اگر آج محترمہ بے نظیر زندہ ہوتیں تو


چاروں صوبوں کی زنجیر، خاتون با تدبیر، روشن ضمیر و جمہوریت کی تقدیر محترمہ بے نظیر بھٹو کہ جن کی آج ہم تیرہویں برسی مناتے ہوئے دلگرفتہ و دلگیر ہیں، ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بے شمار حوالوں سے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں جمہوریت اور جمہوری قدروں کے فروغ کے لیے اس وقت بنیادی کردار ادا کیا جب ملک پر آمریت کے بدترین سائے لہرا رہے تھے۔ چوبیس سال کی عمر میں ان کے والد فخر ایشیا ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا گیا اور ان پر ریاستی و سیاسی جبر کی انتہا کر دی گئی۔

بے شمار جھوٹے کیسوں میں الجھا کر انہیں قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا گیا۔ قید تنہائی میں رکھا گیا۔ جلا وطن کیا گیا۔ بھائیوں کو سر عام قتل کیا گیا۔ کردار پر رکیک و پست حملے کیے گئے۔ بوٹوں والوں نے غداری کے فتوے لگائے۔ سکیورٹی رسک کہا گیا۔ ظلم و ستم کا کوئی حربہ ایسا نہ تھا جو اس بہادر اور جمہوریت کی علمبردار خاتون پر نہ آزمایا گیا ہو۔ مگر اس جری خاتون نے ان تمام مصائب و آلام کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور ملک کی دو مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہو کر ملک میں تعمیر و ترقی، انسانی حقوق کی بحالی اور جمہوری قدروں کے فروغ کے لیے بے مثال کردار ادا کیا۔ یہ منفرد اعزاز ان سے کوئی نہیں چھین سکتا کہ انہوں نے اقتدار میں رہتے ہوئے اس وقت اپنے بدترین مخالفوں کو معاف کر کے یہ نعرہ لگایا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے، جب سیاسی بونے جمہوریت کی الف ب سے بھی آگاہ نہیں تھے۔

انہوں نے اقتدار میں آ کر انسانی حقوق، چائلڈ لیبر کے خاتمے، ٹریڈ یونین کی بحالی، مارشل لا دور میں جبری برطرف کیے گئے ملازمین کی بحالی، مزدوروں کے لیے پینشن کے حق اور لاکھوں بے روزگاروں کو بر سر روزگار کیا۔ ان کے کارناموں کی فہرست لامتناہی ہے۔ پھر دسمبر کی ایک یخ بستہ شام کو راولپنڈی کا لیاقت باغ، لیاقت علی خان کی طرح ان کا مقتل بنا۔ جمہوریت کی سب سے بلند آواز کو خاموش کر دیا گیا۔ صرف بے نظیر ہی کو قتل نہیں کیا بلکہ پاکستان کے سہانے مستقبل کے تابناک خواب، جمہوریت کی امید، خوشحالی کی آس، انسانی سربلندی کے چراغ، علم و دانش کے دیپ اور ملک کی ترقی و تعمیر کی روشن صبح کو بھی قتل کر دیا۔

سوچتا ہوں کہ آج اگر محترمہ زندہ ہوتیں تو فرعونیت اور آمریت کے پروردہ انتقامی سیاست کے مارے سیاہ کردار جن کا ظاہر روشن اور اندرون چنگیز سے بھی تاریک ہے، ان کے ساتھ بھی وہی کرتے جو اس سے قبل مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح سے کر چکے ہیں۔ ان پر بھی غداری اور ملک دشمنی کے فتوے لگائے جاتے۔ نواز شریف کی طرح ان پر بھی جھوٹے اور من گھڑت مقدمے بنائے جاتے۔ وٹس اپ پر جے آئی ٹی بنا کر ایک سال کے اندر اندر تاحیات نا اہل کر دیا جاتا۔

انہیں بھی قید تنہائی میں ڈال کر گھر کا کھانا بند کر دیا جاتا۔ انہیں بھی زہر دیا جاتا اور موت کے دہانے تک پہنچا کر انسانی ہمدردی کا نام لے کر علاج کے لیے باہر بھیجا جاتا اور احسان جتلایا جاتا۔ ان کے سامنے بختاور اور آصفہ بھٹو کو توہین آمیز طریقے سے گرفتار کیا جاتا اور بلاول کے لیے ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے کہ وہ خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتا۔ آج اگر بے نظیر زندہ ہوتیں تو ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو رہا ہوتا جو اس دور سیاہ میں ہر جمہوریت پسند کے ساتھ ہو رہا ہے

Facebook Comments HS