صوبائی اور لسانی عصبیت کی اٹھتی بادِ صر صر

کسی بھی انسان کے اندر اپنی قوم، وطن یا زبان سے محبت کا جذبہ فطری طور پہ موجزن ہوتا ہے، اور یہ ایک زندہ دل انسان کے زندہ ہونے ہونے کی علامت ہے۔ تاہم یہ جذبہ ایک فطری حد تک برقرار رہے تو معاشرے میں توازن کا عنصر برقرار رکھتا ہے، مگر جب یہ جذبہ اپنی فطری حدود و قیود سے تجاوز کرے تو معاشرے میں عدم توازن کی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے اور یوں نتیجہ انارکی اور طوائف الملوکی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

پاکستان چار اکائیوں پر مشتمل ایک وفاق ہے جن کو ہم صوبوں کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ صوبے انتظامی امور کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے علاقوں کے اندر بولے جانے والی اکثریت کی زبان کے بھی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔ اور ہمارے ملک کے باخبر عوام اس حقیقت سے بھی واقف ہیں کہ پاکستان میں لسانیت کا مسئلہ قیامِ پاکستان کے وقت پیدا ہوا تھا، جب ملک کی اکثریت کی ماں بولی یعنی بنگالی کو قومی زبان قرار دینے سے انکار کیا گیا اور یوں سینوں میں علیحدگی کا وہ بیج پیدا ہو گیا جس کا نتیجہ بالآخر ملک کے ٹوٹنے کی صورت میں نکلا اور آج تک ہم ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہراتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اس المناک سانحے کے بعد یہ مسئلہ اتنی شدت سے سامنے نہیں آیا۔ تاہم لسانیت اور صوبائیت کی حالیہ لہر کا محرک محمود خان اچکزئی کا وہ بیان ہے، جو انہوں نے کچھ دن قبل لاہور میں دیا ہے، جہاں انہوں نے اپنی قوم کے اوپر ہونے والی انگریز دور کی زیادتیوں اور ظلم کا ذمہ دار کچھ لاہوریوں یعنی پنجابیوں کو قرار دیا۔

اس بات سے قطع نظر کہ اس میں کتنی صداقت ہے، تاہم اس کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر یہ مسئلہ دوبارہ ابھرا ہے اور اب ہر کس و ناکس اسی کے بابت بات کرتا نظر آتا ہے۔ اسی "ہم سب” ویب سائیٹ پہ بھی کچھ دن قبل ایک مضمون شائع ہوا ہے، جس میں صاحبِ مضمون نے اپنی سے کوشش کر کے بنگلہ دیش کے قیام کا مدعا بھارت اور مکتی باہنی کے اوپر ڈالنے کی کوشش کی ہے، مگر اس کے جواب میں تبصرہ نگار حضرات نے اپنے نکتہ نظر کا مرکزی خیال پنجاب کو ہی قرار دیا ہے۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ زمین کے اوپر فطری وسائل کی تقسیم کچھ اس طور پر ہے، کہ کہیں چٹیل میدان ہیں تو کہیں لہلہاتے کھیت، کہیں صحرا کی وسعت ہے، تو کہیں دریا کی روانی ہے۔ کہیں زراعت کیلئے زمیں موزوں ہے، تو کہیں کان کنی کیلئے عناصر سازگار ہیں۔ تاہم ان قدرتی وسائل کو انسانوں کے اندر مساوی بنیاد پر تقسیم کرنا حکومتِ وقت کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ہے۔ کیونکہ اگر حکومتِ وقت ان وسائل کو برابری کی بنیاد پر تقسیم نہیں کرے گی، تو معاشرے میں بے چینی، عدم تحفظ اور احساسِ محرومی جیسے مسائل پیدا ہوں گے۔ اور اس کے ساتھ مالی استحصال اور لوٹ کھسوٹ کا بھی وہ بازار گرم ہوگا، جو معاشی ناہمواری اور چند خاندانوں کی امارت کی صورت میں سامنے آئے گا۔ تاہم ایک متوازن سیاسی اور معاشی پالیسی اور سوچ رکھنے والی حکومت سب سے پہلے اس اہم مسئلے کی طرف توجہ دیتی ہے، تاکہ معاشرے کے اندر توازن برقرار رہے، اور زندگی اپنی آب و تاب اور روانی کے ساتھ چلتی رہے۔

اگر ہم تاریخ ِ پاکستان کا جائزہ لیں تو پاکستان کے قیام سے لیکر ابتک جتنی بھی حکومتیں اقتدار میں آئیں، چاہے وہ جمہوریت کے بھیس میں تھیں یا مارشل لاء کے روپ میں، ان کے سیاسی منشور کے اندر اس بات کا دور دور تک بھی پتہ نہیں چلتا کہ ان وسائل کو برابر کی بنیاد پہ کیسے تقسیم کیا جائے تاکہ وہ علاقے اور صوبے جو ان قدرتی وسائل سے محروم ہیں وہ بھی قومی دھارے میں برابر کے شریک ہو کر یکساں ترقی کریں۔ چنانچہ یہاں بھی انگریزی طرزِ حکومت کی مانند کبھی ایک جماعت کو مضبوط کیا گیا، تو کبھی دوسری جماعت کو، اور ساتھ ہی ساتھ غیر جمہوری ہتھکنڈوں کی بدولت منتخب حکومتوں کو ختم کر کے اس یقین کو مزید پختہ کیا گیا کہ یہاں صرف مخصوص افراد اور اداروں کو ہی کام کرنے کی نہ صرف اجازت ہے، بلکہ جو ان کے خلاف کچھ سوچنے کی جرات بھی کرے تو اس کو نشانِ عبرت بنا دیا جائے۔

چنانچہ صوبہ خیبر پخنون خوا (اُس وقت کے صوبہ سرحد) اور صوبہ بلوچستان کے اندر عوامی طاقت سے قائم شدہ حکومتوں کو گرانا اور ان کی جگہ اپنی مرضی کے کٹھ پتلی حکمرانوں کو لانا، ملک کے پسماندہ علاقوں میں صنعتیں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بجائے مخصوص علاقوں پہ توجہ دینا، تیل اور گیس کی دریافت والے علاقوں کو اس سے محروم کر کے مخصوص شہروں اور علاقوں کو ان نعمتوں سے مستفید کرنا، صوبوں کو رائیلٹی میں سے حصہ نہ دینا وغیرہ وغیرہ وہ مسائل ہیں، جنہوں نے نہ صرف ان نفرتوں کی خلیج کو مزید گہرا کیا، بلکہ احساسِ محرومی کا تاثر بھی پختہ کیا۔ اور یہ احساسِ محرومی جو ہمارے ان غیر جمہوری افعال کا شاخسانہ ہے، اُس کا نتیجہ لسانی اور صوبائی عصبیت کی صورت میں نمودار ہوا ہے، اور آج تینوں صوبوں کے عوام اپنے اوپر ہونے والی تمام زیادتیوں اور ظلم کا ذمہ دار ان اداروں کو نہیں بلکہ ایک صوبے کو قرار دیتے ہیں، جس کے اپنے عوام آج بھی بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

لہذا ہمیں اس سارے تناظر میں بطورِ پاکستانی قوم ہوکر یہ سوچنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم، ایک صوبے اور اس کی عوام کو مشقِ ستم بنانے کی بجائے اُن اداروں اور خفیہ ہاتھوں کے کردار کا جائزہ لیں، جو آج بھی ہمیں بطورِ ایک قوم دیکھنے پہ خوش نہیں ہیں۔ وہ نادیدہ قوتیں جنہوں نے ہمیں، ہمارے تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرکے، ہمیں آپس میں دست و گریباں کرکے اپنے کام کو اور آسان کر دیا ہے۔ ہمارے آج کے نوجوان کو ذہنی اور فکری بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوتے، نعروں اور بندوق کی بجائے مکالمے کا راستہ چننا ہوگا اور حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

اگر ہم بطورِ پاکستانی اس سوچ پہ مزید زندگی ضائع کریں گے، کہ شاید یہ حکومتیں اور ادارے اپنے منشور کے اندر اس بات کو شامل کریں گی، اور صوبائی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے کوئی لائحہ عمل مرتب کریں گی تو یہ وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ 1947 سے جو مسئلہ شروع ہوا تھا اس کے بعد 24 برس گزرے مگر ہم نے اس حوالے سے کوئی ٹھوس پروگرام ترتیب نہ دیا اور یوں وہ آگ جو قومی زبان کے مسئلے کی صورت میں بھڑکی تھی، اُس نے اپنی لپیٹ میں ملک کو لے لیا تھا اور جب دھویں کے بادل چھٹے تو پتہ چلا کہ ہم نے اپنا آدھا ملک گنوا دیا ہے۔ لہذا ہمارا ملک نہ تو مزید کسی ایسی صورتِ حال کا متحمل ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کے نتیجے میں کوئی بہتری آنے کے آثار رکھائی دیتے ہیں۔ اس لئے ہمیں اپنی محرومیوں کا ذمہ دار کسی ایک صوبے یا زبان کو قرار دینے کی بجائے اُن اصل کرداروں کے تعین کا ہے جنہوں نے ان نفرتوں کے بیج کو یہاں بویا اور پھر اس کی فصل آج ہم کاٹ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words