وہ دل کہاں سے لاؤں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کون سی پیتے ہو؟ بوڑھے نے جمائی لے کر کہا تھا۔ میری ملاقات اس سے ہیتھرو ائرپورٹ پر ہوئی تھی۔ میں کینیڈا سے لندن کے راستے کراچی جا رہا تھا، وہ لندن سے ہانگ کانگ جا رہا تھا۔ دبئی تک ہم دونوں کی مشترکہ فلائٹ تھی۔ دبئی سے مجھے کراچی چلا جانا تھا اور اس کو ہانگ کانگ۔ ہم دونوں فرسٹ کلاس لاؤنج میں ساتھ بیٹھے تھے۔ مجھے تو میری کمپنی نے ٹکٹ دیا تھا اور ہم لوگ ہمیشہ فرسٹ کلاس میں ہی سفر کرتے تھے۔

فرسٹ کلاس کی عیاشی کا مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا جب تک میں اس کلاس میں بیٹھا نہیں تھا۔ اپنے خرچے پر تو میں ہمیشہ اکانومی کلاس میں ہی سفر کرتا تھا، فرسٹ کلاس کے مقابلے میں ہوائی جہاز کا اکانومی کلاس ایسا ہی تھا جیسے تھرڈ کلاس کا ڈبہ۔ قریب قریب کی سیٹیں اس کے اوپر شوروغوغا۔ فرسٹ کلاس کی سیٹیں کشادہ ہوتی ہیں، آگے پیروں کو پھیلانے کی بے شمار جگہ، کھانا مینو کے چوائس پر ملتا ہے اور بے شمار شراب۔ پوری دنیا کلاسوں میں بٹی ہوئی ہے اور ہر جگہ فرسٹ کلاس کی اور بات ہے۔ اورنگی ہو کہ ڈیفنس، لیاری ہو کہ کلفٹن اور ہوائی جہاز ہو کہ سینما ہال۔ کلاسوں کا یہ نظام بہت جلد میری سمجھ میں آ گیا تھا۔

ہم دونوں ہی فرسٹ کلاس کے لاؤنج میں بیٹھے سنگاپور ائرلائنز کی پرواز کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ میرے برابر میں آ کر بیٹھ گیا تھا۔ ساٹھ پینسٹھ سال اس کی عمر ہوگی کراچی میں تو بوڑھا ہی کہلاتا۔ سرخ و سفید رنگ، جاذب نظر شخصیت میں کچھ تھا کہ میں خود ہی اس کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔ جاوید احمد خاں نام تھا اس کا ۔ اس کے کارڈ پر یہی لکھا تھا، ساتھ ہی ایڈنبرا کی کسی انڈسٹری کا نام جس کا وہ منیجنگ ڈائریکٹر تھا۔

اسکاچ ود روک میں نے کہا تھا، اس نے انگلی کے اشارے سے ویٹرس کو بلایا اور مزید شراب کا آرڈر دیا تھا۔ ہم لوگ کافی دیر سے پی رہے تھے۔ چیک ان ہونے کے بعد جب سوار ہونے کو تیار تھے کہ کسی وجہ سے جہاز تین گھنٹے کے لیے روک لیا گیا تھا۔ جاوید خان صاحب خود ہی میرے پاس آ کر بیٹھے تھے۔ ان کے اجلے رنگ میں بھی جو مشرقیت شامل تھی اس سے مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ پاکستان ہندوستان کے ہی ہوں گے۔ میں سمجھا تھا کہ شاید پٹھان ہوں گے اور کارڈ پر بھی خان ہی لکھا ہوا تھا مگر وہ پٹھان نہیں تھے۔ بہاری تھے، بہار کے پٹھان۔ میرا نہیں خیال تھا کہ بہار میں بھی خان ہوتے ہوں گے۔ میرے جاننے والوں میں اور میرے دوستوں میں جو بھی بہاری تھے وہ کالے تھے، چھوٹے قد کے، دبلے پتلے لوگ۔ میں نے شاید پہلی دفعہ کسی خوب صورت بہاری کو دیکھا تھا۔ میں اپنے اس تعجب کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکا تھا۔

وہ زور سے ہنسے۔ نہیں، ایسا نہیں ہے بہار میں بھی ہر ساخت کے لوگ مل جائیں گے، میں بھی سمجھ لو عام ساخت سے الگ ہوں اور اب تو برسوں سے ایڈنبرا میں رہتا ہوں۔ اسکاٹ لینڈ کا ہوا پانی شاید کچھ زیادہ ہی اچھا ہے۔ میں نے بھی دل میں سوچا تھا کہ اسکاٹش بھی تھوڑے تھوڑے بہاری ہی ہوتے ہیں، یہ خوب رچ بس گئے ہوں گے ان لوگوں میں۔ انہوں نے میری خالی ہونے والے گلاس کو دیکھ کر اپنے لیے اور میرے لیے منگوانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

ہم دونوں نے جام ٹکرا کر گھونٹ بھرے، پھر انہوں نے کہا کہ جب مجھے والدین نے علی گڑھ یونیورسٹی پڑھنے بھیجا تھا تو وہاں بھی یہی ہوا تھا۔ پہلے ہی دن دوسروں نے مجھے بہاری کہہ کر مذاق اڑایا تھا مگر میں بھی خاموش نہیں بیٹھا تھا۔ اس وقت صرف انیس سال عمر تھی میری اور خون بہت گرم۔ میں نے مرزا نجیب کا ہاتھ اس وقت تک نہیں چھوڑا تھا جب تک اس نے معافی نہیں مانگی تھی۔ اس کے بعد سارے ہی یوپی والے خاموش ہو گئے تھے اور میں نے اپنی عزت منوا لی تھی۔

وہ مسکرائے پھر بولے کہ ایسا ہے کہ بہاری بہار سے تو نکل جاتا ہے اور کہیں بھی جاکر بس جاتا ہے، مگر بہار بہاری سے نہیں نکل سکتا ہے۔ میرا بھی وہی خیال تھا جو جاوید صاحب کا تھا۔ کراچی میں، میں جتنے بہاریوں کو جانتا تھا وہ سب تھے تو کراچی میں مگر ان کے اندر کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی بہاری چھپا ہوا تھا۔ میں نے ہنس کر انہیں بتایا تھا وہ مسکرائے تھے ”اچھا تو تم کراچی میں رہتے ہو؟ میں بھی کبھی اس شہر میں رہتا تھا اب تو میں نے سنا ہے سب کچھ بدل گیا ہے، کراچی بڑا ہو گیا ہے، پھیل گیا ہے اور نہ جانے کیا کیا ہو گیا ہے اور سنا ہے بہت کچھ ہوتا ہے وہاں پر ۔“ میں سمجھ گیا تھا وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

کب سے کراچی نہیں گئے ہیں آپ؟ میں نے بات جاری رکھنے کے لی پوچھا تھا۔

چالیس سال سے زیادہ ہو گیا ہوگا۔ ایک دفعہ جب نکلا تو پھر کراچی واپس نہیں گیا۔ اصل میں کراچی میں کچھ رہا نہیں تھا۔ ایک بہن اور ایک پھوپھی ہندوستان میں رہ گئے ہیں۔ کبھی کبھار بہار پٹنہ چلا جاتا ہوں۔ کراچی مجھے تو جانا چاہیے لیکن دل نہیں کرتا ہے۔ انہوں نے سگریٹ کا ایک طویل کش لیا، گلاس کا آخری گھونٹ بھرا اور فضا میں ایسے دیکھا تھا جیسے دور بہت دور تک دیکھ رہے ہیں، کسی بہت پرانی تصویر کو۔

میں نے ویٹرس کو اشارہ کیا تھا، اپنے لیے اسکاچ اور جاوید صاحب کے لیے پیڈی منگوائی تھی۔ وہ پیڈی ہی پی رہے تھے۔ پیڈی آئرلینڈ کی وہسکی تھی۔ مجھے بھی پسند تھی مگر آج جانی واکر سے ہی دل لگی ہو رہی تھی۔ تم کیا کرتے ہو کراچی میں؟ انہوں نے پوچھا تھا۔

کاروبار ہے ہم لوگوں کا ۔ میرے سسر کا بڑا کام ہے وہ ہیوی مشین سے لے کر دوائیں تک امپورٹ کرتے ہیں اور اس کام کی کافی ذمہ داری مجھ پربھی ہے۔ میں کافی نشے میں تھا اور نہ جانے کیوں اپنی ساری کہانی انہیں سنا بیٹھا تھا۔ کھوکھرا پار سے کلفٹن تک۔ ہم لوگ کھوکھرا پار میں رہتے تھے، وہاں کے ہی اسکول سے میں نے میٹرک پاس کیا تھا پھر علامہ اقبال کالج ائرپورٹ سے بی کام کر کے کراچی کے جنگل میں روزگار کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا تھا۔ میرے والد الٰہ آباد سے کراچی آئے تھے۔ شریف آدمی تھے اور شرافت کے ساتھ انہوں نے ساری زندگی کھوکھرا پار میں ہی گزار دی۔

وہ کسٹم میں کام کرتے تھے اور اپنے ہی محکمے میں سب سے زیادہ نفرت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، وہ نہ رشوت لیتے تھے اور نہ ہی رشوت لینے دیتے تھے۔ میں نے انہیں کبھی بھی خوش نہیں دیکھا۔ شاید مطمئن تھے مگر خوش نہیں تھے۔ ہمیشہ ان کا ٹرانسفر ہوجاتا تھا۔ ایسے حالات میں میری غفور سیٹھ سے ملاقات ہوئی تھی۔ غفور سیٹھ میمن تھے اور شہر کے میمنوں میں ان کی بڑی عزت تھی۔ ان کا بڑا کاروبار تھا۔ شہر کی ہر خالی نظر آنے والی جگہ پر انہوں نے فلیٹ بنائے تھے۔ پراپرٹی میں لاکھوں کروڑوں بنانے کے بعد انہوں نے ہیوی مشینری کی امپورٹ بھی شروع کردی تھی پھر وہ دواؤں کی امپورٹ میں بھی لگ گئے تھے۔ اس کام میں بہت منافع تھا۔

اسلام آباد میں تھوڑی رقم خرچ کر کے کوئی بھی دوا رجسٹرڈ کرائی جا سکتی ہے اور اسے تھوڑی سی اشتہار بازی کے بعد بیچا جاسکتا ہے۔ مردانہ کمزوری کی دوا سے لے کر اینٹی بائیوٹک تک اور کوریا سے لے کر تائیوان اور امریکا تک سے ہر قسم کی دوائیں ہم لوگ امپورٹ کرتے ہیں۔ پاکستان آزاد ملک ہے اور آزادی سے ہر چیز بیچی جاتی ہے۔ میں آہستہ آہستہ غفور سیٹھ کے اتنے قریب آ گیا تھا کہ ایک دن انہوں نے مجھ سے خود ہی پوچھا لیا تھا کہ کیوں نہ میں ان کی بیٹی زیتون سے شادی کرلوں۔ ان کا ان کی بیٹی کے علاوہ کوئی اور تھا بھی نہیں۔ میری ماں نے زیتون کو بدصورت کہہ کر مسترد کر دیا۔ پھر ہم لوگ الٰہ آباد کے مہاجر تھے میمنوں میں شادی نہیں کر سکتے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4