امربیل: نوبل ادب کی دریافت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ جگہ دنیا کا مرکز بنی ہوئی تھی۔ اطراف میں بازار لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ دکانیں سامان سے لبالب بھری تھیں۔ گھروں سے گھر جڑے ہوئے تھے۔ بجلی کی بے ترتیب تاروں پر پرندے بیٹھے تھے۔ شام ڈھلنے لگی اور سورج سارا دن زمین کو توانائی دینے کے بعد اب خود سستانے کے لیے مغرب کی طرف بڑھنے گا۔

مین سٹریٹ سے بہت سی گلیاں نکلتی تھیں جیسے درخت کے مضبوط تنے سے بہت سی شاخیں نکل رہی ہوں۔ میں اپنے کزن کے ساتھ نسبتاً ایک خاموش گلی میں داخل ہوا جو آگے ایک جھرنے کے پاس جا کر ختم ہوتی تھی۔ ہم کچھ گھروں کے آگے سے گزرتے ہوئے ایک بڑی عمارت کے پاس آ کر رکے۔ اس کی دوسری منزل پر ان کا فلیٹ واقع تھا۔ اب رات ہو چکی تھی۔

میں میٹرک کی چھٹیاں گزارنے ان کے گھر آیا ہوا تھا۔ وہ نئے نئے یہاں شفٹ ہوئے تھے۔ حسب معمول ان کے گھر کی کتابیں میری توجہ کا مرکز تھیں جو دو کمروں کی الماریوں میں ترتیب سے رکھی ہوئی تھیں۔ بیشتر کتابیں ان کے پرانے گھر سے آئی تھیں۔ سو میں نے نئی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا۔

آغاز دو کتابوں سے ہوا۔ ایک ناول تھا اور دوسری فلسفیوں کے بارے میں تھی۔ مجھے سنجیدہ ادب کی تلاش تھی۔ ایک روز نظر اچانک ایک کتاب پر پڑی۔ سیاہ پس منظر کے ساتھ سر ورق پر الفریڈ نوبل کا سنہری پورٹریٹ منقش تھا۔ یہ امربیل تھی جس میں نوبل انعام یافتہ ادیبوں کی کہانیاں کا انتخاب کیا گیا تھا۔ میرے مطالعے کے باغ میں ایک ایسا پودا لگا جو آگے چل کر ایک تن آور درخت میں تبدیل ہو گیا۔

albert camus

پہلا ناول پرل ایس بک (انعام کا سال 1938 ) کا ’سوہنی دھرتی‘ تھا۔ یہ انقلاب چین کے گرد گھومتی ایک کسان اور اس کے خاندان کی کہانی ہے۔ وہ کڑی محنت اور جاں فشانی سے غربت کے شکنجے سے نکل آیا۔ لیکن اس تگ و دو میں اپنی معصومیت کھو بیٹھا۔

پھر اناطول فرانس ( 1921 ) کے ’تائیس‘ کا انتخاب کیا۔ یہ ایک راہب کی کہانی ہے۔ اس نے ایک طوائف کو راہ راست پر لانے کا عزم کیا۔ صحرا کے طویل سفر میں جب عورت الوہی معرفت کے بہت قریب تھی تو آدمی کے اندر کا شیطان باہر آ گیا۔

بورس پیسٹرناک کا ’ڈاکٹر ژواگو‘ انقلاب روس کے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ایک ڈاکٹر اور شاعر کی کہانی بیان کرتا ہے۔ وہ انسانیت کو انقلاب پر ترجیح دیتا تھا۔ 1958 کے نوبل انعام کے اعلان پر سوویت روس سراپا احتجاج بن گیا۔ اس لازوال ناول پر بہت سی فلمیں بن چکی ہیں۔ 1965 میں بنی ایک فلم میں مصر کے عمر شریف نے ڈاکٹر ژواگو کا کردار نہایت خوبی سے نبھایا۔

Pasternak-and-Olga

’درینہ کا پل‘ یوگوسلاویہ کے آئیوو آندرک ( 1961 ) نے لکھا تھا۔ یہ ناول بوسنیا اور ہرزیگوینا کے شہر وائسگارڈ سے بہتے دریائے درینہ پر تعمیر کیے گئے ایک پل کی روداد بیان کرتا ہے۔ وہ سولہویں صدی میں اپنی تعمیر سے لے کر پہلی جنگ عظیم میں اپنے انہدام تک سلطنت عثمانیہ کے سیاسی اتار چڑھاؤ کا چشم دید گواہ تھا۔

اس کے علاوہ اس کتاب میں طویل و مختصر بہت سی کہانیاں پیش کی گئی ہیں۔ ان میں ژاں پال سارتر ( 1964 ) کی ’دیوار‘ میری پسندیدہ تھی۔ پابلو نرودا (1971) کی سوانح ’یادیں‘ بھی شوق سے پڑھی۔

کتاب کے شروع میں ادب میں اس وقت تک دیے گئے انعامات کی تفصیل اور مصنفین کا مختصر تعارف بیان کیا گیا ہے۔ 1901 سے 2001 تک دیے گئے انعامات کے مطابق امریکہ اور فرانس نو نو انعامات کے ساتھ اول نمبر پر تھے۔ ارنسٹ ہیمنگوے ( 1954 ) اور یاسوناری کاواباتا ( 1968 ) دو ایسے ادیب ہیں جنہوں نے خود کشی کر لی۔ ٹیگور ( 1913 ) اور الکساندر سولزے نیٹسن ( 1970 ) وغیرہ کے ناموں پر اعتراضات اٹھائے گئے۔

کچھ ادیب اس کتاب سے ایسے دریافت ہوئے جن کی بعد میں میں ایک کے بعد ایک کتاب پڑھتا رہا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ان میں کچھ نام گیبرئیل گارسیا مارکیز ( 1982 ) ، نجیب محفوظ ( 1988 ) اور ہرمن ہیسے ( 1946 ) کے ہیں۔

چھٹیاں گزار کر میں گھر واپس آ گیا۔ کالج کے زمانے میں امربیل کی یاد ذہن میں تازہ رہی۔ یونیورسٹی میں داخلے کے بعد لاہور شفٹ ہو گیا۔ ایک دن اچانک مجھے امربیل کا خیال آیا۔ میں نے اس کی تلاش شروع کر دی۔ نئی اور پرانی کتابوں کے بہت سے سٹالز چھان مارے۔ کہیں سے اس کا سراغ نہ ملا۔ ملنا تو دور کی بات کوئی اس کے وجود سے بھی واقف نہیں تھا۔ میں نے دل میں سوچا کہ کیا امربیل کی صرف ایک ہی کاپی تھی جو اس فلیٹ میں میرے مطالعے کی آبیاری کے لیے رکھی گئی تھی! اور اس کے بعد وہ دنیا سے غائب ہو گئی! سو میں نے کتاب کی تلاش ترک کر دی۔ کئی سال گزر گئے۔ گریجویشن کے بعد ملازمت کا آغاز ہو گیا۔

ایک دن میں آن لائن اردو کتابوں کے پی ڈی ایف دیکھ رہا تھا تو یہ کتاب اچانک میری آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ مجھے یقین نہیں آیا۔ فوراً ڈاؤن لوڈ کر لی۔ کہیں یہ پھر سے غائب نہ ہو جائے۔ اب یہ میری ای لائبریری کا مستقل حصہ ہے۔ اور میں اس کے مطالعے سے اکثر مستفید ہوتا رہتا ہوں۔

ہر سال اکتوبر کے پہلے عشرے کا بے تابی سے انتظار رہتا ہے۔ ان دنوں میں ادب کے نوبل انعام کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس سال یہ امریکی شاعرہ لوئیس گلوک کو دیا گیا ہے۔ ہمیشہ کی طرح کوئی نیا نام دریافت ہوتا ہے۔ کچھ ادیب جنہیں انعام ملنے کے بعد پڑھنا شروع کیا اور پسندیدہ بن گئے۔ ان میں ایلس منرو ( 2013 ) ، پیٹرک موڈیانو ( 2014 ) اور کازواشیگیرو ( 2017 ) شامل ہیں۔ خواہش ہے کہ یہ انعام مستقبل میں میلان کنڈیرا اور ہاروکی موراکامی کو بھی ملے۔

امربیل میں گیبرئیل گارسیا مارکیز کا ایک قول بیان ہوا ہے: ’اپنی نفرت کو برف پر لکھو۔ سورج کی تپش سے جب برف پگھلے گی تو نفرت بھی خود ہی بہ جائے گی‘ ۔ اس کتاب کو میں نے دل کی تجوری میں سنبھال کر رکھا ہوا ہے تاکہ اس کی سنہری یاد ذہن سے کبھی محو نہ ہونے پائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •