مریم نواز اور بے نظیر بھٹو کی چوکھٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم نواز کی گڑھی خدا بخش حاضری اور شہید رانی کی قبر پر بطور عقیدت پھولوں کا نچھاور کرنا اور عوام کے جم غفیر سے خطاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مریم نواز شریف جمہوریت کی بحالی کی خاطر سنجیدہ ہیں۔ پنجاب کی طرز سیاست سندھ سے یکسر مختلف ہے مگر ایک نقطہ مشترک ہے اور وہ جمہوریت ہے۔ پاکستان کی سیاست میں جمہوریت کے علمبرداروں کی گڑھی خدا بخش کے قبرستان کی حاضری ضروری ہے۔ بھٹو کے مزار کی چوکھٹ پار کرنا ضروری ہے۔ اس مزار کے آنگن میں ننگے پاؤں سرجھکا کر حاضری کے بنا جمہوری سفر مشکل ہی ناممکن ہے۔

گڑھی خدا بخش پر حاضری کا مطلب بنیادی طور پر اس جمہوری فلسفے پر یقین کرنا ہے جو شہید بھٹو نے دیا جس پر ساری زندگی شہید رانی نے عمل کیا اور جدوجہد کی۔ جمہوریت کی بحالی کی حالیہ جدوجہد میں بس یہی ایک کمی تھی اور وہ مریم نواز شریف کی حاضری کے بعد پوری ہو گئی۔ رہی بات منزل کی تو سفر شرط ہے آج نہیں تو کل منزل تو مل ہی جائے گی۔ حقیقی جمہوریت کی خاطر اور عوام کے حق حاکمیت کی خاطر جدوجہد بنیادی فرض ہے نتائج سے بے پرواہ ہو کر سفر جاری رہے گا تو منزل ملے گی۔ اور جمہوریت کی منزل کی طرف ہر رواں دواں ہرکارواں کا پڑاو گڑھی خدا بخش میں ضرور ہوتا ہے۔ یہاں پر شہدا کی قبریں دیکھ کرسفر کی بے یقینی کی کیفیت ختم ہوجاتی ہے۔ عزم و ارادہ مصمم ہوجاتا ہے۔ حوصلے بلند ہو جاتے ہیں۔ زاد راہ کے طور پر بھٹو کا فلسفہ مل جاتا ہے۔

گڑھی خدا بخش کے شہدا کو دیکھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ جمہوریت ہی طرز سیاست ہونی چاہیے۔ وہاں پر آئے ہوئے جیالوں کو دیکھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہی ہے۔ تیسری دنیا کے انسانوں کا المیہ ہی یہی ہے کہ ان کو دہائیاں لگ گئیں انسانی حقوق کے حصول کی خاطر اور وہ تاحال اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ پرآسائش زندگی کی خاطر نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی خاطر اپنی بنیادی ضروریات کی خاطر اور چند لمحے آسودگی کے حصول کی خاطر یہ تیسری دنیا کے انسان جئیے جاتے ہیں اپنی زندگی گزارے جا رہے ہیں۔

پاکستان کی اشرافیہ اور بالادست طبقات نے گویا کچھ نا دینے کی قسم اٹھا رکھی ہے۔ اور اس طرح کا رویہ اپنایا ہوا ہے جیسے اپنی جیب سے کسی کو کچھ دینا ہو۔ حالانکہ جو کچھ یہ بدنصیب عوام مانگ رہے ہیں یہ ان کا بنیادی حق ہے۔ ان کی ملکیت ہے۔ یہ اس سرزمین پر موجود اور اس کی تہہ میں موجود ہر نعمت کے مالک و حق دار ہیں۔ مگر اپنے حق سے محروم ہیں

اسی حق سے متعلق بھٹو نے بتایا کہ عوام کو یہ حق لینا چاہیے۔ عوام کو شعور دیا کہ اپنے حق کی خاطر جدوجہد کرو آواز بلند کرو۔ جو نا دے اس سے حق چھین لو۔ یہ جرات بھٹو نے دی کہ ایک ہاری زمیندار کے برابر بیٹھنا شروع ہوا۔ ایک صنعت کار اپنے ورکر کے ساتھ مصافحہ کرنے لگا۔ معاشرے کے پسے ہوئے اور محروم طبقات کو زندگی کی امید دینا بہتر مستقبل کی آس دینا، مایوس آنکھوں کو خواب دینا، سہمے ہوئے لوگوں کو زبان دینا کوئی معمولی بات نہیں۔

بالادست طبقات کے نزدیک یہ اسٹیٹس کو کے خلاف بغاوت کے مترادف ہے اور بھٹو اس بغاوت کا مرتکب ہوا۔ بھٹو کو خبر تھی کہ بغاوت ناقابل معافی ہے اوراس کی سزا ضرور ملے گی مگر وہ انجام سے بے پروا تھا۔ بھٹو تاریخ کے اس سفر میں اپنا متعین کردہ کردار ادا کرچکا تھا۔ بھٹو وہ سوچ پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا جس سوچ کے تحت محروم طبقات نے سوال کرنا تھے۔

سوال کرنا برتری کی علامت ہے۔ جواب دینا لازم ہوتا ہے خاص طور پر اس وقت جب سوال کرنے والے عوام ہوں اور جواب دینے والے مسند نشین حکمران ہوں۔ گو کہ ارباب اختیار کو گراں گزرتا ہے جواب دینا اس لیے آج تک عوام کی طرف سے کیے گئے کسی سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔ عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے سوال کررہے ہیں مگر جواب ندارد۔ سوال کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکمران جواب نہیں دیتے۔ آج نہیں تو کل جواب تو دینا ہوگا کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ کیونکہ بھٹو کا فلسفہ ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہے۔ اور طاقت کے سرچشمے سے انکار دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اور آج کے ارباب اختیار اسی دھوکے میں ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ شاید معاملات سنبھل جائیں گے مگر ان کو اندازہ نہیں ہو رہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سیاست میچور ہوتی جا رہی ہے۔ سیاست دان اپنی انا کے بت گرا کر اور اپنی ذات سے بالاتر ہو کر ملک وقوم سے متعلق سوچ رہے ہیں۔ میثاق جمہوریت وہ دستاویز ہے جس نے سیاسی جماعتوں کے لیے سیاسی قبلے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اگر سیاست کرنی ہے تو میثاق جمہوریت کو ہر سیاسی جماعت کو من وعن تسلیم کرنا ہوگا اس کی روح کو ماننا ہوگا اس پر عمل کرنا ہوگا۔

مریم نواز شریف نے اگر کوئی آسان راستہ نا چنا اور کسی کے کہنے پر شارٹ کٹ نا لیا تو بلاشبہ ان کا سیاسی سفر بہت دیر تک جاری رہے گا۔ ان کی گڑھی خدا بخش حاضری سے ان کے سیاسی نظریات کو مزید تقویت ملی ہوگی۔ ان کے سیاسی شعور کا دائرہ مزید بڑا ہوا ہوگا۔ شہید رانی کے مزار پر پھول نچھاور کرتے ہوئے مریم نواز شریف کو ضرور فخر ہوا ہوگا کہ وہ ایک عورت کے مزارپر حاضر ہوئی ہیں۔ ایک ایسی عورت جس نے ہر ستم سہا مگر اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹی اپنی راہ کو نہیں چھوڑا اوراپنی عوام سے اپنا رومانس کبھی کم نہیں ہونے دیا۔

حرف آخریہ کہ اگر مریم نواز شریف نے اس فلسفے پر یقین کر لیا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے تو نون لیگ کی سیاست میں واضح تبدیلی دیکھنے کو ملے گی اور یہ تبدیلی خوشگوار ہوگی۔ اور اس کے اثرات ملکی سیاست پر ضرور پڑیں گے۔ رہی بات بھٹوز کی تو یہ اس خاندان کا سیاسی قبلہ ہی گڑھی خدا بخش ہے۔ اور گڑھی خدا بخش کے ماننے والوں کے لیے جمہوریت کے لیے قربانی دینا نئی بات نہیں اس بات کی گواہی گڑھی خدابخش میں شہدا کے مزارات دے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •