تباہ شدہ ہوائی جہاز سے بچ جانے والے آدم خور مسافر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اکثر خبر سنتے ہیں کہ کسی ملک میں ہوائی جہاز تباہ ہو گیا اور طیارے میں سوار تمام مسافر ہلاک ہو گئے۔ یہ خبریں ہر سال درجنوں مرتبہ سننے کو ملتی ہیں۔ ہر سال ہوائی جہازوں کی تباہی کی وجہ سے سینکڑوں افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کبھی یہ خبر سننے کو نہیں ملتی کہ ہوائی جہاز تباہ ہو گیا لیکن مسافر محفوظ رہے۔ ہم سب کی آج کی تحریر میں آپ کو ایک ایسی سچی داستان سنا نے جا رہا ہوں جس میں ایک طیارہ تباہ ہو گیا تھا لیکن اس طیارے میں سوار مسافر محفوظ رہے۔

سال تھا 1972۔ اس سال بھی ایک مسافر طیارہ خوفناک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا تھا لیکن اس طیارہ حادثے میں کچھ مسافر محفوظ رہے تھے اور صحیح سلامت گھر پہنچ چکے تھے۔ گھر پہنچنے کے بعد ان لوگوں کو گرفتار کر کے کچھ عرصے کے لئے جیل میں بھی رکھا گیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ وآپس آنے والے افراد نے کچھ مردہ افراد کا گوشت کھایا تھا۔ زندہ بچ جانے والوں کو آدم خور کہا گیا اور عوام نے ان سے نفرت کا اظہار کیا۔ یہ حادثہ کیوں ہوا اور کیسے کچھ مسافر محفوظ رہے؟

12 اکتوبر 1972 کا روز تھا۔ رگبی کے کچھ کھلاڑیوں کو ہر صورت ایک اہم میچ کھیلنے کے لئے چلی جانا تھا۔ اس وقت ان کھلاڑیوں کو جلدی میں کوئی فلائیٹ نہیں مل رہی تھی۔ جو فلائیٹ چلی جا رہی تھی اس کا کرایہ بہت مہنگا تھا۔ اس لئے تمام کھلاڑیوں نے مل کر پیسے جمع کیے اور پرانا طیارہ کرائے پر لے لیا۔ اس طیارے کا نام تھا FAIRCHILD FH 227 D۔ اس دور میں اس جہاز پر مسافر بیٹھنے سے ڈرتے تھے وجہ یہ تھی کہ یہ مشہور تھا کہ فئیر چائڈ طیارے کا انجن کمزور ہوتا ہے اور اس کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔

اس طیارے میں کل 45 مسافر تھے جس میں کھلاڑیوں کے علاوہ ان کے خاندان کے کچھ افراد اور پانچ افراد پر مبنی طیارے کا عملہ تھا۔ ان سب کو چلی کے دارالحکومت سنتیاگو پہنچنا تھا۔ سفر شروع ہوا لیکن ارجنٹیا میں جہاز کو روکنا پڑا کیوں ارجنٹینا کے جس راستے سے جہاز کو جانا تھا وہاں پہاڑوں میں خوفناک طوفان آ چکا تھا۔ پہاڑوں میں طوفان کی وجہ سے تباہی کا سماں تھا۔ کھلاڑیوں کو تو ہر صورت چلی پہنچنا ہی تھا اس لئے ان کھلاڑیوں اور ان کے فیملی ممبران نے ایک دوسرے روٹ سے جانے کا فیصلہ کر لیا۔

13 اکتوبر کو یہ سفر شروع ہوا۔ سفر شروع ہوتے ہی کچھ دیر بعد طیارہ فضا میں ہچکولے کھانے لگا۔ آسمان کی بلندیوں پر مسافروں کو جھٹکے لگ رہے تھے۔ سب نے سوچ لیا کہ کچھ خوفناک ہونے والا ہے۔ زندگی اور موت کی کشمکش شروع ہو چکی تھی۔ یہ جھٹکے اس لئے لگ رہے تھے کہ جہاز کے پائلٹ سے ایک غلطی سرزد ہو گئی تھی۔ ہوا کچھ یوں کہ گھنے بادل تھے۔ پائلٹ نے سمجھا کہ وہ ائر پورٹ پر بس پہنچنے کو ہی ہے۔ اس لئے اس نے ہوائی جہاز کو بلندی سے نیچے کر دیا۔

لیکن حقیقت یہ تھی کہ ائر پورٹ ابھی بہت فاصلے پر تھا۔ پائلٹ کو جب احساس ہوا تو اس نے جہاز کو بلندی پر لے جانے کی دوبارہ کو شش کی۔ اس جدوجہد میں جہاز کا پچھلا حصہ برف پوش پہاڑ سے ٹکرا گیا جس سے جہاز کا پچھلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ یہ جہاز اب بھی زمین سے 13800 فٹ بلندی پر تھا۔ اس کے بعد جہاز ایک اور چٹان سے ٹکرا کر یہ طیارہ کریش کر گیا اور ایک برفیلے پہاڑ میں جا گرا جہاں ہر طرف برف ہی برف تھی۔

خوش قسمتی یہ ہوئی کہ طیارہ جس پہاڑ پر گرا تھا وہاں برف ہی برف تھی اسی وجہ سے طیارہ پھسلتے پھسلتے ایک جگہ پر رک گیا۔ طیارہ ایک بہت بڑے پہاڑ پر تباہ ہو چکا تھا اس پہاڑ کی بلندی سمندر سے تیرہ ہزار فٹ تھی۔ ہر طرف چیخ و پکار تھی۔ بہت سے مسافروں کو شدید چوٹیں آئی۔ طیارہ بھی زمین پر ایک ایسے برف پوش پہاڑ پر تھا جو سب کے لئے اجنبی جگہ تھی اور چاروں طرف برف کے پہاڑ تھے۔ اس جگہ کا ٹمپریچر بھی منفی 22 سیلسیئس تھا۔

مسافروں کو سانس لینے میں مشکل تھی۔ کچھ مسافر شدید زخمی تھی۔ لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد کی۔ ایک کھلاڑی، جس کا نام نادو تھا، کومے میں چلا گیا۔ دس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ بچے کھچے مسافروں نے جہاز کے پچھے حصے کو اپنے سامان سے بلاک کر دیا اور سب وہاں منتقل ہو گئے۔ اب برف تھی سردی تھی۔ زخمی تھے اور تباہی تھی۔ اب ان مسافروں کے دماغوں میں ایک ہی خیال چل رہا تھا کہ وہ یہاں سے نکل کر کیسے گھر پہنچیں گے۔ ان لوگوں کو بچانے کے لئے بھی کوئی نہیں آیا۔
کچھ راتیں ان لوگوں نے مشکل سے گزاریں جس میں مزید دس افراد سردی اور بھوک سے مر گئے۔ سلسلہ یہ چل نکلا کہ سردی سے ہر روز موت واقع ہونے لگی۔ ریسکیو کے لئے کوئی امداد اس لئے نہ پہنچی کہ باہر یہ خبر چل رہی تھی کہ مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو چکا ہے جس میں تمام مسافر ہلاک ہو چکے ہیں۔ باہر دنیا میں ان کی موت کی خبر چل رہی تھی اور یہ ایک خوفناک پہاڑی سلسلے میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھے۔ جو کھلاڑی کومے میں تھا اس کی ماں اور بہن ہلاک ہو چکے تھے۔
جہاز ایک ایسی جگہ پر تھا جہاں برفیلے پہاڑ اور چٹانیں تھی اور اس جگہ اسے تلاش کرنا تقریباً ناممکن تھا۔ طیارے کا پائلٹ مر چکا تھا۔ بہت سے افراد اب بھی زندہ تھے۔ کو پائلٹ بھی زخمی تھا اور درد سے چیخیں مار رہا تھا۔ پہلے تو زندہ بچ جانے والوں نے جہاز میں موجود کھانے کی کچھ اشیا استعمال کی۔ اس کے بعد جب بھوک سے مرنے لگے تو ان مسافروں نے مر جانے والوں کو چھیڑ پھاڑ کر ان کو کھانا شروع کر دیا۔ جہاز کو تباہ ہوئے بیس روز گزر گئے۔
اب بھی ستائیس لوگ زندہ تھے جو اپنے ہی ساتھیوں کو چھیڑ پھاڑ کر بھوک مٹا رہے تھے۔ بہت دن تک وہ اپنے مرے ہوئے رشتہ داروں کے جسم کا گوشت کھاتے رہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔ بیس سے زائد دن گزر گئے اسی دوران برفانی طوفان نے تباہی مچانا شروع کردی جس میں مزید آٹھ افراد مارے گئے۔ اب زندہ افراد کی تعداد انیس رہ گئی۔ دن گزرتے گئے اور زندہ بچ جانے والے افراد اپنے مرے ہوئے دوستوں کا گوشت کھاتے رہے۔
مدد کے لئے جب یہ افراد باہر نکل کر راستہ تلاش کرتے تو وآپس آ جاتے کیونکہ ہر طرف برف پہاڑ اور چٹانیں تھی۔ اب برف تھی اور جب سورج کی روشنی اس برف پر پڑتی تو ان لوگوں کو کچھ نظر نہ آتا۔ اس ماحول میں یہ زندہ تھے اور سب کو یقین ہو چلا تھا کہ ایک دن وہ بھی مر جائیں گے کیونکہ زندہ رہنے کی ان کی امید ختم ہو رہی تھی۔ اب صرف سولہ افراد زندہ تھے اور زندگی سے نا امید تھے۔ موت کا انتظار کر رہے تھے۔ اب سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ یا تو یہاں پڑے پڑے ٹھنڈ اور دھوپ سے مر جائیں یا پھر ان برفیلی چٹانوں کو شکست دیتے ہوئے کسی طرح چلی پہنچیں۔
چلی اب بھی ان پہاڑوں سے ستر میل دور تھا۔ ان میں سے دو افراد کو یہ ٹاسک سونپا گیا کہ وہ کسی طرح چلی پہچیں۔ یہ دو افراد نکل پڑے۔ اس سفر میں کئی دن اور کئی راتیں گزر گئی اور آخر کار کسی طرح یہ دو فراد ایک ندی پر پہنچے جہاں کچھ افراد موجود تھے۔ ان لوگوں کو انہوں نے ساری کہانی سنائی اور اس طرح باقی بچ جانے والے افراد کو ریسکیو کر کے چلی پہنچایا گیا۔ کریش ہونے کے 72 ویں دن تمام سولہ افراد کو بچا لیا گیا۔
جب یہ افراد زندہ بچ گئے تو جشن منایا گیا اور کہا گیا کہ کیسے یہ لوگ بہتر (72) دن زندہ رہے۔ بچ جانے والوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ انہوں نے مر جانے والے اپنے ساتھیوں کا گوشت کھایا تھا اور اس طرح وہ زندہ رہے۔ بہت دن بعد وہاں پہاڑ سے چھ انسانوں کی ہڈیا ں ملی جس سے معلوم ہوا کہ بچ جانے والوں نے اپنے ساتھیوں کے مردہ جسموں کا گوشت کھایا تھا۔ اب ان لوگو ں کے 72 دن تک زندہ رہنے کا راز اخبارات اور ٹی وی میں آ چکا تھا۔
اس کے بعد بچ جانے والوں کو آدم خور کہہ کر ان سے نفرت کی گئی۔ پولیس نے بچ جانے والوں کو گرفتار کر کے جیل بند کیا کہ کیوں انہوں نے مرے ہوئے ساتھیوں کا گوشت کھایا تھا، بچ جانے والون نے کہا کہ زندہ رہنے کا یہی ایک طریقہ تھا ورنہ وہ بھوک اور سردی سے بلک بلک کر مر جاتے۔ اس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ رہا ہونے کے بعد لوگوں نے انہیں آدم خور کا خطاب دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •