بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو گیا
انیس دسمبر کو رات نو بجے دنیا نیوز کی ہیڈلائنز شروع ہوئیں تو ایک خاتون کی گمبھیر آواز سنائی دے رہی تھی۔ ان خاتون نے فاتحانہ انداز میں پہلی ہیڈلائن یہ پڑھی:
”سیکولرازم کے دعویدار بھارت کا اصلی چہرہ بے نقاب۔ مودی کے دیس میں انسانی آزادی کی صورت حال بد ترین۔ انڈیکس میں انڈیا کی سترہ درجے تنزلی۔ 162 ممالک کی فہرست میں 111 ویں نمبر آ گیا۔ امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ جاری۔“
بھارت اور پاکستان کا باہمی تعلق ایسا ہے جس پر پنجابی کی یہ مثل صادق آتی ہے۔ ”شریکاں دا منہ لال ہووے تے اپنا چپیڑاں مار کے کر لو۔“ یعنی ہم نے شریکوں کا مقابلہ ضرور کرنا ہے خواہ اس کے لئے اپنے منہ پر خود ہی تھپڑ کیوں نہ مارنے پڑیں۔ جب دنیا نیوز نے پوری قوم کو یہ خوش خبری سنائی کہ امریکی تھنک ٹینک نے رپورٹ جاری کی ہے کہ بھارت میں انسانی آزادی کی صورت حال بد ترین ہو چکی ہے تو اس عاجز کو بھی شوق پیدا ہوا کہ دیکھیں ان شریکوں کو کیا زک پہنچی ہے اور ویسے بھی اگر رپورٹ انگریزی میں ہو اور امریکہ سے جاری ہو تو ہم جیسے ”کالا لوگ“ اس کو معتبر ہی سمجھتے ہیں۔ کچھ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔
جب جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ رپورٹ واشنگٹن کے کیٹو (Cato) انسٹی ٹیوٹ نے جاری کی ہے۔ دنیا بھر کے چوٹی کے پندرہ تھنک ٹینکس میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اس بات کی بھی خوشی ہوئی کہ بھارت کو کسی للو پنجو سے نہیں بلکہ چوٹی کے تھنک ٹینک کے ہاتھوں زک اٹھانی پڑی ہے۔ اور پاکستان کا دیرینہ موقف تسلیم کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے وزیر خارجہ کہیں کہ یہ سب کچھ موجودہ حکومت کی کاوشوں سے ہوا ہے۔
یہ تھنک ٹینک کچھ سال کے بعد ایک رپورٹ جاری کرتا ہے۔ اس رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک میں انسانی آزادی کا انڈیکس یعنی Human Freedom Indexجاری کیا جاتا ہے۔ اس انڈیکس کو بناتے ہوئے یہ جائزہ لیا جاتا ہے کہ مختلف اعتبار سے ان ممالک میں انسانی آزادی کی کیا صورت حال ہے؟ اور 76 پیمانے استعمال کر کے دیکھا جاتا ہے کہ مختلف ممالک میں قانون کی حکمرانی، انسانی تحفظ، نقل و حرکت کی آزادی، مذہبی آزادی۔ اظہار و اجتماع کی آزادی، بین الاقوامی تجارت کی سہولیات وغیرہ کی کیا صورت حال ہے؟
اور ہر تجزیے کے نتیجے میں کچھ نمبر دیے جاتے ہیں۔ اس اعتبار سے ہر ملک کو صفر سے دس نمبر دیے جاتے ہیں۔ یعنی سکول کالج کی طرح جس کے نمبر زیادہ ہوں گے اس کی پوزیشن اچھی ہو گی اور جس کے نمبر کم ہوں گے وہ پھسڈی سمجھا جائے گا۔
اس سال کی رپورٹ میں یہ تجزیہ پیش کیا گیا کہ مجموعی طور پر دنیا میں انسانی آزادی میں کوئی تسلی بخش بہتری نہیں آ رہی۔ 70 ممالک میں یہ صورت حال بہتر ہوئی ہے تو 70 ممالک میں انسانی آزادی کی صورت حال پہلے سے خراب ہوئی ہے۔ اور باقی ممالک میں کوئی فرق نہیں پڑا۔
خیر ہمیں دنیا سے کیا؟ ہم نے تو یہ دیکھنا تھا کہ بھارت کی سبکی کیسے ہوئی۔ فوراً سرچ کیا کہ بھارت کا نام کہاں لکھا ہے؟ سکرین پر بھارت کا نام نظر آیا۔ ساتھ ہی بڑا بڑا 111 لکھا ہوا تھا یعنی 162 ممالک میں بھارت کی پوزیشن اتنی خراب ہے کہ بہتر نصف میں بھی نہیں آ سکا۔ خدا کا شکر کیا کہ دشمن رسوا ہوا۔ پوزیشن کے ساتھ بھارت کے نمبر بھی درج تھے۔ اس کے مطابق بھارت نے انسانی آزادی کے امتحان میں دس میں سے تقریباً ساڑھے چھ نمبر ملے۔ ذرا صدمہ ہوا کہ مودی صاحب کو اس سے بھی کم نمبر ملتے تو اچھا تھا۔ ہم سے مشورہ ہی کر لیتے۔
اس کے بعد خیال آیا کہ ذرا دیکھیں وطن عزیز نے اس امتحان میں کیا پوزیشن اور کتنے نمبر حاصل کیے ہیں؟ پھر سرچ کیا۔ پاکستان کا نام سکرین پر نمودار ہوا۔ ایک بار دیکھا۔ دوسری مرتبہ دیکھا۔ آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔ اپنے آپ کو چٹکی کاٹ کر دیکھا۔ لیکن سامنے پاکستان کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ پوزیشن 140 تھی۔ یعنی 162 ممالک میں صرف 22 ایسے بد نصیب ممالک ہیں جو اس اعتبار سے ہمارے سے بھی زیادہ پھسڈی ہیں۔
خیال آیا کہ تھنک ٹینک والے گھاس کھا گئے ہیں۔ حساب کی غلطی ہو گی۔ اپنے نمبر دیکھے تو وہ صرف ساڑھے پانچ کے قریب تھے یعنی بھارت سے بہت پیچھے۔ ہر شعبے کا جائزہ لینا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ قانون کی حکمرانی میں پاکستان کے صرف 33 فیصد نمبر تھے۔ بھارت کے 43 فیصد یعنی دونوں ہی فیل۔ مذہبی آزادی میں پاکستان کے 35 فیصد اور بھارت کے 50 فیصد۔ یعنی تصور کریں کہ بی جے پی کے دور میں بھی ہم مذہبی آزادی میں بھارت سے کمتر نکلے۔ میڈیا کی آزادی میں پاکستان کے پچیس فیصد نمبر اور بھارت کے پچاس فیصد۔ اکثر اعتبار سے پاکستان بھارت سے پیچھے تھا۔
اس بحث میں الجھنے کی ضرورت نہیں کہ یہ رپورٹ منصفانہ ہے کہ نہیں۔ یا یہ کہ اس رپورٹ کی کیا وقعت ہے؟ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اس رپورٹ کا حوالہ دے کر دنیا نیوز بغلیں بجا رہا ہے کہ بھارت کی بے عزتی ہو گئی کہ اتنی گری ہوئی پوزیشن آئی اور پاکستان کی اپنی حالت یہ ہے کہ ان سے بھی بد تر حالت ہے۔ اور صرف بھارت پر ہی موقوف نہیں اس خطے میں سری لنکا، بھوٹان، بنگلہ دیش اور نیپال بھی ہم سے بہتر حالت میں ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ، سویٹزرلینڈ، ہانگ کانگ، ڈنمارک اور آسٹریلیا بالترتیب دنیا کے پانچ بہترین ممالک ہیں۔ اور مزید قابل افسوس بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں سمجھا گیا کہ اسے پہلے پچاس ممالک میں شامل کیا جاتا۔ ان ممالک میں سب سے اوپر جس مسلمان ملک کا نام آتا ہے وہ انڈونیشیا ہے جس کی پوزیشن 68 نمبر پر ہے۔ لیکن دس بد ترین ممالک میں سے 8 ممالک مسلمان اکثریتی ممالک ہیں۔
اس رپورٹ پر تو ہمیں ماتم کرنا چاہیے تھا۔ ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیے تھا۔ اپنے ملک کو اور اس کے تاثر کو بہتر بنانے کی فکر ہونی چاہیے تھی۔ لیکن ہمیں یہ افیون چٹائی جا رہی ہے کہ خوش ہو جاؤ بھارت کی پوزیشن گر گئی ہے۔ یہی وہ ذہنی غلامی کی زنجیریں ہیں جن سے 1947 سے اب تک ہمیں باندھ کر غلام بنایا ہوا ہے۔ ہمیں اس وہم میں مبتلا کیا ہوا ہے کہ انگریز چلا گیا تم اب آزاد ہو۔ اہل نظر ”داغ داغ اجالا“ اور ”شب گزیدہ سحر“ کی دہائی دیتے ہوئے چلے بھی گئے اور ہم پھر بھی 14 اگست کو جھنڈیاں لگانے کو آزادی سمجھے جا رہے ہیں۔
حالت یہ ہے کہ اس رپورٹ کے مطابق مذہبی آزادی کے اعتبار سے 162 ممالک میں صرف بحرین، برونائی، چین، مصر، سعودی عرب، شام، اور یمن اس اعتبار سے ہم سے پیچھے ہیں۔ اور ہمسایہ ملک ایران ہمارے برابر۔ ملاحظہ فرمائیں کہ سوائے چین کے یہ تمام ممالک مسلمان ممالک ہیں۔ اور دنیا نیوز اسے ہماری ایک عظیم فتح کے طور پر نشر کر رہا ہے۔ اور اس اعتبار سے پاکستان 2008 سے لے کر اب تک مسلسل تنزل کا شکار ہے۔
اس رپورٹ پر آسان رد عمل تو یہ ہو سکتا ہے کہ ایک پروقار پریس کانفرنس کر کے اسے رپورٹ کو مسترد کر دیا جائے۔ یا اسے دشمنوں کی سازش قرار دے دیا جائے۔ اور ہمارے وزیر خارجہ اس بات کا کافی تجربہ حاصل کر چکے ہیں۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا نیوز کی طرح بھارت کی سبکی پر اظہار اطمینان کیا جائے۔ لیکن عقل کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنا احتساب کرتے ہوئے خود دیکھیں کہ ہم پاکستان میں انسانی آزادی کی صورت حال کو بہتر کس طرح بنا سکتے ہیں؟


