بیرومیٹر، عمارت کی بلندی اور نیل بوہر


سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر ایک ممتحن اور طالب علم کا واقعہ گردش میں ہے جس میں یہ طالب علم، بیرو میٹر (دباؤ ماپنے والا آلہ) سے عمارت کی بلندی معلوم کرنے کے دلچسپ طریقے بیان کرتا ہے مگر ممتحن اسے صفر نمبر دیتا ہے جس پر طالب علم سراپا احتجاج ہوتا ہے۔ بالآخر ایک غیر جانبدار فرد کی ثالثی سے یہ مسئلہ حل ہوتا ہے۔ مقامی اور عالمی ذرائع اس طالب علم کو ڈنمارک کے نوبل انعام یافتہ سائنس دان نیل بوہر سے جوڑتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس واقعے اور کرداروں کی حقیقت کیا ہے۔

پروفیسر الیگزینڈر کیلینڈرا (Alexander Calandra) ایک امریکی سائنس دان اور معلم تھے۔ 1940 میں کیمیا میں پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری لینے کے بعد شکاگو یونیورسٹی میں کیمیا کے عارضی پروفیسر کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیا۔ نامور طبیعات دان انرکو فرمی کے معاون ہونے کی وجہ سے آپ کی تحقیق کا جھکاؤ طبیعات کی طرف منتقل ہو گیا۔ فرمی نے کیلینڈرا کو نوبل انعام یافتہ طبیعات دان کومپٹن سے متعارف کروایا جو انہیں واشنگن یونیورسٹی، سینٹ لوئز میں، جہاں وہ ریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، لے آئے اور لبرل آرٹس کے طالب علموں کے لیے سائنسی تعلیم کا پروگرام تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی۔

1948 سے لے کر ریٹائرمنٹ تک ( 1979 ) کیلینڈرا اسی یونیورسٹی میں طبیعات کے پروفیسر رہے۔ آپ غیر روایتی طریقہ ہائے تعلیم کے زبردست وکیل تھے اور سائنس کو ایک مربوط عقل سلیم سے گردانتے تھے۔ پروفیسر کیلینڈرا سینٹ لوئز میں اسکولی نظام کے مشیر بھی رہے۔ 1979 میں پروفیسر کیلینڈرا کو طبیعات کی تعلیم میں شاندار خدمات سرانجام دینے پر میلیکن انعام سے نوازا گیا۔

Alexander Calandra

1961 میں پروفیسر الیگزینڈرا نے ”بنیادی سائنس اور ریاضی کی تعلیم“ کے نام سے ایک کتاب لکھی جو ان کی شہرت کی وجہ بنی۔ اسی کتاب سے ایک مضمون کو ”دی سیٹرڈے ریویو“ نے ”سوئی کے سرے پر فرشتے: ایک جدید نظیر“ کے عنوان سے چھاپا۔ یہ مضمون سائنسی جریدے ”الکی جرنل“ نے بھی 1969 میں جلد نمبر 15 میں چھاپا ہے۔ پروفیسر لکھتے ہیں :

”چند عرصہ قبل مجھے اپنے ایک ساتھی نے فون کر کے ایک امتحانی سوال کی جانچ پڑتال میں بطور ثالث شامل ہونے کی درخواست کی۔ وہ طبیعات کے ایک سوال میں ایک طالب علم کو صفر نمبر دینے والا تھا جبکہ طالب علم کا دعوٰی تھا کہ اس کا جواب درست ہے اور اسے اس کا پورے نمبر ملنے چاہئیں۔ ممتحن اور طالب علم دونوں ایک غیر جانبدارثالث پر راضی ہو گئے، جس کے لیے میرا انتخاب کیا گیا۔

امتحانی سوال کچھ یوں تھا، ”بتائیے کہ ایک بیرومیٹر (دباؤ ماپنے کا آلہ) سے آپ ایک بلند عمارت کی بلندی کیسے معلوم کریں گے“ ۔

طالب علم کا جواب تھا کہ : ”بیرومیٹر کو عمارت کی چھت پر لے جا کر ایک رسی سے باندھ کر نیچے لٹکایا جائے۔ جب بیرومیٹر زمین کو چھو جائے تو رسی کونشان لگا کر واپس کھینچ لیا جائے۔ رسی کی لمبائی عمارت کی بلندی کے برابر ہو گی“ ۔

میں نے نشاندہی کی کہ طالب علم کا موقف درست اور مضبوط ہے کیونکہ اس نے مکمل اور درست جواب دیا ہے۔ مگر پورے نمبر دینے پر طالب علم کا طبیعات کے اس کورس میں اعلیٰ گریڈ آ جاتا۔ شاندار گریڈ طبیعات میں قابلیت کا ثبوت ہونا چاہیے جو اس کیس میں مفقود تھا۔ میں نے تجویز کیا کہ طالب علم کو اس سوال کا جواب دینے کا ایک اور موقع دیا جائے۔

میں نے طالب علم کو جواب لکھنے کے لیے چھ منٹ دیے اور تنبیہ کی کہ جواب سے طبیعات کا علم ظاہر ہونا چاہیے۔ پانچ منٹ تک اس نے کچھ بھی نہیں لکھا تھا۔ میرے استفسار پر طالب علم نے بتایا کہ اس کے پاس سوال کے بہت سارے جواب ہیں بس وہ بہترین جواب کی کھوج میں ہے۔ آخری منٹ میں اس نے جواب لکھ کر میرے حوالے کر دیا جو کچھ یوں تھا:

”بیرومیٹر کو عمارت کی چوٹی پر لے جا کر زمین پر گرایا جائے۔ زمین تک پہنچنے کے وقت کو حرکت کی دوسری مساوات میں استعمال کر کے عمارت کی بلندی معلوم ہو جائے گی“ ۔ اس پر میں نے طالب علم کو پورے نمبر دے دیے۔

دفتر سے نکلنے سے پہلے مجھے یاد آیا کہ طالب علم نے کہا تھا کہ اس کے پاس اس سوال کے دیگر جواب بھی تھے۔ چنانچہ میں نے پوچھا کہ وہ کیا ہیں۔

”اوہ ہاں“ طالب علم نے کہا۔ ”بیرومیٹر سے عمارت کی اونچائی معلوم کرنے کے بہت سارے طریقے ہیں۔ مثال کے طور پر بیرومیٹر کو دھوپ میں لے جائیں اور اس کی اونچائی، اس کے سائے اور عمارت کے سائے کی لمبائی ماپ لیں۔ اب ایک سادہ تناسب سے عمارت کی اونچائی معلوم کر لیں۔“

”بہتر“ میں نے کہا۔ ”اور دوسرے طریقے؟“

”ہاں“ طالب علم نے کہا۔ ”ایک سادہ طریقہ بھی ہے جسے آپ پسند کریں گے۔ اس طریقے میں آپ بیرومیٹر ہاتھ میں لیں اور سیڑھیاں چڑھتے جائیں۔ چڑھائی کے ساتھ بیرومیٹر کی لمبائی کے برابر دیوار پر نشان بھی لگاتے جائیں۔ اب ان نشانوں کو گن کر عمارت کی بلندی معلوم کر لیں۔ بڑا ہی سیدھا طریقہ ہے۔“

”ہاں اگر آپ ایک زیادہ نفیس طریقہ چاہیے تو بیرومیٹر کو رسی سے باندھ کر پنڈولم کی طرح ہلائیں۔ پھر زمین اور عمارت کی چھت پر کشش ثقل معلوم کر لیں۔ دونوں قمیتوں کے فرق سے اصولی طور پر آپ عمارت کی بلندی معلوم کر سکتے ہیں۔“

آخرکار اس نے گفتگو سمیٹے ہوئے بتایا کہ اس مسئلے کے حل کے بہت سے اور طریقے بھی ہیں۔ ”شاید سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ بیرومیٹر کو عمارت کی بیسمنٹ میں لے جا کر سپرنٹنڈنٹ کے دروازے پر دستک دی جائے۔ اس کے باہر آنے پر یہ کہا جائے کہ“ جناب سپرنٹنڈنٹ صاحب، میرے پاس ایک بہترین بیرومیٹر ہے۔ اگر آپ مجھے اس عمارت کی بلندی بتا دیں تو یہ بیرو میٹر آپ کا ہوا۔ ”

یہاں میں نے طالب علم سے پوچھا کہ کیا اسے واقعی اس سوال کا روایتی جواب معلوم نہیں۔ روایتی جواب یہ تھا کہ بیرومیٹر سے زمین اور عمارت کی چھت پر ہوا کے دباؤ کے فرق کو ماپ کر اس سے بلندی معلوم کر لی جائے۔ طالب علم نے تسلیم کیا کہ اسے یہ جواب معلوم ہے مگر وہ کالج کے اساتذہ سے تنگ آ چکا ہے جو اسے مضمون کی ساخت سکھانے کی بجائے یہ بتاتے ہیں کہ سوچنا کیسے ہے، سائنسی طریقہ کار کیا ہے، اور ایک مضمون کی گہری منطق کو نمائشی طریقے سے کیسے کھوجنا ہے جیسا کہ نئی ریاضی کی تعلیم میں کیا جاتا ہے۔ یہی سب ذہن میں رکھتے ہوئے اس نے تعلیمی اداروں میں فلسفیانہ نظام تعلیم کی بحالی کے لیے اس مذاق کا سہارا لیا۔ ”

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر گردش کرتی اس کہانی میں طالب علم کو مشہور سائنس دان نیل بوہر بتایا گیا ہے جو کہ درست نہیں۔ کہانی کی سچائی میں البتہ کوئی دو رائے نہیں کیونکہ اس کے مستند حوالے موجود ہیں۔

Facebook Comments HS