ٹائم لائن تھراپی (حصہ اول)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکثرو بیشتر لوگ لفظ ”تھراپی“ کا پڑھ اور سن کر ہی انجانے خوف میں مبتلا ہو کر خاموش دبک کر بیٹھ جاتے کہ شاید یہ کچھ علاج وغیرہ ہے اوراگرآپ کسی بھی عام انسان کوصرف یہ بولیں کہ ٹائم لائن تھراپی کا آپ کے دماغ اور خیالات سے تعلق ہے تو زیادہ ترافراد کا فوراً خیال اس پرجاتا ہے کہ یہ بتانے والا شخص شاید خود کوئی نفسیاتی ڈاکٹر ہے اور اگرغلطی سے اس تھراپی سے فیض یاب ہونے کا کہہ دیں توپھر آپ دوسری جانب سے لفظوں کی مزید بمباری کو کیچ کرنے کے لیے تیارہوجائیں کیوں کہ اس کا اگلہ خیال ان جوابات پرجاتا کہ کیا ہمیں کوئی ذہنی بیماری ہے یا یہ مجھے ذہنی بیمارتو نہیں سمجھ رہے جو ہم یہ علاج یا تھراپی کروائیں؟

ٹی ایل ٹی ایک ایسا مثبت ٹیکنیکی یا آرٹ عمل ہے جس سے ہرخاص وعام انسان کو کم ذہنی تکلیف اورانتہائی کم وقت میں اپنے جائز مقاصد کے حصول میں دیرپا فوائد اورزندگی میں مزید کامیابی ملنے میں بھرپور مدد دیتی ہے اسے ”مختصر تھراپی“ بھی کہتے ہیں اوراس عمل سے ہم اپنے جذباتی اورذہنی پریشانیوں اور اپنے آپ کے تعلقات کو سمجھنے اور بہتر بنانے کے لیے ایک تربیت یافتہ کونسلریا لائف کوچ سے بات کر کے ایک خاص ذہنی حالت میں آین والے منفی خیالات کا علاج اور کنٹرول کرنے کے لیے رابطہ کر کے اس کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں

ہمارے معاشرے خصوصاً پاکستان میں بے چینی یا ذہنی کشیدگی جس سے گھریلو تنازعات اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ڈپریشن یا انزائیٹی جیسے ذہنی مسائل سے دو چارہی رہتے اور اب چند سالوں سے بتدریج اس میں اضافہ بھی ہوتا جا رہا جس میں ذہنی اذیت، جسمانی تشدد، بے اعتمادی، خوف، چڑچڑے پن وغیرہ جیسے منفی مسائل پیدا ہو رہے اور ان کوحل اور کنٹرول کرنے پر نہ تو زیادہ کوئی بات چیت ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی معلومات اور رہنمائی پرکوئی آسانی سے روشنی ڈالتا ہے اگر یہ معلومات موجود بھی ہیں تو نہایت مخصوص اورمحدود طبقہ تک اس کی آگاہی اوررسائی حاصل ہیں

ٹی ایل ٹی یعنی ٹائم لائن تھراپی آخر یہ ہے کیا اوراس سے ہمیں یا عام انسان یعنی مکمل حواس خمسہ اور شعور رکھنے والے تعلیم یافتہ اورغیرتعلیم یافتہ افراد کو اپنی روزمرہ زندگی میں کسی نہ کسی اپنی مختلف فطری کیفیات سے دوچار ہونا پڑتا ہے اوروہ کیفیت ایک بڑی رکاوٹ بن کر ہمارے اپنے اندرہماری سوچ کے لاشعورمیں چھپ کر بیٹھ جاتی اور مختلف اوقات میں ہمارے رویے سے بار بار ظاہر ہوتی لیکن ان کیفیات کو اپنے کنٹرول میں کرنے کے لیے اس ٹائم لائن تھراپی سے کیا اورکیسے فوائد ملتے ہیں اس کا جاننا اوراسکی معلومات رکھنا نہایت ضروری ہے

چوں کہ ہم سارے انسان اپنی زندگی کے تمام لمحات کو اپنے دماغ میں ان پانچ قدرتی طور پر ملے ان حواس خمسہ یعنی دیکھنا، سننا، چکھنا، محسوس اورسونگھنے کے ذریعے ایک خاص داخلی میموری اسٹوریج سسٹم میں اپنے دماغ میں محفوظ کرتے ہیں اور لاشعور میں شامل کرتے

ماضی میں موجود، یہاں ماضی سے مراد ایک دو دن یا کچھ گزرے ماہ یا سال نہیں بلکہ پچپن یا اس دنیا میں آنے سے قبل ماں کے پیٹ میں موجود وہ مختلف پیچیدہ حالات کا اس بچے یا انسان کے اندرمنتقل ہونا بھی ہے جو اس کے اردگرد کے کلچر، لوگ، خاندان، دوست، مذہب، عقائد اورحاملہ عورت کے اپنے حواس خمسہ سے ایک سوچ میں منتقل ہوکراس آنے والے انسان کے لاشعورمیں جذب ہوکرجزبات اور رویے کی صورت میں ظاہر ہوتی ( ٹی ایل ٹی ) ٹائم لائن تھراپی یہ وہ مختصر طاقتورعلاج معالج ہے جو ہائپنوسس اور (این ایل پی) نیورو لینگویسٹک پروگرامنگ سے نکلا ہے، جو کہ 1980 کی دہائی میں ٹیڈ جیمز پی ایچ ڈی نے تیاراورمتعارف کیا تھا

غصہ، ڈر، احساس محرومی، غم، دکھ، افسوس، نفرت، طنز، حسد، خوف، جرم، اور پچھتاوا وغیرہ یہ سب منفی جذبات کی کیفیات ہیں اوراس کا اظہار کرنا ایک فطری عمل کی نشانی ہے لیکن اگر یہ روگ بن کر زندگی کے ساتھ چپکا کر رکھ لیا جائے یا کسی دوسرے انسان کوان کیفیات سے کسی طعنے، مذاق یا توہین کی صورت میں بار بار یاد کروایا جائے پھروہ انسان اہنے ہاتھوں سے ہی اپنی خوشیوں کا گلہ گھونٹنا شروع کردیتا اوراس کے نتیجے میں ملنے والے نفسیاتی نقصانات گھریلو اورسماجی زندگی میں منفی اثرات ڈالنے والی غیراخلاقی برتاؤ جس سے تشدد اور انتہا پسندی ظاہرہونے لگ جانے والے رویوں کی شروعات ہوجاتی

تدبیر کے دست رنگیں سے تقدیر درخشاں ہوتی ہے
قدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوشش انساں ہوتی ہے

ان کیفیات کو ٹائم لائن تھراپی نہایت آسانی سے بغیر دوا، بغیر سرجری سے نہایت کم یا مکمل ختم کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے اور ہم ان گزرے واقعات سے پیدا ہونے والے منفی جذبات کو اپنے حال میں موجود رکاوٹوں کو حال اور مستقبل کے لیے مثبت طریقے سے اپنے اور دوسرے انسان کو نقصان پہنچائے بغیراس سے فائدہ مند اورصحت مندانہ کامیاب زندگی کے حصول کے لیے استعمال بھی کر سکتے ہیں

(بقیہ اگلے حصہ میں)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •