مشترکہ خاندانی نظام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشترکہ خاندانی نظام جو اب اپنے تنزل کی جانب رواں دواں ہے ایک بہترین خاندانی نظام ہے جس میں سبھی کمزور اور طاقتور ایک دوسرے کا ہاتھ۔ تھام لیتے ہیں اور گزارا ہوتا ہے اول تو کوئی بھی رشتہ یا تعلق اس وقت تک قائم نہیں رہتا جبکہ تک خیر خواہی اور قربانی کا جذ بہ نہ ہو، خلوص، اور وفاداری سے ہی مشترکہ خاندانی نظم پنپتا ہے۔

اب یہ نظام کیوں کمزور پڑتا جا رہا ہے اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آئی ہے اچھی سوچ کی جگہ خودغرضی نے لے لی ہے اب بچوں میں ہر کوئی اپنا کم ازکم الگ کمرہ اور واش روم مانگتا ہے بات یہاں تک رہ جاتی تو چلو ٹھیک تھی مگر اب تو ہر کوئی اپنے الگ گھر اور اگلے کاروبار کی سوچ رکھنے لگا ہے زندگی میں عدم برداشت جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے شہر وسعت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

یہ مثال جہاں چاہے لگا لیں لاہور ہو یا کوئی اور شہر جو ایک سائیکل پر گھوما جاسکتا تھا اب شاید گاڑی پر ہی ممکن ہے ہمارے اپنے اندازے کے مطابق لاہور اس وقت پچھتر کلو میٹر تک پھیل چکا ہے ہو سکتا ہے دوست اس بات سے اتفاق نہ کریں لیکن ہماری دانست میں مانگا منڈی سے لے کر کالا شاہ کاکو تک کہیں کوئی کھیت نظر نہیں آتا جگہ جگہ کالونیاں آباد ہو رہی ہیں یہ صرف اسی وجہ سے ہے کہ آپس میں پہلے جیسی محبت نہیں رہی مزید دیکھتے ہیں کہ اس نظام کی اچھائیاں کون کون سی تھیں جو اب کم ہوتی گئی ایک نظر اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

خاندان افراد سے مل کر بنتا ہے اور یہ افراد ایک ہی چھت تلے مل جل کر مختلف رشتوں میں جڑ کر اپنی اپنی زندگی گزارتے ہیں۔

عموماً کسی بھی خاندان کے سرپرست والدین ہی ہوتے ہیں بعض اوقات یہ سرپرستی بڑے بھائیوں کے ہاتھ بھیآ جاتی ہے تمام والدین کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنا گھر بنایں، جس میں ان کے بچے محفوظ اور آرام دہ زندگی بسر کریں۔ دنیا کی دھوپ چھاو ں اور ماحول کی سردی گرمی سے یہ سائبان ان کے بچوں کو محفوظ رکھے۔

اس سائبان کی تمام تر بنیادیں گھر کے تمام افراد کے اتحاد واتفاق سے جڑی ہوتی ہیں۔ یہ اس وقت تک ہی مضبوط رہتا ہے جب تک اس میں رہنے والے افراد خلوص اور اپنائیت کے ساتھ رہتے ہیں۔

دنیا کی سطح پر معاشرہ دو خاندانی نظام میں بٹ چکا ہے۔

ایک اتحاد واتفاق سے عاری خاندان جسے عرف عام میں الگ تھلگ کا نام دیا جاتا ہے۔ خاندانی غم و خوشی سے دور ایک الگ دنیا ہوتی ہے۔ ایک یا دو افراد اپنے بچوں کے ساتھ باقی خاندان سے کٹ کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ عموماً انہیں آزاد زندگی سمجھا جاتا ہے، جس کی شرح وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ دوسرا خاندان وہ ہے، جس میں سب گھر کے بزرگ بچے نوجوان سب مل جل کر رہتے ہیں۔ سب کا اپنا مقام و مرتبہ ہوتا اور اپنی اپنی حدود و قیود میں وہ آزاد بھی ہوتے ہیں مقید بھی۔

اگر ہم بیتے وقتوں میں گھروں اور حویلیوں کا مطالعہ کریں تو ان خاندانوں کو ایک چھت کے نیچے ہنسی خوشی زندگی گزارتے ہوئے پائیں گے۔ مشترکہ خاندانی نظام تقریباً ہر گھر میں رائج تھا۔ جہاں ڈھیروں افراد ایک خاندان کی طرح ایک چھت تلے سکون اور مزے سے زندگی بسر کرتے نظر آتے تھے ان کے دکھ سانجھے اور خوشیاں اپنائیت بھری ہوا کرتی تھیں۔ ایک کو چوٹ لگتی تو پورے گھر میں فکر اور درد کی لہر دوڑ جاتی۔ اگر ایک فرد خوش ہوتا تو پورا گھر اس کی خوشیوں میں شریک ہونا اپنا فرض سمجھتا ہر فیصلے میں بڑے بزرگوں کی رائے سر تسلیم خم ہوتی۔

آپس میں رشتوں کی ڈور نہایت مضبوط ہوتی۔ نہ ہنسی کسی سے چھپی رہتی اور نہ ہی درد کسی سے بے خبر ہوتا۔ ہنستے مسکراتے یہ لوگ رشتوں کو اپنے خون سے سینچتے اور ایک ہی خاندان کا حصہ ہوتے تھے۔ یوں سمجھ لیا جائے کہ جیسے گھر ایک مرکز ہوتا تھا اور پورا خاندان چھوٹے بچوں سے لے کر بڑوں تک سب اس ایک چھت کے تلے ایک ساتھ رہتے تھے۔ مگر جیسے جیسے وقت گزررہا ہے ویسے ویسے ہم اس اتفاق و اتحاد کی نعمت سے محروم ہو رہے ہیں۔

اب یوں لگنے لگا ہے کہ جیسے ہم اکیلے ہو کر رہے گئے ہیں۔ ایک یا دو کمرے کے الگ تھلگ مکان میں قید و بندکی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ خاندانی محبت اور خلوص کا شیرازہ ہم نے مغرب کی تقلید میں بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ الگ تھلگ مکان کی سوچ ہمیں سمندر پار سے ملی ہے۔ مغرب زدہ معاشرے نے اپنے عزت و احترام کے قابل والدین اور بڑے بزرگوں کو گھر کے لئے ناکارہ قرار دے کر ان کے لیے ”اولڈ ہوم“ بنائے اور پھر انہیں وہاں کوڑے کے ڈھیر کی طرح پھینک آئے۔

کبھی کبھار جا کر ان سے مل آئے ورنہ سالانہ بنیادوں پر والدین کا دن منا کر اپنی جھوٹی محبت کا ثبوت دے دیا۔ لاشعوری طور پر شاید ہم بھی اپنے والدین اور اس خاندانی نظام سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اس قدر خود ساختہ مجبوریاں اور مصروفیات بناڈالی ہیں کہ والدین کے لئے وقت نکالنا بھی مشکل لگتا ہے۔ شایدہم بھولتے جا رہے ہیں کہ ہم اتنی بڑی نعمت سے محرومی کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ وہ نعمت ہے کہ جسے ہم برسوں بھی ڈھونڈنے نکلیں تو شاید کبھی نا پا سکیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں یہ دور جدت کی انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ اس دور کے بچے نوجوان سب ایڈوانس ہو گئے ہیں، تاہم اس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ آج بھی گھروں میں بچوں کو بہلانے، لوریاں سنانے، کلمے یاد کرنے اور انہیں اخلاق آموز قصے کہانیاں سنانے کے لیے بوڑھی دادیوں کی اتنی ہی ضرورت ہے۔ جنہیں آج ہم جزو نا کارہ کی طرح خود سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں زندگی کے راستے پر بچوں کا پہلا قدم اٹھوانے کے لیے بوڑھے دادا کی انگلی آج بھی انہیں جذبوں کے ساتھ سرشار ہے۔

محبت سے گندھے ان رشتوں کے ہوتے ہوئے بھی جو اپنے محبت بھرے لمس سے ننھے منے دلوں کو مسرت بخشتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی انگلیوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر زندگی کے راستے پر اعتماد سے قدم اٹھانا سکھاتے ہیں۔ دادا، دادی، پھوپھی، چچا یہ وہ رشتے ہیں جو خونی رشتے ہونے کے ساتھ ساتھ مخلص اور اپنائیت بھرے ہوتے ہیں۔ معاشرہ پسماندہ ہو یا ترقی یافتہ اس میں رہنے اور زندگی گزارنے کے کچھ آداب طور طریقے اور اصول ہوتے ہیں۔

دور حاضر میں ہونے والی ترقی نے دنیا کے کئی انسانی معاشروں کو آپس میں مدغم کر دیا ہے۔ اس ادغام کی وجہ سے بہت سے مسائل نے جنم لیا ہے ہماری معاشرتی اور ثقافتی قدریں بدل گئیں ہیں، مشترکہ خاندانی نظام آج کے دور میں نہ ہونے کے برابر ہے آج اس جدید دور کے لوگ الگ الگ زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں، اسی لیے ان میں عدم برداشت اور تنہائی کا احساس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مل جل کر رہنے میں برکت سمیت دیگر بہت سے فائدے پنہاہیں۔

یہ وہ بے لوث رشتوں سے بندھا خاندانی نظام ہوتا ہے کہ جو ہماری زندگی کی رفتار کو سہل بناتا ہے۔ ہمارے غموں اور پریشانیوں کو بانٹ کر ہمیں مایوسی جیسے ماحول میں جانے سے بچاتا ہے۔ اس خاندانی نظام سے بچوں کی تعلیم و تربیت اچھی ہوتی ہے۔ ماں باپ سارا دن اپنے اپنے حصے کی ذمے داری نبھاتے ہیں اور بچوں کی طرف سے غافل ہو جاتے ہیں۔ بچوں کو توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے اگر ان کو مناسب محبت اور توجہ نہ ملے تو بچے دوسری غیر اخلاقی سرگرمیوں میں پڑ جاتے ہیں۔

یہ خاندانی نظام بچوں کے لئے بہترین تربیت گاہ اور توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ دور حاضر کے نوجوان مشترکہ خاندانی نظام سے گھبراتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ذاتی زندگی ہے جو آج کے ہر بڑے چھوٹے کو لاحق ہو گئی ہے شاید اس وجہ سے چور راستے نکل آئے ہیں۔ دیکھنے میں زیادہ تر یہی بات آئی ہے الگ رہنے سے بہت سے مسئلوں نے سر اٹھادیا ہے۔ اس سے ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ وہی رشتوں میں دوری اور بے حسی عروج پر پہنچ چکی ہے مشینی انداز میں زندگی گزارتے یہ لوگ آپس کے خلوص پیار و محبت سے دور ہو گئے ہیں۔ ذہنی تھکاوٹ، عدم برداشت اور دل کے امراض میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تبدیلیاں زندگی کا نا گزیز حصہ ہے لیکن فیملی کے ساتھ مل جل کر رہنے سے رشتوں میں اپنائیت کا احساس اور تعلق ہمیشہ قائم رہتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •