ایک غصے سے بھرا گانا جو چین میں گھریلو تشدد اور عورتوں سے نفرت جیسے مسئلے کو سامنے لایا

By Yvette Tan and Waiyee Yip - BBC News

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Singer Tan Weiwei
Getty Images
’آپ اس طرح ہمیں بیان کرتے ہیں: چڑیل، لڑاکا عورت، کسبی، طوائف، آدم خور۔۔۔‘

سٹیج پر کھڑی ایک چینی اداکارہ ٹین ویوی زور سے گرجتی ہیں۔ وہ ایک حالیہ براہ راست ٹیلی ویژن پرفارمنس میں اپنا تازہ ترین پاپ ہٹ گانا، ژاؤ جوان، گا رہی ہیں۔ ان کے ساتھ خواتین کا ایک گروپ ہے جو اپنے دھوپ سے بچنے کے چشمے اتار کر ایک طرف پھینکتا ہے، جو ایک خاموش مطالبہ ہے کہ انھیں بطور انفرادی انسان دیکھا جائے۔

یہ گھریلو تشدد کے خلاف ایک افسردہ اور حیرت انگیز گالیوں کی بوچھاڑ ہے جس نے ریلیز کے بعد اب تک سینکڑوں ہزاروں چینی خواتین کو متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

لاک ڈاؤن میں گھریلو تشدد: ’کہتے ہیں شور مت مچاؤ، پڑوسی کیا کہیں گے‘

گھریلو تشدد: ’فون کی سکرین ٹوٹی تو بہت مار پڑی‘

پاکستان میں گھریلو تشدد کی پردہ پوشی کیوں؟

اس کے بول چین میں عورتوں سے نفرت اور متاثرہ عورتوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے متعلق ہیں۔ اس میں خواتین کے خلاف تشدد کے مخصوص واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے جو رواں سال چین میں شہ سرخیوں میں رہے۔

اور یہ ایک جرات مندانہ بیان ہے۔ ٹین چین کے اہم گلوکاروں میں سے ایک ہیں، اور شاید وہ ہی ہیں جو اپنی موسیقی سے ایسے مسئلے پر بات کر رہی ہیں جسے ابھی تک بہت سے دوسرے ایک ممنوع موضوع سمجھتے ہیں۔

’میرا نام جانیں۔۔۔ اور یاد رکھیں‘

ٹین کے نئے البم کا عنوان ’3811’ ہے جو کہ ان کی عمر اور اس البم کے 11 گانوں کو ملا کر بنایا گیا ہے اور جس میں حقیقی زندگی سے چینی عورتوں لی گئی ہیں جن میں ٹیکسی چلانے والی اکیلی ماں سے لے کر 12 سالہ بچی تک کی کہانی ہے جو ابھی ابھی سنِ بلوغت میں پہنچی ہے۔ اور یہاں تک کہ اس میں ٹین کی اپنی خالہ کا بھی ذکر ہے جو کہ بس ٹکٹ آپریٹر کے طور پر کام کرتی ہیں۔

چینی موسیقی کے نقاد ’پوسٹ مین‘ (اصلی نام نہیں) نے بی بی سی کو بتاتا ہے کہ یہ البم نہ صرف اپنے مضبوط حقوقِ نسواں کے پیغام کی وجہ سے نمایاں ہے، بلکہ اس وجہ سے بھی کہ یہ بظاہر عام خواتین کے گروہ کو بھی اہمیت کا دیتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’اب سے کچھ سالوں کے بعد جب ہم اس دور کی طرف مڑ کر دیکھیں گے، تو ہم صرف معمول کی فلموں، کتابوں، نیوز کلپس اور میڈیا ویب سائٹس پر نظر نہیں ڈالیں گے کہ کیا ہوا تھا۔ ان میں یہ البم بھی ہوگا جس نے ان تمام عام خواتین کی کہانیوں اور ان کے ناموں کو ریکارڈ کیا جنھیں بصورت دیگر مکمل طور پر فراموش کر دیا جاتا۔‘

لیکن البم کا سب سے حیران کن گانا بلاشبہ ژاؤ جوان ہے، یہ وہ نام ہے جو اکثر چین میں پرتشدد جرائم کا نشانہ بننے والی خواتین کو دیا جاتا ہے۔

’ہمارے نام ژاؤ جوان نہیں ہیں۔۔۔ میرا نام جانیں، اور اسے یاد رکھیں،‘ ٹین گاتی ہیں۔

گیتوں میں گھریلو تشدد کے متعدد گھناؤنے واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو شہہ سرخیاں بنے۔


ژاؤ جوان میں جن کیسز کی طرف اشارہ کیا گیا

  • ’کوئی بھی نافرمانی کی کوشش نہیں کرے گا۔۔۔ آپ اپنے مکوں، پٹرول اور سلفیورک ایسڈ کو استعمال کریں۔‘

اس میں بظاہر ’پٹرول‘ اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں ایک انفلیواینسر لامو کو پٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا گیا جب وہ ستمبر میں ایک لائیو سٹریم کر رہی تھیں۔

  • ’ہمیں گٹر میں بہا دیں، شادی کے بستر سے دریا کے بستر میں، میرا جسم ایک سوٹ کیس میں ٹھونس دیں‘

گذشتہ جولائی میں ایک ہینگژاؤ عورت کو اس کے شوہر نے قتل کرنے کے بعد اس کے جسم کے ٹکڑے کیے اور پھر انھیں ایک ایسڈ والے ٹینک میں ڈال دیا۔ اس کے کچھ ماہ بعد ہی اکتوبر میں سچوان صوبے میں ملنے والے ایک سوٹ کیس میں ایک عورت کا کٹا ہوا جسم ملا۔

  • ’بالکونی پر ایک فرج میں رکھ دیں‘

سنہ 2016 میں شنگھائی میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش تین مہینے تک فرج میں رکھی۔ اس شخص کو اس سال جون میں پھانسی دیے دی گئی۔


اور ایک اور عنصر بھی ہے جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا: گیتوں کی فہرست میں ایسے الفاظ ہیں جنھیں اکثر اوقات عورتوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مثلاً جسم فروش، کسبی اور مردوں کو کھانے والی وغیرہ وغیرہ۔

بیجنگ میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ ’ایکویلٹی‘ کی شریک بانی، فینگ یوان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چینی زبان میں بہت سارے برے الفاظ میں ’نو‘ آتا ہے، جو کہ خواتین کے لیے چینی کردار ہیں۔ یہ ثقافت میں عورتوں کے خلاف نفرت کی گہری جڑوں کی عکاسی کرتا ہے۔‘

ایک اور ممتاز چینی سرگرم کارکن لو پن کا کہنا ہے کہ ان عناصر کو شامل کرکے گانے میں نہ صرف گھریلو زیادتیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ اس کے پیچھے چھپے خواتین کے خلاف نفرت کے کلچر پر بھی تنقید کی گئی ہے۔

وہ کہتں ہیں کہ ’یہی وجہ ہے کہ گیت پر تنقید بھی کی گئی ہے، کیونکہ کچھ پدر سری چینی ثقافت پر تنقید سے بے چینی محسوس کرتے ہیں۔‘

This photo taken on July 7, 2014 shows the Chinese character 'nu' meaning woman

Getty Images
اکثر الفاظ میں چینی لفظ ’نو‘ کا مطلب منفی ہوتا ہے

تاہم، چین میں زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین نے اس گانے کو پسند کیا ہے۔ مائیکرو بلاگنگ سائٹ وائیبو پر ہیش ٹیگ ’ٹین ویوی کی دھنیں بہت بولڈ ہیں‘ کو 34 کروڑ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا ہے۔

ایک صارف نے کہا کہ دھنیں پہلی نظر میں ’خوفناک‘ لگیں۔ ’لیکن ہر ایک لفظ آپ کے دل پر اثر کرتا ہے، کیوں کہ جو اس سے بھی زیادہ خوفناک بات ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب چیزیں حقیقت میں واقع ہوئی ہیں۔‘

بہت سارے لوگوں نے خواتین کے لیے کھڑے ہونے اور اس طرح کا ایماندارانہ گانا پیش کرنے میں ’ہمت دکھانے‘ پر ٹین کا شکریہ ادا کیا ہے۔

بظاہر ان تبصروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹین نے وائیبو پوسٹ میں لکھا: ’یہ ہمت نہیں ہے۔ یہ صرف ذمہ داری کا احساس ہے۔‘

ایک روایتی معاشرہ

ایکویلیٹی کے مطابق 2016 اور 2019 کے درمیان چین میں ہر پانچ دن میں کم از کم تین خواتین گھریلو تشدد کی وجہ سے موت کا شکار ہوئیں۔

حکام نے اس مسئلے پر توجہ دینے کی بھی کوشش کی اور 2016 میں گھریلو تشدد کے خلاف ایک ایسا قانون لاگو کیا گیا جو متاثرین کو پروٹیکشن آرڈرز حاصل کرنے کا اختیار دیتا تھا۔ ایشیا فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے بعد سے پولیس نے گھریلو تشدد کے 60 لاکھ سے زیادہ واقعات روکے یا ہونے سے بچائے ہیں۔

ظاہری سطح پر لگتا ہے کہ قانون کام کر رہا ہے: سرکاری میڈیا کے مطابق کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ آل چائنا ویمنز فیڈریشن کو گھریلو تشدد کی شکایات 2019 میں اس سے ایک سال پہلے کے مقابلہ میں 8.4 فیصد کم موصول ہوئیں اور ایکویلیٹی کی میڈیا مانیٹرنگ سے پتہ چلا ہے کہ خبر رساں اداروں نے گھریلو تشدد کے ان واقعات میں تین سے پانچ سال پہلے کی نسبت کمی رپورٹ کی جن کے نتیجے میں اموات ہوتی تھیں۔

لیکن چین گھریلو تشدد کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کرتا ہے اور کارکن کہتے ہیں کہ گھریلو تشدد کے بہت سے واقعات اب بھی رپورٹ نہیں ہوتے۔

اس مسئلے کا مرکز یہ ہے کہ چین ایک بڑا روایتی معاشرہ ہے جہاں خاندانی ہم آہنگی کو اب بھی قیمتی سمجھا جاتا ہے اور ترجیح دی جاتی ہے اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اسی وجہ سے گھریلو تشدد کے شکار متاثرین کے لیے اس پر بولنا یا گھر چھوڑ کے جانا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کا اثر قوانین پر بھی ہے: مثال کے طور پر نقاد اس بات کی طرف نشاندہی کرتے ہیں کہ گھریلو تشدد کے خلاف قانون ثالثی کا حامی ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ متاثرین کو خاموش رہنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اور اس سال کے آغاز میں چین نے جوڑوں کے لیے 30 دن کا ’کول آف‘ وقت متعارف کرایا جو انھیں طلاق سے پہلے سوچنے کا وقت دیتا ہے۔ اس کے ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے اس خدشے کو تقویت ملتی ہے کہ اس دوران گھریلو زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کو دوبارہ صلح پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

دنیا بھر میں دوسری بہت سی جگہوں کی طرح کووڈ۔19 کے نتیجے میں لگنے والے لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کے اقدامات کی وجہ سے اس سال چین میں بھی گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

لو پن کا خیال ہے کہ یہ آگاہی میں اضافے کی وجہ سے بھی ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں ذاتی طور پر سمجھتی ہوں کہ اس سے بھی اسے زیادہ ایکسپوژر ملا ہے کیونکہ لوگ اب اس معاملے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔‘

’اب زیادہ متاثرین اس پر بول رہے ہیں اور انھیں عوام سے زیادہ حمایت مل رہی ہے، لیکن ان پر حملے بھی ہوئے اور انھیں بہت بدنام بھی کیا گیا۔ اس سطح پر لوگوں میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہوا ہے کہ مسئلہ موجود ہے، اس لیے بحث گرما گرم ہے۔‘

فینگ یوان کے مطابق جس چیز نے اس کو بڑھاوا دیا وہ 2018 میں چین میں آنے والی می ٹو تحریک تھی، جس کی وجہ سے مختلف اداروں اور معاشرے کے حصوں سے وابستہ لوگوں پر الزامات لگائے گئے۔

A supporter of Zhou Xiaoxuan, a feminist figure who rose to prominence during Chinas #MeToo movement two years ago

Getty Images
چین میں دو سال پہلے می ٹو تحریک سامنے آئی تھی

فینگ یوان کہتی ہیں کہ اس ’اجتماعی دلچسپی‘ کے موضوع نے لوگوں کو ایک ساتھ کر دیا تھا اور ایسے معاملات پر زور دیا گیا جو شاید کبھی قومی سطح پر یا آن لائن اور میڈیا کے اداروں تک نہ پہنچ پاتے۔

اس طرح کے معاملات پر غیر ملکی رپورٹنگ میں اضافے نے بھی، جس میں جیسے ایک انٹرن کا اپنے باس پر مقدمہ چلانا شامل تھا، چین میں اس موضوع میں دلچسپی کو مزید مستحکم کیا۔

گھریلو تشدد سے ہٹ کر، نقادوں نے بھی اس بات کو اجاگر کیا کہ اس گانے نے چین کی پدر سری اقدار پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

لو پن کہتی ہیں کہ ’اصل میں یہ ایک فیمینسٹ گانا ہے اور چین کے مرکزی دھارے میں شامل موسیقی کے منظر میں نسوانیت ایک بہت ہی نادر تھیم ہے۔ حقیقت میں بہت سے گانے ہیں جو فیمینزم کے خلاف ہیں۔‘

’چین کی مشہور شخصیات اور اینٹرٹینمنٹ کے کام بہت کم ہی سماجی حقیقتوں پر تنقید کرتے ہیں، اس طرح کے تیز اور شدید ردِ عمل کی تو بات ہی نہ کریں۔ ٹین بہت نڈر ہیں۔‘

Singer Tan Weiwei

Getty Images
ٹین چین میں ایک مشہور سنگر ہیں

چین میں عام نہیں ہے کہ مشہور شخصیات کسی چیز کے خلاف بولیں، کیونکہ حکام اکثر ایسے مضامین کو سینسر کرتے ہیں جن کو حساس سمجھا جاتا ہے۔ جب سے گانا وائرل ہوا ٹین نے بھی پبلک میں اس پر بات کی ہے اور نہ ہی کوئی انٹرویو دیا ہے۔ انھوں نے انٹرویو کے لیے بی بی سی کی درخواست کا بھی کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

بہت سے لوگوں نے آن لائن پر ٹین کے لیے تشویش کا اظہار کیا ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا کہ آخرکار اس گانے کو سنسر کر دیا جائے گا۔ لیکن اس کا کتنا امکان ہے؟

لو پن کہتی ہیں کہ ’یہ کہنا مشکل ہے۔ کسی کو قطعی طور پر نہیں پتہ کہ سرخ لائن کہاں پر ہے۔‘

’لیکن میرے لیے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت گانا موجود ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ عورتوں کے حقوق کو مضبوط طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے اور وسیع سطح پر اس پر ایک بحث شروع ہوئی ہے۔

’یہ ہمارے معاشرے کی ترقی کا ایک نیا آغاز ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17264 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp