کپتی کمینی دنیا اور کم بخت امید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شروع کے پندرہ برس اس انتظار میں پہاڑ جیسے لگے کہ ہم کب بڑے ہوں گے اور والدین کے ’ظلم و ستم‘ سے نجات حاصل کریں گے جو ہر بات پر ٹوکتے ہیں، ہر موڑ پر ہدایات و نصائح کے سپیڈ بریکرز بناتے چلے جاتے ہیں، پوچھ گچھ کے پھندے لگاتے جاتے ہیں۔

یہ کرو وہ مت کرو، یہ کھاؤ وہ مت کھاؤ، اتنا کم کیوں کھاتے ہو، اتنے ندیدے کیوں ہو۔ کہاں جا رہے ہو، کب تک لوٹو گے، گھر میں ہی کیوں چارپائی توڑتے رہتے ہو باہر کیوں نہیں نکلتے، فلاں کو سلام کیوں نہیں کیا، فلاں سے بدتمیزی کیوں کی، اس لفنگے بچے سے کیوں دوستی ہے، کھیل میں جتنا دل لگتا ہے پڑھائی میں کیوں نہیں لگتا، ہر وقت پڑھتے ہی کیوں رہتے ہو کھیل کود بھی ضروری ہے، ہم نہ رہے تو کیا کرو گے وغیرہ وغیرہ۔۔۔

پندرہ برس کے ہوئے تو یہ انتظار کہ اٹھارہ برس کے کب ہوں گے تاکہ لوگ بچہ سمجھنے سے باز آجائیں، اٹھارہ کے ہو گئے تو میاں کیا سوچا ہے؟ ڈاکٹر کہ انجینیر یا فوج؟ نہیں ابا میں تو گلوکار بنوں گا۔ ابے کیا عقل گھاس کھا گئی ہے، مراثی بنے گا، ناک کٹوائے گا؟ بس یا تو میڈیکل میں جاؤ، یا پری انجینیئرنگ یا پھر ایم اے کر کے نوکری کرو۔ فلاں کا بچہ دیکھو کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور تمہیں یہی نہیں معلوم کہ کرنا کیا ہے۔

چلو بھئی اس سے پہلے کہ لونڈا ہاتھ سے بالکل ہی نکل جائے شادی کے بارے میں سوچو، ہمارا کیا ہے آج ہیں کل نہیں ہوں گے۔ہاں ہاں شادی کروا دو سارا لاابالی پن ختم ہو جائے گا۔ تب آٹے دال کا بھاؤ پتہ چلے گا، ذمہ داریوں کا بوجھ پڑے گا تو خود ہی عقل آ جائے گی۔

اور پھر یوں ہوا کہ جو وقت کبھی کاٹے نہیں کٹتا تھا، جواں عمری کی جو بے فکری لامحدود و دائمی لگتی تھی۔ سب گزر گیا۔ وقت کو پر لگ گئے۔ کب نوکری کی، کب ریٹائر ہوئے، کب بچے پیدا ہوئے اور کب بڑے ہو کر اڑن چھو ہو گئے۔ لگتا ہے جیسے اٹھاون برس اٹھاون دن میں گزر گئے۔ اس رفتار سے تو اب صرف دس پندرہ دن کی ہی زندگی باقی ہے اگر حادثات و بیماریوں نے مہلت دی تو۔۔۔

مگر رشک کرنے کے لیے بھی تو بہت کچھ ہے۔ فوری رشک تو یہ ہے کہ دو ہزار بیس دو ہزار اکیس کا دروازہ کھٹکٹا رہا ہے مگر کووڈ کی نظر اب تک مجھ پر نہ پڑی۔ حالانکہ جان پہچان کے اتنے لوگ جا چکے کہ زندگی کا پنجرہ آدھا خالی لگ رہا ہے۔ دوسرا رشک یہ ہے کہ میری نسل کے رہتے رہتے کرہِ ارض، محلے کے ایک آدھ گھر میں لگے فون کے دور سے گزرتا گزرتا انٹرنیٹ اور پھر اینڈورائیڈ ٹیکنالوجی کے جال میں بندھ گیا۔ پہلے جو جامِ جمشید صرف ایک ایرانی شہنشاہ کی دسترس میں تھا اب وہ میرے محلے کے جفت ساز جیدے کانگڑی کی جیب میں پڑا ہوا ہے۔

میں نے جو کیلکولیٹر اور چار ٹانگوں پر کھڑا چوبی کیمرہ دیکھا تھا وہ ارتقائی عمل سے ہوتا ہوا روزمرہ زندگی کو کنٹرول کرنے والی مصنوعی ذہانت (آرٹیفشل انٹیلی جنس) کی گود میں جا گرا ہے۔

سرد جنگ کے بعد ابھرنے والے نئے عالمی نظام کے عروج کا تیز رفتار زوال بھی دیکھ لیا۔ آمریت سے جمہوریت اور پھر جمہوریت سے ریموٹ کنٹرول آمریت کے تجربات بھی دیکھ لیے۔ انسانوں کی گرفتاری کے فرسودہ فیشن کی جگہ ریاستی جادوگروں کے منتر کی طاقت سے انسانوں کو غائب ہوتے بھی دیکھ لیا۔ جہالت کو عقل سے دبتے اور پھر عقل کے خلاف جہالت کی بھرپور بغاوت کا بھی نظارہ ہو گیا۔

جب ہوش سنبھالا تو بے چارگی کے معنی تک نہیں معلوم تھے۔ آس پاس ہر طرف غربت کی مساوی تقسیم ٹپائی دیتی تھی۔ دھنیا پودینہ، قبر کی زمین، پینے کا پانی، لسی، شادی غمی میں محلہ گیر تعاون، آس پڑوس میں روٹی سالن کا ادل بدل، دستِ شفقت، مہمان نوازی وغیرہ سب مفت تھا۔

اب جینا تو رہا ایک طرف مرنا بھی افورڈ نہیں ہو پاتا۔ اشیا کی فراوانی ہے مگر ہاتھ ہے کہ سکڑتا ہی چلا جا رہا ہے۔ سہولتیں بڑھتی جا رہی ہیں مگر بے چارگی کا ہانپنا اپنی جگہ برقرار۔

اب صورت یہ ہے کہ:

دینے والے رفاقتوں کی بھیک

مانگتے ہیں رفاقتوں کا صلہ

مگر دنیا جتنی بھی کپتی کمینی ہو جائے۔ اس سے جتنا بھی دل اوبھ جائے پر کون ہے جس کا یہاں سے جانے کو جی چاہے۔ یہ کم بخت امید چیز ہی ایسی ہے۔ اسی امید کے جز دان میں لپٹی نئے سال کی مبارک باد قبول کیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •