یورپی یونین کی رپورٹ اور بھارت کا مکروہ چہرہ (مکمل کالم )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت کے حوالے سے پاکستان کو بہت سی شکایات رہتی ہیں۔ پاکستان اپنی استعداد کے مطابق بھارت کو جواب بھی دیتا ہے۔ حتی المقدور کوشش کرتا ہے کہ دنیا کو بھارت کے اصل چہرے سے آگاہ کرے۔ ہر پاکستانی حکومت اقوام متحدہ پلیٹ فارم کے ذریعے کشمیر میں ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کو بے نقاب کرتی ہے۔ بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں پر ہم اقوام عالم کے سامنے آوا ز بلند کرتے ہیں۔ بسا اوقات اقوام متحدہ میں ڈوزئیر بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

سچ مگر یہ ہے کہ دنیا ہماری آواز اور احتجاج پر کم ہی کان دھرتی ہے۔ ہماری پیش کردہ رپورٹیں بھی کوئی خاص ہلچل پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوتیں۔ اس مرتبہ مگر ایک غیر ملکی تحقیقی اور تفتیشی ادارے نے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ یورپی یونین ڈس انفو لیب (EU disinfolab) نامی یہ ایک آزاد تحقیقی ادارہ ہے۔ یہ ان گروپوں اور تنظیموں کا سراغ لگاتا ہے جو روایتی اور جدید میڈیا کے ذریعے غلط اور گمراہ کن اطلاعات پھیلانے میں ملوث ہوتی ہیں۔

ڈس انفو لیب کے محققین نے ہوشربا انکشافات پر مبنی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس تحقیقاتی رپورٹ نے ایک ایسے بھارتی نیٹ ورک کا پردہ چاک کیا ہے جو گزشتہ پندرہ برس سے جعلی خبریں بنانے اور پھیلانے کے مکروہ دھندے میں ملوث ہے۔ بھارتی نیٹ ورک کا سب سے بڑا ہدف پاکستان ہے۔ چین سمیت وہ ممالک بھی اس شیطانی نیٹ ورک کی کارروائیوں کا نشانہ بنتے ہیں، جن کے ساتھ بھارت کا کوئی نہ کوئی تنازعہ جاری ہے۔ اس بھارتی نیٹ ورک کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔

پہلا یہ کہ بھارت مخالف ممالک کے خلاف منفی خبریں پھیلائی جائیں۔ انہیں بد نام کیا جائے۔ ان ممالک کے منفی پہلووں کو بڑھا چڑھا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ دوسرا مقصد اس نیٹ ورک کا یہ ہے کہ بھارت کے چہرے کی کالک کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھا جائے۔ بھارت کا روشن اور ماڈریٹ چہرہ اقوام عالم میں اجاگر کیا جائے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے اس بھارتی نیٹ ورک نے بہت سی معروف اور غیر معروف غیر سرکاری تنظیموں ( این جی اوز ) ، تھینک ٹینکوں، اور فیک نیوز پلیٹ فارموں کے ساتھ انتہائی مضبوط تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔ ان تنظیموں کی مدد سے یورپی پارلیمان اور مختلف یورپی اداروں میں اثر و رسوخ حاصل کیا جاتا ہے تاکہ بھارت دوست اور پاکستان مخالف نقطہ نظر اور بیانیے کی ترویج کی جاسکے۔

ڈس انفو لیب کی رپورٹ نے خصوصی طور پر انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی سب سے بڑی خبر رساں ایجنسی اے۔ این۔ آئی (Asian News International) بھی اس نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ اے۔ این۔ آئی نہایت زور و شور سے پاکستان مخالف جعلی خبریں بنانے اور پھیلانے کا فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ یہ گمراہ کن خبریں تسلسل کے ساتھ بھارت کے مقامی میڈیا اورعالمی صحافتی اداروں تک پہنچائی جاتی ہیں۔ اسی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں موجود 97 غیر معروف میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے بھی پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم چلائی جاتی ہے۔

پاکستان مخالف خبروں اور معلومات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والے ریسرچرز کو یقین ہے کہ اس نیٹ ورک کا بنیادی مقصد (اور نشانہ) ہمسایہ ملک پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے۔ ڈس انفو لیب کے ایگزیکٹو ڈایئریکٹر الیگزینڈر ایلافلپ کا کہنا ہے کہ یہ بھارتی نیٹ ورک اب تک پکڑا جانے والا سب سے بڑا فیک نیوز نیٹ ورک ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس سے پہلے انہوں نے غلط خبروں کی ترسیل کرنے والا کوئی ایسا منظم اور مربوط نیٹ ورک نہیں دیکھا جو مختلف اسٹیک ہولڈروں کے مابین اس قدر ہم آہنگی (coordination) کے ساتھ سر گرم عمل ہو۔

ڈس انفو لیب نے گزشتہ برس بھی 265 ایسی بھارت دوست (Pro۔ india) ویب سائٹس کی نشاندہی کی تھی جو دنیا کے 65 ممالک میں فعال تھیں اور انہیں دہلی میں قائم سری واستوا گروپ (Srivastava Group) نامی ایک بھارتی کمپنی کنٹرول کرتی تھی۔ مگر اس کی طاقت اور اثر کا اندازہ کیجیے کہ اس انکشاف کے باوجود اس کمپنی اور اس کی کارروائیوں کو نہیں روکا جا سکا۔

بات صرف روایتی اور جدید میڈیا کے ذریعے جھوٹی اور غلط خبریں پھیلانے تک محدود نہیں۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت کے ایس۔ جی گروپ (Srivastava group) کے درجنوں غیر سرکاری تنظیموں ( این جی اوز ) اور تھنک ٹینکوں کے ساتھ بھی مضبوط روابط قائم ہیں۔ کم و بیش دس این۔ جی۔ اوز ایسی ہیں جو اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ (UN Accredited) ہیں۔ یہ تمام تھنک ٹینک اور این۔ جی۔ اوز، جینیوا میں خصوصی طور پر متحرک ہیں۔ یہ کسی نہ کسی جواز پر پاکستان کے خلاف مظاہرے کرتی ہیں، پریس کانفرنسوں اور اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہونے والی سرگرمیوں میں زہر اگلتی ہیں۔ یہ تنظیمیں اس قدر با اثر ہیں کہ کئی بار ان کے نمائندے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) جیسے اہم پلیٹ فارم میں بات کرنے کے لئے فلور حاصل کرتی رہی ہیں۔ یہ تما م مواقع پاکستان کو بدنام کرنے اور اسے ہدف تنقید بنانے کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔

یہ تو اس تفصیلی رپورٹ کا ایک خلاصہ ہے۔ مکمل رپورٹ پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت پاکستان کو اقوام عالم میں بدنام کرنے کے لئے کیا کیا حربے استعمال کرتا رہا ہے۔ کس قدر منظم اور مربوط طریقے سے ایک نیٹ ورک کئی برسوں سے نہایت منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے۔ البتہ ڈس انفو لیب نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک ہونے والی تحقیق اور تفتیش سے بھارتی ایجنسیوں اور بھارتی حکومت کا اس پروپیگنڈا نیٹ ورک سے براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

تاہم برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اس رپورٹ کو شائع کرنے سے پہلے بھارتی حکومت کا موقف لینے کے لئے رابطہ کیاتو بھارتی حکومت نے چپ سادھے رکھی۔ ان انکشافات کے سامنے آنے کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے۔ مطالبہ کیا ہے کہ بھارت سے جواب طلبی کی جائے۔ جواباً بھارت کی وزارت امور خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستا نے پاکستان پر جوابی الزامات عائد کیے ہیں۔ کہا ہے کہ پاکستان بذات خود غلط خبروں اور گمراہ کن معلومات کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔

ڈس انفو لیب کی رپورٹ میں ہونے والے انکشافات نہایت اہم ہیں، لیکن پاکستان کے لئے حیران کن ہر گز نہیں ہیں۔ ہم بھارت کی پاکستان دشمنی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ برسوں سے اس دشمنی کو بھگت رہے ہیں۔ اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کے لئے بھارت کس حد تک جا سکتا ہے، اس کا اندازہ ہم مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم سے لگا سکتے ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی افواج ریاستی سرپرستی میں نہتے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔ اسی طرح بھارت نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لئے جو بھیانک کردار اداکیا، وہ ہم کیسے بھول سکتے ہیں۔ 2015 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران نہایت ڈھٹائی سے اعتراف کیا کہ بھارت نے پاکستان توڑنے میں کردار ادا کیا تھا۔

بھارت آج بھی بلوچستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ پاکستان میں سی۔ پیک منصوبہ کی بنیاد پڑتے ہی بھارت نے اسے سبوتاژ کرنے کے لئے اربوں کھربوں روپے کا فنڈ مختص کر دیا تھا۔ جہاں تک پاکستان مخالف پروپیگنڈا کی بات ہے تو ہمیں معلوم ہے کہ کس طرح بھارتی نیوز چینلز پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ کس طرح برسوں سے بھارتی فلموں میں پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف غلیظ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

کس طرح بھارتی ڈراموں کے ذریعے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ثقافتی یلغار کی جاتی ہے۔ برسوں پہلے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم نے بھارتی فلموں کے ذریعے بھارتی ثقافت پاکستان کے گھر گھر میں داخل کر رکھی ہے، اب ہمیں اس سے جنگی محاذ پر لڑنے کی ضرورت نہیں۔ ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ بھارت ہمارے ساتھ کیا کچھ کرتا رہا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم خود اپنے ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ بھارتی پروپیگنڈا کا کیا جواب دے رہے ہیں؟ پاکستان کا کون سا چہرہ دنیا کو دکھا رہے ہیں؟ بھارت سے شکوہ کرنے اور عالمی برادری سے اپیل کرنے کے بجائے، کیا ہم نے کبھی اپنے دامن پر نگاہ ڈالی ہے؟

بھارت کی پاکستان دشمنی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ برہمن سامراج، مسلمانوں کے الگ وطن کے تصور کے ہی خلاف تھا۔ آج تک بھارتی ذہنیت نے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے بس میں ہو تو وہ (خدانخواستہ) پاکستان کے وجود ہی کو ختم کر ڈالے۔ یہ تو پاکستانی قوم اور اس کے راہنماؤں کی دانشمندی تھی کہ انہوں نے بھارتی ایٹمی پروگرام کے ساتھ ساتھ خود بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی۔ آج یہی صلاحیت ہمارے دفاع کی سب سے بڑی ضمانت ہے اور اسی کی وجہ سے بھارت ہمارے خلاف کسی بڑی مہم جوئی کا حوصلہ نہیں کرتا۔

لیکن ہم یہ حقیقت کیوں بھلا دیتے ہیں کہ بھارت کو وہی کچھ کرنا چاہیے جو ایک دشمن دوسرے دشمن سے کرتا ہے۔ ہمیں اس سے خیر سگالی یا کسی بھی طرح کی ہمدردی کی توقع ہی کیوں ہوتی ہے؟ اگر یورپی یونین ڈس انفولیب کی طرف سے پاکستان دشمن پروپیگنڈے کے نیٹ ورک کا انکشاف نہ بھی ہوتا تو کیا ہم نہیں جانتے کہ بھارت ہمارے بارے میں کس طرح کے مکروہ عزائم رکھتا ہے اور دنیا کو کیوں کر ہمارے خلاف بھڑکاتا رہتا ہے؟ دنیا کے ممالک میں پھیلے ہوئے اس کے سفارتخانوں کی سرگرمیوں کا بڑا ہدف پاکستان مخالف پراپیگنڈا ہی ہوتا ہے۔

مجھے برطانیہ میں ایک طویل عرصہ گزارنے والے سینئر پروفیسر نے بتایا کہ بھارتی ہائی کمیشن نے کس طرح پاکستانی تعلیمی اداروں کے بارے میں تمام خبروں کا ریکارڈ جمع کر رکھا تھا کہ اتنے پاکستانی ادارے جعلی ہیں۔ یہ رپورٹیں وہ برطانوی میڈیا اور یونیورسٹیوں کو مسلسل فراہم کرتے رہتے تھے۔ یہی حال پاکستان میں جمہوریت، پریس کی آزادی، بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت دشمنی کا واویلا اپنی جگہ، ہم کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہمارے سفارتخانے بھی اتنے ہی فعال ہیں۔ کیا وہ بھی بھارت میں ہندو مسلم فسادات کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں؟ کیا وہ بھی بتا رہے ہیں کہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر کیا گزر رہی ہے؟ کیا وہ بھی دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر نے کے لئے کشمیریوں پر سات دہائیوں سے ٹوٹنے والے مظالم کا ریکارڈ دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں؟

کیا وہاں بھی ایسے ڈیسک بنے ہوئے ہیں جو بھارت کے ہاں ہونے والی زیادتیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کا پورا ریکارڈ رکھ رہے ہوں اور پھر دنیا کے سامنے بھی لا رہے ہوں؟ عمومی تاثر تو یہ ہے کہ ہمارے سفارت خانے دراصل مہمان داری کے دفاتر بن کر رہ گئے ہیں جن کا کام سال ہا سال سے یہ ہے کہ وہ پاکستان سے آنے والے وزراء اور وی۔ آئی۔ پیز کے پروٹوکول میں کوئی کمی نہ آنے دیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان کا ریکارڈ، بھارت سے بہت بہتر ہے۔ مذہبی آزادی بھی بھارت سے کہیں زیادہ ہے لیکن حال ہی میں اقوام متحدہ نے دس ایسے ممالک کی فہرست جاری کی ہے جہاں امریکی وزیر خارجہ کے بقول مذہبی آزادیاں کچلی جا رہی ہیں اور مذہبی آزادی کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

ان دس ممالک میں سعودی عرب، ایران، اور چین جیسے ممالک کے علاوہ پاکستان بھی شامل ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بھارت کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مذہب کی بنیاد پر اپنی اقلیتوں پر مظالم ڈھا رہا ہے، ان کی عبادت گاہیں جلا رہا ہے، انہیں قتل کر رہا ہے لیکن اسے اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ قریشی صاحب کا احتجاج بجا ہے۔ اس میں یقیناً پاکستان کے خلاف امتیازی سلوک اور تعصب کا عمل دخل ضرور ہے لیکن خود ہم نے بھارتی مظالم کو آشکار کرنے کے لئے کتنی کوشش کی؟

کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا سلسلہ تو برسوں سے جاری تھا لیکن اب اس نے مقبوضہ کشمیر کے جداگانہ تشخص کو بھی ختم کر کے اسے ہڑپ کر لیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ اگر ہم سفارتی سطح پر پوری طرح فعال ہوتے تو دنیا میں ہلچل مچا دیتے لیکن حالت یہ ہے کہ ہم اقوام متحدہ میں مرضی کی قرارداد لانے کے لئے بھی ارکان کا مطلوبہ تعداد حاصل نہ کر سکے۔ اور تو اور وہ اسلامی ممالک بھی ہمارے ساتھ کھڑے نہ ہوئے جن سے ہمارے بہت پرانے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات تھے۔ اس کا گلہ بھارت سے کیا جائے یا ہماری اپنی کوتاہی اور بے حکمتی کا بھی کوئی کردار ہے۔

کیا ہمیں اندازہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کس طرح ہمیں تنہا کر رہی ہے۔ بڑی طاقتوں کو تو جانے دیں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک بھی ہم سے دور ہو رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے لئے ہر قسم کے ویزوں پر پابندی لگا دی ہے۔ جن مزدوروں اور محنت کشوں نے پاکستان سے جانا تھا اب وہ بھارت سے بھرتی ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب نے نہ صرف ہمارے پاس رکھے دو ارب ڈالر واپس لے لئے ہیں بلکہ خبر ہے کہ ہمیں اس رقم پر اچھا خاصا سود بھی ادا کر نا پڑا ہے۔

گزشتہ ہفتے بھارتی فوج کے سربراہ جنرل ناراوان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا چھ روزہ دورہ کیا۔ یہ کسی بھی بھارتی آرمی جرنیل کا اپنی نوعیت کا پہلا دورہ تھا۔ بھارت کے ساتھ دوستوں کی اس قربت اور ہماری دوری میں کیا ہمارا اپنا بھی کوئی قصور ہے یا نہیں۔ ہم مانیں یا نہ مانیں، چین کے ساتھ بھی پہلے جیسی گرم جوشی دکھائی نہیں دیتی۔

اور اگر پچاس ہزار سے زیادہ جانوں کی قربانی دینے اور دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ بننے کے باوجود ہم فاٹف کی گرے لسٹ میں پڑے ہیں اور ہمیں آئے دن طرح طرح کے قانون بنانا پڑ رہے ہیں تو کیا یہ سب کچھ بھارت کا کیا دھرا ہے یا اس میں ہماری اپنی کچھ کمزوریوں کا عمل دخل بھی ہے؟ اور دنیا اگر پریس کی آزادی کے حوالے سے ہمیں نشانہ بنا رہی ہے تو کیا اس کا الزام بھی ہم کسی دشمن پر لگا دیں یا ہمیں اپنے گھر کی خبر لینے کی ضرورت ہے؟ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی تازہ تریں رپورٹ میں پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں صحافت اور صحافیوں کو شدید خطرات ہیں۔ افسوس کا مقام ہم بھارت اور افغانستان سے بھی نیچے ہیں۔

ہمارے ایک وزیر کے غیر محتاط بیان کی وجہ سے پی۔ آئی۔ اے کو یورپی ممالک اور کئی دوسرے ملکوں سے بندش کا سامنا ہے۔ کیا اس کا الزام بھی ہم دشمنوں پر لگا دیں۔ لاتعداد دوسری کمزوریاں ہیں جن کا تعلق ہماری اپنی ناقص پالیسیوں سے ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ خود احتسابی ہمارا مزاج ہی نہیں اور اصلاح احوال ہماری ترجیحات میں سے نہیں۔

۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •