دھرنا دینا ہندوستانی کسان سے سیکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سردار گورمیندر سنگھ کینیڈا کے شہری اور ریڈیو براڈکاسٹر ہیں، ان کی خوبی دلیری ہے، مودی سرکار کی اقلیتوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی پالیسی کے سخت ناقد ہیں اور بڑے دھڑے سے کہتے ہیں میں ان کے خلاف آواز بلند کروں گا یہ میرا ویزہ بند کرنے کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں؟ میں نے ان سے کہا جب سے نریندر مودی نے دہلی کی گدی سنبھالی ہے اس وقت سے خیر کی کوئی خبر نہیں آ رہی وہ بہت ہی چالا ک آدمی ہے جب بھی نیا کام کرتا ہے تو امریکہ اور اسرائیل کی خارجہ پالیسی کی روش کا اندازہ کرنے کے بعد کرتا ہے۔ ٹرمپ اور نتین یاہو کے گٹھ جوڑ نے مودی کو اور بھی بے باک کر دیا ہے۔

آپ نے دیکھا نہیں اسے احتجاج سے نمٹنے کا طریقہ بھی آتا ہے، اجیت دول جیسے چانکیہ بھی پال رکھے ہیں اور تو اور جوکام سیاست، بات چیت اور چکر بازی سے نہ ہو سکیں اس کے لیے عدالتوں کو قابو کر رکھا ہے۔ آپ کو شہریت بل کے اوپر ہونے والا احتجاج شاہین باغ کا دھرنا بھی یاد ہو گا احتجاج بڑھنے لگا عدالت کے ذریعے احتجاج ختم کروا دیا گیا اس طرح کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ وہ ہرجگہ اپنی مرضی کرتا نظر آتا ہے۔

گورمیندر ذرا غصے میں کہنے لگا اب یہ ہم کسانوں کی جان کو آ گیا ہے ہزاروں سال جاری کسانی کو لات مار کر گرانا چاہتا ہے آج مجھے یقین آ گیا ہے نو دولتیا اور محروم طبقے والے کو اچانک اقتدار مل جائے تو وہ کیسا ہو گا اور کیا کرے گا وہ نریندر مودی جیساہی ہو ا جس کے اندر فسطائیت کا ایجنڈا اس کو روکا نہ گیا تو یہ کچھ نہ کچھ غلط کر دے گا گرومیندر نے فکرمندی سے جواب دیا، مگر ہم ایسا ہونے نہیں دیں گئے ہندوستان کا کسان صرف سکھ نہیں ہے بلکہ ہندو اور مسلم بھی کسان ہیں اور یہ مسئلہ ہریانہ، یوپی کا نہیں بلکہ راجستھان اور مہاراشٹر کے کسان کا بھی ہے پورے ہندوستان کے کسان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

کارپوریٹ ادارے ہندوستان کی کھیتی پر نظر جمائے بیٹھے ہیں اور اسے ہڑپ کرنا چاہتے ہیں سننے میں آ رہا ہے امبانی اور اڈانی گروپس کے علاوہ ڈیجٹیل پلیٹ فارم فیس بک او ر گوگل بھی دلچسپی رکھتے ہیں ( فیس بک نے کستان اتحاد فورم کا پیج معطل کیا اور ٹویٹر ٹاپ ٹرینڈ کے بعد پھر بحال کر دیا گیا) ۔ یہ تھی گورمیندر سنگھ کی چند باتیں جو اس کی فکر مندی کو ظاہر کر رہی تھیں اور یہ سب باتیں درست بھی تھیں۔ بین الاقوامی تعلقات کی وسیع مطالعے میں جو چند لفظ میں نے پڑھے ہیں یا سیکھے ہیں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے مودی نے بین الاقومی ایجنڈے کا فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد بھی پورے کر رہا ہے۔ کشمیر میں اس نے وہی کیاجو اسرائیل نے فلسطین کے ساتھ ایک لمبے عرصے سے کر رکھا ہے۔ پلوامہ حملہ، اوڑی حملہ بھارتی انٹیلی جنس کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے جھوٹی سرجیکل اسٹرائیک کا سہارا لے کروہ علاقے میں امریکی کردار کو اختیار کرنا چاہتا ہے۔ آج بھارت کے کسی ہمسائے کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ نیپال اور بھوٹان جیسے چھوٹے ممالک میں مودی کی شرانگیزیاں جاری ہیں۔

اب ہندوستان میں دہلی کے مضافات میں کسان کئی ہفتوں سے شدید سردی کے عالم میں دھرنا دیے بیٹھے ہیں، یہ دھرنا بھی اپنی نوعیت کا انوکھا دھرنا ہے۔ کسانوں کے احتجاج میں تشدد کی کوئی لہر دکھائی نہیں دی۔ یہاں آنے والا کسان چھوٹے درجہ کا اوردرمیانے درجے کا کسان ہے جس کا دارومدر صرف کھیتی سے حاصل ہونے والی آمدنی ہے۔ کسانوں کی بڑی تعداد کا تعلق پنجاب اور ہریانہ سے ہے سکھ کسانوں کی نمائندگی واضح طور پر زیادہ ہے۔

کسانوں نے دہلی کے رام لیلا میدان میں جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا تھا مگر دہلی کی سرحد باڑ لگا کر ان کو روک دیا گیا۔ اب وہاں پر اپنی مدد آپ کے تحت کھانا لنگر کا انتطام کیا جاتا ہے ہریانہ کے لوگ سبزی فراہم کرتے ہیں مل کر کھانا بنایا جاتا ہے اس طرح ایک مسلم فیڈریشن نے بھی لنگر کا انتظام کر رکھا ہے۔ دھرنے میں ادویات اور ڈاکٹر کا بھی انتطام موجود ہے۔ دھرنے میں شامل لوگوں کو کہنا ہے کہ وہ چھ ماہ کی تیاری کے ساتھ آئے ہیں ہم اپنا حق لے کر واپس جائیں گئے۔

شاہین باغ کے دھرنے سے خواتین کو احتجاج کی تحریک ملی ہے اب دہلی کی سرحد پر مردوں کے ساتھ پوری جانفشانی سے کھڑی نظر آتی ہیں۔ کسانوں کے اس احتجاج میں اب تک تیس افراد وفات پا چکے ہیں جن میں بیشتر کی موت کی وجہ سرد موسم بنا، 20 دسمبر شوک دیوس یعنی یوم غم منایا گیا۔ دوسری طرف سکھوں کے مذہبی پیشوا سنت بابا رام سنگھ سنگھڑا نے مودی سرکار کے ظلم کے خلاف احتجاجاً خودکشی کر لی۔

ہندوستان میں 39 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کھیتی باڑی ہوتی ہے، امریکا کے بعد کھیتی باڑی میں ہندوستان دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر براجمان ہیں۔ اس سے جڑی معیشت کا حجم دنیا میں پہلے نمبر ہے لیکن ہندوستان کسان مجبور اور قرضے میں جکڑا ہوا ہے اب تک قرضوں کی پریشانی سے تین لاکھ کسان خود کشی کر چکے ہیں بی بی سی نے لکھا کہ اگر کوئی اور ملک ہوتا تو ہل گیا ہوتا، ہندوستان کی معروف صحافی برکھا دت نے واشنگٹن پوسٹ میں اس احتجاج کو عوام حمایت قرار دیا ہے، آج ہندوستان کا کسان منڈیوں کے کردار کو ختم کرنے پر، اجناس کی امدادی قیمت میں کارپوریٹ سیکڑ کی اجارہ داری شامل کرنے پر اور کسانوں کے قرضے معاف نہ کرنے پر ڈٹا ہو نظر آ رہا ہے، کسانوں کی اس تحریک کی گونج کینیڈا، برطانیہ، امریکا اور آسٹریلیا میں بھی گونج رہی ہے، سردار گورمیندر سنگھ مجھ کہنے لگے نریندر مودی اکڑ والا اور سازشی نظریات کا آدمی ہے مگر یہ کسانوں کے احتجا ج میں جتنی دیر کرے اتنا ہی کسان کو فائدہ ہوگا۔

کسانوں کا موجودہ احتجاج عالمی تحریک کا روپ لے سکتا ہے کیونکہ پوری دنیا کے مظلوم کسانوں کی آواز ہندوستان سے بلند ہو رہی ہے خاص طور ترقی پذیر ممالک میں کسان ہمیشہ سے دباؤ کاشکار رہا ہے، وہ صحیح ہی تو کہہ رہے ہیں میں کھیتی باڑی کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں رکھتا مگر اتنا جانتا ہوں پاکستان کا چھوٹا کسان بھی پریشان ہے وہ بھی اپنی فصل کو محبت اور محنت سے پالتا ہے مگر جب محنت کا صلہ نہیں ملتا تو کسان کا دل جلتا ہے، بھارت دھر نے میں شریک ایک بزر گ سکھ دوست ایڈوکیٹ سردارجوگیندر سنگھ بتانے لگے دھرنے میں شرکت کرنے والے غریب کسان کاحوصلہ بلند ہے، اس کی مثال سنگھو بارڈر دہلی پر اس وقت نظر آئی جب ایک نوجوان کسان کا پرس چوری ہو گیا میں نے پوچھا کتنے پیسے تھے کہنے لگا ایک ہزار روپیہ اور یہی میری کل آمدن تھی مگر دھرنے میں آمد کا مقصد ہندوستان کے کسان کو بچانا ہے، جس کے لیے کل آمدن کی قربانی نہایت معمولی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عبدالرؤف منیر کی دیگر تحریریں