خدا حافظ ابو جی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابو جی چل بسے!

کلیجہ منہ کو آیا ہے یہ چار لفظ لکھتے۔ کہنے کو یہ عام سے چار لفظ ہیں لیکن ٹھیس اگر اپنے دل پر لگی ہو تو یہ لفظ نہیں بلکہ دو دھاری کھردرا خنجر ہے جو وقت کے جبر نے دل میں گھونپ دیا ہو۔ ہم لوگ کسی عزیز رشتہ دار یا دوست کے خاندان میں مرگ پر جائیں تو اسے گلے لگا کر میکانکی انداز میں کہتے ہیں ”حکم ربی“ ۔ لیکن یہی دو لفظ اگر کسی اپنے پیارے کی پھوہڑی (تعزیتی مجلس ) میں کوئی آپ سے کہے تو جسم و جاں پر کیا گزرتی ہے یہ وہی جانتا ہے جس پر گزر چکی۔

ابو جی سے میرا جو تعلق ہے اس میں خدا کے بعد کوئی کمال ہے تو میرا نہیں ابو کا ہی ہے۔ میری یادداشت کسی ایسے منظر سے خالی ہے لیکن امی بتاتی ہیں کہ ابو جب دکان سے واپسی پر شام کو گھر آتے تو تمہارے ساتھ کھیل کر دن بھر کی تھکان مٹاتے۔ کیسا خوش کن اور لطف انگیز منظر ہے جس کا میں حصہ تو رہا لیکن دماغ کے نہاں خانوں میں یہ بدقسمت اسے جگہ نہ دے سکا۔ بچپن کی یادوں میں سے اولین یاد جو میرے ذہن میں ہے وہ سڑک پر دوڑتا ایک رکشہ ہے۔

ابو امی اور نانی اماں رکشے میں سوار ہیں اور میں سامنے کھڑا ہوں۔ ابو پوچھتے ہیں کہاں جا رہے ہو؟ میری جانے بلا، میں جھینپ سا گیا۔ یہی کوئی چار پانچ برس کا ہوں گا۔ شاید امی نے میری مشکل آسان کی، کہو لاہور جا رہا ہوں۔ دوسرا منظر لاہور کے ایک ہوٹل کا ہے۔ ڈائننگ ہال میں سیاہ لکڑی کی بنی کرسیاں اور میزیں سجی ہیں۔ ہم چاروں اس پر بیٹھے انتظار میں ہیں کہ ویٹر کھانا لائے۔ کھانے کے بارے میں ابو کا ذوق بہت اعلیٰ تھا۔

دیسی مرغا یا بکرے کا گوشت شوق سے کھاتے۔ ہمیں بھی انہوں نے مکھن اور دیسی گھی میں پکے کھانوں سے ہی پالا پوسا۔ لاہور میں داتا دربار پر بھی حاضری ہوئی۔ مجھے یاد ہے امی ابو اور نانی اماں نے مغرب کی نماز مینار پاکستان کے سبزہ زار میں مینار کے پلیٹ فارم کے قریب ہی ادا کی تھی۔ یاد پڑتا ہے ایک بار ابو کے ساتھ سرگودھا گیا۔ دوپہر کے وقت ابو کہیں بم چوک کے قریب پلاؤ کی ایک مشہور دکان پر لے گئے۔ یہ وہ دور تھا جب لیز کی چپس اور خوشنما پیکنگ والے چاکلیٹ یا پیزا برگر کی بدعت عام نہ ہوئی تھی۔ ایک بچے کے لئے اس سے بڑی عیاشی اور کیا ہو سکتی ہے؟

میں نے فیصل آباد کے سکول بچوں کا مدرسہ میں آٹھویں تک تعلیم پائی ہے۔ سکول میں چھٹی ہوتی تو اکثر کچہری بازار کی صابر مارکیٹ میں ابو کی کپڑے کی دکان پر چلے جاتے۔ عصر کے وقت تک آٹھ بازاروں میں آوارہ گردی کرتے۔ تب دکانیں رات گئے تک کھلی رکھنے کا رواج نہیں تھا۔ ابو عصر کی نماز پڑھ کر واپس آتے تو دکان بند کردی جاتی۔ ابو مجھے سائیکل پر اپنے آگے بٹھاتے اور گول بازار سے گزرتے امین پور بازار سے باہر نکلتے۔ پھر نڑوالا روڈ سے ہوتے شام سے پہلے گھر واپس پہنچ جاتے۔

گرمیاں ہوتیں تو ابو گلبرگ تھانے کے سامنے بیٹھے تربوز والے سے تربوز لینا نہیں بھولتے۔ زندگی ایسے ہی چلتی رہی اور ہوش تب آئی جب روزی روٹی کے لئے گھر سے دور جانا پڑا۔ ابو نے موٹر سائیکل یا کار کبھی نہیں چلائی لیکن ہمارے لئے اٹلی کا نیا ویسپا خریدا۔ تب ویسپا اٹلی سے لکڑی کی ایک بڑی پیٹی میں بند کر کے پاکستان لایا جاتا تھا۔ بڑے بھائی امتیاز حسین مرحوم ہمیں اس ویسپا پر سکول لے جانے کی ڈیوٹی کرتے اور ہر جمعہ کے روز اسی ویسپا پر ہم فیصل آباد کے کمپنی باغ بھی جاتے۔

ابو کو شوگر کا عارضہ لاحق ہو چکا تھا لیکن تب یہ زیادہ فکر کی بات نہیں تھی۔ ڈائنل کی ایک گولی ابو کے جسم میں شوگر کی سطح برقرار رکھتی تھی۔ پھر ہولے ہولے اس میٹھے زہر نے ابو کو اس قدر لاغر کیا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا بھول گئے۔ یہ دو ہزار تیرہ کا سن تھا۔ جوانی میں کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ابو کے گھٹنے پر ہل کی گہری چوٹ لگی تھی۔ اس چوٹ نے بھی اپنا کام دکھایا اور ابو بستر تک محدود ہو گئے۔

مئی دو ہزار چودہ کی بات ہے جب امی نے مجھے فون کیا۔ پتر تیرے ابو نہ کھاندے نیں نہ پیندے نیں، بس ستے ای ستے رہندے نیں۔ (بیٹا تمہارے ابو کچھ کھاتے پیتے نہیں اور دن رات سوئے رہتے ہیں ) ۔ ڈاکٹر شفیق کو فون کیا، خدا ان کو برکت دے ایسے انسان دوست ڈاکٹر زندگی میں کم ہی ملے ہیں۔ ان کی ہدایت پر خون کے ٹیسٹ کروائے، نتیجہ آیا تو انہوں نے کہا فوراً ڈائیلسز کروائیں۔ امی گھبرائی ہوئی تھیں، کہتی تھیں ”جیہڑا وی گردے واش کراوے او بچدا نہیں“ (جو بھی ڈائیلسز کروائے وہ زندہ نہیں بچتا) دو تین مثالیں بھی دی گئیں۔

محسوس ہوا اس معاملے میں مجھے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق من مانی کرنی پڑے گی۔ کسی نہ کسی طرح امی کو سمجھایا کہ زندگی موت تو مالک کے ہاتھ میں ہے لیکن علاج نہ کرنا کوئی دانشمندی نہیں اور پھر میڈیکل سائنس کے لئے ڈائیلسز اب ایک عام بات ہے۔ رات گئے اسلام آباد سے فیصل آباد پہنچا۔ بائیس مئی دو ہزار چودہ کی صبح ساڑھے سات بجے ابو کو لے کر ریسکیو کی ایمبولینس کے عملے سے اپنے آنسو چھپاتا میں الائیڈ ہسپتال پہنچ گیا۔

ڈاکٹر نعمان نے چیک کیا اور طبی عملے کو ڈرپ لگانے کی ہدایت کی۔ ڈی ہائیڈریشن ختم ہوئی تو جسمانی افعال بحال ہونے لگے۔ کچھ دیر بعد ابو کہنے لگے ”یار میرا پیشاب نکل گیا اے“ ۔ میں نے کہا ابو اے تے بڑا چنگا ہویا۔ ابو کا لباس اور بستر بدلا اور قدرے اطمینان سے ان کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ رات نو بجے کے قریب ابو کا ڈائیلسز شروع ہوا۔ ڈائیلسز سے فارغ ہو کر ابو سکون کی نیند سو گئے۔ میں نے سوتے جاگتے رات بتائی۔ صبح آنکھ کلی تو کہنے لگے ”اخبار دے مینوں“ ۔ میں نے اخبار پڑھتے ابو کی تصویر بنائی اور گھر بھاگا، امی کو دکھائی۔ کہا ڈاکٹر کہتا ہے کل چھٹی دے دیں گے۔ امی نے شکر کا کلمہ پڑھا۔

چوبیس مئی دو ہزار چودہ کی دوپہر ابو کو گاڑی میں بٹھایا اور گھر کی طرف سفر شروع کیا۔ لیکن یہ سفر بہت طویل ہو گیا۔ کچھ دن بعد انکشاف ہوا کہ مثانے کی غدود کے باعث مثانہ پوری طرح پیشاب سے خالی نہیں ہوتا جس کی وجہ سے یورینری ٹریک انفیکشن ہو چکا ہے۔ اینٹی بائیوٹک دی تو کچھ دن میں انفیکشن ٹھیک ہو گیا۔ لیکن پھر یہ انفیکشن بار بار ہوتا رہا۔ گردے بھی پچاس فیصد تک متاثر ہو چکے تھے۔ شوگر اور کمزوری کی وجہ سے ڈاکٹرز نے مثانے کے آپریشن کا امکان مسترد کر دیا۔

بار بار کے انفیکشن اور اینٹی بائیوٹکس کے استعمال سے بستر تک محدود ابو کی قوت مدافعت اور امیون سسٹم کمزور سے کمزور تر ہوتا گیا۔ اس دوران امی نے وفا کی دیوی سے کہیں بڑھ کر ابو کی خدمت کی۔ بڑھاپے کے سبب تھک جاتیں یا ابو کو سنبھال نہ پاتیں تو مجھے فون کرتیں ”پتر ہنڑ آجا“ ۔ میں روزی روٹی چھوڑ بھاگا بھاگا گھر پہنچ جاتا۔ دو چار یا ہفتہ دس دن، جب ابو کی طبیعت بہتر ہوتی یا امی سہولت سے ان کو سنبھال سکتیں تو پوچھتا ”ابو جی اجازت اے“ ۔ دھیمی آوا ز میں وہ کہتے اللہ دے حوالے۔ ابو کی خدمت میں گزرے یہ دن میری زندگی کا قیمتی ترین اثاثہ ہیں۔

امسال لیکن ستمبر حقیقت میں ستم گر ثابت ہوا۔ آخری دنوں میں ابو کو ایک بار پھر سینے کا انفیکشن ہوا۔ ہمیشہ کی طرح ڈاکٹر شفیق ابو کو دیکھنے گھر آئے، معائنہ کیا اور مجھے تسلی دی۔ دوائیں تجویز کیں اور کہا انشا اللہ جلد ٹھیک ہوجائیں گے۔ ایک بار طبیعت سنبھل گئی تو میں عازم سفر ہوا۔ لیکن چار دن بعد ہی دوبارہ واپس آنا پڑا۔ ایک بار پھر ڈاکٹر شفیق فرشتہ بن کر آئے۔ پیشاب کا انفیکشن ایک بار پھر بڑھ گیا تھا۔ گزشتہ سات برس میں کئی بار جب ابو کی طبیعت بگڑی تو مجھے اس دھڑکے نے آ لیا جو ہر انسان کا مقدر ہے۔

لیکن اب کے یہ دھڑکا بہت شدید تھا۔ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب مجھے سچ سچ بتائیں صورت حال کیا ہے۔ کہنے لگے ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ انفیکشن کی وجہ سے کمزوری ہے کچھ دن میں ٹھیک ہو جائے گی۔ لیکن دوائیں بے اثر ہو گئیں اور ابو کی طبیعت روز بروز بگڑتی چلی گئی۔ حد سے بڑھی بے چینی ابو کو رات بھر جگائے رکھتی میں دل جوئی کرتا، ان کا دھیان بٹاتا لیکن رات آنکھوں میں کٹ جاتی۔ صبح دم ابو سو جاتے۔ دو ہفتے سے کچھ زائد یہی معمول رہا لیکن اس حال میں بھی وہ صرف یہی کہتے اللہ خیر کرے گا۔

یکم دسمبر کی شام بستر پر لیٹے ایک ایک چمچ سوپ میں نے ان کے منہ میں ڈالا جو بہ مشکل انہوں نے حلق سے اتارا۔ رات نو بجے کے قریب کچھ وقفے سے دوبار ان کی سانس ایسی اکھڑی کہ میں نے اور امی نے کلمہ شہادت کا ورد شروع کر دیا۔ گو د میں لے کر میں نے سینہ سہلایا تو کچھ دیر میں سانس بحال ہو گئی۔ سات برس پرانا دھڑکا شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا تھا۔ میں نے ابو کی پائنتی ایک چارپائی بچھائی اور رات دو بجے کے قریب اس پر ڈھے گیا۔

ساڑھے تین بجے کے قریب آنکھ کھلی تو دیکھا ابو جاگ رہے تھے۔ میں پوچھا ابو جی پانی پلاؤں؟ کچھ جواب نہ ملا تو پانی کا چمچ ان کے ہونٹوں سے لگایا۔ انہوں نے لب کھولے اور میں قطرہ قطرہ پانی ان کے منہ میں انڈیلتا رہا۔ کوئی ساڑھے چار بجے کا وقت ہوگا جب لیٹے لیٹے میری آنکھ لگ گئی۔ فجر کے وقت امی نے وضو کے بعد جائے نماز بچھا کر لائٹ جلائی تو میری آنکھ کھل گئی۔ ابو کی طرف دیکھا تو کھلی آنکھوں دنیا اندھیر ہو گئی۔ ابو جی ملک عدم سدھار چکے تھے۔ جائے نماز پر بیٹھے امی نے پوچھا بیٹا ابو کو دیکھو مجھے لگتا ہے انہیں سانس نہیں آ رہا۔ بے اختیار میں دھاڑ مار کر رویا اور امی کے گلے جا لگا۔ سانس ہو تا تو آتا۔

لے اوریار حوالے رب دے تے لمی پئی جدائی
رب ملایا تے فیر ملاں گے ہور امید نہ کائی۔

پس تحریر: ابو کی بیماری کے کامل نو برس میں ڈاکٹر محمد شفیق نے جس طرح ایک معالج سے بڑھ کر ان کا خیال رکھا تشکر کے جذبات اس خدمت کا بدل کبھی نہیں ہو سکتے۔ والد گرامی کی زندگی کے آخری دنوں میں عزیز دوست تنویر احمد عظیمی میرا بازو بنے رہے اور ہمشیرہ فرحانہ گلزار نے ابو کی خدمت میں جس طرح میرا ہاتھ بٹایا میں ان تینوں شخصیات کا بے حد شکر گزار ہوں۔ دعا ہے خدا ان کو دنیا و آخرت میں خوش رکھے۔ ابو کی وفات پر جو دوست جنازے میں شریک ہوئے اور ان کے لئے دعائے مغفرت کی، اندرون اور بیرون ملک سے فون اور پیغامات کے ذریعے جنہوں نے تعزیت کی فردا فردا ان کا شکریہ ادا کرنا میرے لئے شاید ممکن نہ ہو۔ میں ان سطور کے ذریعے ان تمام دوست احباب کا بھی شکرگزار ہوں۔

بشکریہ، روزنامہ نئی بات


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).