عمران حکومت اپنے ہی خلاف محاز آرائی کر رہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت وطن عزیز میں تحریک انصاف اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے سیاسی میدان کو بڑی حد تک پراگندہ کر دیا ہے۔ اس لڑائی میں تحریک انصاف کا پلڑا قدرے بھاری دکھائی دیتا ہے کیونکہ مخالف پارٹی کو رگیدنے کے سارے عمل کی نگرانی محترم وزیراعظم خود کر رہے ہیں۔ اگر کوئی وزیر اپوزیشن رہنماؤں کو لتاڑنے میں کوتاہی کرتا ہے تو خان صاحب اس سے بازپرس کرتے ہیں۔ اپوزیشن اور حکمران پارٹی کی اس جنگ کا فیصلہ سینٹ کے فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد ہونے کا امکان ہے۔ آنے والے دو مہینے اس حوالے سے بہت اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

ہر قسم کی قدرتی نعمت سے مالامال یہ ملک آزادی کے بعد اب تک نہ ترقی کی منزلیں طے کر سکا ہے اور نہ ہی پارلیمانی جمہوریت اپنی جڑیں مضبوط کر سکی ہے۔ آئین اور قانون کی سربلندی بھی اب تک سراب دکھائی دیتی ہے۔ پارلیمان تو موجود ہے لیکن اس کے اراکین اپنا آئینی رول ادا کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ مریم نواز چند دن پہلے اراکین پارلیمنٹ کو ایک ایجنسی کے ذریعے کنٹرول کرنے کا الزام لگا چکی ہیں۔ ڈھائی سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود موجودہ حکومت ابھی تک اپنی درست سمت کا تعین نہیں کر سکی۔

وزیراعظم صاحب کے مطابق وہ حکومتی معاملات کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ وہ بیوروکریسی پر بھی یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اکثر معاملات پر تصویر کا حقیقی رخ پیش نہیں کرتی۔ بعض تبصرہ نگار وزیراعظم کی طرف سے ناکامی کے اظہار پر طنز کے نشتر چلانے میں مصروف ہیں۔ جبکہ بعض تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں۔ بقول ان کے وزیراعظم نے یہ کہنے کی ہمت تو کی کہ وہ نظام حکومت چلانے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں۔

ملک کے طاقتور حلقے محاذ آرائی کی موجودہ کیفیت سے نکلنے کے لئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اپوزیشن براہ راست انہیں ٹارگٹ کر رہی ہے۔ اسی لئے حکومت اور اپوزیشن کی چپقلش میں سب سے زیادہ نقصان اسٹیبلشمنٹ کا ہو رہا ہے۔ اسی لئے فنکشنل لیگ کے محمد علی درانی جو اسٹیبلشمنٹ کے خاص آدمی ہیں نے لاہور میں قید نون لیگ کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی اور ان کو بات چیت کے لئے رضامند کرنے کی کوشش کی۔ ذرائع کے مطابق میاں شہباز شریف نے درانی صاحب کو کوئی حوصلہ افزاء جواب نہیں دیا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت میاں نواز شریف کا بیانیہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ لہذا اس صورتحال میں مفاہمت کی کسی کوشش کے بارآور ثابت ہونے کا امکان کم ہے۔

بعض سنجیدہ حلقے بھی ملک کو انارکی سے بچانے کے لئے نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین نے بھی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہٹ دھرمی سے باز آ جائے اور اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کے بجائے اس سے بات چیت کرے۔ ان کے بقول ملکی حالات بہت خراب ہوچکے ہیں۔ وزیراعظم پر اس چیز کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاملات کو صبر اور سکون کے ساتھ سلجھانے کی کوشش کریں۔ لیکن عمران خان مسلسل اس بات کا ڈھنڈورا پیٹنے میں مصروف ہیں کہ وہ چوروں سے بات چیت نہیں کریں گے۔

دوسری طرف وہ میڈیا کے کچھ حلقوں کو استعمال کر کے اپوزیشن اتحاد میں دراڑ پیدا ہونے کا تاثر بھی دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے آمدن سے زائد اثاثوں کا چرچا کر کے انہیں بدنام کیا جا رہا ہے۔ نون لیگ کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف کو نیب نے آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ بعض لکھاری حضرات خواجہ صاحب کی گرفتاری کو اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ رابطوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

دوسری طرف پی ڈی ایم کی قیادت تحریک انصاف کی حکومت کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے نتیجہ خیز بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ تاکہ مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ کے لئے ایک واضح روڈ میپ تیار کیا جاسکے۔ پی ڈی ایم اپنے منشور کے مطابق ایک با اختیار جمہوری حکومت کے قیام کے ساتھ ساتھ شفاف عام انتخابات کی گارنٹی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن اس بات کی بھی متمنی ہے کہ مستقبل کی سیاست میں تمام ادارے آئین کے دائرہ کار کے اندر رہ کر اپنا رول ادا کریں۔ جہاں تک اسٹیبلشمنٹ کا تعلق ہے وہ کوئی ایسا درمیانی راستہ اختیار کرنے کی خواہاں ہے جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ وہ اپوزیشن کے لانگ مارچ سے پہلے معاملات کو سلجھانا چاہتی ہے۔ تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب نہ ہو۔

اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ اچھی طرز حکمرانی ہے۔ حکومتی سطح پر سمجھ بوجھ کے ساتھ بروقت اور درست فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے بھی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ سب سے بڑھ کر حکومتی ٹیم میں شامل افراد کے ملکی مفاد سے ہٹ کر اپنے مالی مفاد کو اولیت دینے سے بھی خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ وفاقی کابینہ میں شامل بعض غیر منتخب اراکین جن کی اپنی کمپنیاں اور کاروبار ہیں وزیراعظم کی ناتجربہ کاری کا فائدہ اٹھا کر اپنا الو سیدھا کرتے رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے گندم، چینی، ادویات اور پٹرولیم کی مد میں اربوں روپوں کا چونا پوری قوم کو لگادیا گیا۔ ایف آئی اے کی انکوائری رپورٹ میں وزیراعظم کی کابینہ میں شامل اراکین کے نام اس بات کا ثبوت ہیں۔

تبدیلی کا نعرہ لگا کر اقتدار کی منزل پر پہنچنے والے عمران خان چین، ترکی اور مدینے کی ریاست بنانے کے دعووں میں مصروف رہے۔ لیکن وہ یہ اہم بات بھول گئے کہ چین اور ترکی کا نظام انصاف کتنا مضبوط اور دیرپا ہے۔ ان دونوں ممالک میں ذرا سی غلطی پر بڑے سے بڑے عہدے پر بیٹھی شخصیت کو زندان میں ڈال دیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان کا نظام انصاف صرف حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جہاں تک مدینے کی ریاست بنانے کا تعلق ہے وہ موجودہ حالات کے تناظر میں انتہائی ناممکن سی بات ہے۔

اب تو وزیراعظم صاحب مدینے کی ریاست کا نام بھی نہیں لیتے کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ یہ ان کے بس کا روگ نہیں ہے۔ پچھلے دنوں ایک خاتون اینکر نے ایک انٹرویو کے دوران جب ان سے بعض علاقوں میں خودکشی کے رونما ہونے والے واقعات کا پوچھا تو کپتان نے شانے اچکا کر اپنی بے بسی ظاہر کردی۔ بقول وزیراعظم وہ ان معاملات کا تدارک نہیں کر سکتے۔

2018 کے عام انتخابات کے بعد اور تحریک انصاف کو اقتدار منتقل ہونے سے پہلے نظام حکومت درست ٹریک پر رواں دواں تھا۔ ماضی کی حکومتیں اپنے اپنے انداز اور دانشمندی کے ساتھ کاروبار سلطنت چلاتی رہیں۔ ان ادوار میں معیشت کا حال اتنا برا نہیں تھا جتنا آج کل ہے۔ سیاسی طور پر مضبوط نواز شریف حکومت کے ستارے گردش میں نہ آتے تو عمران خان کی جگہ وہ چوتھی دفعہ وزیراعظم کے منصب پر براجمان ہوتے۔

تحریک انصاف کی حکومت کو شروع میں گورننس کے لئے بڑا پرسکون ماحول ملا تھا کیونکہ پہلے دو سال میں اپوزیشن اپنے مسائل میں الجھی ہوئی تھی۔ ملک کی دو بڑی پارٹیوں نون لیگ اور پی پی کے اکثر راہنماء نیب کے راڈار ہر آئے ہوئے تھے۔ لیکن اس کے باوجود عمران خان کی حکومت کسی بھی میدان میں مثالی کارکردگی نہ دکھا سکی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •