سیاستدان، احتساب اور اپوزیشن کا بیانیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوال یہ ہے کہ ہمارے عوام، ہمارے سیاسی لیڈروں اور اسٹیبلشمنٹ نے 73 سال کے اس تاریخی سفر میں کیا سیکھا؟ اور کیا تبدیلیاں لائے؟ طاقت اور انا ہمیشہ سے خود احتسابی اور سیکھنے میں رکاوٹ بنتی ہیں۔

ہمارے ملک میں شروع سے ہی اسٹیبلشمنٹ طاقت ور رہی۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا پھلنا پھولنا اور اقتدار کی بھول بلیوں تک پہنچنا ایک طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے بغیر ناممکن تھا۔ کوئی بھی سیاسی لیڈر اسٹیبلشمنٹ کی گود ہی سے اقتدار کی راہداریوں تک پہنچتا تھا۔ لوگ آج بھی بھٹو کو ایوب کی پیداوار اور نواز شریف کو جنرل جیلانی اور صدر ضیا کی پیداوار ہونے کا طعنہ دے رہے ہیں۔ جو طعنہ دے رہے ہیں ان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انہی سیاستدانوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا اور مزاحمتی سیاست کا آغاز کر کے تاریخ کو بدل دیا۔

جب بھٹو کو عوامی اقتدار ملا تو اس نے قوم کو جمہوریت اور ایک متفقہ آئین سے روشناس کروایا۔ اسٹیبلشمنٹ کی گود سے سیاست کرنے والے نواز شریف نے جب ان کے ہتھکنڈوں کو سمجھ لیا تو میثاق جمہوریت، پارٹیوں کے ساتھ مفاہمت، ووٹ کی عزت اور قانون کی بالادستی کے لیے آواز بلند کی۔ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ ہمارے سیاستدانوں نے بہت کچھ سیکھ لیا اور اب ہمیں ان پر غلط ہونے اور آمروں کی پیداوار جیسے الزامات نہیں لگانے چاہیے۔

ماضی میں جمہوری نمائندوں کے مقابلے میں ان غیرجمہوری حکومتوں کو ویلکم کرنے اور مٹھائیاں تقسیم کرنے والی عوام، جب اپنی تمام معاشی بدحالیوں اور مسائل کے حل کے لئے ان طاقتوں کو ہی نجات دہندہ سمجھنے لگی تو ان کے مشکلات اور مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھ گئے۔ اب وقت اور حالات نے ان کو سمجھا دیا ہے کہ ان کے لیے کیا بہتر ہے کیا نہیں۔

خود 22 سالہ سیاسی جدوجہد رکھنے والی پارٹی کے رہنما وزیراعظم عمران خان اور پارٹی کے شرفا اقتدار کے نشے میں ایسے مست ہو گئے ہیں کہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر پارلیمانی اور جمہوری روایات کو فروغ دینے کی بجائے ان کی یہ خواہش ہے کہ اپوزیشن چور، ڈاکو اور اشتہاری بن کر جیلوں میں رہے اور ان کی پارٹی مزے سے پورے ملک میں دس سال تک بلاشرکت حکمرانی کرے۔

آئے دن کمر توڑ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ حکومت اور اس کے حواری ہاتھ پاؤں ہلانے اور عوام کے لئے کچھ کرنے کی بجائے معجزوں کا انتظار کر رہے ہیں کہ کوئی معجزہ رونما ہو اور ملک کے حالات یک دم سے ٹھیک ہوجائیں۔ اس حکومت کی کوئی بھی پالیسی عوامی اور جمہوری نہیں ہے۔

شروع میں جب اپوزیشن نے جمہوری پراسس کو جاری رکھنے کے لئے حکومت کے ساتھ مفاہمت کرنا چاہی تو حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھنے کی بجائے اس کو دیوار کے ساتھ لگانے کی کوشش کی۔ حکومت کے اس رویے کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیاں اب مل کر ایک طاقت کی صورت میں سارے ملک میں ایک شفاف نظام کی بحالی کے لئے جنگ لڑ رہی ہیں تو اب حکومت کو احساس ہو رہا ہے کہ ان کے پاؤں کے نیچے سے زمین سرک رہی ہے۔

ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے سیاست کا آغاز کرنے والی مریم نواز پی۔ ڈی۔ ایم کے جلسوں میں ایک جارحانہ سیاست کا آغاز کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مریم ایک جینوئن سیاستدان ہے۔ اس نے اپنے باپ کے وزارت عظمی کے تین ادوار میں اقتدار کی کشمکش، اپنے خاندان پر مشکل وقت اور جیل کی کال کوٹھریوں سے بہت کچھ سیکھ لیا ہے۔ پی۔ ڈی۔ ایم کے جلسوں میں اپوزیشن لیڈرز وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے سلیکٹرز اور ہائبرڈ رجیم جیسے استعارے استعمال کر رہے ہیں۔ نظام کی خرابیوں اور ملک کی بحرانی کیفیت کو انہی استعاروں کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ سلیکٹڈ کی بجائے سلیکٹرز کے احتساب کی باتیں ہو رہی ہیں۔

اپوزیشن ایک شفاف اور خالص جمہوری نظام کے بیانیے کے ساتھ جدوجہد کر رہی ہے۔ حکومت کی خراب کارکردگی، جلسوں میں عوام کی تعداد اور اپوزیشن کے جارحانہ بیانیے اور اتحاد نے اسٹیبلشمنٹ کو بھی سکھا دیا ہے کہ ان کی حدیں کیا ہیں۔

ہمارا ملک اب مزید بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔ اس لئے ہمارے طاقتور اداروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپوزیشن اور حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر ایسے فیصلے کریں جو ملک اور جمہوریت کے لئے بہتر ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •