قائد اعظم جناح: وہ کوہکن کی بات گئی کوہکن کے ساتھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قیادت ان لوگوں کی منتظر رہتی ہے جو اٹھ کر یہ کہنا جانتے ہوں کہ! وہ کیا سوچتے ہیں۔ بہترین قائد وہ ہے جو مشن کے حصول کے لیے نہ صرف خود پر عزم ہو بلکہ دوسروں کو بھی عمل پر آمادہ کرتا رہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ہمارے وہ قائد ہیں جنہوں نے غلامی کی شب تاریک کو صبح آزادی کے نور سے ہمکنا رکیا۔ بکھری ہوئی قوم کو بنیان مر صوص بنایا۔ قائد اعظم نے درہ خیبر کے پہاڑوں سے لے کر خلیج بنگال تک مسلمانوں کو ایک ولولہ عطا کیا، صرف یہ ہی نہیں بلکہ ہندوؤں کے مکر و فریب کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ آپ نے مظلوموں کو سحر کاپیغام دیا، ارض پاک کو ایک نیا نقشہ عطا کیا۔ کفر کے ایوانوں میں بانی پاکستان نے لرزہ برپا کر دیا۔

1857 کی جنگ آزادیٔ کے بعد ہندوؤں نے انگریزوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے ہندوستان کے مسلمانوں کو کچھ اس انداز میں نیست و نابود کرنے کا سوچا کہ مسلمانوں پر تدریس کے دروازے بند کر دیے گئے۔ سرکاری ملازمتوں کا باب بند ہو گیا۔ تعمیر و ترقی کی شاہراہ سے اتار کر انہیں مایوسی اور نا امیدی کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ انگریزو ں سے پہلے مسلمان جو کہ ہندوستان کے مالک و مختار تھے، غلام بن کر انگریزوں کی خدمت کرنے پر مجبور ہو گئے۔

ہندو سامراج کے نا خداؤں نے مسلمانوں کو ناپاک قرار دے دیا۔ سردار پٹیل نے مسلمانوں کو یہاں تک دھمکی دی کہ اگر ہندوستان میں رہنا ہو تو ہندو بن کر رہو یا پھر ہندوستان چھوڑ کر چلے جاؤ۔ ایسے ہی حالات میں ہندوستان کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک ایسی آواز گونجی آواز کیا تھی گویا صور اسرافیل تھا جس نے ہندوؤں اور انگریزوں کو پریشان کر کے رکھ دیا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ببانگ کہا کہ ہندوستان میں دس کروڑ انسانوں پر مشتمل ایک ایسی قوم بھی آباد ہے جو کسی صورت بھی ہندوؤں کے ساتھ اتحاد نہیں کر سکتی، کیونکہ اس کا دین ایمان، قبلہ و کعبہ، رسول و ہادی، تہذیب و تمدن، معاشرت و ثقافت، اور مقصد زندگی ہندوؤں سے جدا ہے۔

اس لیے مسلمانوں کے لیے اب ایک ایسا خطہ زمین درکار ہے جہاں مسلمان اپنے دین و ایمان کو پروان چڑھا سکیں اپنی تہذیب و ثقافت کو پھلتا پھولتا دیکھ سکیں۔ جب قائد اعظم نے مسلمانوں کو بتایا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ تو ستلج اور بیاس کے پانیوں نے قائد اعظم کو خوش آمدید کہا۔ ایک ایک مسلمان قائد اعظم کے ساتھ آ کر کھڑا ہو گیا اور اس طرح پاکستان کی تحریک تندو تیز بن گئی۔ ہندوؤں اور انگریزوں کی سازشیں مٹی میں مل گئیں اور بالآخر ہم نے اس عظیم شخص کی قیادت میں پاکستان حاصل کر لیا۔ دنیائے سیاست میں قائداعظم محمد علی جناح کا نام ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گا۔

قائد اعظم جیسے دانائے راز، زعیم ملت، مجاہد بت شکن، کہ جس نے ریاست کے قیام کی خاطر انتھک جد و جہد کی، اس کے عطا کردہ ملک کے ساتھ آج ہم نے کیا کیا۔ ہم نے تخلیق پاکستان کے مقاصد پورے نہ کیے۔ دستور کی تدوین نہ جمہوری اداروں کی تشکیل کر سکے۔ ہم استحکام ملک اور داخلی و خارجی پالیسیوں کی ترتیب میں اپنا کر دار ادا نہ کر سکے۔ ہم ملک کو ترقی دینے اور آپ کی خواہش کے مطابق پاکستان کو ڈھالنے کی بجائے نسلی، لسانی، علاقائی اور صوبائی تعصبات کا شکار ہیں۔

اقتصادی بحران، دہشت گردی، مہنگائی، غربت، بے روزگار ی، رشوت، سفارش، کام چوری، نا اہلی، غداری، اسمگلنگ، قتل و غارت گری نے ہمیں اپنی نظروں میں گرا دیا ہے۔ ہم نے رواداری، محبت، یقین محکم، تنظیم تحمل، برداشت کاگلا اپنے ہاتھوں سے گھونٹ دیا پاکستان کو بام عروج تک لے جانے کی بجائے ہم نے اسے ذلت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔ شہیدوں کی روحیں ہماری غداری پر ماتم کر رہی ہیں کہ تم نے ہماری قربانیاں شکم پر وری کی نذر کر دیں۔

قائد اعظم نے ہمیں محبت اور اخوت کے رشتے میں پرویا تھا۔ ہم تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر گئے ہیں۔ ہم ایمان، اتحاد اور تنظیم جیسے سنہری اصولوں کو بھول گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا تھا ”پاکستان کا استحکام قانون کے احترام سے وابستہ ہے“ اور ہم میں نہ فکر و عمل رہا نہ جہد مسلسل۔ طلباء سے خطاب کرے ہوئے آپ نے فرمایا ”میرے نوجوان دوستوآپ اپنی شخصیت کو محض سرکاری ملازم بننے کے خول میں محدود نہ کیجیئے۔ اب نئے میدان، نئے راستے، اور نئی منزلیں آپ کی منتظر ہیں۔ سائنس، تجارت، بنک، بیمہ، صنعت و حرفت، اور فنی تعلیم کے شعبے آپ کی توجہ اور تجسس کے محتاج ہیں۔“ مگر ہم نوجوان نہ جدید تعلیم حاصل کر سکے نہ ہم میں کوئی جستجو رہی ہم بے راہ روی کا شکار ہو گئے۔ اے روح قائد ہم آپ سے شرمندہ ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائد اعظم کی سچائی، صداقت، دیانتداری اور ایمان اتحاد و تنظیم کے فلسفے کو سچے دل سے تسلیم کریں اور اس پر عمل کریں۔ قائدا عظم کو ہم سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ اپنی قوم کو ہر میدان میں کامیاب اور سرخرو دیکھنا چاہتے تھے آئیں! اک عہد کریں ساری برائیوں کو چھوڑ کر قائد ملت کے خوابوں کو تعبیر بخشیں، ان کی امیدوں کو پورا کریں۔ اور دنیا کے سامنے ایک ایسی قوم بن جائیں جن کو کوئی بھی نقصان نہ پہنچا سکے جن کے اتحاد کو کوئی نہ توڑ سکے۔ قتیل شفائی کہتے ہیں :

مولا ایک دعا ہے تجھ سے مجھ پیاسے کی
سو ردیاؤں کے بدلے ایک قطرہ زم زم دے دے
اک دعا ہے اور بھی مالک کرے قبول اگر تو
مجھ سے لے لے سارے رہبر اک قائد اعظم دے دے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •