امیر باپ، غریب باپ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رابرٹ کیاسکی کمال کے انسان ہیں۔ انہوں نے ایک غریب گھر میں آنکھ کھولی اور اور 47 سال کی عمر تک اتنے اثاثے بنا لیے کہ یہ مالی اعتبار سے خود مختار ہو گئے۔ انہیں مزید کام کرنے کی ضرورت نہیں رہی تھی بلکہ جو پیسہ انھوں نے اپنی 24 سال کی محنت سے کمایا تھا، وہی اب ان کے لیے کام کر رہا تھا۔ رابرٹ کیاسکی ایک سرمایہ دار ہیں اور ان کی ایک کتاب ہے Rich Dad، Poor Dad جس کا اردو ترجمہ ”امیر باپ، غریب باپ“ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس میں یہ بتاتے ہیں کہ امیر باپ اپنے بچوں کو رقم بارے ایسا کیا سکھاتا ہے جو غریب اور مڈل کلاس باپ نہیں سکھاتا۔

اس کتاب کے حوالے سے USA Today کا دعوٰی ہے کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے نقطہ آغاز ہے جو اپنے مستقبل کی مالی صورتحال کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔

رابرٹ کیاسکی ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جبکہ ان کا داخلہ اتفاقاً ایک ایسے سکول میں ہو گیا جس میں امیروں کے بچے پڑھتے تھے۔ امیر بچوں نے انھیں اور ان کے دوست کو اپنی ایک پارٹی میں انوائٹ نہیں کیا کیونکہ یہ دونوں ان کے طبقے سے نہیں تھے۔ رابرٹ چاہتے تھے کہ وہ یہ راز دریافت کر پائیں کہ کیسے امیر امیر، جبکہ غریب غریب بن جاتا ہے۔ یہ تجسس انہیں ان کے ایک دوست کے والد تک لے گیا جنہیں یہ اپنی کتاب میں امیر باپ کہتے ہیں۔ رابرٹ اپنی حقیقی والد کو غریب باپ کہتے ہیں اور اس کی وجہ مالی صورتحال نہیں، بلکہ پیسے کو لے کر زندگی کا وہ نقطہ نظر ہے جو کہ ان دونوں حضرات کا تھا۔

رابرٹ نے امیر باپ سے جو پہلی چیز سیکھی وہ یہ تھی کہ پیسے کے لئے غریب کام کرتے ہیں، امیر پیسے کے لئے نہیں کام کرتے، بلکہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ پیسہ ان کے لیے کام کرے۔ اسے آپ اس مثال سے سمجھیے کہ اگر آپ کہیں 30000 کی نوکری کرتے ہیں، اتنے پیسوں میں آپ کا گزارہ نہیں ہوتا اور آپ نوکری چھوڑنے کا ارادہ کرتے ہیں تو آپ کی تنخواہ تھوڑی بڑھا دی جاتی ہے اور یوں آپ کام کرتے رہتے ہیں۔ یہ دراصل امیروں اور سرمایہ دوروں کا ایک جال ہوتا ہے جس میں غریب پھنس جاتے ہیں۔ غریبوں کے اس جال میں پھنس جانے کی دو بنیادی وجوہات ہوتی ہیں۔ اول ڈر، دوم لالچ۔ اگر غریب کوشش کریں کہ وہ پیسے کے لئے کام نہ کریں بلکہ پیسہ ان کے لئے کام کرے تو وہ اس جال سے نکل سکتے ہیں۔

اگر آپ جو بھی پیسہ کمائیں، اسے اثاثے خریدنے، کاروبار کرنے، کمپنیاں کھڑی کرنے، اسٹاک ایکسچیج پے لگانے میں صرف کریں تو یہ پیسہ آپ کو اور پیسہ لا کر دے گا۔ آپ جو بس پیسہ صحیح جگہ خرچ کرنا آنا چاہیے، لوگ آپ کے پاس خود آ کر کہیں گے کہ وہ آپ کے پاس نوکری کرنا چاہتے ہیں۔ مطلب وہ پیسوں کے عوض آپ کے لئے کام کریں گے۔ یوں آپ کا پیسہ آپ کے لئے کام کرے گا اور یہی امیر باپ اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں۔ رابرٹ خود ایک غریب انسان تھے، انھوں نے ان اصولوں کے تحت پیسہ درست جگہ لگا کر کمال کر دیا۔

اسی طرح وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ زیادہ کمانا بات نہیں ہے، بات یہ ہے کہ آپ کتنا پیسہ بچاتے ہیں۔ بہت سے لوگ پیسہ بچانے سے مراد تنخواہ میں سے کچھ پیسے الگ جوڑنا مراد لیتے ہیں۔ حالانکہ یہ غلط حکمت عملی ہے۔ یہی پیسے صحیح جگہ انویسٹ کیے جائیں تو آپ بہت سے اثاثے اکٹھے کر سکتے ہیں جو کہ آپ کے کام آئیں گے۔ پیسے بچتے وہی ہیں جو آپ کہیں انویسٹ کرتے ہیں۔

ان کے نزدیک اثاثہ وہی چیز ہوتی ہے جو ہر ماہ آپ کی تنخواہ میں سے پیسے کھینچنے کی بجائے اس میں شامل کرے۔ کاروبار وہی ہوتا ہے جو آپ کے لئے دوسرے لوگ چلا رہے ہوں، اگر آپ خود اپنا کاروبار چلاتے ہیں تو یہ کاروبار نہیں نوکری ہے۔

اسے آپ ایک مثال سے سمجھیے۔ اگر آپ چند پیسے جوڑ کر گھر خرید کر اس میں رہنا شروع کر دیتے ہیں تو یہ گھر آپ کو پیسہ دے گا نہیں، بلکہ یہ آپ کی تنخواہ میں سے پیسے کھینچ لے گا۔ اس لیے یہ Asset یا اثاثے کی بجائے Liability بن جائے گا۔ اگر آپ پیسے سے گھر خریدیں اور یہ گھر کرایے پر دے دیں تو آپ کو ہر ماہ اس کا کچھ کرایہ ملے گا۔ سو آپ کا اپنا گھر آپ کا اثاثہ نہیں بلکہ ذمہ داری ہوتا ہے۔ آپ کی ملکیت باقی گھر جس سے آپ کو کرایہ ملتا رہے، وہ اثاثے ہوتے ہیں۔

رابرٹ کے مطابق انسان کو صرف اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے۔ یہ غریب لوگ ہوتے ہیں جو ساری اپنے بجائے دوسرے کا کام دیکھتے رہتے ہیں۔ دنیا کے سارے لوگ جو باقیوں کی طرح اچھی نوکری کی خاطر اچھا پڑھتے ہیں، شادی کرتے ہیں، جلدی گھر اور گاڑی والے ہو جاتے ہیں، یہ اتنی Liabilities خرید چکے ہوتے ہیں کہ ان میں اثاثوں والا کالم پر کرنے کی گنجائش ہی نہیں بچتی۔ یہ ساری عمر پھر حکومت اور اپنی کمپنی کے لئے ہی کام کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ چوہوں کی دوڑ میں شامل ہوتے ہیں۔ اگر آپ اپنا کام کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو کوشش کریں کہ آپ اس پوزیشن میں آ جائیں۔ اگر آپ اپنا کام کرنے کا ارادہ کریں گے تو یہ آپ کو اپنی نوکری بھی مزید محنت سے کرنے کے لئے ابھارے گا۔

رابرٹ اپنی اس کتاب میں تاریخی کا حوالہ دے کر بتاتے ہیں کہ ٹیکسز امیروں کے لئے لگائے گئے تھے مگر اس کے ذریعے اب غریب اور مڈل کلاس طبقہ حکومت کا غلام بن چکا ہے۔ امیر اچھے وکیلوں اور مشیروں کے ذریعے کسی طرح اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ ٹیکسز سے تھوڑے متاثر ہوں۔ اسی طرح اپنی کچھ عملی۔ مثالیں دے کر بتاتے ہیں کہ امیروں کو پیسہ ایجاد کرنے کا فن آتا ہے۔ اس کی تفصیل پیش کرنا کالم کی طوالت کے پیش نظر ممکن نہیں مگر یہ سب دماغ کا کھیل ہے۔ یہ چاہے تو پیسہ ایجاد کر سکتا ہے۔ آپ کو بس اکاؤنٹنگ، انویسٹنگ، مارکیٹ اور قانون کا پتہ ہونا چاہیے۔

اسی طرح ان کے نزدیک ہمیں نوکری سیکھنے کی غرض سے ضرور کرنی چاہیے، پیسہ کمانے کے لئے ہرگز نہیں۔ ہمارے سکول اور ماں باپ ہمیں محفوظ اور اچھی نوکری کے لیے تیار کرتے ہیں، جبکہ امیر باپ اپنے بچوں کو سیکھتے رہنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ کاروبار کی کامیابی اس بات سے مشروط ہے کہ ہم رقم، نظام اور لوگوں کو کتنی اچھی طرح چلاتے ہیں۔

اسی طرح ان کے نزدیک زندگی میں ڈر اور خدشات سب کو لاحق ہوتے ہیں۔ امیر اور غریب میں بنادی فرق یہی ہوتا ہے کہ دونوں ڈر کو کیسے مینیج کرتے ہیں۔ اگر آپ کو امیر اور غریب کا فرق سمجھ آ بھی جائے تو ڈر، مایوسی، سستی، بری عادات اور تکبر پانچ ایسی چیزیں ہیں جو آپ کے امیر بننے کہ راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں ہر جگہ سونا ہی سونا موجود ہے، بس سب لوگ اسے دیکھنے کے لئے تیار نہیں کیے گئے۔ وقت ایک ایسی چیز ہے جو امیر اور غریب دونوں کے پاس برابر ہے۔ کوئی کیسے اپنا وقت گزارتا ہے، یہی اس کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •