اداروں کا دائرے سے تجاوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کائنات کی ہر شے ایک نظام کے تحت ہے اور وہ اپنے مدار میں حرکت کر رہی ہے، ہر چیز کا ایک دائرہ ہے اور وہ اپنی روٹین کے مطابق اسی میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

ہر شے ایک نظام کے تابع ہوتی ہے اور وہ اسی میں اپنا سفر جاری رکھے ہوتی ہے، اسی طرح انسان کی ترتیب دی گئی سلطنت بھی وہاں کے نظام یا قانون کے تابع ہوتی ہے اور وضع کیے گئے طریقہ کار کو وہاں کا قانون کہا جاتا ہے، اسی قانون کے مطابق مختص ادارے اپنا کام سر انجام دیتے ہیں، ان اداروں کا بھی ایک دائرہ یا حدود ہوتی ہیں جس کے اندر ہی وہ اپنے فرائض کو انجام دینے کے پابند ہوتے ہیں۔

کائنات کے نظام میں اگر سورج اپنے مدار کے مطابق نہ چلے یا چاند اپنی ترتیب کھو دے تو ساری کائنات کا نظام درہم برہم ہو سکتا ہے، اسی طرح کسی سلطنت میں ترتیب دیے گئے نظام اور اس کے تحت بنائے گئے ادارے بھی اپنے دائرے سے تجاوز کریں گے تو اس سلطنت کا نظام بگڑنے کا اندیشہ ہوتا ہے، جس سے ریاست کو بھاری نقصان کا سامنا کرنے کا اندیشہ لاحق ہوتا ہے۔

اگر کسی سلطنت کا ایک ادارہ خود کو مختار کل سمجھ لے اور باقی کے تمام کو اپنے سے نیچے گردانے تو پھر طبقاتی تفریق کے نتیجے میں اس سلطنت کا زوال کی جانب سفر شروع ہونے کے زیادہ چانسز ہوتے ہیں۔

ریاست کی عمارت مضبوط ستونوں پہ کھڑی رہتی ہے، ہمارے یہاں جمہوری ریاستی ڈھانچہ اوائل میں تین ستونوں پر کھڑا ہوا، جس میں مقننہ /انتظامیہ، عدلیہ اور فوج شامل تھے بعد میں اسے متوازی کرنے کے لیے میڈیا نے بھی حصہ ڈالا۔

ہمارے یہاں کی مقننہ کی اکثریت وڈیرہ شاہی پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے مقننہ ریاست کی بجائے اپنے لیے قانون سازی کرتی رہی اور خود کو محفوظ بناتی رہی، جس سے ریاست دن بدن کمزور ہوتی گئی، انتظامیہ نے ریاست کی بجائے ان کا ساتھ دیا جو اپنے مفاد کے لیے قانون ترتیب دے رہے تھے۔

فوج نے جب یہ صورتحال دیکھی تو فکرمندی کے ساتھ آگے بڑھی اور ریاست کی مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے سرحدوں کے ساتھ ساتھ ایوان اقتدار میں بھی تانکا جھانکی شروع کر دی، جس سے حصہ داروں میں اضافہ ہوا اور سلطنت مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہوتی گئی۔

اس ساری صورتحال میں عدلیہ تماشا دیکھتی رہی اور اپنی روٹین جاری رکھی، تاریخ پر تاریخ دینے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے اپنا نظام چلانے کی کوشش کی اور کبھی سؤموٹو لیتے ہوئے کسی کو نوٹس دے کر گھر بھجوایا تو کسی کو نوٹس دے کر بلوایا اور کسی نے نوٹس کے جواب میں یہ نعرہ لگایا کہ نوٹس ملیا تے ککھ نہ ہلیا۔

یہاں کی عدلیہ نے ریاست کو بہتری کی راہ پر ڈھالنے کے اپنے دائرے سے سر باہر نکالنے کی تدبیر کی، جس کے نتائج بجائے کچھ بہتر ہونے کے، منفی نکلے۔

ہمارے یہاں میڈیا جس تیزی سے آیا، آزاد اڑان بھری، خوب قلقاریاں ماریں اور اس نے بھی وہی کیا جو دیگر ادارے کر رہے تھے، اپنے دائرے سے باہر نکل کر تانکا جھانکی کر رہا تھا کہ اس کے پر کترنے کی کوشش کی گئی مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا اور اس نے اپنے راستے بنا لیے تھے، بہر کیف اس نے بھی عوام کو شعور دیا، مگر اس کی مقدار کچھ زیادہ ہو گئی جس سے بجائے بہتری کے نقصان ہی ہوا اور اس نے بھی ریاستی ڈھانچے کی کمزوری میں حتی المقدور اپنا حصہ ڈالا۔

ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے سبھی ادارے خود ہی حصہ بقدر جثہ ڈال رہے ہیں، اپنی حدود سے نکل رہے ہیں، دائرے عبور کر رہے ہیں اور اپنے تئیں یہی سمجھ رہے ہیں کہ ہم بہتر کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم غلط سمت گامزن ہیں۔

جب ریاستی ستون ہی بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو جاتے ہیں تو پھر عوام کا اللہ حافظ ہوتا ہے اور وہ شتر بے مہار کی طرح باغی ہو جاتے ہیں، جس کے منفی نتائج نکلتے ہیں پھر کہیں سے کوئی غداری کی صدا دیتا نظر آتا ہے تو کوئی سربازار گستاخی کے فتوے بانٹتا دکھائی دیتا ہے پھر اس بھگدڑ میں چپکے سے دشمن اپنا کام دکھاتے ہوئے ”جنت کے ٹکٹ“ بیچ کر خود کش دھماکے کروا دیتا ہے اور ہم انگلیاں دابے پکار اٹھتے ہیں یا اللہ رحم۔

جس طرح نظام کائنات میں ہر چیز اپنے مدار میں رواں دواں ہے، بالکل اسی طرح ریاستی اداروں کو بھی اپنے اپنے دائروں میں سفر کرنا چاہیے تاکہ ریاست بھی مضبوط رہے اور نظام مملکت بھی بخوبی چلتا رہے اور کوئی کسی کو برا بھلا، غدار یا گستاخ کہنے کی جسارت نہ کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •