”مفتی“ عمران احمد نیازی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم نے چکوال میں ایک مرتبہ پھر اپنی ”شیریں بیانی“ ، کا جادو جگایا۔ تاریخ، جغرافیے، یورپین ہسٹری، ریاست مدینہ اور اسلامی ادوار کا تیاپانچہ کرنے کے بعد وہ اپنے مرغوب و محبوب موضوع پر آئے اور نواز شریف، آصف علی زرداری، مریم نواز اور بلاول بھٹو سمیت پی ڈی ایم پر برس پڑے۔ ان کی بدن بولی اور چہرے کا تناوٴ ان کے داخلی اضطراب اور اضطرار کی غماز تھا۔

تقریر کے نام پر ان کا پٹ سیاپا، سب و شتم اور اخلاق سے گری ہوئی بے ربط باتیں سن کر شرمندگی ہوتی ہے کہ ایسا زبان دراز اور منہ پھٹ آدمی ہمارا وزیراعظم ہے۔ اب تو انہوں نے فتویٰ بازی بھی شروع کر دی ہے۔ کچھ دن قبل بھی انہوں نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کا نام لے کر فتویٰ صادر کیا تھا کہ ان دونوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس عمر میں کرپشن کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور مختلف امراض میں گرفتار ہیں۔ نواز شریف ملک سے مفرور ہیں اور ان کے بچے ان کی کرپشن کا دفاع کرنے کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ انہوں نے حرام کے پیسے سے تمام جائیدادیں بنائی ہیں اور اولاد کو بھی حرام کھلایا ہے۔ آج بھی انہوں نے اسی طرح کا سیاپا کیا۔

معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا آدمی بھی سمجھتا ہے کہ جب اتنے بڑے منصب پر بیٹھا شخص اس قدر چھوٹی باتیں اور سطحی الزام لگانا شروع کردے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں اور اس کی تربیت میں کوئی بہت بڑی خرابی مضمر ہے۔ ہمارے سامنے گاندھی جی، قائد اعظم، لیاقت علی خان، پنڈت جواہر لال نہرو، ابو الکلام آزاد سے جسونت سنگھ، اندرا گاندھی، ذوالفقار علی بھٹو، مفتی محمود، مولانا مودودی، نوابزادہ نصر اللہ خاں، جنرل ضیا، محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف تک ایک طویل سیاسی تاریخ موجود ہے۔

ان اکابر سیاستدانوں کے آپس میں نظریاتی اور سیاسی اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں مگر ہمیں یاد نہیں پڑتا کہ کسی نے سیاسی اختلاف کو ذاتی عداوت بنا کر اپنے حریفوں پر اس درجے کے پست، رکیک اور اخلاق باختہ حملے کیے ہوں۔ ذوالفقار علی بھٹو اور مولانا مودودی کے نظریات، طرز سیاست اور اسلوب حیات میں بعد المشرقین تھا مگر اس کے باوجود دونوں میں گہری دوستی بھی تھی۔

جب سے عمران خان کو سیاست میں لانچ کیا گیا ہے ہمارا سیاسی کلچر نہایت غلیظ، متعفن اور سڑاند زدہ ہو گیا ہے۔ بدقسمتی سے عمران خان کو ترجمان بھی ایسے ملے ہیں کہ جو دلیل کی جگہ غلیل، گفتگو کی جگہ گالی، تہذیب کی جگہ طنز اور شائستگی کے جواب میں سیدھے سب و شتم پر اتر آتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت پر تنقید کرنے والے سنیئر تجزیہ کاروں اور صحافیوں پر بھی لفافہ خوری کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ معتدل نقطۂ نظر رکھنے والی خواتین تجزیہ کاروں اور اینکر پرسنز پر انتہائی نازیبا جملے کسے جاتے اور گھٹیا الزامات لگائے جاتے ہیں۔

یہی سلسلہ کیا کم تھا کہ اب عمران خان اور ان کی دیکھا دیکھی ان کے حواریوں نے مخالف سیاستدانوں پر عذاب الہٰی کے کوڑے برسنے کی وعید بھی سنانا شروع کردی ہے۔ اللہ تعالٰی کے عذاب کی سنت اور جن قوموں پر عذاب نازل ہوا ان کی مکمل تاریخ اور اسباب و علل جانے بغیر ہم کتنے آرام سے اپنے کسی دشمن کو عذاب الہٰی کا سزاوار قرار دے کر خدائی قانون اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں؟ جن نبیوں نے اپنی قوموں کو عذاب الہٰی کے نازل ہونے کی وعید سنائی ان پر تو وحی نازل ہوتی تھی، وزیراعظم صاحب کس بنیاد پر ایسے فتوے دے رہے ہیں؟

قوموں پر عذاب الہٰی کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کا نبی اس قوم میں موجود ہو اور اس نے اتمام حجت کر دیا ہو۔ دنیا میں ہزاروں سیاستدان، حکمران، فوجی کمانڈر، سپہ سالار، فاتحین اور بڑے چھوٹے لوگ خطرناک امراض میں بھی مبتلا ہوئے، قتل بھی ہوئے، جلا وطن بھی ہوئے، پھانسی بھی چڑھے، لاپتہ بھی ہوئے اور ان پر انسانیت سوز مظالم بھی ڈھائے گئے۔ بے شمار لوگوں نے ساری زندگی ناکردہ گناہوں اور جرائم کی سزا کاٹی۔ ہماری اپنی تاریخ ایسے دلدوز اور عبرتناک حادثات سے بھری پڑی ہے۔

ہم کسی کے بارے میں یہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں کہ فلاں اللہ کے عذاب کا شکار ہوا؟ فلاں نے حرام مال کمایا؟ خود وزیراعظم کے والد محترم کو کرپشن کے الزام پر ملازمت سے نکالا گیا تھا۔ لیکن ہم اسے نظام حکومت کی غلطی کا شاخسانہ بھی تو کہہ سکتے ہیں۔ جہاں تک بیماری کا تعلق ہے تو بیماری کی اپنی وجوہات ہوتی ہیں جو طبی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔ خود وزیراعظم کی والدہ محترمہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئی تھیں۔ کون بد بخت یہ فتویٰ دینے کا حوصلہ کر سکتا ہے کہ خدانخواستہ ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا؟

اس کے علاوہ بے شمار قومی اور بین الاقوامی راہنماوٴں کی طویل بیماری، جلاوطنی، تنگ دستی اور کسمپرسی کے عالم میں دنیا سے جانے کے واقعات کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ مصائب و آلام کا نزول عذاب کے بجائے اللہ کی آزمائش بھی تو ہو سکتا ہے۔ نواز شریف، آصف علی زرداری اور ان کی اولادوں پر تو پتہ نہیں عذاب نازل ہوا ہے یا نہیں مگر ہم محاورتاً یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان ضرور اہل پاکستان کے لیے عذاب بن کر نازل ہوا ہے۔

ہم وزیراعظم پاکستان اور ان کے حواریوں سے عرض کریں گے کہ وہ سیاسی میدان میں اپنے حریفوں کا مقابلہ کریں۔ خدائی فیصلے صادر کریں نہ مفتیٔ اعظم بننے کی بھونڈی کوشش کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •