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ میں غیر ملکی قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم پر شور مچایا جاتا ہے لیکن بیرونی قرض کے استعمال پر شاذ و نادر ہی بات ہوتی ہے۔ حالانکہ قرضوں کی محتاج معیشت سے جان چھڑا کر ایک خود کفیل ملک کے طور پر بیرونی دنیا میں پہچانبنانے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان میں قرضوں کے استعمال پر زیادہ گہرائی سے غور و فکر کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •